بدگمانی اور غیبت کی ممانعت۔ محمد حنیف


بدگمانی اور غیبت یہ وہ برائیاں ہیں جو دیگر کئی برائیوں کی جڑ ہیں۔ یہ برائیاں جس طرح جسم میں سرایت کر کے نقصان پہنچاتی ہیں، اسی طرح معاشرے میں بھی فساد پیدا کرتی ہیں، ان برائیوں سے بچ کر انسان اپنے ایمان کو محفوظ کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾

’’ اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو، یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور راز نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے۔ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 12)

مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں جن سے دوسرے انسان کو تکلیف ہوتی ہے، حرام فرمائی ہیں:

a ظن یعنی بدگمانی کرنا۔

b تجسس یعنی کسی کے پوشیدہ عیب کاسراغ لگانا۔

c غیبت یعنی کسی غیر حاضر آدمی کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جس کو اگر وہ سنتا تو اس کو ناگوار ہوتی۔

1۔ حرمت سوء ظن

ظن کے معنیٰ گمان غالب کے ہیں، اس کے متعلق قرآن کریم نے اول تویہ ارشاد فرمایا: ’’ بہت سے گمانوں سے بچا کرو۔‘‘ پھر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی: ’’ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘

جس سے معلوم ہوا کہ ہر گمان گناہ نہیں ہوتا تو یہ ارشاد سننے والوں پر اس کی تحقیق واجب ہو گئی کہ کون سے گمان گناہ ہیں تاکہ ان سے بچیں اور جب تک کسی گمان کا جائز ہونا معلوم نہ ہو جائے اس کے پاس نہ جائیں۔‘‘

علماء وفقہاء نے اس کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ امام قرطبی﷫ نے فرمایا کہ ظن سے مراد تہمت ہے یعنی کسی شخص پر بغیر کسی قوی دلیل کے کسی عیب یا گناہ کا الزام لگانا۔

امام ابو بکر جصاص ﷫ نے احکام القرآن میں ایک جامع تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ ظن کی چار قسمیں ہیں:

1۔ حرا م ہے۔ 2۔ مامور بہ اور واجب ہے۔

3۔ مستحب اور مندوب ہے۔

4۔ مباح اور جائز ہے۔

ظن حرام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی رکھے کہ وہ مجھے عذاب ہی دے گا یا مصیبت ہی میں رکھے گا، اس طرح کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت سے گویا مایوس ہے۔

سیدنا جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ» (مسند احمد: 14125)

’’ تم میں سے کسی کو اس کے بغیر موت نہ آنی چاہیے کہ اس کا اللہ کے ساتھ اچھا گمان ہو۔‘‘

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ»

’’ یعنی اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جیسا وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے۔ اب اس کو اختیار ہے کہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے۔‘‘ (مسند احمد: 16016)

ظن کی کل پانچ اقسام ہیں، جن میں سے دو مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ ظن حرام

وہ مسلمان جو ظاہری حالت میں نیک دیکھے جاتے ہیں، ان کے متعلق بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا حرام ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ»

’’یعنی گمان سے بچو کیونکہ گمان جھوٹی بات ہے۔ یہاں ظن سے مراد بالاتفاق کسی مسلمان کے ساتھ بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا ہے۔‘‘ (مسند احمد: 7337)

2۔ ظن مستحب

ظن مستحب و مندوب یہ ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ نیک گمان رکھے کہ اس پر ثواب ملتا ہے۔

امام قرطبی﷫ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ﴾

’’ جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مؤمن مردوں اور عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک گمان کیوں نہ کیا۔‘‘ (سورۃ النور: 12)

اس آیت میں مؤمنوں کے بارے حسن ظن کی تاکید آئی ہے۔ (تفسیرقرطبی)

یعنی احتیاط کی بات یہ ہے کہ ہر شخص سے بدگمانی رکھے اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ ایسا کرے جیسے بدگمانی کی صورت میں کیا جاتا ہے کہ قوی اعتماد کے بغیر اپنی چیز کسی کے حوالہ نہ کرے نہ یہ کہ اس کو چور سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کسی شخص کو چور یا غدار سمجھے بغیر اپنے معاملے میں احتیاط برتے۔

2۔ حرمت تجسس

دوسری چیز جس سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے، تجسس یعنی کسی کے عیب کی تلاش کرنا اور سراغ لگانا ہے۔ آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو چیز تمہارے سامنے آ جائے، اس کو پکڑ سکتے ہو اور کسی مسلمان کا جو عیب ظاہر نہ ہو، اس کی جستجو اور تلاش کرنا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

«لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ؛ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ»

’’ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کی جستجو نہ کرو، کیونکہ جو شخص اپنے بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیوب ظاہر فرما دیتے ہیں، یہاں تک کہ اس کو اس کے گھر کے اندر بھی رسوا کر دیتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد: 19776)

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ (سورۃ الحجرات: 11)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔‘‘

تفسیر بیان القرآن میں ہے:

’’چھپ کر کسی کی باتیں سننا یا اپنے کو سوتا ہوا بنا کر باتیں سننا بھی تجسس میں داخل ہے، البتہ اگر کسی سے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو اور اپنی یا دوسرے کسی مسلمان کی حفاظت کی غرض سے نقصان پہنچانے والے کی خفیہ تدبیروں اور ارادوں کا تجسس کرے تو جائز ہے۔‘‘

کسی کا خط بلا اجازت دیکھنا

تجسس میں کسی کا خط دیکھنا بھی شامل ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ» (سنن ابو داؤد: 1485)

’’ جس نے اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھا (یعنی پڑھا) تو گویا وہ جہنم دیکھ رہا ہے۔‘‘

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی﷫ سے کسی نے خط بلا اجازت دیکھنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’ کسی کا خط بلا اجازت دیکھنا جائز نہیں ہے ، مگر یہ اس صورت میں جب کہ اس سے خط لکھنے والے کو نقصان پہنچ رہا ہو کیونکہ حدیث شریف میں ہے:

«المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»

’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 10)

اور کسی پوشیدہ رازوں کو ظاہر کرنا اس کو تکلیف دینے کے مترادف ہے، کسی کا خط دیکھنے سے یہ تکلیف ضرورت ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بغیر اجازت کسی کی تحریر دیکھنا ایک فضول اور لغو کام ہے، جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہے ہیں:

﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ﴾

’’(ایمان والے) وہ ہیں جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ (سورة المؤمنون:3)

حضور ﷺ نے حاطب بن ابی بلتعہ کا خط لے جانے والی عورت سے وہ خط زبردستی چھنوا لیا تھا۔ (صحیح مسلم: 2494)

اگر بغیر عذر کے خط کو دیکھنا مطلقاً منع کیا جائے تو یہ بھی ہزاروں مفاسد کا ذریعہ ہوتا ہے، جس کا خلاصہ آزادی و خودسری ہے۔

کسی کا فون سننا

تجسس ہی میں یہ بھی داخل ہے کہ کسی کا فون اس کی لاعلمی میں سن لیا۔ کوئی انسان اپنے راز کا اظہار پسند نہیں کرتا لیکن بعض اوقات باتوں ہی باتوں میں آدمی غیر شعوری طور پر راز کی باتیں بھی زبان پر لے آتا ہے یا اپنے گھر والوں سے ایسی گفتگو ہی ہو جاتی ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے وہ یہ اظہار نہیں کرنا چاہتا، اسی لیے اگر کوئی اپنے گھر یا دوستوں سے فون پر بات کر رہا ہو تو چھپ کر کسی ایکسچینج وغیرہ سے اس کی باتوں کا خواہ مخواہ کھوج لگانا اور ان کی باتیں سننا شرعاً بھی ناجائز ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:

«وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ، وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ القِيَامَةِ» (صحیح بخاری: 7042)

’’ جو شخص کسی قوم کی باتیں (چھپ کر) سنے اور وہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیں گے۔‘‘ (معاذ اللہ)

3۔ حرمت غیبت

تیسری چیز جس سے آیت میں منع فرمایا گیا ہے وہ کسی کی غیبت کرنا ہے، یعنی اس کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جس کو وہ سنتا تو اس کو ایذا ہوتی اگرچہ وہ سچی بات ہی ہو، کیونکہ جو غلط الزام لگائے وہ تہمت ہے، جس کی حرمت الگ قرآن کریم سے ثابت ہے اور غیبت کی تعریف میں اس شخص کی غیر موجودگی کی قید سے یہ نہ سمجھا جائے کہ موجودگی کی حالت میں ایسی تکلیف دِہ بات کہنا جائز ہے، کیونکہ وہ غیبت تو نہیں مگر ’لُمز‘ (طعنہ زنی، عیب جوئی) میں داخل ہے جس کی حرمت اس سے پہلی آیت میں آچکی ہے۔

اس آیت نے کسی مسلمان کی آبروریزی اور توہین وتحقیر کو اس کا گوشت کھانے کی مثل ومشابہ قرار دیا ہے اگر وہ شخص اس کے سامنے ہو تو ایسا ہے جیسے کسی زندہ انسان کا گوشت نوچ کر کھایا جائے، اس کو قرآن میں بلفظ لمز تعبیر کر کے حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ سورہ ہمزہ میں ارشاد ہے:

﴿وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ (سورة الهمزة:1)

’’ بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے ولا، غیبت کرنے والا ہو۔‘‘

یعنی عیب تلاش کرنا اور غیبت کرنا ایسا ہے جیسے کسی مردہ انسان کا گوشت کھایا جائے کہ جیسے مردہ کا گوشت کھانے سے مردے کو کوئی جسمانی اذیت نہیں ہوتی، ایسے ہی اس غائب کو جب تک غیبت کی خبر نہیں ہوتی، اس کو بھی کوئی اذیت نہیں ہوتی، مگر جیسا کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھانا حرام اور بڑی خفت وذلت کا کام ہے، اسی طرح غیبت حرام بھی ہے اور خفت وذلت بھی کہ پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہنا کوئی بہادری کا کام نہیں۔

اس آیت میں ظن، تجسس اور غیبت تین چیزوں کی حرمت کا بیان ہے مگر غیبت کی حرمت کا زیادہ اہتمام فرمایا کہ اس کو کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس کی حرمت اور خفت وذلت کو واضح فرمایا۔ عام مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ جوسنے وہ اپنے غائب بھائی کی طرف سے بشرطِ قدرت روک تھام کرے اور روک تھام پر قدرت نہ ہو تو کم ازکم اس کے سننے سے پرہیز کرے کیونکہ غیبت کا ارادے اور اختیار سے سننا بھی ایسا ہی جیسے خود غیبت کرنا۔

غیبت کرنے والے کے لیے وعیدیں

1۔ پہلی وعید

زبان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، لیکن جس طرح یہ ایک بے بہا نعمت ہے، اس طرح یہ ایک خطرناک اور نہایت نقصان دہ آفت کا سبب بھی ہے، جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے:

«وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟ ‍»

’’لوگ اندھے منہ جہنم میں اسی زبان کے باعث ڈالے جائیں گے۔‘‘ (مسند احمد: 22063)

حضرت میمون نے فرمایا: ایک روز خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک زنگی (حبشی) کا مردہ جسم ہے اور کوئی کہنے والا ان کو مخاطب کر کے یہ کہہ رہا ہے کہ ’’ اس کو کھاؤ۔‘‘

میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! میں اس کو کیوں کھاؤں…؟

تو اس شخص نے کہا: ’’ اس لیے کہ تو نے فلاں شخص کے زنگی غلام کی غیبت کی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ اللہ کی قسم! میں نے تو اس کے متعلق کوئی اچھی بری بات کی ہی نہیں۔‘‘ تو اس شخص نے کہا: ’’ ہاں، لیکن تو نے اس کی غیبت سنی تو ہے اور تو اس پر راضی رہا۔‘‘

سیدنا میمون کا حال اس خواب کے بعد یہ ہو گیا کہ نہ خود کسی کی غیبت کرتے اور نہ کسی کو اپنی مجلس میں کسی کی غیبت کرنے دیتے۔ (التفسیر المظہری)

2۔ دوسر ی وعید

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ شب معراج کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ» (سنن ابو داؤد: 4878)

’’ مجھے لے جایا گیا، تو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور بدن کا گوشت نوچ رہے تھے، میں نے جبریل امین سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائی کی غیبت کرتے اور ان کی آبرو ریزی کرتے تھے۔‘‘

3۔ تیسری وعید

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ مِنْ كَفَّارَةِ الْغِيبَةِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِمَنِ اغْتَبْتَهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ»

’’ یعنی غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کرے اور یوں کہے کہ یا اللہ ہمارے اور اس کے گناہوں کو معاف فرما۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح: 4877)

4۔چوتھی وعید

حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا تو فرمایا:

«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ»(صحیح بخاری:218)

’’ان قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے مگر کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں سے ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کی وجہ سے اس عذاب میں مبتلا ہے۔‘‘

حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ

«لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ» (جامع ترمذی: 2026)

’’ میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘

فائدہ:

بچے مجنون اور کافر ذمی کی غیبت بھی حرام ہے کیونکہ انہیں ایذا دینا بھی حرام ہے اور جو کافر حربی ہیں، اگرچہ ان کی ایذا حرام نہیں مگر اپنا وقت ضائع کرنے کی وجہ سے پھر بھی غیبت مکروہ ہے۔

غیبت جیسے قول اور کلام سے ہوتی ہے ایسے ہی فعل یا اشارہ سے بھی ہوتی ہے جیسے کسی لنگڑے کی چال بنا کر چلنا، جس سے اس کی تحقیر ہو۔ (معارف القرآن)

بعض روایات سے ثابت ہے کہ آیت میں جو غیبت کی عام حرمت کا حکم ہے بعض صورتوں میں اس کی اجازت ہوتی ہے، مثلاً کسی شخص کی برائی کسی ضرورت یا مصلحت سے کرنا پڑے تو وہ غیبت میں داخل نہیں بشرطیکہ کہ وہ ضرورت ومصلحت شرعاً معتبر ہو جیسے کسی ظالم کی شکایت کسی ایسے شخص کے سامنے کرنا جو ظلم کو دفع کر سکے۔۔۔ یا کسی اولاد و بیوی کی شکایت اس کے باپ اور شوہر سے کرنا جو ان کی اصلاح کر سکے۔۔۔ یا کسی واقعہ کے متعلق فتویٰ حاصل کرنے کے لیے صورت واقعہ کا اظہار یا مسلمانوں کو کسی شخص کے دینی یا دنیوی شر سے بچانے کے لیے کسی کا بتلانا۔۔۔ یا کسی معاملے کے متعلق مشورہ لینے کے لیے اس کا حال ذکر کرنا۔۔۔ یا جو شخص سب کے سامنے کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور اپنے فسق کو خود ظاہر کرتا پھرتا ہے اس کے اعمالِ بدکا ذکر بھی غیبت میں داخل نہیں، مگر بلا ضرورت اپنے اوقات کو ضائع کرنے کی بنا پر مکروہ ہے اور ان سب باتوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ کسی کی برائی اور عیب ذکر کرنے سے مقصود اس کی تحقیر نہ ہو بلکہ کسی ضرورت و مجبوری سے ذکر کیا گیا ہو۔ (روح المعانی)

مسلمان کی عزت وحرمت کا مقام

حضرت ابو برزہ اسلمی سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ»

’’اے وہ لوگو! جو زبانی طور پر مسلمان ہوئے ہو اور ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبتیں نہ کرو اور ان کے عیبوں کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ جو شخص ان کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا، (یعنی ان کو کھول دے گا) اور اللہ تعالیٰ جس کے عیبوں کا پیچھا کرے گا، اس کو رسوا فرما دے گا اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 4880)

غور کرنے کی بات ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کی غیبت میں مبتلا ہوں اور ان کے عیبوں کے پیچھے لگیں، ان کو حضور اقدس ﷺ نے یوں خطاب فرمایا کہ ’’ اے وہ لوگو! جو زبانی طور پر مسلمان ہوئے اور ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو۔‘‘

اس انداز بیان میں اس طرح اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی غیبت کرنے والا اور ان کے عیبوں کے پیچھے پڑنے والا (یعنی عیبوں کی تلاش اور ٹوہ میں رہنے والا) مسلمان نہیں ہو گا، بلکہ ایسی حرکت منافق ہی سے سرزد ہو سکتی ہے جو زبان سے مسلمان ہوتا ہے، دل سے مسلمان نہیں ہوتا۔

حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ» (صحیح مسلم:2564)

’’ یعنی مسلمان کا مسلمان پر سب کچھ حرام ہے، اس کا خون بھی، مال بھی اور اس کو بے آبرو کرنا بھی۔‘‘

بہت سے لوگوں کا ذریعہ معاش ہی یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کی غیبتیں کیا کریں اور لوگوں پر کیچڑ اچھالا کریں، سیاسی جماعتوں اور صحافت سے تعلق رکھنے والوں کا تو یہ خصوصی مشغلہ اور پیشہ ہے اور بہت سے لوگ درباری ہوتے ہیں۔

اس رئیس کے یہاں گئے تو اس کے سامنے کسی غیبت کر کے روٹی کھا لی اور اس امیر کے یہاں گئے تو اس کے یہاں کسی پر کیچڑاچھالی اور پرانی شیروانی اس کے عوض لے اڑے، صرف دنیا سامنے، آخرت کی فکر ہوتی تو ایسا نہ کرتے۔

حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (سنن ابو داؤد: 4881)

’’ جس شخص نے کسی مسلمان کی غیبت کے ذریعہ کوئی لقمہ کھایا تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے اتنا ہی لقمہ کھلائے گا اور جس کی کسی کو کسی مسلمان کی غیبت کی وجہ سے کوئی کپڑا پہنا دیا گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی قدر جہنم سے (کپڑا) پہنائے گا اور جو شخص کسی شخص کی وجہ سے شہرت یا ریاکاری کے مقام پر کھڑا ہوا (یعنی کسی کو بڑا بزرگ اور شیخ ظاہر کرے اور اس کو اپنی اغر اض کا ذریعہ بنا لے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو (رسوا کرنے کے لیے) ریا اور شہرت کے مقام پر کھڑا کرے گا، (تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ شخص ایسا تھا۔) ‘‘

غیبت کا دنیاوی اور اخروی نقصان

حماد بن مسلمہ فرماتے ہیں کہ

’’ ایک شخص نے غلام فروخت کیا اور کہا کہ چغل خوری کے سوا اس میں کوئی عیب نہیں، اس شخص نے کہا مجھے قبول ہے اور خرید کر لے گیا، غلام اپنے نئے مالک کے پاس کچھ دن رہنے کے بعد ایک دن اس کی بیوی سے کہنے لگا:

’’ تیرا شوہر تم سے محبت نہیں کرتا اور وہ تم سے جان چھڑانا چاہتا ہے، تم ایسا کرو کہ استرہ لے کر رات کو سوتے میں اس کی گدی کے کچھ بال کاٹ لاؤ میں ان پر سحر کر دوں گا، جس سے وہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔‘‘

ادھر جا کر اس کے شوہر سے کہا:

’’ تمہاری بیوی کا ایک شخص سے معاشقہ چل رہا ہے اگر اعتبار نہ آئے تو نیند کی حالت بنا کر دیکھ لو۔‘‘ لہٰذا شوہر نے ایک دن نیند کی حالت بنائی تو بیوی استرہ لے آئی، شوہر نے سمجھا واقعہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتی ہے، لہٰذا وہ اٹھا اور اس نے بیوی کو قتل کر دیا، اتنے میں بیوی کے گھر والے آئے انہوں نے شوہر کو قتل کر دیا، یوں دو قبیلوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ (سمیر المؤمنین: 179)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

«وشرارُ عبادِ الله المشَّاؤونَ بالنَّميمَةِ، المفَرِّقونَ بينَ الأحِبَّةِ، البَاغونَ لِلْبُرآءِ العَيْبَ»  (الترغیب والترہیب: 2824)

’’ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں بدترین وہ لوگ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان فساد ڈلواتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کے عیب تلاش کرتے رہتے ہیں۔‘‘

ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ» (صحیح بخاری: 6474)

’’ جو شخص مجھے اپنی زبان اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دے دے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘

زبان کی مثال دو دھاری تلوار کی سی ہے، اگر قرآن وسنت اور احکام الٰہی کے مطابق حدود شرعیہ میں رہتے ہوئے ا س سے صحیح کام لیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے قرب اور رضا کا بہترین ذریعہ ہے اور اگر اسے حدود شریعہ کے خلاف چلایا جائے تو پھر یہی جہنم لے جانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ افسوس لوگ چغل خوری کو معمولی تصور کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اس ہلاکت خیر عمل سے محفوظ رکھے۔ آمین

====

زیادہ افضل کیا ہے؟

تلاوتِ قرآن یا دوسرا کوئی ذکر

’’اس بارے میں ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کے لحاظ سے مختلف کیفیت ہوتی ہے، اگر تو کوئی شخص قرآن کے مفاہیم و معانی جانتا ہو، اس کے احکام و حکمتوں پر تدبر کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کے لیے تلاوتِ قرآن افضل ہے، کیوں کہ تلاوتِ قرآن ، افضل ترین اذکار میں سے ہے، اور احکامِ الہی پر غور و فکر بہترین اعمال میں سے ہے،

اور اگر کوئی شخص کلامِ الہی کے فہم کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اس کے لیے کوئی دوسرا ذکر زیادہ افضل اور ذہنی بالیدگی و شفافیتِ قلب کا سبب ہے۔

البتہ قربتِ الٰہی کے راستے کے مسافر کو چاہیے کہ تلاوت و ذکر دونوں کو جمع کرے، جب ذکر کرتے ہوئے تھکاوٹ و سُستی محسوس ہو تو ترتیل و تدبر سے قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دے، آیاتِ توحید پر تعظیم الٰہی کا جذبہ، آیاتِ وعد و امید پر دعا و التجاء، آیاتِ خوف و وعید پر پناہِ الٰہی اور آیاتِ قصص پر عبرت و نصیحت حاصل کرے۔

ہاں ذکر کرتے وقت ایک خاص چیز جسے محقق علماء نے ذکر کیا ہے اس کا ضرور دھیان رکھے کہ قرآن مجید میں وراد شدہ اذکار مثلاً : لا إله إلا اللہ، کا ذکر کرتے وقت سورہ محمد کی آیت فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کو بھی ذہن میں رکھے تاکہ تلاوت اور ذکر دونوں کی فضیلت کا مستحق بن جائے۔‘‘

(جامع المسائل : 3؍ 384۔385)

امام ابن جوزی﷫ فرماتے ہیں:

«مَا مِن عَبدٍ مُسلمٍ يُكثِرُ الصَّلاةَ عَلىٰ مُحمَّدٍ ﷺ، إلَّا نوَّرَ الله قَلبَه، وغَفرَ ذَنبَهُ، وشَرحَ صَدرَهُ، ويسَّرَ أمرَهُ؛ فأكثِرُوا مِن الصَّلاةِ؛ لَعلَّ الله يَجعَلكُم مِن أهلِ مِلَّتِهِ، ويَستَعمِلكُم بسُنَّتِه، ويَجعَلهُ رَفِيقَنَا جَمِيعًا في جنَّتِهِ، فهو المُتَفضِّلُ عَلينَا برَحمَتِه. (بُستَانُ الوَاعِظِين: 297)

’’ جو مسلمان سیدنا محمد ﷺ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے دل کو منور کر دیتا ہے؛ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے؛ اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور اس کے معاملات آسان کر دیتا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کرو، کیا عجب کہ اللّٰہ تعالیٰ تمھیں آں حضرت ﷺ کی ملت میں شامل کر دے اور آپ ﷺ کی سنت پر عمل کی توفیق دے اور ہم سب کو جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت عطا فرما دے کہ وہی اپنی رحمت سے ہم پر فضل فرمانے والا ہے۔ ‘‘

تبصرہ کریں