عظمت ِامامت۔شفیق الرحمن شاہین۔اولڈہم

ہمیں انگلش زبان والا امام چاہئے۔۔۔ ایسا خطیب چاہئے جو عربی اور انگلش دونوں زبانوں پر عبور رکھتا ہو۔۔۔ ہمارے بچے اس لئے مسجد نہیں آتے کہ یہاں انگلش زبان میں خطبہ نہیں ہوتا۔

یہ جملہ آج برطانیہ کی ہر مسجد میں آپ کو سننے میں ملے گا۔ لیکن یہاں پیدا ہونے والے برطانوی طالبعلم جو مدرسہ بھی گئے، کئی ایک نے سعودی یونیورسٹیوں سے تعلیم بھی حاصل کی، جن کے والدین انہیں عالم بنانا چاہتے تھے لیکن آج وہ امامت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے راضی نہیں ۔۔۔ اور یہ مسئلہ قریباً تمام مکاتب فکر کا ہے ، ایک دیوبندی عالم دین سے بات ہوئی وہ بھی فرمانے لگے برطانیہ میں ہمارے مدارس سب سے زیادہ ہیں، ہرسال دو ڈھائی سو طلبہ عالم دین بن کرفارغ ہوتے ہیں لیکن مسجد میں پڑھانے والا نہیں ملتا ، جب باہرسے منگواتے ہیں تو پھراعتراض ہوتا ہے ہمارے لہجے میں انگلش زبان والا ہونا چاہئے ۔آخر کیا وجوہات ہیں ؟ مسئلہ کہاں ہے ؟ نوجوان ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں یا کمیٹیوں کے ذمہ داروں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے ۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی سے برطانیہ منتقل ہونے والی مسلم کیمونٹی کی اہم ضروریات میں یہ بھی تھا کہ وہ مساجد قائم کرتے اور اپنی زبان کے امام وخطیب مقرر کرتے ،اور ان بزرگوں نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق جو کیا اچھا کیا۔ جزاهم اللہ خیراً مسجدیں،مدارس سب کچھ آج برطانیہ بھرمیں ہمیں دیکھنے کو ملے گا۔ شام کے وقت مسجد آتے جاتے وقت طلبہ وطالبات کی کثیرتعداد، رمضان وعیدین کی رونقیں کسی اسلامی ملک کا منظرپیش کرتی ہیں ۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے جب یہاں پیدا ہونے والی دوسری نسل بھی اب جوان ہوچکی ہے اور مساجد میں اردوداں طبقہ بہت کم ہوچکا ہے، ان حالات میں ضرورت تھی کہ وقت کے تقاضوں اور مستقبل کے اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے اہل علم سامنے آتے جو انگلش زبان سے اچھی طرح واقف ہوں اور یہاں کے لہجے میں بات کرسکیں۔ کئی مکاتب فکر کے یہاں مدارس بھی قائم ہوئے اور الحمدللہ اہل حدیث مکتبہ فکر کے میرے علم کے مطابق کئی ایک شہروں میں تحفیظ القرآن کے شعبہ جات قائم ہیں اور قریباً پچاس سے زائد ہماری مساجد کے طلبہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ امام ملک سعود ریاض سے فراغت رکھتے ہیں ۔

لیکن افسوسناک مقام یہ ہے  کہ ان عالم دین فضلاء جن کی مادری زبان انگلش ہے اور عربی پر بھی عبور رکھتے ہیں، چار پانچ کے علاوہ کوئی بھی کسی مسجد کے ساتھ منسلک نہیں ہے ، بلکہ اپنا آزادانہ کام کرنا زیادہ بہترسمجھتے ہیں اور مساجد والے ان فضلاء کی خدمات سے محروم ہیں یہ فاضلین کوئی پرائیویٹ کورسز کوئی ٹیویشن سنٹر اور کوئی Pay as you go servicesدینا زیادہ بہترسمجھتا ہے اور جب ان لوگوں سے بات کی جائے تو سارا قصور مساجد کی کمیٹیز پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ ہمیں صحیح مقام نہیں دیتے ،  ہم اتنے گھنٹے کام نہیں کرسکتے۔ بوڑھے تنگ کرتے ہیں، وغیرہ

راقم الحروف نے جب اس صورتحال کا جائزہ لیا تو ایک بات واضح نظر آئی کیونکہ امامت انتہائی صبرآزما اور پابندیِ وقت کا حامل فریضہ ہے جس میں امام کو 24 گھنٹے ذہنی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے اور یہ فضلاء ایسی ڈیوٹی دینے سے گھبراتے ہیں وہ صرف یہاں کے ماحول اور قوانین کے مطابق چند گھنٹے اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ دوسرا اہم مسئلہ کمیٹی یا انتظامیہ مسجد کا بھی ہے کہ وہ مالی طور پر اہل علم کو ان کی اہلیت کے مطابق معقول مشاہرہ دینے سے کتراتے ہیں کیونکہ اس کیلئے انہیں فنڈز جمع کرنا پڑتا ہے ، محنت کرنی پڑتی ہے ۔ تیسری اہم بات کہ وہ امام وخطیب کو کیونکہ تنخواہ دیتے ہیں اس لئے انہیں ایک ملازم کی طرح سمجھتے ہیں جو ان کی بیسیوں شرائط کے مطابق کام کرے اور ہمیشہ ان کے حکم کا پابند رہے ۔

اب قصور کس کا ہے ، معاملہ کہاں اٹکا ہوا ہے؟ برطانوی مسلم کیمونٹی کی دینی اقدار کے تحفظ کیلئے اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہئے ۔

برطانوی فضلاء ، علماء کی طرف دیکھتے ہیں تو ان میں اکثریت امام کی ذمہ داری سنبھالنا اپنے لئے کسرِشان سمجھتے ہیں، سبکی تصور کرتے ہیں اور اس کو ایک عام سی جاب سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کا یہ تصور بالکل غلط اور دین حنیف جس کے وہ وارث ہیں اس کے خلاف ہے۔  امامت ایک عظمت ایک شان ، ایک مقام ورتبہ کا نام ہے ۔ امام کی فضیلت ہمیشہ اہل علم وفضل کے ہاں مسلمہ رہی ہے ۔نماز کی امامت دراصل دین کی امامت ہے ، امام ہی مسلمانوں کا قائد ہے ۔امام سے ہی مساجد حقیقی معنوں میں آباد ہوتی ہیں۔نبی رحمتﷺ  کا فرمان ہے :

« ثَلَاثَةٌ عَلیٰ کُثْبَانِ المِسْكِ… وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْماً وَّ ھُمْ بِهِ رَاضُوْنَ»  ’’روزقیامت تین آدمی کستوری کے ٹیلوں پر ہونگے۔۔۔ ایک وہ شخص جو قوم کا امام رہا اور وہ اس پر خوش تھے۔‘‘

 (جامع ترمذی: 1986)

 ایک اور روایت میں ہے:

« لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰی مَعَهُ »

’’امام کو اس قدر اجرملے گا جس قدر اس کے پیچھے نمازادا کرنے والے سب مقتدیوں کو ملے گا۔

(سنن نسائی: 647؛ مسند احمد: 1؍ 284 )

امامت کے شرف اور مرتبہ اتنی اہمیت کا حامل تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شوق و رغبت سے آپﷺ سے درخواست کیا کرتے تھے کہ

«اِجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي»

’’مجھے میری قوم کا امام بنادیں۔‘‘ (سنن نسائی:647 )

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے درخواست کی :

« اِجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِيْ، قَالَ : أَنْتَ إِمَامُھُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِھِمْ »

’’ مجھے میری قوم کا امام مقرر کردیجئے ۔آپﷺ نے فرمایا : آج سے تو ان کا امام ہے ، کمزوروں کا خیال رکھنا ۔‘‘ (سنن أبی داؤد: 531 )

 جو فضلاء جان بوجھ کر اس شرف سے اپنے آپ کو محروم رکھتے ہیں وہ درحقیقت شیطان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں جو انہیں دین کے داعی اور نیکی کی طرف بلانے کے شرف سے محروم رکھنا چاہتا ہے ۔ قرآن حکیم کا یہ پیغام کتنا شاندار ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘(سورۃ فصلت: 33)

اس لئے ان نوجوان فضلاء کو چاہئے کہ وہ آگے بڑھیں ،قوم کی قیادت کریں، امامت کو ایک شرف سمجھیں، انبیاء کی وراثت کو سنبھالیں اور دنیاوی اغراض کے سبب اپنے آپ کو اس سے محروم نہ کریں۔ علم دین کو چند پاؤنڈز یا دنیاوی سہولتوں کے ساتھ نہ تولیں۔ ان کے پاس جو علم قرآن وحدیث کی دولت ہے اس کی اہمیت کا اندازہ دنیادار لوگ نہیں لگاسکتے۔

دوسرا اہم مسئلہ مسجدکمیٹی، انتظامیہ کا ہے۔ امام وخطیب کے تقرر کے وقت اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی ملازم کو ہائر کر رہے ہیں یا کوئی ان کی ماتحتی میں کام کرے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ امام، انبیاء کا وارث ہے اس کو مصلیٰ پر کھڑا ہونا ہے تاکہ وہ قوم کی قیادت کرے ، انکی دینی وشرعی اور اخلاقی راہنمائی کرے۔ امام کو قائد سمجھیں ، جس امام کی عزت زیادہ ہوگی وہ مسجد بھی زیادہ آباد ہوگی۔

 برطانیہ کی کئی ایک مساجد آج اس وجہ سے صحیح معنوں میں آباد نہ ہوسکیں کہ انہیں کوئی اچھاامام وخطیب نہ مل سکا ، اور کمیٹی کے ذمہ دار اسی زعم میں ہیں کہ بس گزارا ہونا چاہئے کام چل جاتا ہے ۔ انتظامیہ اور مقتدیوں کو یہ ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ امام فرشتہ نہیں بلکہ آپ کی طرح کا انسان ہے ۔ وہ معصوم عن الخطأ بھی نہیں ہے۔عربی کے ایک شاعر کا بیان ہے :

” وَمَنْ ذَالَّذِي تُرْضَی سَجَایَاهُ کُلُّها … کَفَی المَرْءَ نُبُلاً  أَنْ تُعَدَّ مَعَایِبَهُ”

 بھلا ایسا کوئی شخص ہے جس کی تمام عادا ت اور اطوار سے ہرشخص خوش ہو کسی شخص کے بڑا ہونے کیلئے یہی بات کافی ہے کہ اس کے عیوب شمار کر لیے جائیں۔

 اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہاں کی نوجوان نسل دین کی طرف آئے ، ہمیں یہاں سے ہی امام وخطیب میسر آئیں تو انہیں عزت واحترام دینا ہوگا ، انکی بنیادی ضروریات ، حقوق کا خیال رکھنا ہوگا ، کم از کم آپ ان کیلئے وہی پسند کریں جو اپنے بیٹوں کیلئے کرتے ہیں۔ ایک دفعہ چند ذمہ دار لوگوں کے ساتھ ایک امام کی تقرری کے معاملہ پر بات چیت ہوئی تو پوچھنے لگے کیا تنخواہ دیں ، میں نے کہا جو آپ کا بیٹا لیتا ہے وہی اس امام کو دے دیں کیونکہ ضروریات برابر کی ہیں ، تو وہ صاحب بیٹے کی ڈگریاں بتانے لگ گئے اور امام کا کام نماز ہی پڑھانا ہے اس پر دلائل دینے لگ گئے ۔ حالانکہ ایک عالم دین عام تعلیم یافتہ فرد سے کہیں زیادہ سال لگا کر تعلیمی مراحل طے کرتا ہے ۔ قرآن وحدیث کے علم کا کہیں موازنہ کرنا دراصل جہالت کی دلیل ہے۔ نوجوان فضلاء اسی وجہ سے مساجد میں ذمہ داریاں نہیں سنبھال رہے کہ انہوں نے اپنا پچپن اور دوران تعلیم دیکھا ہے کہ کس طرح ذمہ دار لوگ اور مقتدی حضرات امام کے ساتھ رویہ رکھتے ہیں۔

جہاں امام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقام کو پہچانے، مقتدیوں کے جذبات کا احترام کرے ، محبت وپیار کا مظاہرہ کرے اور  نیکی وتقویٰ کے کاموں میں آگے بڑھنے والا ہو ، وہاں کمیٹی اور مقتدیوں پر بھی فرض ہے کہ وہ امام کا احترام کریں،  اسکی غیبت وچغلی نہ کریں ، اس کے حقوق کا خیال کریں ، معمولی کمزوری سے صرف نظر کریں اور ایسا ماحول اور رویہ بنائیں کہ یہ فضلاء اور علماء مساجد میں ذمہ داریاں سنبھالنے پر خود اپنے آپ کو پیش کریں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں