بارات کا تصور، مفاسد اور حل(قسط 1)- حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

شادیوں میں بارات کا رواج کب سے شروع ہوا؟ یعنی پورے خاندان،برادری اور دوست احباب کا ایک جم غفیر اور انبوہ کثیر کو لے کر لڑکی والوں کے گھر جانا ۔

تاہم یہ بات توواضح ہے کہ عہد رسالت وعہد صحابہ وتابعین یعنی دور خیر القرون میں اس کا نام ونشان نہیں ملتا ، صرف گھر کے چند افراد جاتے اور خاموشی اور سادگی کے ساتھ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر نکاح پڑھ کے لڑکی کو اپنے ہمراہ لے آتے ، شرعاً نکاح میں اعلان ضروری ہے اور یہ اعلان طرفین کے گھر والوں کے سامنے ہوجاتاتھا نیز ولیمے میں مزید لوگوں کے علم میں آجاتا ، اب جو بارات کا عام رواج ہے جس کے بغیر شادی کا تصور بھی ممکن نہیں اس کے بے شمار مفاسد ہیں ، ان میں سے چند بڑے مفاسد حسب ذیل ہیں:

1. سارے دوست احباب اور خاندان اور برادری کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنا، اسراف (فضول خرچی) ہے، پہلے خود لڑکے والوں کو تمام مہمانوں کے بیٹھنے اور خاطر تواضع کا انتظام کرنا پڑتا ہے ، قریبی رشتے داروں کے لیے تو یہ انتظام کئی کئی دن کے لیے کرنا پڑتا ہے۔ پھر ان سب کو ساتھ لانے اور لے جانے کے لیے بسوں اور گاڑیوں کا انتظام اس پر مستزاد۔ اس سے بھی پہلے شادی کارڈوں کی اشاعت کا مسئلہ آتاہے ، پہلے تو سادہ سے کارڈ چھپوا کر اطلاع کا اہتمام کر لیا جاتا تھا ، اب اس میں بھی پیسے والوں نے بڑی جدتیں اختیار کر لی ہیں اور اتنے اتنے گراں کارڈ چھپنے لگے ہیں کہ ان کو دیکھ کر اس قوم کی فضول خرچی پر سرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ قریبی رشتے دار( بہنیں اور بیٹیاں اور ان کی اولاد) تو کئی کئی دن پہلے آکر شادی والے گھر میں ڈیرے ڈال لیتی ہیں اور مختلف رسموں (مایوں،مہندی وغیرہ) کے علاوہ کئی کئی راتیں مسلسل ڈھولکیاں بجاتیں اور اہل محلہ کی نیندیں خراب کرتی ہیں۔

پھر نکاح والے دن بقیہ خاندان اور احباب وغیرہ جمع ہوکر ایک لاؤ لشکر کی صورت میں لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں جس کی ضیافت اور ٹھہراؤ کے لیے کسی شادی ہال یا کسی بڑی مکان کا انتظام لڑکی والوں کو کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ان کو ایک بہت بڑا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے ، جن کے پاس وسائل کی فراوانی ہوتی ہے ان کےلئے تو یہ بوجھ کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن جن کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے ان کو بھی خواہی نخواہی یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے چاہے وہ زیر بار ہوجائیں اور اس بوجھ کے اتارنے میں وہ سالہا سال پریشان رہیں۔

2. جب لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اللہ سے بے خوفی کے نتیجے میں یہ تصور بھی عام ہے کہ یہ خوشی کا موقع ہے اس وقت جو چاہیں کر لیں ، اس کا جواز ہے ، چنانچہ بڑی بڑی شیطانی حرکتیں کی جاتی ہیں اور باراتی ان سے خوب محظوظ ہوتے ہیں ، اس طرح سب گناہ میں شریک ہوجاتے ہیں ، بلکہ اکثر اوقات لڑکی والوں کی طرف سے بھی ان کا مطالبہ اور اصرار ہوتا ہے ، یوں دونوں خاندان اور ان کے سارے عزیز واقارب اجتماعی طور پر نہایت دھڑلے سے اللہ کی نافرمانیاں کرتے اور شریعت اسلامیہ کی دھجیاں اڑاتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیم کی رو سے انفرادی گناہ جو خفیہ اور چھپ کر کیا جائے اگرچہ وہ بھی گناہ ہے لیکن اگر کوئی گناہ کا کام کھلم کھلا لوگوں کے سامنے کیا جائے ، تو اس جرم کی شناعت وقباحت کئی گنابڑھ جاتی ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔

كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ

(صحیح البخاری ، کتاب الادب، باب ستر المؤمن علی نفسة)

’’ میری امت کے سارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں سوائے ان گناہ گاروں کے جو کھلم کھلا گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔‘‘

اجتماعی طور پر کیے جانے والے یہ گناہ جو باراتیوں کے ہجوم میں اور ان کی وجہ سے کیے جاتے ہیں، حسب ذیل ہیں :

بینڈ باجوں کا اہتمام جن کی شیطانی دھنوں سے لوگ محظوظ ہوتے ہیں حتی کہ ان پر نوٹوں کی بارش کی جاتی ہے جس کا نام ویل دینارکھا ہوا ہے۔

آتش بازی جو’’گھر پھونک،تماشہ دیکھ‘‘ کی مصداق ہے ، ہزاروں روپے اس پر اڑادیے جاتے ہیں۔

ہوائی فائرنگ، جس کی زد میں آئے دن بعض باراتی یا اڑوس پڑوس کے لوگ آجاتے ہیں اور موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بھنگڑا اور لڈیاں ڈالنا، اس کا رواج بھی بڑھتا جارہاہے حتی کہ بعض باراتیوں میں یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ خواتین بھی اس میں شریک ہوجاتی ہیں۔

پیسے لٹانا، پہلے تو ریزگاری کی شکل میں تھوڑی سی رقم ہی اس پر خرچ ہوتی تھی ، اب یہ رسم نوٹوں تک پہنچ گئی ہے جس سے اس مد پر بھی ہزاروں روپے برباد کیے جاتے ہیں۔

جن کا بوجھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتاہے ،یہ بھی فضول خرچی ہی کی ایک مد ہے۔

یہ بارات جب لڑکی والوں کے ہاں(ہال یا گھر میں) پہنچتی ہے تو نوجوان لڑکیاں اور یکسر بے پردہ عورتیں دونوں طرف ہاتھوں میں پھولوں کے تھال پکڑے ہوئے دولہا اور باراتیوں کا استقبال کرتی ہیں اور ان پر گل پاشی کرتی ہیں، یہ بھی بے پردگی کی ایک ایسی بے ہودہ رسم ہے جس کی توقع کسی مسلمان مرد عورت سے نہیں کی جاسکتی۔

بارات کے ساتھ کرائے کے مووی میکر ہوتے ہیں جو ان ساری خرافات کو بھی اور ہال میں ہونے والے ساری کارروائی کو بھی(نکاح کی تقریب سے لے کر دلہن کی رخصتی تک) فلم بند کرتے ہیں اور ایک ایک سین کو بالخصوص خواتین کے مختلف پوزوں کو اور دلہن کے ایک ایک پوز کو محفوظ کرتے ہیں اور بعد میں دونوں خاندانوں کے گھروں میں بے حیائی کے ان مظاہر کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتاہے۔

بارات میں خواتین کا بھی ایک ریلا شریک ہوتا ہے جو سب بے پردہ،نہایت بھڑ کیلے،زرق برق ، حتی کہ عریاں اور نیم عریاں لباس میں ملبوس ، نہایت بے ہودہ میک اپ اور سولہ سنگھار سے آراستہ اور زیورات میں لدی پھندی ہوتی ہیں گویا وہ شادی کی ایک بابرکت تقریب میں نہیں بلکہ وہ مقابلہ حسن یا آرائش وزیبائش اور بے پردگی وبے حیائی کے مقابلے میں شریک ہونے کے لیے جارہی ہیں۔

اب بہت سی جگہوں پر مخلوط اجتماع بھی ہونے لگے ہیں، یعنی مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حصے نہیں ہوتے، کھانے کا الگ الگ انتظام نہیں ہوتا بلکہ بغیر کسی تفریق اور پردے کے مرد اور عورت کے لیے ایک ہی ہال اور کھانے کی میزیں بھی مشترکہ

إنَّا للهِ وإنَّا إليهِ رَاجِعُونَ

آخر میں مراثیوں کا ایک غول آجاتا ہے جو الٹی سیدھی ہنسانے والی باتیں ہانک کر اور بڑکیں مار کر باراتیوں سے (ویلیں) وصول کرتے ہیں۔

اور بعض جگہ اور بعض خاندانوں میں مجرے کا رواج ہے۔ مخنث(ہیجڑے) نسوانی لباس اور نسوانی ناز وادا اور ناچ گاکر باراتیوں کا دل لبھاتے ہیں اور ان سے خوب ویلیں وصول کرتے ہیں اور باراتی ان پر بھی نوٹوں کی بارش برساتے ہیں۔

کھانے کے موقعے پر بھی اکثر وبیشتر عجیب ہڑبونگ مچتی ہے ، کھانے پر لوگ اس طرح ٹوٹ کر پڑتے ہیں ، جیسے مویشیوں کو چارہ کھر لی میں ڈال کر چھوڑ دیا جاتاہے اور وہ

﴿يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ﴾

(سورۃ محمد : 12 )

کے مصداق ہوتے ہیں یا جیسے بھوکے گد ہوتے ہیں یا جیسے ایسی وحشی اور گنوار قسم کی قوم کے افراد ہوں جن کو کبھی کھانا نصیب نہیں ہوا یا جن کا کوئی تعلق تہذیب وشائستگی سے نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہر شخض اپنی اپنی پلیٹوں کو اس طرح بھر لیتا ہے کہ اکثر وہ اس سے کھایا ہی نہیں جاتا اور آدھی آدھی پلیٹیں بھری ہوئی چھوڑ دیتے ہیں ، وہ سارا کھانا کوڑے میں پھینک دیا جاتاہے حالانکہ اس صورت حال کے پیش نظر میزبان ضرورت سے زیادہ وافر مقدار میں کھانا تیار کرواتا ہے اور یہ اندیشہ قطعاً نہیں ہوتا کہ کسی کو کھانا نہیں ملے گا ، بعض دفعہ کسی میز پر بیرے کو دوبارہ کھانا لانے میں ذرا دیر ہوجاتی ہے تو لوگ معمولی سا انتظار کرنے کے بجائے ہوٹنگ شروع کردیتے ہیں، بد اخلاقی اور تہذیب وشائستگی سے عاری یہ مظاہراتنے عام ہیں کہ ہم ان تقریبات میں غیر مسلم اشخاص کو بلانے کی جسارت نہیں کر سکتے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم مسلمانوں کے اخلاق وکردار کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے کہ یہ اسی مسلم قوم کے وارث ہیں جن کے اسلاف نے دنیا کو مکارم اخلاق اور تہذیب وشائستگی کا درس دیا تھا اور جن کے پیغمبر بھی خلق عظیم کے مالک تھے اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہی کے لیے مبعوث ہوئے تھے جس کے بہترین نمونے ان کے پیروکاروں(صحابۂ کرام وتابعین عظام) نے دنیا کے سامنے پیش کیے اور دنیائے انسانیت میں معلم اخلاق کے نام سے معروف ہوئے۔

یہ سارے مظاہر جن کے کچھ نمونوں کی تفصیل آپ کے سامنے پیش کی گئی ، ایک تو سراسر اسراف وتبذیر میں داخل ہے جن کے مرتکبین کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اخوان الشیاطین(شیطانوں کے بھائی)قرار دیا ہے۔

دوسرے قدم قدم پر اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب ہے ۔

تیسرے ڈنکے کی چوٹ پر علانیہ بڑے بڑے گناہوں کی جسارت ہے جس کی کسی مسلمان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔

چوتھے ، بداخلاقی اور بدتہذیبی کے مظاہر ہیں جن کی توقع کسی بھی مہذب اور شائستہ قوم سے نہیں کی جاسکتی ،چہ جائیکہ اسلام کے ماننے والے ان کا ارتکاب کریں؟

تمام مذکورہ خرافات کے بعد آخر میں فوٹو سیشن ہوتا ہے جس میں مرد وعورت سب اسٹیج پر یا اور کسی نمایاں جگہ پر جمع ہوتے اور باری باری دولہا اور دلہن کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہیں یہ سراسر بے پردہ اور مخلوط اجتماع ہوتاہے۔

ان تمام مفاسد اور خرابیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ اور ایک ہی حل ہے کہ باراتوں کا سلسلہ ختم کیا جائے ، دولہا کے ساتھ خاندان کے چند لوگ لڑکی والوں کے گھر جائیں ، لڑکی والے بھی اپنا پورا خاندان جمع کرنے کی بجائے چندضروری افراد ہی کو اس تقریب میں شریک کریں اور گھر کے ایک کمرے ہی میں نکاح کرکے حسب استطاعت مہمانوں کی ضیافت کرکے اپنی بچی کے ہمراہ ان کو رخصت کر دیں اس طرح اس تقریب کے لیے نہ شادی ہال کی بکنگ کی ضرورت ہوگی ، نہ مہمانوں کے لیے درجنوں کے حساب سے دیگوں، مختلف ڈشوں اور دیگر اشیائے طعام کی نہ عورتوں کی بے پردگی وبے حیائی کا فتنہ اور نہ بینڈباجوں،آتش بازی اور نہ مووی فلموں کی حیا سوز فتنہ انگیزی اور نہ دیگر بے شمار خرابیوں کا ظہور جس کی تفصیل گزشتہ سطور میں پیش کی گئی ہے۔

﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ (سورۃ القمر : 17 )

کیا کوئی ہے ان نصیحتوں پر کان دھرنے والا؟ سادگی اور اسلامی تعلیمات کو اختیار کرنے والا ؟ اور لوگوں کی ناراضی اور لومۃ لائم(ملامت گروں کی ملامت سے) سے بے خوف ہوکر صرف اللہ کو راضی کرنے والا؟

بارات میں عورتوں کی شرکت کے مزید مفاسد

لڑکی والوں کے گھر جاتے وقت سوائے گھر کی خواتین کے (بیٹے کی ماں اور بہنوں کے) خاندان کی عورتوں اور دوست احباب کی بیگمات کو قطعاً ساتھ نہ لے جایا جائے اس لیے کہ بارات میں عورتوں کی شرکت بھی بے شمار مفاسد کا باعث ہے۔

عورتوں میں سادگی کا تصور بالکل ختم ہوگیا ہے ، حالانکہ حکم یہ ہے کہ عورتیں بالکل سادہ لباس میں باپردہ گھر سے باہر نکلیں، جب کہ ہوتا یہ ہے کہ خاندان میں کسی کی شادی کی اطلاع ملتے ہی گھر کی خواتین مردوں کو مجبور کرتی ہیں کہ گھر میں( بچیوں اور بیوی سمیت) تمام خواتین کے لیے کم از کم دو دو سوٹ اعلیٰ قسم کے تیار کیے جائیں ، ایک نکاح والے دن اور دوسرا ولیمے والے دن کے لیے کیونکہ خاندان کی ساری عورتوں نے ان کو دیکھنا ہے ، دونوں دن ایک ہی سوٹ میں اور سادہ لباس میں ملبوس ہونے کی صورت میں ان کی سبکی ہوگی۔

محدود آمدنی والے مرد کے لیے اپنے محدود بجٹ میں اس کے لیے گنجائش نکالنا بڑا مشکل ہوتاہے ، علاوہ ازیں لباس اور اس کی سلائی کے علاوہ ، سادگی کا تصور ختم ہونے کی وجہ سے ، میک اپ اور سولہ سنگھار کا سامان کا بھی مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے اور آنے جانے کے لیے کرائے کی گاڑی بھی ضروری ہے ۔

جو صاحب حیثیت گھرانے ہیں ان کی بیگمات کا ، مذکورہ اخراجات کے علاوہ ، زیورات کے نئے طلائی سیٹ کا مطالبہ ہوتا ہے ، گھر میں پہلے جو سیٹ بلکہ بعض کے ہاں کئی کئی سیٹ ہوتے ہیں ، ان کا کہنا ہوتا ہے وہ پرانے ہیں یا فلاں کی شادی میں میں نے وہ پہنے تھے ، اب وہی سیٹ اس شادی میں میں نے نہیں پہننا ہے اور آج کل کے زن مرید قسم کے شوہر یہ مطالبہ بھی پورے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اور اب بہت سی خواتین میک اپ کے لیے بیوٹی پارلروں کی خدمات بھی حاصل کرتی ہیں اور وہاں سے اپنے بال، چہرہ اور ہر چیز سیٹ کروا کر شادیوں میں شریک ہوتی ہیں تاکہ وہ لباس اور زیورات ہی میں نہیں بلکہ حسن وجمال اور آرائش وزیبائش میں بھی یکتا اور ممتاز نظر آئیں، پھر ان تکلفات وتصنعات میں پردے اور نماز پڑھنے کا اہتمام کیوں کر ممکن ہے ؟ چنانچہ ہماری شادیوں میں ان سب کا تصور ختم ہوگیا ہے ، پردہ کریں گی تو آرائش وزیبائش کے یہ مناظر لوگوں کو کب نظر آئیں گے ؟ اور نماز کے لیے وضو کریں گی تو میک اپ کا یہ کرشمہ ’مصنوعی حسن‘ بہہ جائے گا اور چہرے کی اصل رنگت اور اصل خدوخال نمایاں ہوجائیں گے۔

یہ عورتیں جب شادی والے گھر یا شادی ہال میں اکٹھی ہوتی ہیں تو ان کی نظریں دیگر تمام عورتوں کے لباس،زیورات اور میک اپ کا جائزہ لیتی ہیں اگر وہ ان سب میں ممتاز ہوتی ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے ، شیطان ان کے اندر تفاخر اور تکبر کا احساس اور اپنے سے کمتر عورتوں کی تحقیر کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو سادہ مزاج قسم کی عورتوں کی بابت اس قسم کے تبصرے بھی ان کے نوک زباں پر آجاتے ہیں کہ فلاں کو دیکھو! اللہ نے ان کو سب کچھ دیا ہے لیکن یتیموں اور فقیروں کے سے لباس میں یہاں آئی ہیں ، یعنی یہ سادگی ، جو اللہ کو پسندہے ، شیطان صفت ان عورتوں کو بری لگتی ہے۔

یہ عورتیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو اکثر وبیشتر ان کی باہم گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی غیبت اور ایک دوسرے پر لعن طعن ہوتا ہے ، اللہ کا ذکر شاذ ونادر ہی ان کی زبانوں پر آتا ہے ۔

مووی فلم میں ، جو آج کل شادیوں کا(بارات میں بھی اور ولیمے میں بھی) ایک لازمی حصہ بن گیا ہے ، ان بے پردہ فیش پرست عورتوں کے ایک ایک سین کو محفوظ کرکے ان کے حسن وجمال اور بناؤ سنگھار اور لباسوں کی تراش خراش بلکہ عریانی ونیم عریانی کو عام کرکے دونوں خاندانوں میں ان کی نمائش کا اہتمام اور ان کا چرچا ہوتا ہے حالانکہ عورتوں کی یہ ساری خوبیاں اور آرائش وزیبائش کی ساری صورتیں صرف خاوند کے لیے جائز اور اسی کے لیے مخصوص ہیں۔ لیکن بے چارہ مرد تو اپنی بیوی کو اپنے گھر میں بالعموم اس کے برعکس حالت میں دیکھتا ہے کیونکہ عورتیں اپنے خاوند کے لیے اس طرح کی آرائش وزیبائش کا اہتمام نہیں کرتیں جب کہ ان کو ان کے سامنے بناؤ سنگھار کرنے کی نہ صرف اجاز ہے بلکہ حکم ہے لیکن جب ان کو باہر جانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس طرح بن سنور کر نکلتی ہیں کہ اللہ کی پناہ، بالخصوص شادیوں میں تو اس کی بے پردگی،اس کا نیم عریاں لباس، میک اپ ، غازہ ولپ سٹک، اس کی ایک ایک حرکت وادا ایک غارت گردین وایمان اور رہزن تمکین وہوش، کسی الھڑ حسینہ، دل ربا چنچل بازاری عورت سے کم نہیں ہوتی حالانکہ حکم یہ ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو باپردہ اور سادگی سے نکلے حتی کہ اس کی خوشبو کی مہک بھی کسی مرد کو محسوس نہ ہو ۔

ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا :

أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِىَ زَانِيَةٌ

(سنن النسائی ، کتاب الزینة، باب ما یکرہ للنساء من الطیب ، سنن أبی داؤد ، کتاب الترجل ، باب فی طیب المرأۃ للخروج)

’’ جو عورت خوشبو لگا کر (باہر نکلتی ہے اور) لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونکھ لیں تو وہ بدکار ہے۔‘‘

احادیث میں ایک دفعہ بیان ہوا ہے کہ ایک عورت سیدنا ابو ہریرہ کے پاس سے گزری تو انہوں نے اس سے خوشبو مہکتی ہوئی سونگھی، انہوں نے پوچھا: اے اللہ کی بندی! کیا تو مسجد میں آئی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ۔ انہوں نے کہا : اور مسجد میں آنے کے لیے تو نے خوشبو لگائی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے محبوب پیغمبر ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ۔

