بحث ونظر کا سفر؛ مولانا وحید الدین خان اور فکر فراہی وغامدی۔ محمد عبد الہادی العمری

معروف دینی رہنما، کتب کثیرۃ کے مصنف ماہنامہ ’الرسالہ‘ کے مدیر مولانا وحید الدین خان صاحب کا 21 اپریل 2021ء دہلی میں انتقال ہو گیا، ان کی وفات کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے اظہار خیال کیا، کسی نے انہیں عصر حاضر کا مجدد قرار دیا اور کسی نے ضال کہا، یہ دونوں ہی گروہ اپنی گفتگو میں توازن قائم نہ رکھ سکے جو تعلیمات اسلامی کا طرۂ امتیاز ہے، ہمیں تو حکم دیا گیا :

﴿وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ﴾ ( سورۃ لقمان: 19)

’’کہ اپنی چال ڈھال، طور طریق میں میانہ روی اختیار کرو۔‘‘

کسی تعریف یا تنقیص میں اعتدال نہ ہو تو وہ کلام معیوب سمجھا جاتا ہے:

” كلا طرفي قصد الأمور ذميم “

بلاشک وشبہ خان صاحب کے ذریعہ بہت سے خیر کے کام انجام پائے، اللہ قبول فرمائے اور کچھ تسامحات اور لغزشیں بھی ہوئیں، اللہ درگزر کا معاملہ فرمائے۔

بہرحال اس نکتہ پر سب کا اتفاق ہے کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر فراہم کرنے میں انہیں مہارت تھی، کچھ لوگوں نے روایتی انداز فکر اور مدرسہ فراہی کے درمیان انہیں ایک پل قرار دیا اور کچھ لوگوں نے عقل پرستوں نیچریت اور ظاہر بینوں کے درمیان علامت وسط کہا۔

جنوبی ہند کے مشہور درسگاہ جامعہ دار السلام عمر آباد میں جب ہم زیر تعلیم تھے ، اس وقت برصغیر کی جن شخصیات کا طلبہ کے درمیان چرچا تھا ان میں مولانا وحید الدین خان﷫ کا اسم گرامی نمایاں تھا، خاص طور پر ان کی کتاب مذہب اور علم جدید کا چیلنج کے حوالہ سے، اس کتاب کے ایک دو نسخے طلبہ تک پہنچے تھے، غیر درسی کتب کے اوقاتِ مطالعہ میں اس کے مندرجات سینئر طلبہ سے ہم سنا کرتے، کتاب کا محققانہ اسلوب، قوت استدلال اور پھر اسلامی تعلیمات کی عظمت کے نقوش قاری کو ذہنی مرعوبیت سے نکال کر دینی تعلیمات کی حقانیت کا قائل کرتے، پھر مولانا کی مختلف کتابوں کے مطالعہ کا شوق بڑھتا گیا، مولانا کی نگارشات میں فکر آخرت گویا مرکزی اور اہم نکتہ تھا کہ دنیا کو آخرت کی کامیابی کا زینہ بناؤ وہ مسائل اور دشواریوں کی شکایات کرنے اور اپنی محرومی یا ناکامی کا شکوہ کرنے اور راستہ میں حائل سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے ذکر میں اپنی توانائیاں صرف کرنے کے بجائے زور دیتے کہ ان رکاوٹوں سے اعراض کرتے ہوئے نئی راہیں تلاش کیجیے:

گلہ نہیں جو گریزاں ہیں چند پیمانے                                                                نگاہ یار سلامت ہزار میخانے

مولانا کے بعض خیالات سے اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن وہ اپنے کس وناکس کے بس میں نہ ہوتا۔

ماہنامہ ’الرسالہ‘ کا بیشتر حصہ فردِ واحد کی صلاحیت کا نمونہ تھا، اگرچہ پرچہ کو شائع ہوتے ہوئے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا لیکن ہر ماہ نئے شمارہ کا قارئین کو شدت سے انتظار رہتا ۔ بلاشبہ صحافتی دنیا میں یہ عظیم کارنامہ ہے، رسالہ کا اپنا اسلوب تھا، مختصر مضامین، گردو نواح کی چھوٹی موٹی باتوں سے سبق آموز نتائج قرآنی آیات، احادیث اور سیرت سے استدلال اور مولانا کی تحریروں میں معلوماتی مواد کے ساتھ اردو ادب کی چاشنی اور سلامت ایسی تھی کہ ایک صفحہ کا مطالعہ دوسرے صفحہ کی طرف اور دوسرا تیسرے کی طرف خودبخود لے جاتا، عموماً دیکھا گیا کہ لوگ خطبات اور تقریروں کے ذریعہ تذکیری پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں لیکن مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعہ یہ کام لیا، تحریر میں مؤثر تذکیری اسلوب کو اپنا نا قدرے دشوار ہے۔

ان خوبیوں کے باوجود ان کی طبیعت میں سادگی کی یہ کیفیت تھی کہ لباس اور کھانے پینے میں کسی طرح کے تکلف کو پسند نہ کرتے، اہم مقامات کا وزٹ یا نامور شخصیات سے ملاقات ہوتی تب بھی یہی ادائے قلندری برقرار رہتی :

’’خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ ‘‘

بعض مسائل میں اختلاف رائے کے باوجود دعوتی کاز کیلئے ان کے خلوص اور تڑپ سے انکار ممکن نہیں۔

مولانا جب اسلامی پروپیگیشن سنٹر کی دعوت پر پہلی بار برمنگھم تشریف لائے ان کے میزبان بھائی شمشاد خان صاحب نے ان کے پروگرامز کی فہرست میں جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے مرکز کی وزٹ بھی رکھی، یہاں کے بعض علماء اور اراکین کے ساتھ مولانا کے دیرینہ تعلقات تھے، جمعیت کی طرف سے شائع ہونے والے اردو مجلہ ماہنامہ ’صراط مستقیم‘ کا ایک مستقل کالم درس قرآن ہے ۔ اس میں عرصہ تک اس وقت کے مدیر مسؤل مولانا محمود احمد میرپوری﷫ مولانا کی تذکیر القرآن کا حصہ یہی شائع فرماتے رہے، نیز الرسالہ کے مختلف اقتباسات بھی جمعیت کے مجلہ میں چھپتے رہے۔ مہمان گرامی نے ’صراط مستقیم‘ کی مختلف پہلوؤں سے تعریف اور حوصلہ افزائی کی، اس دورہ میں مولانا کے ساتھ دو نشستیں ہوئیں، ایک خصوصی نشت جس میں اہم موضوعات پر علماء کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا بلکہ یوں کہیے کہ اشکالات پر گفتگو ہوئی، مولانا کا ایک وصف تھا کہ اختلاف رائے کو اہمیت سے سنتے اور دلائل پر مناقشہ بھی کرتے۔ گفتگو کے بعد مولانا ئے محترم نے کچھ باتوں پر دوبارہ غور کرنے کا وعدہ کیا اور بعض کے متعلق کہا کہ یہ میری رائے ہے اگر آپ مطمئن نہیں تو اس رائے کو چھوڑ دیجیے، دوسری نشست خطاب عام کے لیے تھی، خاصی تعداد میں احباب جمع تھے، میں نے خطاب سے پہلے تعارف میں ایک بات کہی تھی کہ مولانا نے کمیونزم کے بارہ میں کہا تھا کہ یہ نظریہ زوال پذیر ہے اور جلد ناکام ہو جائے گا حالانکہ جب یہ بات کہی گئی وہ اس وقت عروج پر تھا پھر تقریباً 30 سال بعد اس کی شکست وریخت ہوئی، ہمیں ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو قبل ازوقت حالات کی تہہ تک پہنچ کر درست رہنمائی کر سکیں، اس تعارفی نکتہ کے تذکرہ کا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ بہت توجہ سے مولانا خطاب سنتے رہے اور وقفۂ سولات میں کئی احباب نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سوالات بھی کیے کہ اگر مولانا کی نظر اتنی گہری اور دور رس ہے تو اس بارہ میں کیا فرماتے ہیں۔

مولانا اپنے افکار وخیالات میں تقلید جامد کے سخت خلاف تھے، اپنے مطالعہ اور غوروفکر کے نتیجہ میں جس بات کو درست سمجھا اس کا اظہار کیا وہ اس اصول پر عمل پیرا تھے:

﴿وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ﴾

اپنے مؤقف کے اظہار میں کسی تعریف یا مخالفت کی پرواہ نہ کرتے، ان کے نتیجۂ فکر سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن جس بات کو درست سمجھا ہے اس کا برملا اعلان کیا۔

مولانا اپنے پیچھے بیش بہا علمی خزانہ چھوڑ گئے ہیں جو متلاشیان حق کی پیاس بجھاتا رہے گا، ان شاء اللہ، دارِ فانی سے 96 برس کی عمر میں کوچ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور تسامحات سے درگزر کا معاملہ فرمائے اور حسنات قبول کر کے اعلیٰ علیین میں جگہ عطا کرے، ان کی موت پر جناب جاوید غامدی صاحب نے کہا کہ مولانا روایتی فکر یعنی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے مکمل حوالہ جات اہتمام فرماتے۔ علامہ الشیخ البانی﷫ کی فن حدیث پر تحقیق مساعی کی بہت قدر کرتے جبکہ فکر فراہی اور اصلاحی میں احادیث کا استخفاف اس حد تک پایا جاتا ہے کہ بسااوقات انکار حدیث کی بو محسوس ہوتی ہے جو کہ دین فہمی کے لیے ایک غیر حقیقی اصول اور جسارت بیجا ہے۔ آج کل عصری تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ فکر تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ مولانا امین احسن اصلاحی﷫ کی ’’تدبرِ قرآن ‘‘ اگرچیکہ اردو زبان میں اس حیثیت سے اہم اضافہ ہے کہ عربی الفاظ کی گہرائی میں ڈوب کر معانی کے موتی اس میں سجائے گئے ہیں اور آیات کے درمیان باہمی ربط اور تعلق بڑے عمدہ پیراہ میں بیان کیا گیا ہے جو کہ اہل علم کے لیے اہم کاوش ہے۔ فجزاہ اللہ خیرا، لیکن اس تفسیر میں احادیث سے بڑی حد تک استغناء کا مظاہرہ کیا گیا، یہ پہلو کتابِ ہدایت کی شایانِ شان نہیں، عربی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، الفاظ کی گہرائی میں غوطہ زنی مفید تر لیکن اس اعتراف کے باوجود یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قرآن مجید ہدیت نامہ ربانی ہے جس کی درست فہم کے لیے ہادئ برحق کی لازمی ضرورت ہے، اگر اس مرسل جسے اُسوہ بنا کر بھیجا گیا جو ناطق بالوحی ہے جو خود افصح العرب ہے ﷺ آپ کے اقوال وفرامین سے پہلو تہی اختیار کی جائے اور صرف عربی لغت کی معرفت کو اساس بنایا جائے ، یہ اسلوب حق اور انصاف کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ قدیم عربی ادب کی حفاظت کا بڑا ذریعہ خود صحابہ کرام کا مرہونِ منت ہے، ورنہ ان ہستیوں کو اگر حذف کر دیا جائے تو عربی ادب جو مستند ذرائع سے ہم تک پہنچا ہے وہ برائے نام ہی رہ جاتا ہے، اکابر صحابہ کی اکثریت خود عربی الاصل والنسل تھی جو افصح العرب رسول اللہﷺ سے براہِ راست سمجھ رہے تھے کہ کس کلمہ کا کیا مفہوم متعین کیا جا رہا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے اعمال وافعال کو اپنے الفاظ میں بیان کر رہے تھے جسے روایت بالمعنیٰ کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید کے بعض الفاظ کے متداول معانی اور مفہوم جو انہوں نے بیان کیے اس کی تفصیل کتب احادیث کے باب التفسیر میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے، لیکن فراہی واصلاحی میں احادیث کے لیے گنجائش بہت کم دکھائی دیتی ہے، یوں صحابہ کرام اور تابعین کی اکثریت جو عربی مبین کے بولنے اور برتنے والے تھے اور جو افصح العرب ﷺ کے براہِ راست شاگرد، جن کے سینے انوار سالت کی کرنوں سے منور ہو رہے تھے، ان بزرگوں کی تفسیری وضاحتوں کو نظر اندازکر کے یا دوسرے بلکہ تیسرے درجہ پر رکھ کر فکر اصلاحی کے حاملین ومتاثرین عرب شعراء کے کلام کی مدد سے قرآن مجید کے معانی ومطالب بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں؟!

علامہ فراہی ﷫ کی باقاعدہ تصانیف کا بہت کم حصہ چھپ کر ہم تک پہنچا ، ا س لیے براہِ راست ان کی فکر کے حوالے سے گفتگو زیادہ تر قیاس پر مبنی ہو گی، تاہم ان کے شاگرد رشید مولانا امین احسن اصلاحی نے جو تفسیر لکھی اس میں اپنے اُستاذ علامہ فراہی کے ارشادات اور طرز فکر کو بنیاد بنانے کی بات کی گئی اس لیے اس فکر کو فکر فراہی کا نام دیا گیا، لیکن علامہ فراہی اور مولانا اصلاحی کے درمیان الفاظ کی گہرائی اور نظم قرآن کے اشتراک کے باوجود احادیث کی اہمیت اور عملی زندگیوں میں نمایاں فرق ہے، راقم کو تردد ہے کہ مولانا اصلاحی کی فکر کو کلی طور پر فکر فراہی قرار دیا جائے، دونوں میں عموم خصوص کی نسبت پائی جاتی ہے اور یہی فکر جناب اصلاحی کے شاگرد جناب جاوید غامدی تک پہنچتے پہنچتے کہیں سے کہیں جا پہنچی، جو مختلف اردو ٹی وی چینلز پر اسلامی اسکالرز کے طور پر تشریف لاتے ہیں۔ علامہ حمید الدین فراہی (متوفی 1930ء) ایک خاموش انقلابی شخص تھے، خاموش اس لیے کہ ہنگامہ زندگی اور رنگینی ایام سے دور زندگی گزارنے کو انہوں نے ترجیح دی، لیکن انقلابی اس معنیٰ میں کہ عربی لغت کو اس کا صحیح مقام دینے کی بنا ڈالی۔ عربی الفاظ کے سمندر میں غوطہ زنی کر کے جو موتی انہوں نے نکالے وہ کوشش بہت ہی قابل قدر ہے، جسے جناب ڈاکٹر اجمل ایوب اصلاحی نے مفردات القرآن میں بڑی محنت سے جمع کیے ہیں، یہ کتاب دائریہ حمیدیہ سے شائع ہو چکی ہے، علامہ فراہمی کی مہارت کا ایک سبب شاید یہ بھی تھا انہیں مختلف اہم زبانوں پر دسترس حاصل تھی، اسی مہارت کے باعث حیدر آباد دکن میں سلطنت آصفیہ کی جانب سے اہم منصب اور اعلیٰ وظیفہ ان کے لیے مقرر کیا گیا، چند برس وہاں انہوں نے گزارے پھر مزید ترقی کے امکانات کو چھوڑ کر شمالی ہند کے دور افتادہ علاقہ میں گوشہ عافیت تلاش کیا، شاید جو انقلابی کام وہ کرنا چاہتے تھے اس کے لیے گوشۂ عزلت ضروری سمجھا گیا ورنہ حیدر آباد دکن میں سکونت دار العلوم میں ملازمت اور اہل علم میں قدر ومنزلت کو ترک کر کے شمالی ہند کے دور افتادہ علاقہ اعظم گڑھ میں گوشۂ عافیت تلاش کرنے کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے، لیکن ان کا یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا، ان کے متعلق جن اہم شخصیات نے اظہار خیال کیا، ان میں نمایاں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی وغیرہ وغیرہ نے علامہ فراہی کی متقیانہ زندگی، زہد اور متاثر کن عملی پہلوؤں کو اہمیت سے ذکر کیا ہے، مولانا آزاد نے تو یہاں تک لکھا کہ ان کے علم سے زیادہ مجھے ان کے عمل نے متاثر کیا، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص احادیث کا ہی انکار یا استخفاف کر کے اس درجہ متقیانہ زندگی بسر کرے۔

عربی الفاظ کی گہرائی اس حد تک مفید ہو گی کہ اس کے ذریعہ مفہوم قرآنی تک ہم پہنچ سکیں لیکن فکر غامدی تک پہنچتے پہنچتے محسوس ہوتاہے کہ چھلکوں کو ہی اصل اہمیت دی جا رہی ہے۔ مغز کا ادراک ہی ختم ہوتا نظر آتا ہے کہ قرآن مجید کا مقصد نزول کیا ہے اور حاملین قرآن کی پہلی کڑی صحابہ کرام نے دنیا میں جو انقلاب برپا کیا وہ صرف عربی الفاظ کی معرفت کے باعث ممکن ہوا یا قرآن مجید کو یومیہ زندگی میں بطور ہدایت نامہ ربانی اپنانے کے سبب، الفاظ کا درست مفہوم متعین کرنا یہ وسیلہ ہے ، مقصد قرآن تک پہنچنے کے لیے جو کہ اصل غایت ہے، ورنہ وسیلہ کو ہی غایت سمجھ بیٹھنا درست نہیں، کسی آیت کا درست مفہوم متعین کرنے کا صحیح طریقہ ہے کہ ہم دیکھیں اس کا مفہوم خود رسول اللہ ﷺ نے کیا بیان فرمایا اور صحابہ کرام نے کیا سمجھا، اگر ان گرامی قدر ہستیوں کا بیان کردہ مفہوم صحیح سند کے ساتھ ہم تک پہنچے تو وہ عربی لغت کی ہزار ڈکشنریوں پر بھاری ہو گا۔

جن احادیث کے ذریعہ مؤمنانہ زندگی بسر کرنے کے یومیہ مسائل طہارت صلاۃ یا صوم، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی تفصیلات سے معلوم کی جاتی ہیں، اسی قسم کی احادیث کو قرآن مجید کی تشریح اور قیامت کی نشانیوں کے باب میں مطلقاً رد کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس فکر کے حاملین خوب واقف ہیں کہ احادیث کے سہارہ کے بغیر طہارت، صلاۃ وغیرہ کی تفصیلات عربی مبین کی مدد سے متعین نہیں کی جا سکتی، چاہے کوئی زبان کی فصاحت وبلاغت میں امرؤالقیس، زہیر اور نابغہ جیسے عرب شعراء کے ہم پلہ ہو جائے لیکن فجر کی دو رکعت یا ظہر کی چار رکعات کی تفصیل عربی ڈکشنری سے نہ معلوم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی متعین۔ نہ صوم رمضان کی تفصیلات، نہ زکوٰۃ کی نصاب اور نہ ہی مناسک حج اور ہر یوم کے مطلوبہ اعمال، یہ تفصیلات دور جاہلیت کی عربی لغت سے نہیں بلکہ افصح العربﷺ کی بیان کردہ تعلیمات اور تشریحات جو ذخیرہ احادیث میں محفوظ ہیں، اسی کی طرف دیکھنا ہو گا اور اسی ذخیرہ احادیث سے طئے کی جاسکتی ہیں۔ اب یہ کہاں کی دیانتداری ہے کہ عبادات کے مسائل میں احادیث کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس کے بغیر ہم مؤمنانہ زندگی بسر ہی نہیں کر سکتے اور باقی مسائل میں ا سے ملتی جلتی احادیث صحیحہ کو نظر انداز کر کے صرف علت پر تکیہ کریں، اگر احادیث کی طرف رجوع درست نہیں یا قابل مواخذہ گناہ ہے یا بقول غامدی صاحب یہ جھاڑ جھنکار ہے تو پھر ’’ایں گناہیست کہ در شہر شمانیز کنند‘‘ کہ یہ ایسی غلطی ہو گی جس کے اس خیال کے حاملین بھی مرتکب ہوتے ہیں، ورنہ مبادیات دین پر بھی عمل نہیں کیا جا سکتا، یہ گروہ اس کے لیے بے جاتاویلات کا سہارہ لیتا ہے کہ اعمال یومیہ کے لیے تو ہم سنت متواترہ ہی سے معلومات لیں گے یعنی جس ذخیرہ کو آپ نے قولاً وفعلاً مشکوک بنانے کی کوشش کی ، اسی پر انحصار کریں گے، باقی اپنی فہم وفراست یا عربی دانی سے!

مولانا وحید الدین خان صاحب نے بعض معاصر اہل علم کی طرف سے بنیادی دینی تعلیمات اور قرآنی تشریحات میں مروجہ سیاسی افکار ونظریات کو داخل کرنے کے خلاف بھی سخت گرفت کی ہے، ان کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ اس کا ایک مثبت علمی نمونہ ہے، یہ دراصل مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ﷫ کے ساتھ ان کے فکری اختلافات کا مجموعہ ہے، اس فکر کو مولانا نے تعبیر کی غلطی کا نام دیا ہے، یہ فکر جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمین کے نظریات کا ایک بنیادی محور ہے، اس اسلوب سے ہونے والے نقصانات پر الرسالہ کے مختلف شماروں میں نکیر کی اور مختلف ممالک میں اس فکر کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات کا ذکر بھی کیا ہے۔

بعض مشاہیر کی ایک اجتہادی غلطی یہ بھی ہے کہ وہ دینی تعلیمات اس انداز سے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مخالفین اور معاندین اسلام کو اعتراض کا موقع نہ مل سکے یعنی خالص عقلی اور مشاہداتی اسلوب میں دین کی تعبیر! لیکن حقیقت میں یہ فکری انحراف کی ایک شکل ہے، دینی تعلیمات کو عصری اسلوب میں پیش کرنا تو قابل قدر ہے، لیکن خالص عقلی سانچہ میں ڈھال کر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ اس فکر کے حاملین عموماً مشاہدات سے استدلال کرتے ہیں حالانکہ مشاہدات تغیر پذیر ہیں اور دینی اصول اور ارکان غیر متبدل احکام الٰہی ہیں، جس کانمونہ سرسید احمد خان صاحب نے پیش کرنے کی جسارت کی، اس میں تو بعض ثابت شدہ معجزات کی تاویل کی گئی اس کی سخت مخالفت بھی ہوئی انہیں اس راہ سے ’’ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ اس پر مزید غور طلب پہلو یہ ہے کہ آپ کے اس اقدام اور جسارت سے کیا معترضین راضی ہو جائیں گے اور دینی تعلیمات کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز آ جائیں گے!

جب ہم یہ اعتراف اور اعلان کرتے ہیں کہ عقیدہ ایک لازمی جزء ایمان بالغیب ہے، پھر یہ کہاں کی عقلمندی ہو گی کہ ہر مسئلہ اور حکم کی عقلی توجیہہ کرنے کی کوشش کی جائے، بہت سی جزئیات ایسی ہیں جو ہم اس لیے قبول کرتے ہیں کہ قرآن مجید نے اس کی خبر دی ہے اور رسول اللہﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی، چاہے اس کی ہم عقلی توجیہہ کر سکیں یا نہ کر سکیں اور اب تو سائنسی ترقی نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ اس کائنات میں ایسی متعدد چیزیں ہیں جن کی سائنسی توجیہہ نہیں کی جا سکتی، لیکن سائنسدان اس کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں، اس اسلوب کا دوسرا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ عقل زندہ لوگ بہت سے شرعی امور میں مداہنت، بے جاتاویلات یا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس سے ثابت شدہ احادیث کا انکار یا دور ازکار تاویلات کی ضرور پیش آتی ہے، جس کا مشاہدہ فکر غامدی اور ان کے ہمنواؤں میں کیا جا سکتا ہے۔

یہ منہجی غلطی ہے، اس راہ کے مسافروں سے بڑی بڑی غلطیاں اس لیے سرزد ہوئیں کہ انہوں نے دین فہمی کے مسلمہ اصولوں سے روگردانی کر کے اپنی ایک الگ طرح ڈالی، مشہور صحابی سیدنا علی بن ابی طالب بہت پہلے اس کا ادراک کرتے ہوئے فرمایا تھا:

«لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ» (سنن ابو داؤد: 162)

’’ اگر دین ہماری عقل پر چھوڑ دیا جاتا تو یہ کام یوں کرنا مناسب ہوتا لیکن ہمیں جو حکم دیا گیا ہم سرمو انحراف نہیں کر سکتے ہم اس کے پابند ہیں، مسح کے مسئلہ میں صحابی رسول ﷺ اظہار خیال کر رہے تھے اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ نے ایک خاتون کو جو تکرار کر رہی تھیں کہ عورت ماہانہ بیماری کے دوران چھوٹنے والی نماز کی قضا نہیں کرتی تو روزہ کی کیوں؟ ام المؤمنین نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

“أحرورية أنت” ’’ کہ کیا تمہارا حروری لوگوں سے تعلق ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 728، صحیح مسلم: 335)

یعنی اس نوعیت کے سوال کو ناپسند کرتے ہوئے جواب دیا کہ عہد نبوی میں بھی خواتین اس بیماری میں مبتلا ہوتی تھیں وہاں صوم رمضان کی قضا کا حکم دیا گیا اور صلاۃ کا نہیں، گویا کہ دونوں بزرگوں نے اپنے جواب میں منہج کی نشاندہی کر دی کہ جو حکم ثابت ہے اسے اس طرح کرنے کے پابند ہیں نہ کہ عقلی توجیہ اور ذاتی فہم کی بنیاد پر مسائل کے رد وبدل کرنے کے مجاز ہیں۔

اسی منہجی غلطی کے سبب بعض اہل علم نے قرب قیامت کی بہت سی نشانیوں کا انکار کر دیا اور بعضوں نے ناقابل فہم تاویلات کا سہارا لیا۔

لہٰذا امام مالک﷫ کے فرمان کے مطابق: “لا يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولها” متاخرین امت کی کامیابی اور مسائل کا حل اسی نسخہ کو اپنانے میں ہے جو متقدمین نے اپنایا اور کارگرثابت ہوا۔‘‘

صحابہ کرام اور تابعین کے منہج کو اختیار کرتے ہوئے صراط مستقیم کے راہی بنیں۔

﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ ﴾ (سورة الأنعام: 90)

’’جن کے ہدایت یافتہ ہونے کی قرآن گواہی دے رہا ہے اور اسی راہ پر چلنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔‘‘

ورنہ قافلہ حق سے بچھڑ کر پگڈنڈیوں میں بھٹک جاؤ گے۔

﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ الانعام: 153)

٭٭٭

تبصرہ کریں