بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح ناپسندیدہ عمل-شیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبدالعزیز السدیس

پہلا خطبہ:

ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کےلئے ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں ،اتحاد و اتفاق سے بھر پور اُس کے احسانات پر دل کی گہرائی سے اُس کی ایسی حمد کرتےہیں جس سے دل سرشار ہے ۔روز افزوں فضل و احسان پر معبود کےلئے حمد کے بعد حمد ہے۔ اے ہمارے معبود! ہم تیرے لئے ہر لمحہ شکر گزار ہیں۔ ہم قیامت کے دن اُس کے ثواب کی اُمید کرتے ہیں۔میں گواہی دیتاہوں کہ ایک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں،اُس کا کوئی شریک نہیں ۔ایسی گواہی جو روح کو روشنی و نور کےذریعے پاک کرے اور جس کے ذریعے ہم تہ بہ تہ سات آسمانوں کوعبور کریں۔

میں گواہی دیتاہوں کہ ہمارے نبی اکرم محمد ﷺ سب سے عظیم شریعت کے ساتھ بھیجے گئے جس کی روشنی زمان و مکان پر چھا گئی۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں ۔آپ ﷺ اصل و نسل کے اعتبار سے پاکیزہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کا درود و سلام نازل ہوآپ ﷺ پر ۔آپ ﷺ نے اتحاد کی رغبت دلائی اور طلاق سےڈرایا۔اور درود و سلام نازل ہوں آپ ﷺ کی نیک و پاکیزہ آل پرجو منافست اور مقابلہ آرائی کے ساتھ بلندیوں کی طرف راغب ہیں۔پھر آپ ﷺ کے اُن صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر جنہوں نے علم کے ذریعے پختہ اصلاح کی ۔بلندیوں کی طرف بصیرت و روانی کے ساتھ تیزی سے بڑہے۔پھر تابعین پر جو انعام کرنے والے خلاؔق سے جنتوں کی امید کرتے ہوئے حق کے ساتھ اُن کی اتباع کریں۔ اور خوشگوار و پاکیزہ ،سازگار و طویل سلامتی ہو۔

اما بعد!

اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لوکہ اُس کا تقویٰ عظیم ترین بندھن ہے۔گھٹا ٹوپ تاریکی میں منور کرنے والی روشنی ہے۔تو جس نے اُسے مضبوطی سے تھاما وہ کامیاب و کامران اور فائق ہوااور اللہ کی قسم ! اُس نے سعادت کا نہایت ہی عمدہ مزہ چکھا۔

ارشادِ ربانی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾(سورۃ النساء : 1)

’’اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔‘‘

اے مسلمانو!

روزانہ کے سلگتے ہوئے سماجی مسائل اور عالمی خاندانی مشکلات میں ایک ایسا مسئلہ نمودار ہوتا ہےجس کا علاج روشن شریعت نے نہایت عمدہ طریقے اور انوکھے انداز میں کیا ہے۔وہ ایسا مسئلہ ہے کہ جسے صرف چیدہ افراد جوکہ عالم ہو ں ، دقیق فہم وفراست اور اعلیٰ صفات کے حامل ہو ں و ہی حل کرسکتے ہیں۔وہ ایسا مسئلہ ہےکہ جس کےبارے میں حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ بلند و بالا گھروں کو چٹیل میدانوں میں تبدیل کردیتا ہے۔وہ حسرت و بے خوابی ،بے چینی اور سوزش پیدا کرتا ہے۔اور اُس کی وجہ سے جدائی و غم اور ملال کے بکھرے ہوئے بادل خاندانوں پر منڈلاتے ہیں۔اُس نے کتنے ہی یکجا لوگوں کو منتشر کردیا اور کتنے آنسو بہائے،کتنی خواتین کوبیوہ بنایا،بچوں کو الگ کیا ۔ بہت سارے آباد گھروں اور جڑے ہوئے خاندانوں کو ایسا ناقابل برداشت عذاب بنادیا۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔وہ طلاق اور جدائی کا مشغلہ ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔

مسلمانو! حالیہ وقت میں طلاق کے معاملات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے معمولی اسباب کی وجہ سے طلاق دینے کو معمولی بات سمجھ لیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے طلا ق میں جلد بازی سے ڈراتے ہوئے فرمایا:

﴿ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا﴾(سورۃ الطلاق : 1)

’’یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپرظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔‘‘

شوہروں اور بیویوں کی جماعت!

میاں اور بیوی دو معزز ساتھی ہیں۔خاندان کی بنیادیں اور اُس کی امین ہیں،اُن دونوں کے مابین محبت و رحمت رکھی گئی ہے۔تاکہ رشتہ باقی رہے اور پھلتا پھولتا رہے۔مزید یہ کہ گھر کے اندر اُنسیت اور ہم آہنگی کا ماحول ہمیشہ قائم رہے اور اختلاف و ناچاقی کا خاتمہ ہوجائے۔اسی لئے اسلام نے نکاح کے بندھن کو بلند کیا ۔ اس لئے کہ یہ دوخاندانوں کے مابین مضبوط رشتہ اور میاں بیوی کے مابین سخت عہد و پیمان ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا﴾ (سورۃ النساء : 21)

’’حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد وپیمان لے رکھا ہے۔‘‘

یہ ایسامضبوط بندھن ہےکہ جس کا توڑنا آسان نہیں ہے۔تو اسلام ہر خاندان کا نظام اور ہر گھر کا منہج ہے۔اسلام طلاق کے شعلوں کو بجھانے اور خوف کےبھیانک بھوت کو شکست دینے کے لئے آیا ہےتاکہ خاندا ن کے اوپر محبت و نرمی اور شفقت کا جھنڈا لہرائے ۔اُس اتحاد ،رحمت و احسان کا سورج چمکے ،چہروں پر محبت بھری مسکراہٹ،نرم کلمات،شفیق و محسن نگاہیں اور اُبھرتے ہوئے جذبات چھائے رہیں جن کا دونوں فریق تبادلہ کریں۔والدین جن سے خوش ہوں اور اُن باتوں کواللہ تعالیٰ کا یہ فرمان شامل ہے اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہےکہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم اُن سے آرام پاؤ۔اُس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی۔یقیناً غور و فکر کرنے والوں کےلئے اِ ن میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

اے مؤمنو!

معزز شوہروں اور معز ز بیویوں کو جان لینا چاہیئے کہ سعادت ،سچے اور خالص معاملہ اور صبر پرمبنی خوشگوار بُود و باش کی خوبصورتی میں ہے۔

اللہ جل شانہ نے فرمایا:

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ﴾(سورۃ النساء : 19)

’’ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے۔‘‘

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کےلئے سب سے بہتر ہے۔اورمیں تم میں اپنے اہل ِ کے لئے سب سے بہتر ہوں۔‘‘

اے اللہ کے بندو!

اُمت ِ اسلام باوجود اِس کے کہ اسلام نے خاندان کے محل کو بُلند کرنے کے لئے اور اُسے آزمائش و پریشانی ،مصیبتوں اور راستوں کی رکاوٹوں سے محفوظ رکھنے کےلئے نشانات اور بنیادیں مقرر کی ہیں لیکن انسان کی فطرت میں ناسازگاری ،کمی غلطی اور فتنہ زدہ ہونا طے کردیا۔تاہم اُن میں سب سے مثالی اور کامل وہ لوگ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی حدود کے پاس رُک جانے والے ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:

﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ﴾(سورۃ الحج : 30)

’’یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔‘‘

اس لئے کبھی کبھی پر امن و خوش گھرانے ایسی آندھیوں اور طوفان کی زد میں آتے ہیں جو اتحاد کو پارہ پارہ کرتے اور اختلاف و فراق کے بیچ بوتے ہیں اور اُن طوفانوں میں سب سے زیادہ عام و خطر ناک ہیجان و غصہ ہیں جو سب سے بُری ہلاکت تک لے جانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بصیرتوں کو روشن فرمائےاور ضمیروں کی اصلاح فرمائے۔غصہ خاندان کے لئے زلزلہ اور بُردباری اُس کی مرہم پٹی ہے۔طیش ناآہنگی ہے اور صبر اُس کا ستون ہے ۔ سب سےتلخ زندگی اُن لوگوں کی ہے جو سب سے زیادہ طیش و غصے والے ہیں اور جو چیز حسرت و افسوس کا باعث بنتی ہے اور علاج و معالجہ کرنے والوں کو بھی پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ

کچھ میاں بیوی اپنی مشکلات و اختلافات کاحل طلاق کے علاوہ کسی چیز میں نہیں دیکھتے ، اُنہیں طلاق کے علاوہ کوئی چیز نہیں سوجتی حالانکہ ایسا کرنا باری تعالیٰ کے احکامات کے خلاف ہے ۔

امام بخاری و امام مسلم نے اپنی صحیحین میں روایت کیا ہےکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

’’عورتوں سے اچھا سُلوک کرواس لئے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سےزیادہ ٹیڑ ھا اُوپر کا حصہ ہوتا ہے تو اگر تم اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اُسے توڑ ڈالو گے لیکن اگر اُسے یوں ہی چھوڑ دو گے تووہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی ۔لہٰذا عورتوں کے ساتھ اچھا سُلوک کرو۔‘‘

اے معزز شوہر وں اور اُن کی بیویو!

یاد رکھو کہ جلد بازی میں دی جانے والی طلاق آتش فشاں کا لاوا ہے جو خاندان کے ڈھانچے اور اُس کے اُنس و قرار ،تسکین و استحکام کو جلا کر راکھ کردیتا ہے۔جلدی میں دی جانے والی طلاق نہ صرف زوجین کو متاثر کرتی ہے بلکہ اُس کا ضرر بچوں تک بھی پہنچتا ہے۔ پھر میاں بیوی کے خاندانوں اورپھر معاشرے تک پہنچتاہے ۔اسی لئے اسلام نے طلاق کو ناپسند کیا ہے۔اُس کے بُرے انجام اور ہلاکت خیز سنگین اثرات کی وجہ سے اُس سے نفرت دلائی ہے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو اُس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو۔‘‘

تو اے طلاق کا اعلان کرنے والو! اور طاقت و بے باکی سے اُس میں داخل ہونے والو! عقل و سنجیدگی سے کام لو۔ اے سرگردانی جو آگ سے میٹھا پانی طلب کرے اور چٹیل میدان میں شادابی تلاش کرے ۔ نیند سے خواب کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ توبیدار ہوجاؤ اور اللہ تمہیں نیند کے شر سے بچائے۔

تو کتنے ہی خاندا ن ہیں جو چوٹی و بلندی سے پریشانی وآگ کی کھائی تک پہنچ گئے۔جبکہ وہ سعادت میں ایسے تھےجیسے زمانے کی پیشانی پر چمکتا روشن نشان۔ یہ ہے حکیمانہ ربانی منہج جس نے اِس مسئلے کا تریاق و علاج پیش کیا ہے ۔اُسے روحوں اور حلقوں میں فُرات کے میٹھے صاف پانی کی طرح سازگار بنایا ہے۔ارشادِ ربانی ہے :

﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾(سورۃ النساء : 128)

’’اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں۔ صلح بہت بہتر چیز ہے، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے۔‘‘

اور جیسا کہ معزز نبوی ہدایت اور حکیمانہ رہنمائی ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ کے ذریعے مروی حدیث میں وارد ہوئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ،اگر اسے اس کی کوئی عادت نہ پسند ہوتو دوسری پسندیدہ ہوگی۔ اس حدیث میں شوہروں اور بیویوں کے مابین غلطیوں کے علاج اور لغزشوں کے تدارک میں بلیغ حکمت اور پختہ نصیحت ہے ۔ اُس میں اجابیت وصلبیت ،حسنات و سیئات اور نقائص و کمالات کے مابین منصفانہ اور عقلمندانہ موازنہ ہے ۔ تو کونسا ایسا شخص ہے جس نے کبھی کوئی غلطی ہی نہیں کی اور کونسا ایسا شخص ہے جو صرف اچھائی ہی کرتاہے۔ اُس کے ذریعے باہم تعلق قائم رہتا ہے شفافیت مستحکم ہوتی ہےاور ہر غصے اور مشقت کی جگہ خوشحالی لے لیتی ہے۔اچھی تنقید اور بصیرت آمیز گہری نگاہ بکھرے ہوئے خاندان اور ٹوٹے ہوئے سماج کو استحکام و دُرستگی اور سیادت و کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔

اللہ کی قسم ! اگر محبت نہ ہوتی تو لوگوں کے دل خالی و بیابان ہوجاتے ،اُسی کے ذریعے ہم اور ہمارے احساسات موم کی طرح پگلے حالانکہ وہ بہت سخت تھے۔

مؤمنو! محبوب او ر محب کے درمیان مصیبتوں کی تاریکوں کو دور کرنے کےلئے طلاق کے معاملے میں اصلاح کے ضابطوں میں سے یہ ہے کہ علام الغیوب کی توفیق کے بعد باشعور و تجربہ کار عقلمند و منور ذہن افراد کے ہاتھوں میں لگام دی جائےتاکہ بہا لے جانے والے تکلیف دہ جذبات کی لگام کو پکڑ سکیں اور وہ اس طرح کہ زوجین کے گھر والوں کی طرف سے دو معزز حکم کو بھیجا جائےاور وہ دونوں ہوشیار و ماہر اور ذہین و راست باز ہوں۔ اس لئے کہ لوگ تو بہت ہیں لیکن ماہرین کم ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾(سورۃ النساء : 35)

’’اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم والا پوری خبر والا ہے۔‘‘

اگر اصلاح کامیابی و نجاح کی طرف لےجائےتو خاتون کے لئے طلاق کے مطالبے پر اصرار کرنا جائز نہیں ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

’’ اگر کسی عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کامطالبہ کیا تو اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔ ‘‘ (مسند احمد، سنن ابو داؤد)

امت ِ اسلام ! اے والدین! اے میاں بیوی!

کبھی کبھی طلاق کے وقوع اور اُس کے جلادینے والے شعلے کی گرمی کے سامنے حائل ہونا بہت مشکل ہوتاہے اس لئے کہ اگر بغیر استقرار کے زندگی کا جاری رہنا حتمی ہو تو ایسی صورتِ حال نامرادی ،ہلاکت اور مصیبت و تباہی کا ذریعہ ہوگی۔اسی لئے اسلام نے جس تلخ کڑوی بیماری کوخصوصی ضوابط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے وہ طلاق ہے۔اللہ جل شانہ نے فرمایا:

﴿ وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا﴾(سورۃالنساء :130)

’’اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا، اللہ تعالیٰ وسعت والا حکمت والا ہے۔‘‘

اے مومنو!

طلاق کے مسائل کے پھیلاؤ کے اسباب کی تحقیق کرنے والاپاتا ہے کہ اُس کے نہایت اہم و عام اسباب میں سے شریعت کے احکام کی معرفت میں کوتاہی،پریشانی و تنازع کے ظہور کے وقت باہمی افہام و تفہیم اور گفت وشنید کا غائب ہونا ،دوسروں کی باتوں کو دھیان سے نہ سننا،اکڑ اور ہٹ دھرمی کو نہ چھوڑنا،جانبدارانہ اور ظالمانہ رائے سے چپکے رہنا،بے تکلفی کو چھوڑدینا اور صبر کا ختم ہوجانا،طرفین کے مابین نفسیاتی و فطری اختلاف کا اعتبار کئےبغیر افعال و اقوال میں مثالی اطوار کا مطالبہ کرناہے۔

طلاق میں جلدی نہیں کرتا مگر وہ شخص کہ جس نے اپنے بے لگام جذبات کی پیروی کی اور اُس کی اطاعت کرتا رہا اور اپنی عقل کی طاقت کو ختم کردیا یا اُسے ضائع کر بیٹھا تو ایسا شخص ہی طلاق میں جلد بازی کرتا ہے اور جذبات کی پیروی کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اُسی کی اطاعت کرتا ہے ۔اللہ المستعان

اے شوہرو ! اور اے بیویو!

اپنے نفس اور اپنے گھروں،اپنے بچوں اور اپنے سماجوں کے متعلق اللہ سے ڈرو۔

اے معزز بیویو!

شوہر کے سلسلے میں تم اللہ سے ڈرو۔ تم اُس کے لئے بستر بن جاؤ اور وہ تمہارے لئے اوڑھنی بن جائےگا۔نرمی و قناعت سے اُس کے ساتھ بات چیت کرو۔ اچھے سمع و طاعت کےذریعے اُس کے ساتھ زندگی گزارو۔جب تک تم اُس کا حد درجہ احترام و تعظیم کرتی رہوگی وہ تم سے بہت زیادہ محبت و عزت کرتا رہے گا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

’’جب عورت پانچ وقت کی نماز ادا کرے ،رمضان کا روزہ رکھے،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اُس سے کہا جائے گا کہ تم جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہوجاؤ۔‘‘

اے مبارک شوہرو!

بیوی کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔تم عقلمند و تجربہ کار بن جاؤ جو اپنے اہل کے لئے عذر تلاش کرتاہے ۔تم اس بات سے بچو کہ اُن کی لغزشیں اور کوتاہیاں تلاش کرو بلکہ نرمی و خوش دلی کے ساتھ اُس سے ملو۔ اور بیوی کو چاہیئے کہ وہ تمہارے گھر میں متکبر اور بھٹکی ہوئی ہونے سے بچے۔ یقیناً اہلِ علم مفتیان ِ کرام نے تمہاری رہنمائی کی ہے۔سختی و تنگی کے وقت اُن کی مددگار بن جاؤ ۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ سب ہی لوگوں کو اُن کاموں کی توفیق عطا فرمائے جنہیں وہ پسند کرتا ہے اور جن سے وہ راضی ہوتاہے ۔اور ہمیں اُن چیزوں سے بچائے جو اُسے ناراض کرتی ہیں اور جن سے وہ منع کرتاہے ۔وہ دلوں کی اصلاح فرمادے،راہوں کو روشن کردے ،ہر طلب کو پورا فرمادے ،وہ اُس کا مالک ا ور اُس پر قادر ہے ۔

میں اپنی یہ بات کہ رہاہوں اور اللہ سے ہر گناہ و خطا کی مغفرت طلب کرتاہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآن مجید کے طریقے اور نبی کریم ﷺ کی سنت سے فائدہ پہنچائے۔ آپ اس سے مغفر ت طلب کریں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کریں بیشک میرا رب قریب اور قبول کرنے والا ہے۔

دوسراخطبہ:

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اُس نے ہمیں قسم قسم کی نعمتوں ،بھرپور رحمتوں اور مہربانیوں سے نوازامیں گواہی دیتا ہوں کہ

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے ،اُس کاکوئی شریک و ثانی نہیں۔حق کے ساتھ ایسی گواہی جس کے ذریعے ہم بار بار شکر و اعتراف کرتے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ

ہمارے نبی محمد ﷺخصائل و اوصاف کے اعتبار سے مخلوق میں سب سے معزز ہیں۔درود و سلام نازل ہوں اُن پر ،اُن کی نیک و پاکیزہ آل و اولاد پر ،اور اُن کے اُن صحابہ کرام پر جو تقویٰ سے مانوس تھے،اور تابعین پر اور جو حق کے ساتھ اُن کی پیروی کریں، رحمان سے قربت و نزدیکی کی امید رکھیں اُن پر۔اور قیامت کےدن تک بہت زیادہ سلامتی نازل ہو۔

اما بعد!

اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اس لئے کہ اُس کا تقویٰ دل کو رحمت و روشنی سے آباد کردیتا ہے۔ گھروں اور جوارح کو چمک سے اور خاندانوں کو الفت و ملنساری کے ذریعے پاکیزہ کردیتا ہے۔جان لو کہ طلاق کے کچھ احکام ہیں جن کا جاننا واجب ہے ۔ چنانچہ شوہر کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ بغیر علم و بصیرت کے جیسے چاہے ویسے طلاق دے۔طلاق کی سمجھ میں سے یہ ہے کہ طلاق حسنِ سلوک کے ساتھ دی جائے۔

ارشادِ ربانی ہے:

﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ﴾(سورۃ البقرہ: 229)

’’یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں، پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔‘‘

اور احسان میں سے یہ ہے کہ

زیادتی اور ظلم کرنے اور مصیبت پر خوش ہونے اور بدلہ لینے کے اظہار سے بچا جائے۔احسان میں سے یہ ہے کہ بچوں پر بغیر بُخل و کنجوسی کے کشادگی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔

احسان میں سے یہ ہے کہ

لغزشوں اور غلطیوں کو بھلادیا جائے۔جو ماضی میں ہو اور جو گزرگیااُس کے پیچھے پڑنے کو چھوڑ دیا جائے۔طلاق کے فقہی پہلو میں سے جو چیز نہایت اہم و عظیم ہے وہ یہ ہے کہ طلاق کی دو قسمیں ہیں :

طلاق ِ سنت

طلاق ِ بدعت

سنت طلاق وہ ہے جو طلاق کے اردے کی صورت میں واجبی طور پر واقع ہوتی ہے ۔اور اُس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت کو اُس طہر میں ایک طلاق دیجائے جس میں اُس سے جماع نہیں کیا ہے ۔ شوہر اگر اس طریقے کے مطابق طلاق دیتا ہے تو یہ طلاق دُرست اور سنت کے مطابق ہوگی اور اسی طریقے کو اختیار کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے اور اسے بہتر قرار دیا ہے۔

پھر جہاں تک طلاق ِ بدعت کی بات ہے تو اُس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی وقت میں عورت کو ایک سے زائد طلاق دے دی جائےیا اس طرح کہا جائے: تمہیں تین طلاق۔ یا اُسے حیض کی حالت میں طلاق دے دی جائےیا اُسے اُس طہر کی حالت میں طلاق دی جائے کہ جس میں اُس سے جماع کیا ہے ۔تو ایسا کرنے والا گناہ گار ہوگا۔ایسا شخص حرام کام کا ارتکاب کرنے والا ہوگا۔ تو کیا طلاق دینے والوں نے ان احکامات کو سمجھا یا انہوں نے بغیر لگام و نکیل کے طلاق دے دی۔

اے مسلمانو!

درآنے والی بُرائیوں اور سنگین محرمات میں سے طلاق کے بعد پروگراموں کا انعقاد کرنا کیا یہ صبر و افسوس او ربازیابی کا موقع ہےیا خوشی و فرحت کا مقام۔ تم دونوں پر تمہارا رب رحم فرمائے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق سے نوازے ۔

اے وہ لوگو! جنہیں طلاق کا سامنا ہے یا وہ جو اس مرحلے کی سختیوں سے نبردآزما ہیں ،صبر کریں طلاق زندگی کا آخری مقام نہیں ہےبلکہ زندگی کی راہیں کھلی ہیں اور ان شاء اللہ بہتر سے بہتر کی آپ امید کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق سے نوازے ۔یہ خاندان اور طلاق کے معاملے میں بعض آداب اور تدابیر ہیں۔ تو اہلِ علم اور نمایاں شخصیات اور باحیثیت اور شریف افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ طلاق کے بوجھ اور جدائی کے اثرات کو کم کرنے کےلئے معاون و مددگار بنیں۔اس لئے کہ خاندان کو طلاق اور جُدائی سے بچانا عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ہے۔اُس کے لئے راہ ہموار کرنا عظیم ترین نیکیوں میں سے ہے۔اس لئے کہ وہ پُر امن ترقی کرنے والے اور شاندار مصلح معاشرے کی راہ ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ سب پر رحم فرمائے۔اور جان لو کہ جس نے اُس چیز کی اصلاح کی جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے حال و مال کی اصلاح فرمادے گا۔ اس کی بیوی بچے کی اصلاح کردے گا۔اُسے اُس کی مراد میں سعادت و کامیابی عطا فرمائےگا۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾(سورۃ الطلاق: 2)

’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ آپ سب پر رحم فرمائے۔

او ر درود بھیجو اُس پر جو سارے جہان میں مقام ومرتبے کے لحاظ سے بُلند ہے ،جو آل و اولاد اور صحابہ کرام کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے۔ ایسا دُرود جو مشک و خوشبو کو معطر کردے ،جیسا کہ تم کو عزیز ِ حمید نے اپنی کتاب ِ مجید میں حکم دیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾(سورۃ الاحزاب : 56)

’’اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔‘‘

اللہ اور فرشتے سب مخلو ق کو نیکی کی طرف بُلانے والے پر دُرود بھیجتے ہیں اور اُن کی نیک اولاد کے لئے ایسی تعریف ہے جسے میری روشنائی دل کے نور سے تحریر کرے۔

اے اللہ تو درور و سلام نازل فرما اپنے نبی کرم محمد ﷺ پر اور تو راضی ہوجا ان کے چاروں خلفاء راشیدین ابو بکر ،عمر ،عثمان ،علی سےاور ان تما م سے جو ان کی اچھی طرح اتباع کریں ۔یاکریم یا وہاب۔

اے اللہ ! تو اسلام کو اور مسلمانوں کو عزت و عظمت عطا فرما۔

اے اللہ ! تو اسلام کو غالب کردے اور مسلمانوں کی مدد فرما۔اور شرک و مشرکین کو ذلیل و رسوا کردے اور دین ِ اسلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے۔

اے اللہ ! تو اس ملک کو امن و اطمنان ، ہمدردی و سخاوت ، اتحاد و بھائی چارے سے بھر دے اور اسی طرح باقی تمام مسلم ممالک کو بھی ۔

اے اللہ ! ہم تجھ سے سوائے خیر کے اورکسی چیز کا سوال نہیں کرے تو ہمیں خیر عطا فرما۔اور جس چیز کا تجھ سے سوال نہیں کرتے اس کی ابتلاء سے محفوظ فرما۔

اے اللہ ! اپنے بندے خادم الحرمین شریفین کو ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی ہوجاے۔

اےاللہ ! تو اُن کے ولی عہد کو بھی بھلائی اور اپنی خوشنودی کے کاموں کی توفیق عطا فرما اور اُ ن پر استقامت دے۔

اے اللہ ! تو فلسطین کی اور اہلِ فلسطین کی کی مدد فرما ان کی نصرت فرما ان کی حفاظت فرما۔

اے اللہ ! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔ اللہ کے بندوں ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل و انصاف کا اور قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کا اور ہر قسم کی بے حیائی اور نافرمانی سے بچنے کا ۔

٭٭٭

حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

’’تمام تر خیر و برکت آدابِ رسول اللہﷺ کے اتباع اور آپﷺ کے حکموں کی بجاآوری میں ہے۔‘‘

تبصرہ کریں