لا تُقْبَلُ صَلاةٌ لامْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ، حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الجَنَابَةِ(سنن ابی داؤد ، کتاب الترجل ، باب ماجاء فی المرأۃ تتطیب للخروج)

’’ اس عورت کی نماز مقبول نہیں جو خوشبو لگا کر مسجد میں آتی ہے جب تک کہ وہ واپس جاکر اس طرح کا غسل نہ کرے جو جنابت کا غسل ہوتاہے۔‘‘

اس سے اسلامی تعلیمات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عورت کو مسجد میں جانے کے لیے بھی خوشبو لگا کر جانے کی اجازت نہیں ہے تو دوسری کسی بھی جگہ معطر اور مزین ہوکر جانے کی اجازت کس طرح ہوسکتی ہے؟ اور جو اس طرح جاتی ہے اس کے دل میں اسلامی تعلیمات کا احترام اور ان پر عمل کا جذبہ کتنا ہے ؟

نکاح کے بعد عورتوں کے اجتماع اور حصے میں ایک اور رسم کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے اور وہ ہے کہ دولہا میاں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس حصے میں جاتے ہیں اور وہاں دولہا دلہن کو ایک ساتھ بٹھا کر تمام خواتین کے سامنے دودھ پلائی کی رسم ادا کی جاتی ہے اس کے علاوہ دولہا دلہن سب کے سامنے ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہیں ، اس موقعے پر دونوں خاندانوں کی خواتین کے علاوہ لہا کے قریبی دوست بھی وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ستم ظریقی کی حد یہ ہے کہ دیندار خاندانوں میں بھی اس رسم کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اسے بلا تکلف ادا کیا جاتاہے حالانکہ دولہا بھی سوائے پھوپھی،خالہ یا اپنی ماں ، بہنوں اور ساس کے تمام عورتوں کے لیے غیر محرم ہے ، دولہا کے ساتھ اس کے دوست بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں جو دلہن سمیت تمام خواتین کے لیے غیر محرم ہوتے ہیں لیکن سب کے سامنے بے حیائی کی یہ رسم ادا کی جاتی ہے اور ویڈیو والے یہاں بھی یہ تمام مناظر فلمانے کاکام جاری رکھتے ہیں۔

دلہن کی رخصتی کے وقت بھی عجیب عجیب مناظر دکھائی دیتے ہیں حتی کہ بعض خاندانوں میں قرآن پکڑ کر اسے دلہن کے سر پر چھتری کی طرح تان کر قرآن کا اس پر سایہ کیا جاتا ہے گویا قدم قدم پر ہر کام میں اللہ کی نافرمانی اور قرآنی تعلیمات کی مٹی پلید کرنے کے باوجود ہم قرآن سے اس جذباتی تعلق کا اظہار کرکے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں ، یا اللہ ! دیکھ لے اس سب خود فراموشی اور خدافراموشی کے بعد بھی بطور تبرک تیرے قرآن کریم ہی کو استعمال کررہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کے ساتھ کتنا بھونڈا مذاق ہے۔اعاذنا اللہ منہ

کیا روزِ محشر اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں سے نہیں پوچھے گا کہ کیا قرآن کریم میں نے صرف اس لیے نازل کیا تھا کہ تم اس کو حریر وریشم کے غلافوں میں لپیٹ کر گل دستۂ طاق نسیاں بنا کر رکھ دینا اور اپنے کاروبار میں ، معاملات زندگی میں اور اپنی معاشرتی تقریبات (شادی بیاہ وغیرہ) میں اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنا، تاہم اس کو کبھی کبھی تبرک کے طور پر یا مردے بخشوانے اور کھانے پر فاتحہ پڑھنے کے لیے استعمال کر لیاکرنا۔

تاکہ تم اللہ کو ، دنیا کو اور اپنے نفسوں کو یہ دھوکہ دیتے رہو کہ تم قرآن کریم کو ماننے والے ہو ، سچ فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے ۔

﴿يُخَادِعُونَ اللّٰهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾ (سورۃ البقرۃ : 9 )

’’ یہ اللہ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں اوران کو یہ پتہ ہی نہیں کہ دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘

شادی کے اختتام پر مرد حضرات اپنی اپنی خواتین کو لینے کے لیے ہال کے گیٹ پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ماشاء اللہ سب خواتین چونکہ بے پردہ ، ہر طرح کے فیشن سے آراستہ نیم عریاں لباسوںمیں ملبوس اور الٹے سیدھے میک اپ سے اپنے چہروں کو اور پلکوں کو بزعم خویش سجایا بھڑکایا ہوتا ہے تو کیا باہر نکلتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے سامنے سے بلا جھجھک نہیں گزرتی ہیں ؟ اور کیا مرد رنگ ونور کے اس سیلاب سے، یا حسن وجمال کے اس جلوہ ہائے بے تاب سے یا بکھرتے اور دھنکتے اس قوس قزح سے محظوظ نہیں ہوتے؟ کیا بے حیائی وبے پردگی کے ان مناظر اور مظاہروں کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے؟ اور جن مسلمان کہلانے والے مردوں نے اپنی بیگمات، بیٹیوں اور بہنوں کو اس بے حیائی کا مظہر بننے کی اور ’’بے حیا باش وہرچہ خواہی کن‘‘ کا مصداق بننے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ، کیا وہ اس کے ذمے دار نہیں ہیں؟ اگر وہ واقعی مسلمان ہیں تو کیا اس بے غیرتی کا ان کے پاس کوئی جواز ہے؟ کیا انہوں نے کبھی سوچاہے اسلام کی اس طرح مٹی پلید کرنے پر وہ اللہ کوکیا جواب دیں گے، بارگاہ الٰہی میں کس طرح سرخرو ہوں گے؟ کیا اس جواب سے ان کا چھٹکار ہوجائے گا کہ بیوی یا بیٹی نہیں مانتی تھی؟ یا ہمارے معاشرے کا رواج ہی یہ تھا کہ شادی بیاہ کے موقعے پر شریعت کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا تھا ؟ یا اگر ہم اپنی خواتین کو سادہ لباس اور باپردہ لے جاتے تو لوگ ہمیں دقیانوسی خیال کرتے اور یہ پھبتی کستے۔

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ ، انہیں کچھ نہ کہو

کیا اس قسم کے جوابات سے ہماری چھوٹ ہوجائے گی؟

پس چہ باید کرد؟

بہر حال یہ صورت حال نہایت المناک ہے اور اہل دین کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ، یہ کہا جاسکتاہے کہ سب شادیوں میں تو ایسا نہیں ہوتا ، بلاشبہ یہ بات صحیح ہے لیکن بات تو چند افراد یا چند شادیوں کی نہیں بلکہ قوم کی حیثیت مجموعی کی ہے۔ رسم ورواج اور بے حیائی کایہ طوفان اور دینی اقدار وروایات سے یکسر انحراف کا یہ سیلاب اتنا عام اور تیز ہوگیا ہے کہ بڑے بڑے دین دار گھرانے اور خاندان بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں اور دولت اور وسائل کی فراوانی کی وجہ سے ان کے اندر بھی دین کی پابندی کے بجائے شان وشوکت کے اظہار کا جذبہ بڑھتا جارہاہے ، اس کی وجہ سے بہت سی مذکورہ خرابیاں دین داروں کی خواتین میں بھی عام ہوتی جارہی ہیں ، مثلاً

امیرا نہ شان وشوکت کا اظہار ۔ ان کی خواتین نے ظاہری طور پر تو پردہ کیا ہوا ہوتا ہے لیکن پردے کے پیچھے وہی زرق برق لباس کی نمائش، زیورات کی نمائش، میک اپ اور آرائش کی نمائش ، تفاخر اور برتری کا احساس وغیرہ ۔

یہ چیزیں کمتر حیثیت کی خواتین کے اندر احساس محرومی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ فضول خرچی کے علاوہ معاشرے کے محروم طبقات کے اندر احساس محرومی کے جذبات پیدا کرنا بھی شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے۔

پھر مائیں تو پردے کا کچھ اہتمام کرلیتی ہیں لیکن ان کے ساتھ ان کی نوجوان یا قریب البلوغت بچیاں ہوتی ہیں وہ اکثر بے پردہ بھی ہوتی ہیں اور مذکورہ فیشنی مظاہر سے آراستہ بھی۔

علاوہ ازیں دین دار خاندانوں کے سارے رشتے دار بھی یا تو دین دار نہیں ہوتے یا دینی اقدار وروایات کے زیادہ پابند نہیں ہوتے نیز ان کے قریبی احباب میں بھی بہت سے دین سے بہت دور ہوتے ہیں ان کی خواتین بھی جب بارات اور ولیمے میں شرکت کرتی ہیں تو وہ اسی بے پردگی اور اس کے لوازمات کا مظہر ہوتی ہیں جس کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔

بڑی باراتوں اور ان کی ضیافت کے لیے دین داروں کو بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کرنے پڑتے ہیں ، شادی ہال کا اور انواع واقسام کے کھانوں کا ۔جو فضول خرچی ہی کے ذیل میں آتاہے۔

لڑکی کی شادی ہو یا لڑکے کی۔ شادی والے گھر ہی میں کئی کئی دن چراغاں ضروری نہیں ہوتا بلکہ گلی، چوراہوں میں بھی اس کا اہتمام ہوتا ہے اور دین دار ہوں یا غیر دین دار، سب ہی اس کا اہتمام کرتے ہیں حالانکہ خوشی کے موقعے پر چراغاں کرنا مسلمانوں کا شیوہ کبھی نہیں رہا ، یہ آتش پرستوں کی رسم ہے جسے ہندؤوں نے اختیار کیا اور ہندؤوں سے میل جول کی وجہ سے یہ مشرکانہ رسم مسلمانوں میں بھی آگئی۔

یہ چند مفاسد وہ ہیں جو دین دار گھرانوں اور خاندانوں میں بھی عام ہوتے جارہے ہیں اور ان سےبچنے کا داعیہ اور جذبہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہاہے۔

سخت آپریشن اور دینی غیرت اختیار کرنے کی ضرورت

جب بیماری شدید اور ناسور خطر ناک ہوجائے تو بیماری اور ناسور کے خاتمے اور بیمار کی زندگی کو بچانے کے لیے آپریشن ناگزیر ہوجاتاہے اور یہ ناگوار اقدام مریض سے ہمدردی اور محبت کا تقاضا ہوتاہے۔

شادی بیاہ کی رسمیں، جن میں بارات بھی ایک مرحلہ ہے ، خطر ناک ناسور کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔ اس مریض قوم اور اس ناسور بھرے معاشرے کے معالج اور ہمدرد صرف اور صرف اہل دین ہیں ، اس لیے معاشرے کے ان پھوڑوں(ناسوروں) کی نشتر زنی انہی کے ذمے داری ہے۔ وہ اپنی ذمے داری کو محسوس کریں لوگوں کی باتوں سے نہ ڈریں، طعن وتشنیع کی پروانہ کریں اور بغیر لومۃ لائم کے خوف کے اس بیمار قوم کے آپریشن کا آغاز کریں اور اس کے لیے ابتدائی قدم یہ ہے کہ اپنے گھر سے اسے شروع کریں۔ بالخصوص جو اصحاب حیثیت دینی خاندان اور افراد ہیں ، وہ ہمت کریں اور فوری طور پر بارات کا سلسلہ ختم کریں بے شک اللہ نے ان کو سب کچھ دیا ہے ، وہ سینکڑوں نہیں ، ہزاروں افراد پر مشتمل باراتوں یا ان کی ضیافت کا اہتمام کرسکتے ہیں ، لیکن اللہ نے یہ دولت فضول خرچی کے لیے نہیں دی ہے ، اس پر تو آپ سے باز پرس کی جاسکتی ہے ، اس دولت کو صحیح مصارف پر خرچ کریں جس کی ہمارے معاشرے میں سخت ضرورت ہے۔ اس کی مزید وضاحت ان شاء اللہ ہم جہیز پر گفتگو کے ضمن میں کریں گے۔ پاکستان میں ڈاکٹر اسرار صاحب مرحوم کی ’’تنظیم اسلامی‘‘ نے اس کا آغاز کیا ہوا ہے اور اس تنظیم سے وابستہ افراد کی ایک معقول تعداد نے باراتوں کا سلسلہ موقوف کیا ہوا ہے۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے جسے اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

یہ صرف ایک تنظیم یا اس سے وابستہ افراد کا کام نہیں ہے ، یہ ایک دین کا تقاضا ہے جو سارے اہل دین کے مل کر کرنے کا کام ہے ، صرف ایک تنظیم کے چند افراد کا یہ کردار قابل تعریف ہونے کے باوجود معاشرے میں اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس کی حیثیت کسی صحرا میں پکاریا نقار خانے میں طوطی کی صدا سے زیادہ نہیں ہے۔

ملک میں اہل دین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دینی شعور اور اس کی تعلیمات سے بہرہ ور بھی ہے ، دینی اقداروروایات سے وابستگی کا جذبہ بھی اس کے اندر ہے اور بے دینی وبے حیائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے پریشان اور اس کا رخ موڑنے کی خواہاں بھی ہے لیکن بے عملی ، ایمانی ودینی غیرت وحمیت کے فقدان اور ہوا کے رخ پر ہی بغیر کسی مزاحمت کے ، چلتے جانے کی روش نے اتنی بڑی تعداد کوبے حیثیت بنایا ہوا ہے۔

بنابریں ضرورت عملی اقدامات کی ہے ، ایمانی غیرت وحمیت کے مظاہرے کی ہے ، ایک مضبوط تحریک برپا کرنے کی ہے اور تمام دینی جماعتوں سے وابستہ دین دار افراد کے یہ عہد کرنے کی ہے کہ وہ باراتوں میں شریک نہیں ہوں گے اور خود بھی بارات کے بغیر شادی کریں گے تاکہ مذکورہ خرافات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور قوم کے سامنے دین کا ایک عملی ، سچا نمونہ پیش کریں۔

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

لڑکی والوں کے گھر کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

بعض لوگ کہتے یا سمجھتے ہیں کہ باراتیوں کے لیے لڑکی والوں کے گھر کھانا کھانا ناجائز ہے ، اسی طرح لڑکی والوں کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ لڑکے والوں کے ساتھ آنے والے باراتیوں کی مہمان نوازی کریں ، ایسا سمجھنا صحیح نہیں ، یہ وہ غلو ہے جو ناپسندیدہ ہے۔

نکاح کی غرض سے لڑکی والوں کے گھر آئے ہوئے حضرات، کم ہوں یا زیادہ ، مہمان ہیں اور اکرام ضیف یعنی مہمان کی عزت وتکریم اور حسب طاقت وضرورت ان کی خاطر تواضع کا اہتمام نہایت ضروری اور ایمان کا تقاضا ہے، البتہ اپنی طاقت سے بڑھ کر محض دکھلاوے کے لیے فضول خرچی کی حد تک اہتمام ناجائز ہے جیسے مثال کے طور پر بارات کسی دوسرے شہر سے آئی ہے اور پھر اسے واپس بھی اسی شہر میں جانا ہے تو ظاہر بات ہے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد تقریب نکاح کے بعد خالی پیٹ رہنا اور پھر اسی طرح رخصتی لے کر بغیر کچھ کھائے پیئے دوبارہ عازم سفر ہوجانا ، ناممکن ہے ، ایسا نہ ہوسکتا ہے اور نہ کیا ہی جاسکتاہے۔ اس لیے مہمانوں کی ضیافت ناگزیر ہے اور اس قسم کی صورتوں میں لڑکی والوں کی طرف سے کھانے پینے کاانتظام کرنا اور مہمانوں کا لڑکی والوں کے گھر کھانا دونوں باتیں جائز ہیں ، شرعاً ان میں کوئی قباحت نہیں ہے ، اصل بات جو ہے وہ یہ ہے کہ بھاری بھر کم بارات کا یہ تصور لڑکی والوں کے لیے خواہ مخواہ کا وہ ناروا بوجھ ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ معاشرے کا وہ ناجائز رواج ہے جو لڑکی والوں کے لیے ایسا تصور ہے جس نے زمانۂ جاہلیت کی طرح لڑکی کی پیدائش کو غم واندوہ اور ماتم وشیون والی چیز بنادیا ہے جس کو اسلام نے آکر مٹایا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو بھی اللہ کی نعمت قرار دیا تھا۔ بارات کے ناروا بوجھ اوردیگر رسم ورواج کے اغلال وسلاسل نے ایک اسلامی معاشرے کو دوبارہ قبل از اسلام کے جاہلی معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے ، اور قرآن کریم نے اسلام کی نعمت سے محروم جاہلی معاشرے کی جو یہ کیفیت بیان کی ہے ۔

﴿وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ﴾ (سورۃ النحل : 58 )

’’ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غم وغصے سے بھرا ہوتا ہے۔‘‘

یہی کیفیت ہمارے پاک وہند کے مسلمان معاشروں کی ہوگئی ہے ، اور اس کی وجہ صرف وہی رسوم ورواج ہیں جو شادیوں کا جزو لا ینفک بن گئے ہیں ، جن میں بارات،جہیز،بری اور زیورات وغیرہ کی وہ غیر ضروری رسمیں ہیں جن کی بیڑیاں خود ہم نے اپنے پیروں میں ڈالی ہوئی ہیں اور جن کو اتار پھینکنے کے لیے کوئی تیار نہیں ، نیز اس میں دونوں خاندان برابر کے ملوث ہیں لڑکے والے بھی اور لڑکی والے بھی اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ کہ اس سے نہ کوئی دین دار خاندان مستثنیٰ ہے اور نہ غیر دین دار خاندان ۔ گویا

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

یا

ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میر ہوئے

ایک ہی زلف کے سب اسیر ہوئے

مسلمان معاشروں سے اس جاہلی کیفیت کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شادی بیاہوں کے ان تکلفات کی بیڑیوں کو کاٹ کر نہیں پھینک دیا جائے گا جن میں ایک بھاری بھر کم بارات کا کروفرکے ساتھ آنا اور پھر شاہانہ انداز میں اس کی ضیافت کرنا شامل ہے۔

مروّجہ جہیز کی شرعی حیثیت

شادی کی رسومات میں ایک رسم جہیز بھی ہے۔ یہ رسم البتہ ایسی ہے کہ اس کی اصل حیثیت میں اختلاف ہے کہ یہ واقعی دیگر غیر ضروری رسومات کی طرح ایک رسم محض ہے یا کسی لحاظ سے اس کا شرعی جواز بھی ہے؟

ہمارے نزدیک اس رسم کے دو پہلو یا دو رخ یا دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت میں اس کا جواز ہے اور دوسری صورتوں میں ناجائز۔اس کو سمجھنے کے لیے ان صورتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے جن کے پیش نظر جہیز کا اہتمام کیا جاتا ہے، یہ حسبِ ذیل ہیں:

1. شان و شوکت یا امارت کا اظہار

2. نمو دو نمائش، شہرت اور تفاخر کا اظہار

3. اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام

4. وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ

5. محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رسم کے طور پر

6. عدم استطاعت کے باوجود قرض لے کر اس کا اہتمام کرنا

7. تعاون، ہدیہ اور صلہ رحمی کے طور پر

اوّل الذکر چھ کی چھ صورتوں میں یہ ایک محض رسم ہے، اس لیے ناجائز ہے۔ اور اس ناجائز صورت میں اکثر و بیشتر مذکورہ ساری ہی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے جہیز کی رسم تمام مذکورہ خرابیوں کا مجموعہ ہے، اسے کس طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس میں شان و شوکت کا اظہار بھی ہوتا ہے، نمودو نمائش کا جذبہ بھی۔

اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس لیے ہر چیز دینے کی کوشش کی جاتی ہے، چاہے ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور لڑکے والوں کے پاس اتنا غیر ضروری سامان رکھنے کی جگہ بھی ہو یا نہ ہو۔

جس کے پاس استطاعت نہیں ہوتی، وہ قرض لے کر، حتیٰ کہ قرض حسنہ نہ ملے تو سود پر قرض لے کر یہ رسم پوری کرتا ہے۔

بھرپور جہیز دینے میں وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ بھی کار فرما ہوتا ہے۔ بالخصوص اصحابِ حیثیت اس نیّت سے لاکھوں روپے جہیز کی نذر کردیتے ہیں اور پھر واقعی ان کے بیٹے اپنے صاحب جائداد باپ کی وفات کی بعد اپنی بہنوں کو وراثت سے ان کا شرعی حق نہیں دیتے اور یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ باپ نے جہیز کی صورت میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے دیا، اب یہ ساری جائداد صرف بیٹوں کی ہے۔ اس طرح یہ رسم ہندؤوں کی نقل ہے۔ ہندو مذہب میں وراثت میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وہ شادی کے موقعے پر لڑکی کو ’دان‘ دے دیتے ہیں۔یہی دان کا تصور(وراثت سے محرومی کا بدل) مسلمانوں میں جہیز کے نام سے اختیار کر لیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔ اگر جہیز میں مذکورہ تصورات کار فرما ہوں تو جہیز کی یہ رسم سراسر ناجائز ہے، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اس کے خلاف بھی جہاد ضروری ہے، کیونکہ جہیز دینے والے بالعموم ایسے ہی تصوارت کے تحت جہیز دیتے ہیں اور اس رسم کو بھی پورا کرنا نا گزیر سمجھتے ہیں۔

جہیز کی جائز صورت

البتہ جہیز کی ایک جائز صورت بھی ہے جس کا ذکر ساتویں شکل میں کیا گیا ہے اور وہ ہے تعاون، صلہ رحمی اور ہدیے(تحفے،عطیے) کے طور پر اپنی لڑکی کو شادی کے موقعے پر کچھ دینا۔

اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس طرح ایک دوسرے کو ہدیہ، تحفہ دینے کی بھی ترغیب ہے۔ اور اگر تعاون یا ہدیے کا معاملہ اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ کیا جائے تو اس کوصلہ رحمی کہا جاتا ہے اور اس کی بھی بڑی تاکید ہے اور اس کو دگنے اَجر کا باعث بتلایا گیا ہے۔

اس اعتبار سے اپنی بچی کو،اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے یا بطورِتحفہ کچھ دینا، بالکل جائز، بلکہ مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی طاقت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کریں۔

اس کے لیے قرض لے کر زیر بار نہ ہوں۔

نمائش اور رسم کے طور پر ایسا نہ کریں۔

ضروریاتِ زندگی کی اس فراہمی میں شادی کے موقعے پر ضروریات کا جائزہ لیے بغیر تعاون کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ شادی کے بعددیکھا جائے کہ اس گھر میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اورلڑکے والے اُن کو مہیا کرنے سے واقعی قاصر ہیں، تواُ ن کو وہ اشیا مہیا کرنے میں حسبِ استطاعت ان سے تعاون کیا جائے لیکن حسب ذیل شرائط کے ساتھ

اس تعاون کو وراثت کا بدل سمجھ کر اسے وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ نہ ہو۔

بیک وقت تعاون کی استطاعت نہ ہو تو مختلف اوقات میں تعاون کردیا جائے۔

اگر بچی کو گھریلو اشیائے ضرورت کی ضرورت نہ ہواور والدین صاحب استطاعت ہوں اور وہ بچی کو تحفہ دینا چاہتے ہوں تو داماد کی مالی پوزیشن کے مطابق اس کو ایسا تحفہ دیں جس سے اس کا مستقبل بہتر ہوسکے۔ مثلاً، اس کے پاس سرمائے کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ کاروباری مشکلات کا شکار ہے، اس کو نقد رقم کی صورت میں ہدیہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار بہتر کر سکے، یا اُس کو پلاٹ لے دیا جائے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنا مکان بنا سکے، اگر اس کے پاس مکان نہیں ہے یا وہ مشترکہ خاندان میں رہائش پذیر ہے اور وہاں جگہ کی تنگی ہے، ان دونوں صورتوں میں یہ پلاٹ، یا گھر کی تعمیر، یا کاروبار میں مالی تعاون میاں بیوی(بیٹی اور داماد) کے لیے ایسا بہترین تحفہ ہے جو صرف انہی کے نہیں بلکہ آئندہ نسل کے بھی کام آئے گا۔ نیزتعاون کی ایسی صورت ہے جس میں رسم، نمود ونمائش، بلا ضرورت زیر بار ہونے کی کار فرمائی نہیں بلکہ خیر خواہی اور تعاون کا صحیح جذبہ ہے جو عنداللّٰہ نہایت پسندیدہ ہے۔

یہ جہیز نہیں بلکہ صلہ رحمی، تعاون اور خیرخواہی ہے

یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اس صورت کو جہیزنہیں کہنا چاہیے بلکہ یہ تعاون اور صلہ رحمی یا ہدیہ ہے۔ جہیز کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے۔ احادیث میں اس مروّجہ جہیز کا کوئی ذکر نہیں۔

رسول اللّٰہﷺ کی متعدد ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز لے کر نہیں آئی، اسی طرح رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنی چار بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھی۔

قبل از نبوت اور بعد از نبوت۔جہیز نہیں دیا۔ صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بابت مشہور ہے کہ آپ نے اُن کو تین چار چیزیں بطورِ جہیز دی تھیں۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے، اس کا کوئی تعلق مروّجہ رسم جہیز سے نہیں ہے،جیسا کہ اس کی وضاحت آگےآرہی ہے۔

عربی زبان میں تجہیز(جہیز بنانے) کا مفہوم

جہیز،عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ جہاز(سامان) ہے۔قرآن مجید میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے:

﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ﴾ (سورۃ یوسف : 59 )

’’جب(یوسف کے کارندوں نے ) برادرانِ یوسف کا(واپسی کا) سامان(سفر) تیار کر دیا۔‘‘

جَهَّزَ(باب تفعیل) کے معنی ہیں: اس نے سامان تیار کیا۔ ہر موقعے کے لیے الگ الگ سامان ہوتا ہے، اس کے حساب سے اس کے ساتھ یہ لفظ لگ کر اپنا مفہوم ادا کرتا ہے۔ جیسے جہاز العروس (دلہن کو تیار کرنا)، جہاز المیت(میت کا سامان تیار کرنا) ،جہاز السفر(سفر کا سامان)،جہاز الغازی(غازی کو سامان اسلحہ وغیرہ دینا)۔

احادیث میں یہ لفظ دو مو قعوں کے لیے استعمال ہوا ہے:ایک غازی کے لیے اس کو میدانِ کا ر زار میں کام آنے والی اشیا(خَود، زرہ، اسلحہ وغیرہ) مہیا کر کے تیار کرنا۔ دوسرا دلہن کو شبِ زفاف کے لیے تیار کر کے یعنی اُس کو عمدہ لباس وغیرہ سے آراستہ کر کے دولہا کے پاس بھیجنا۔ چنانچہ احادیث میں تین خواتین کا ذکر اس ضمن میں ملتا ہے۔ ایک سیدہ صفیہ، دوسرا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور تیسرا سیدہ فاطمہ الزہرارضی اللہ عنہا کا۔

جنگِ خیبر میں واپسی پر رسول ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے اُن سے نکاح کر لیا تھا،اس حدیث میں آتا ہے:

جَهَّزَتْهَا لَهُ أمُّ سُلَيْمٍ (صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ ، باب ما يذكر في الفخذ)

’’سیدہ اُمّ سلیم رضی اللہ عنہا نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو تیار کیا اور اُن کو شب باشی کی لیے نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔‘‘

نجاشی(شاہ حبشہ) کی طرف سے سیدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو، ان کا نکاح بذریعہ وکالت نبی ﷺ کے ساتھ کر کے، نبی ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی جناب شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا۔ اس حدیث میں آتا ہے:

ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَ بُعِثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ وجَهازُهَا كُلُّ مِنْ عِندِ النَّجاشيِّ

(مسند احمد: 6؍ 427)

’’پھر نجاشی نے سیدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پاس سے تیار کیا اور ان کو رسول اللّٰہ ﷺ کی طرف بھیج دیا…اور اُن کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی۔‘‘

ان دونوں احادیث میں تجہیز دلہن سازی، یعنی دلہن کو عروسی لباس اور آرائش وزیبائش سے آراستہ کرنے کے معنی میں ہے۔ أثاث البیت( گھریلو سامان) دینے کے معنیٰ میں نہیں ہے جس کو آج کل جہیز کا نام دے دیا گیا ہے، حالانکہ ان احادیث میں جہیز کا لفظ ان معنوں میں ہرگز استعمال نہیں ہوا ہے۔مسند احمد میں مزید جھاز کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب یہاں حق مہر کی ادائیگی ہے جو کہ سامانِ آرائش و زیبائش کے علاوہ مکمل طور پر نجاشی ہی کی طرف سے ادا کیا گیا تھا، اس لیے

جَهازُهَا كُلُّ مِنْ عِندِ النَّجاشيِّ

کہا گیا ہے۔

سيدہ فاطمہ رضی رلله عنہا کا جہیز

رہا تیسرا واقعہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دینے کا، جس سے جہیز کے جواز پر استد لال کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟

اس واقعے پر غور و خوض کرنے اور اس سے متعلقہ روایات کے مختلف طرق کا جائزہ لینے سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اس کا تعلق بھی أثاث البیت (گھریلو سامانِ ضرورت) سے نہیں ہے بلکہ یہ بھی دراصل دلہن کو پہلی مرتبہ دولہا کے پاس بھیجنے ہی کی تیاری تھی اور اس موقعے پر رسول اللّٰہ ﷺ نےسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو چیزیں دی تھیں، ان کا تعلق رات کو سونے کيلیے کام آنے والی چیزوں سے تھا، جیسے چادر، تکیہ، پانی کی مشک۔ جیسے سنن نسائی میں ہے:

جهَّزَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَاطِمَةَ فِي خَمِْيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ

سنن نسائی ، کتاب النکاح ، باب جھاز الرجل ابنتہ

’’رسول اللّٰہ ﷺ نے(سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنے کے لیے) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکو تیار کیا، ایک چادر، مشک اور تکیہ کے ساتھ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔‘‘

اس روایت میں جز اور جہازکے معنی وہی ہیں جو اس سے پہلےسیدہ صفیہ اورسیدہ اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہما والی دونوں حدیثوں میں اس لفظ کے گزرے ہیں یعنی دلہن کو شبِ زفاف کے لیے تیار کر کے دولہا کے پاس بھیجنا۔ چنانچہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے متعلقہ روایت، جس میں آتا ہے :

جَهَّزَتْهَا أُمّ سُلَيْمٍ، فأهْدَتْهَاإِليْهِ مِنَ اللَّيْلِ

’’اُن کو سیدہ امّ سلیم نے تیار کر کے (دلہن بنا کر) شب باشی کے لیے رسول اللّٰہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔‘‘

اس روایت کوامام نسائی باب البناء في السفر میں لائے ہیں۔ بناء کا لفظ شبِ زفاف ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کی اس تبویب اور اس کے تحت” جہّزتہا “والی روایت درج کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ “جہَّز” کے معنی دلہن سازی کے ہیں، نہ کہ سامانِ جہیز کے۔

ہماری بیان کر دہ وضاحت کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ سیدہ فاطمہ سے متعلقہ روایت سنن ابن ماجہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ سیدنا علی و فاطمہ رضی اﷲ عنہما کے پاس تشریف لے گئے اور وہ دونوں ایک چادر (خمیل) میں تھے۔

قَدْ كَانَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ جَهَّزَهُمَا بِها، وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ إِذْخِرًا وَقِرْبَةٍ

’’اس چادر کے ساتھ ہی رسول اللّٰہ ﷺ نے ان دونوں کو تیار کیا تھا اور ایک تکیہ، اِذخر گھاس کا بھرا ہوا، اور ایک مشک بھی عنایت کی تھی۔‘‘

امام ابن ماجہ نے اس روایت کو باب ضجاع آل محمد ﷺ کے تحت بیان کیا ہے۔ یعنی ’’آل محمد(محمد ﷺ کے گھرانے)کا بستر۔‘‘

امام ابن ماجہ کی اس تبویب سے بھی واضح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہاسے متعلقہ روایت میں جہیز کے معنی شب باشی کے سامان یا شب باشی کے لیے تیار کرنا ہیں، نہ کہ مروّجہ سامانِ جہیز کے ۔

احادیث میں ان تین واقعات کے علاوہ (سوائے حدیثِ جہاد من جہز غازيا … الحديث کے) تجہیز کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، بالخصوص شادی بیاہ کے مسائل میں اور ان تینوں واقعات میں جس سیاق میں یہ لفظ آیا ہے، اس کا وہی مفہوم ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اس سے مروّجہ جہیز مراد لینا یکسر بے جواز اور خلافِ واقعہ ہے۔ بنا بریں پورے یقین اور قطعیت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مروّجہ جہیز کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔

ستم ظریفی کی انتہا

اور یہ تو ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ لڑکی والوں سے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق جہیز کا مطالبہ کیا جائے حالانکہ لڑکی کے ماں باپ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ وہ بچی کو ناز و نعمت میں پال کر اور اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے اللّٰہ کے حکم کی وجہ سے اپنے دل کے ٹکڑے کو دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس احسان مندی کے بجائے ان سے مطالبات کے ذریعے سے احسان فراموشی کا اظہار کیا جاتا ہے جب کہ اللّٰہ کا حکم احسان کے بدلے احسان کرنے کا ہے :

﴿هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ﴾

(سورۃ الرحمٰن : 60 )

نہ کہ محسن کے لیے عرصۂ حیات تنگ کرنے کا۔ یا بھاری بھر کم جہیز نہ لانے پر لڑکی کا جینا دو بھر کردینے کا حتیٰ کہ اس کو خود کشی تک کردینے پر مجبور کردینا۔

علاوہ ازیں اللّٰہ تعالیٰ نے مرد کو قوام(عورت کا محافظ، نگران اور بالا دست)

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾

(سورۃ النساء : 34 )

بنایا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عورت کی مالی ضروریات پوری کرتا ہے، مرد اپنے اس مقام و مرتبہ کو فراموش کر کے عورت سے لینے کا مطالبہ کرتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے سببِ فضیلت

﴿وَبِمَا اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ﴾

یعنی معاشی و مالی کفالت کی ذمے داری، کے بھی خلاف ہے اور اس کے شیوۂ مردانگی کے بھی منافی۔

بہرحال جس حیثیت سے بھی اس رسم کو دیکھا جائے، اس کی شناعت و قباحت واضح ہوجاتی ہے۔

شادی بیاہ کی فضولیات اور رسومات پر ایک اخباری فیچر، بارات اور جہیز کے علاوہ شادی کے رسوم ورواج میں جن فضولیات کا اہتمام ہوتا ہے، ان کی تفصیل کافی لمبی ہے اور نہایت ہوش ربا بھی۔چند سال قبل روزنامہ’’جنگ‘‘ کے ایک فیچر نگار نے ان تفصیلات پر مبنی ایک مفصل فیچر لکھا تھا جو اخبار مذکور کے سنڈے میگزین (2003ء) میں شائع ہوا تھا ، جو بقول ایک شاعر کے

خوش تر آں باشد کہ سرِّ دلبراں

گفتہ آید در حدیث دیگراں

کا مصداق ہے ۔

یہ فیچر راقم کی کتاب ’’مسنون نکاح‘‘ مطبوعہ دارالسلام میں درج ہے ۔ قارئین اس کتاب میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں