بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں۔محمد انور محمد قاسم سلفی

بیت المقدس کی اسلامی تاریخ سیدنا ابراہیم سے شروع ہوتی ہے، جبکہ آپ نے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں کے شہر الخلیل میں پڑاؤ ڈالا، سیدنا ابراہیم کے بڑے فرزند سیدنا اسماعیل نے مکہ آباد کیا اور آپ کے دوسرے فرزند سیدنا اسحاق کے فرزند سیدنا یعقوب نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کو تعمیر کیا۔ اس کے چند سالوں بعد جب حضرت یوسف مصر کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے والدین اور تمام بھائیوں کو مصر بلا لیا، جہاں وہ خوب بڑھے، پھلے اور پھولے اور اس طرح مصر میں ان کی آبادی تیزی سے پھیلتی رہی ۔ اس کے سینکڑوں سال بعد جب مصر پر فرعون (رمیسیس) کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے بنو اسرائیل پر ظلم وستم کی انتہا کردی تو حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے بنو اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ فرعون نے ان کا پیچھا کیا، لیکن بحر احمر میں ڈبو دیا گیا۔

فلسطین آ کر بنو اسرائیل نے طرح طرح کی نافرمانیاں شروع کر دیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں وادی تیہ میں 40 سال تک کے لیے بھٹکا دیا۔ اسی دوران سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون نے عمالقہ جو اس وقت بیت المقدس پر قابض تھے سے جنگ کی اور بیت المقدس کے علاقے کو فتح کیا اور ان کے بعد سیدنا طالوت کی قیادت میں ایک جنگ لڑی گئی جس میں سیدنا داؤد نے جالوت کو قتل کیا اور اس طرح فلسطین کے سارے علاقے پر سیدنا طالوت کی حکومت قائم ہو گئی۔ طالوت کے بعد سیدنا داؤد بادشاہ بنے اور ان کے بعد ان کے فرزند سیدنا سلیمان کی زبردست حکومت فلسطین کے پورے علاقے پر قائم ہو گئی لیکن سیدنا سلیمان کے بعد ان کا بیٹا بادشاہ بنا وہ انتہائی عیاش اور بدکردار تھا۔ اس نے اپنی قوم میں بے حیائی اور بت پرستی عام کر دی اور یہ بھی سابقہ اقوام کے اخلاقی اور اعتقادی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے، جس کی وجہ سے اللہ نے بابل کے بادشاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کر دیا جس نے 578 قبل مسیح ایک زور دار حملہ کر کے سلطنت یہودیہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو پیوندخاک کر دیا، ہزاروں لوگوں کو تہہ تیغ کر دیا اور جو بچے اور عورتیں بچ گئے انہیں اپنے ساتھ عراق لے گیا۔ بخت نصر کی موت کے بعد وہ قیدی 70 سال بعد واپس فلسطین آ گئے اور انہوں نے شہر یروشلم کو پھر آباد کیا اور چھوٹی موٹی ریاست تشکیل دی، لیکن پھر ان میں وہی خرابیاں رونما ہو گئیں، جس کی وجہ سے کبھی یونانیوں نے کبھی بابلیوں اور کبھی رومیوں نے انہیں اپنا غلام بنایا۔ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں ان کے عوام ہی نہیں علماء کا طبقہ بھی اس قدر گمراہ تھا کہ شرک، بدکاری، انبیا کے قتل اور شراب نوشی وغیرہ کو گناہ تک بھی نہیں سمجھتا تھا۔ ان یہو دی علماء ربیوں اور فریسیوں نے سیدنا عیسیٰ کو قید کرانے اور پھر سولی پر چڑھانے کے لیے طرح طرح کی سازشیں اور کس قدر نیچ حرکتیں کیں، اس کی کچھ تفصیل موجودہ انجیلوں میں بھی مل سکتی ہے۔ سیدنا عیسیٰ کے رفع سماء کے بعد سن 70ء میں اللہ تعالیٰ نے ان پر رومی حاکم ٹیٹس کو مسلط کر دیا، جس نے ایک لاکھ 33 ہزار یہودیوں کو قتل کر دیا۔ 67 ہزار کے قریب غلام بنا لیے گئے ، جنہیں بھوکے درندوں کے سامنے کھانے کے لیے ڈالا گیا، اٹلی اور یونان کے ایمفی تھیٹرس میں ان یہودی غلاموں کو نشانہ درست کرنے کے لیے لٹکایا گیا۔ یروشلم اورہیکل سلیمانی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور خوبصورت لڑکیوں کو فاتحین کے لیے چن لیا گیا۔ اس کے بعد یہود 1750سال تک پھر کبھی اس سرزمین میں آباد نہیں ہو سکے۔

بیت المقدس اسلام کے زیر سایہ

اسراء اور معراج کی رات رسول اکرم ﷺ کا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر اور پھر آسمان سے بیت المقدس کی طرف نزول اور پھر براق سے مکہ واپسی خود اس بات کے واضح اشارے تھے کہ اب بیت المقدس کی سرزمین جلد ہی اسلام اور مسلمانوں کے زیر سایہ آنے والی ہے۔ پھر رسول اکرمﷺ کا سولہ یا سترہ ماہ تک مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا، گویا اس بات کی صراحت تھی کہ اب یہ مقدس سرزمین نہ یہود کی ہے نہ عیسائیوں کی، یہ صحیح دین اور صحیح اسلام کے پیروکار کی ہے۔

17ھ بمطابق 638ء کو جب مسلمانوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی ماتحتی میں ملک شام کو فتح کیا تو بیت المقدس کا بھی محاصرہ کر لیا، تو بیت المقدس کے پوپ نے جس کا نام صرفانیوس تھا، مسلمانوں کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اگر آپ کے امیر المؤمنین بذات خود یہاں تشریف لائیں گے تو میں شہر کی چابیاں ان کے حوالے کروں گا۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب نے اپنے غلام کے ساتھ بیت المقدس کا سفر کیا اور بیت المقدس کے بطریق نے شہر کی چابیاں سیدنا عمر بن الخطاب کے حوالے کیں۔ آپ نے وہاں پر اپنا مشہور عہد لکھوایا جسے ’میثاق عمر ‘ کہا جاتا ہے جس میں آپ نے ایلیاء یعنی بیت المقدس کے تمام عیسائیوں کے جان و مال اور عزت و آبرو اور گرجا وکلیساء کی حفاظت کی گارنٹی عطا فرمائی اور انہیں دینی ومذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا فرمان جاری کیا۔

اس فتح بیت المقدس میں تین ہزار سے زیادہ صحابہ کرام شریک تھے، حضرت عمر نے مسجد الاقصیٰ کے قریب ایک مسجد بنانے کا حکم دیا، جسے آج بھی مسجد عمر کہا جاتا ہے اور مؤذن رسول سیدنا بلال حبشی نے اذان دی اور مسلمانوں نے نماز ادا کی۔

مسجد اقصیٰ مختلف مسلم ادوار میں

مسجد اقصیٰ خلفاء راشدین، خلافت بنو امیہ، خلافت بنو عباسیہ میں مسلمانوں کے ماتحت رہی۔ جب خلافت بنو عباسیہ روبزوال ہونے لگی تو عالم اسلام میں کئی چھوٹی موٹی سلطنتیں وجود میں آ گئیں جن میں سے ایک سلجوقی سلطنت تھی جو فلسطین اور شام میں تھی اور دوسری شیعہ رافضی فاطمی سلطنت تھی جو مصر میں قائم تھی، یہ نہایت ہی بدترین حکومت تھی۔ اس نے سنی سلجوقی سلطنت پر حملے شروع کر دیے اس لیے کہ بیت المقدس انہی کے زیر انتظام تھا، بالآخر انہوں نے بیت المقدس کو سلجوقیوں سے چھین ہی لیا۔ جب یورپ کے عیسائیوں نے دیکھا کہ دو مسلمان ریاستیں بیت المقدس کے لیے آپس میں لڑ رہی ہیں تو انہوں نے 493ھ بمطابق 1099ء میں ایک زبردست حملہ کر کے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کا فاطمی گورنر افتخار الدولہ مالی فدیہ دے کر بھاگ گیا اور تمام مسلمانوں کو اس شیعہ خبیث نے صلیبیوں کے حوالے کر دیا، جنہوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ عزتیں لوٹی گئیں، بچے بوڑھے عورتیں، کسی کو بھی نہیں بخشا گیا، عین مسجد اقصیٰ کے اندر وہ قتل وخون کا بازار گرم کیا گیا کہ الامان والحفیظ۔ اس کےبعد مسجد اقصیٰ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا اور قبۃ الصخرۃ پر صلیب نصب کر دی گی اور مسجد اقصیٰ کے برآمدے کو گھوڑوں کا اصطبل بنایا گیا اور پھر نوے سال تک کے لیے مسجد اقصیٰ صلیبیوں کے ناپاک ہاتھوں میں چلی گئی اور عیسائی فلسطین کے ایک اچھے خاصے رقبے پر قابض ہو گئے۔

سلطان نور الدین زندگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی مجاہدانہ سرگرمیاں

اللہ تعالیٰ نے اسی دور میں سلطان نور الدین زنگی ﷫ کو سرزمین شام میں صلیبیوں کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا، مسجد اقصیٰ فتح کرنے کے بعد صلیبیوں کے حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فتح کے خواب دیکھنے شروع کر دیے، بلکہ انہوں نے اپنا ایک لشکر جرار سمندری راستے سے رابغ روانہ کر دیا تاکہ وہاں سے یہ لشکر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں پر حملہ آور ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے سلطان نور الدین زنگی ﷫ کو انہوں نے انتہائی برق رفتاری کے ساتھ اپنی فوجوں کو خشکی کے راستے رابغ روانہ کر دیا۔ رابغ کے ساحل پر اسلامی افواج صلیبیوں کے لیے موت بن کر تیار کھڑی تھیں، نور الدین زنگی﷫ کی افواج نے نہ صرف صلیبیوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا بلکہ ان کو اس طرح ختم کیا کہ ان کا کوئی فوجی پلٹ کر پھر فلسطین نہیں جا سکا۔ اس سے صلیبیوں کے حوصلے اس طرح پست ہوئے کہ وہ مکہ اور مدینہ کے خواب بھول گئے، اسی دوران سلطا ن زنگی کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ غازئ ملت سلطان صلاح الدین ایوبی ﷫ کو بیت المقدس کی آزادی کے لیے کھڑا کر دیا۔ جنہوں نے بے شمار معرکوں میں یورپی صلیبیوں کو شرمناک شکستیں دیں، لیکن ان کی سب سے بدترین شکست حطین کے معرکہ میں ہوئی۔ جس میں 30 ہزار سے زیادہ عیسائی مارے گئے اور 30 ہزار سے زیادہ گرفتار ہوئے جن میں اکثر یورپی ریاستوں کے شہزادے تھے، یہ معرکہ 25 ربیع الثانی 583ء بمطابق 4 جولائی 1187ء کو پیش آیا۔

اس معرکہ کے صرف تین ماہ بعد 27 رجب 583 کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو دوبارہ فتح کر کے مسجد اقصیٰ کو نصرانیوں کی غلاظت سے پاک کیا اور اس پر لگی ہوئی صلیب توڑی اور اس کے میناروں سے پھر سے اللہ اکبر کے صدا گونجنے لگی۔

جب تک بیت المقدس صلیبیوں کے چنگل میں تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی ﷫ نے مرغ بسمل کی طرح تڑپتے رہے، ان کےچہرے پر حزن وملال کے آثار نمایاں رہتے تھے، کسی نے ان سے اس کا سبب پوچھا تو اس اللہ کے شیر نے جواب دیا:

كيف يطيب لي الفرح والطعام ولذة المنام وبيت المقدس بأيدي الصليبيين؟ مجھے کیونکر خوشی اور کیسے کھانا اچھا لگے اور کیسے آرام سے سونے کی لذت آئے جب کہ بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے میں ہے؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے ساتھ مصر کی رافضی فاطمی حکومت کو بھی ختم کر دیا جس نے بیت المقدس کو صلیبیوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا تھا۔ جزاہ اللہ خیر الجزاء

مسجد اقصیٰ عثمانی خلافت میں

عہد ایوبی کے بعد پھر مملکوں کا دور آیا، اس دور میں بھی مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں میں محفوظ رہی۔ پھر ترکی کے عثمانی خلفاء بیت المقدس اور حرمین شریفین کے وارث بنے، انہوں نے بھی مسجد اقصیٰ اور حرمین کی بے مثال خدمت کی، انیسویں صدی کے اوائل تک یہود کی بیت المقدس یا فلسطین کے علاقے میں کوئی آبادی نہیں تھی، تقریباً 1750ء سال تک ان کا اس مقدس سرزمین پر کوئی وجود باقی نہیں رہا، 1838ء سے سرزمین میں ان کی دلچسپی شروع ہو گئی اور اکا دکا یہودی خاندان فلسطین کی طرف ہجرت کرنے لگا، اسی دوران 1897ء میں ’’عالمی صیہونی تحریک‘‘ وجود میں آئی، جس کا بنیادی نصب العین سرزمین فلسطین پر قبضہ کرنا ےاور ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنا اور اس علاقے میں ایک یہودی ریاست قائم کرنا تھا، دنیا کے بڑے بڑے یہودی سرمایہ داروں نے اس تحریک کے لیے اپنے خزانوں کے دہانے کھول دیے اور دنیا کے یہودیوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ فلسطین کی طرف ہجرت کریں اور وہاں فلسطینیوں کی زمینوں کو اونچے داموں میں خریدیں۔ لیکن یہ کام خلافت عثمانیہ کی اجازت کے بغیر بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے لیے صیہونی تحریک کا عالمی صدر ٹیوڈور ہرٹزل خلافت عثمانیہ کے سربراہ سلطان عبد الحمید ثانی﷫ سے ملاقات کے لیے استنبول گیا۔

سلطان عبد الحمید ثانی﷫ اور مسئلہ فلسطین

سلطان عبد الحمید ثانی کا سب سے بہترین کارنامہ سرزمین فلسطین کے متعلق ان کی وہ واضح پالیسی، دو ٹوک ایمانی رد عمل تھا جس کے تعلق سے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی کی وجہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ دنیا کی ساری صیہونی تنظیموں نے اپنے طور پر یہ کوشش کر لی کہ سلطان یہودیوں کو سرزمین فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے، اس سلسلے میں عالمی صیہونی تنظیم کے صدر ’’ٹیوڈور ہرٹزل‘‘ نے 1890ء میں سلطان عبد الحمید ثانی﷫ سے ملاقات کی اور ان کی سرزمینِ فلسطین میں یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت طلب کی اور اس سلسلے میں انہیں 250 ملین فرانک بطورِ تعاون سلطنت عثمانیہ کو دینے کی پیشکش بھی کی اور یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ فلسطین میں آباد ہونے والے یہود سلطنت عثمانیہ کے تابع وفرمانبردار ہوں گے اور سلطنت کے تمام قوانین ان پر لاگو ہوں گے اور اس سلسلے میں انہیں یقین کامل تھا کہ سلطان عبد الحمید ثانی﷫ ان کی شاندار پیش کش کو کبھی ٹھکرا نہیں سکتے، اس لیے کہ دولت عثمانیہ اپنے بدترین مالیاتی بحران سے گزر رہی تھی، بیرونی قرض اس قدر زیادہ ہو چکے تھے کہ سلطنت اصل قرض تو کجا سود بھی ادا کرنے سے قاصر تھی، یورپ کے اس مردِ بیمار (Seek Men of The Europe) میں وہ دم خم باقی نہیں تھا کہ وہ اس گراں قدر امداد کو ٹھکرا دے، جس سے اس کی کئی مشکلات و پریشانیوں کا مداوا ہو جاتا اور سلطان عبد الحمید ثانی کی روشن خیالی اور مذہبی رواداری کے ڈنکے چہار دانگ عالم میں بجائے جاتے اور اس کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کو اور سلطان کو بقاء کی مہلت کے کچھ سال مزید مل جاتے لیکن قربان جائیو سلطان عبد الحمید ثانی کی ذات پر انہوں نے ان تمام مادّی اور سونے چاندی کے ڈھیر کو دیکھ کر اپنے ایمان کا سودا کرنے سے صاف انکار کر دیا، واضح اور دو ٹوک الفاظ میں ’’ٹیوڈورہرٹزل‘‘ اور اس کے وفد کو بتلا دیا کہ

والله لقبضة تراب قدس أحب إلي مما ترغبونني إليه

’’ اللہ کی قسم! بیت المقدس کی ایک مٹھی بھر مٹی مجھے اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس کی تم مجھے لالچ دلا رہے ہو۔‘‘

إن أرض فلسطين حصلوا آباءنا بالدماء ولا يحصل مني بالفلوس ما دمت حيا، فإذا مت لعلكم تحصلونه مجّانا

’’فلسطینی سرزمین کو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے خون سے حاصل کیا تھا اور جب تک میں زندہ ہوں یہ مجھ سے پیسوں کے بدلے نہیں خریدی جا سکتی، جب میں مرجاؤں تو شاید تم اسے مفت ہی حاصل کر لو۔‘‘

ومستحيل أن أبيع فلسطين ولو شبرا منها، أرض فلسطين ليست أرضي، إنها أرض الأمة، فليحتفظ اليهود بملاينهم، وإنهم يستطيعون الإستيلاء على فلسطين وبدون مقابل في حالة واحدة فقط ألا وهي إنهيار الدولةالعثمانية . (السلطان عبد الحميد الثاني، د.محمد حرب: 89)

’’یہ میرے لیے ناممکن ہے کہ میں سرزمین فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی فروخت کروں، اس لیے کہ یہ سرزمین میری نہیں بلکہ امت کی ہے، یہود اپنے کوئی ملین کی رقم کو اپنی جیب میں رکھیں اور وہ سرزمین فلسطین پر صرف ایک ہی حالت میں مفت میں قبضہ کر سکتے ہیں اور وہ اسی وقت ہو گا جب کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو جائے۔‘‘

والصيهونيون يريدون إنشاء حكومة لهم وإنتخاب ممثلين سياسيين لهم، وإني أفهم جيدا معنى تصوراتهم الطامعة، وإنهم لسذج إذا تصوروا إني سأقبل محاولاتهم إن هرتزل يريدون أرضا لإخوانه في دينه لكن الذكاء ليس كافيا لحل كل شيء.

’’صیہونی اپنے سیاسی نمائندوں کو منتخب کر کے، سرزمین فلسطین پر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور میں ان کے لالچی ارادوں کو اچھی طرح بھانپ چکا ہوں، وہ نہایت سادہ ہوں گے اگر انہوں نے میرے متعلق یہ گمان کر لیا کہ میں ان پیشکش کو قبول کر لوں گا، ’’ٹیوڈورہرٹزل‘‘ اپنے دینی بھائیوں کے لیے ایک ہوم لینڈ چاہتا ہے، لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مکاری ہر مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں۔

و لماذا القدس؟ إنها أرضنا فى كل وقت وفي كل زمان وستبقى كذلك، فهي من مدننا المقدسة وتقع في أرض إسلامية، لا بد أن تظل القدس لنا . (السلطان عبد الحميد الثاني، د. محمد حرب: 89)

’’ آخر یہود قدس کے پیچھے ہی کیوں پڑے ہیں؟ سرزمین فلسطین ہر وقت اور ہر زمانے میں ہماری سرزمین رہی ہے اور اسی طرح ہماری رہے گی، یہ ہمارے مقدس شہروں میں سے ایک ہے اور اور اسلامی سرزمین پر واقع ہے، تو اس لیے ضروری ہے کہ بیت المقدس ہمارے قبضے میں رہے۔‘‘

و تكون قد وقعنا قرارا بالموت عل إخواننا فى الدين- يقصد الفلسطينيين- إذا لم تتوقف عملية توطين اليهود في فلسطين ومهاجرتهم إليها. (السلطان عبد الحميد الثاني، د. محمد حرب: 90)

’’ اگر سرزمین فلسطین میں یہودیوں کو وطن بنانے اور اس کی طرف ان کی ہجرت کو نہ روکا جائے تو گویا کہ ہم اپنے دینی (فلسطینی) بھائیوں کی قراردادِ موت پر دستخط کر رہے ہیں۔‘‘

سلطان عبد الحمید ثانی کی ایمانی غیرت نے ایک لمحے کے لیے بھی اس کو برداشت نہیں کیا کہ دنیا کی رذیل ترین قوم کو اس مقدس سرزمین پر آباد کر کے ملت اسلامیہ کے سینے میں خنجر گھونپے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کا یہ اقدام ساری دنیا کے صیہونی، صلیبی اور ماسونی تنظیموں کو سیخ پا کر دے گا اور یہ ساری طاقتیں اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ، ان کی ذات کے خلاف ایک بھرپور پروپیگنڈے کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوں گی اور سلطنت عثمانیہ کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کریں گی، لیکن ان تمام خدشات کے باوجود اس مرد مؤمن نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے موقف میں کوئی لچک نہیں دکھائی، بلکہ پوری جرأت اور بے باکی کے ساتھ اپنے اقتدار اور سلطنت کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو گیا، پھر وہ وقت بھی آیا کہ صیہونیوں نے 25/04/1909 کو سلطان عبد الحمید ثانی﷫ کو خلافت سے معزول کر دیا لیکن افسوس کہ صیہونیوں اور ماسونیوں نے یہ کام بجائے خود انجام دینے کے محمود شوکت باشا، مصطفیٰ کمال پاشا (اتاترک) جیسے ضمیر فروشوں سے کروایا، جو اپنے آپ کو مسلمان اور ترک کہتے اور اتحاد وترقی کا نقیب گردانتے تھے۔ سچ ہے:

دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سےملاقات ہو گئی

اور اس طرح مسجد اقصیٰ کا وہ عظیم محافظ جس نے صیہونیوں کی ناک میں نکیل ڈال رکھی تھی، یہودیوں کی سازشوں اور امت اسلامیہ کے غداروں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سچ ہے:

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی، گھر کے چراغ سے

مسجد اقصیٰ اور صیہونی سازشیں

صہیونیوں نے دیکھا کہ جب تک سلطنت عثمانیہ باقی ہے، اس وقت تک فلسطین اور بیت المقدس کے متعلق اس کے عزائم پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے لیے انہوں نے ترکی افواج میں زیادہ سے زیادہ اپنے ایجنٹوں کو بھرتی کروا یا جو نام کے تو مسلمان تھے لیکن ان کے دل و دماغ یہودیوں کے پاس گروی تھے، جن میں سے ایک مصطفیٰ کمال اتاترک بھی تھا، اسی دوران 28 جولائی 1914ء کو پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی، جس میں ایک طرف جرمنی اٹلی اور اس کے حلفاء تھے تو دوسری طرف برطانیہ، فرانس، روس اور امریکہ وغیرہ تھے، اس میں سلطنت عثمانیہ کا اپنا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی اس جنگ سے اس کا کوئی قریب یا دور کا تعلق تھا، لیکن صیہونیوں کے پلان پر عمل کرتے ہوئے غدار ملت مصطفیٰ کمال اتاترک نے سلطنت عثمانیہ کو زبردستی اس جنگ میں داخل کر دیا۔ ادھر برطانیہ نے عربوں کو ترکوں کے خلاف بھڑکا کر انہیں عظیم عربی سلطنت کا خواب دکھایا، جس سے متاثر ہو کر شریف مکہ حسین بن عبد اللہ نے ترکوں سے بغاوت کا اعلان کر دیا، یہ وہی شریف مکہ ہے جس کی اولاد آج بھی اردن پر حکومت کر رہی ہے اور لارنس آف عربیہ نے کئی عرب بد وقبائل کو ترکی افواج کے خلاف بھڑکا دیا، جس کی وجہ سے سارا عرب خلافت عثمانیہ سے باغی ہو کر برطانیہ اور فرانس کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ اسی دوران صیہونیوں کی عالمی تنظیم کے صدر وائزمین نے انگریزوں کو یہ پیش کش کی کہ اگر وہ جنگ جیت کر فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کا وطن قائم کر دیں تو اس جنگ میں یہودیوں کے سارے خزانے ان کے قدموں تلے قربان کر دیے جائیں گے۔ چنانچہ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمس بلفور نے 2 نومبر 1917ء کو یہودیوں سے یہ وعدہ کیا کہ وہ ان کے لیے فلسطین میں ایک ہوم لینڈ قائم کریں گے، تاریخ میں اسے معاہدۂ بلفور یا اعلان بالفور (Balfour declaration) کہا جاتا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی سارے دنیا کے یہودیوں نے فلسطین کی طرف ہجرت کرنی شروع کر دی۔ اور ان کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہونے لگا، آخر

11 نومبر 1918ء کو پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا، جس کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ تاش کے پتوں کی طرح بکھرگئی۔ عراق، حجاز اور فلسطین اردن اور مصر وغیرہ پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا اور لبنان وشام پر فرانس کا قبضہ ہو گیا۔ فرانسیسی جنرل ہنری گورو دمشق پر قبضہ کے بعد سلطان صلاح الدین﷫ کی قبر پر گیا اور اپنے بوٹ کا قدم ان کی قبر پر رکھ کر کہا۔ صلاح الدین ہم آ گئے۔ اور دسمبر 1917ء میں برتش جرنیل ایلن بی فاتحانہ انداز میں طور پر بیت المقدس میں داخل ہوا اور بڑے فخر سے کہا:

’’میں آخری صلیبی ہوں۔‘‘

پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں نے شریف مکہ کو حجاز کا، اس کے ایک بیٹے عبد اللہ کو اردن کا اور دوسرے بیٹے فیصل کو عراق کا بادشاہ بنا دیا، لیکن یہ صرف کٹھ پتلی حکمران تھے، اصل حکومت خود انگریز کر رہے تھے۔ اس دوران فلسطین میں یہودی دھڑا دھڑ آباد ہونے لگے اور برطانوی حکومت ہر طرح سے ان کی مدد اور حفاظت کرنے لگی۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں