عصر کے بعد دو رکعات۔محمد شعیب بن محمد حسین

عصر کے بعد سورج زرد ہونے سے پہلے 2رکعت نماز پڑھنا مسنون عمل ہے۔ اسکا ثبوت رسول اللهﷺ، صحابہ کرام یا صحابیات ، اور تابعین عظا﷭ سے ملتا ہے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’آپ ﷺ نے دو رکعتیں فجر کی نماز سے پہلے اور 2رکعتیں عصر کے بعد نہ سراً اور نہ ہی جہراً چھوڑی ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 592)

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’جب بھی نبیﷺ میرے پاس عصر کے بعد تشریف لاتے تو 2 رکعت نماز ادا فرماتے ۔‘‘ (صحيح بخاری: 593)

3۔ عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ

میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر کو عصر کے بعد 2 رکعتیں پڑھتے دیکھا اور وہ خبر دیتے کہ سیدہ عائشہ نے ان کو بیان کیا کہ نبی ﷺ جب بھی ان کے گھر تشریف لے گئے تو آپﷺ نے یہ 2 رکعتیں پڑھیں ۔ (صحیح بخاری:1631)

4۔ عصر کے بعد 2 رکعتیں پڑھنے والے یا پڑھنے کو جائز سمجھنے والے صحابہ کرام کے نام حافظ ابن حزم ﷫ نے اپنی مایہ ناز کتاب المحلی میں نقل کیے ہیں۔ اختصار کے پیش نظر ان صحابہ کے صرف نام ذکر کرتا ہوں ۔ صاحب ذوق لازمی اس مقام کا مطالعہ فرمائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ فائدہ ہو گا: سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان ، سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا عبداللہ بن زبیر تمیم الداری، سیدنا المنکد ر، سیدنا زید بن خالد الجہنی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابوایوب انصاری، سیدنا ابوجحیفہ، سیدنا ابودردا، سیدنا انس، سیدنا حسن بن علی، سیدنا بلال، سیدنا طارق بن شہاب، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا نعمان بن بشیر ۔یہ کل 20 صحابہ کرام کے اسمائے گرامی ہیں۔

صحابیات کے اسمائے گرامی: سیدہ ام سلمہرضی اللہ عنہا، سیدہ عائشہرضی اللہ عنہا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا۔

تابعین عظام کے اسمائے گرامی: ہشام بن عروہ، انس بن سیرین، طاؤوس ، مسروق، اسود، ابو وائل، قاضی شریح، سعید بن مسیب، قاسم بن محمد، عبداللہ بن ابی، الہذیل، ابو بردہ بن ابی مولی، عبدالرحمن بن اسود، احنف بن قیس، ابوخیثمہ، ابوایوب الہاشمی ، عبدالرحمن بن بیلمانی، ابراہیم بن میسرہ، ابوالشعثاء، اشعث ، عمرو بن میمون ﷭۔ (المحلی بالآثار، لابی محمد على بن احمد بن حزم الأندلسی، مسئلہ نمبر: 285)

عصر کے بعد والی دو رکعات پر اعتراضات اور ان کے جوابات

1۔ عصر کے بعد نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

جواب: یہ اعتراض کرنے سے پہلے آپ ﷺ کے منع کرنے والے فرمان کو مکمل طور پر پڑھ لینا چاہیے کہ آپ نے مطلق طور پر عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یا مقید طور پر۔۔۔ ؟

چنانچہ درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں تو پتہ چلے گا کہ آپ نے مطلقاً عصر کے بعد منع نہیں فرمایا، بلکہ سورج زرد ہونے سے غروب آفتاب تک منع فرمایا ہے۔ یعنی عصر کے بعد جب تک سورج بلند ہو، سفید چمکدار ہوآپ نماز پڑھ سکتے ہیں۔

1۔ آپ ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس وقت کے کہ جب تک ابھی سورج بلند ہو۔“ (سنن ابو داؤد: 1274؛ سنن نسائی: 572)

2۔شیخ البانی ﷫ فرماتے ہیں: سیدنا ابوسعید والی حدیث جس میں مطلقاً عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کو سیدنا علی کی اس حدیث سے خاص کر یں گے جو سنن ابوداؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے۔ آپ ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا سوائے اس وقت کے کہ جب ابھی سورج بلند ہو یعنی اس وقت پڑھ سکتے ہیں ۔ لہذا جو ابوسعید والی حدیث میں عصر کے بعد منع فرمایا، وہ اس وقت منع ہے کہ جب سورج زرد ہو چکا ہو۔ لیکن جب سورج سفید چمکدار اور بلند ہو تو اس وقت نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ (ارواء الغليل: 2:236)

3۔ امام ابوبکر بن محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے اپنی کتاب: ’’صحیح ابن خزیمہ‘‘ میں سیدنا علی کی اس مذکورہ روایت کو ان مجمل احادیث کی تفسیر قرار دیا ہے، جن میں مطلقاً عصر کے بعد نماز کی ممانعت کا ذکر ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

عصر کے بعد نماز کی ممانعت اس وقت ہے جب سورج بلند نہ ہو بلکہ غروب ہونے کےلیے جھک جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ حدیثِ علی ( )ذکر کرتے ہیں: آپ ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ، سوائے اس وقت کے کہ جب سورج سفید، بلند ہو، اس وقت پڑھ سکتے ہیں ۔ (صحیح ابن خزیمہ: 1284)

4۔ سیدنا بلال فرماتے ہیں: ’’صرف غروب شمس کے وقت نماز سے منع کیا گیا ہے۔ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ:7337، الصحیحہ للالبانی، تحت الحديث: 200)

5۔سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیطان کے سینگ پرطلوع و غروب ہوتا ہے۔ اور اس کے درمیان والے وقت میں جتنی چاہو نماز پڑھ لو۔“ (مسند أبی يعلى: 4216، الصحیحہ: 314)

یہ روایت ذکر کرنے کے بعد شیخ البانی﷫ کہتے ہیں: ’’فقہ کی کتابوں میں جو بات مشہور ہے کہ مطلقاً عصر کے بعد نماز منع ہے۔ اگر چہ سورج بلند چمکدار ہی کیوں نہ ہو؟ گزشتہ دونوں احادیث کے مخالف ہے۔ جن احادیث میں مطلقاً عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، ان کو ان دونوں احادیث سے مقید کریں گے۔ ‘‘

نوٹ : صاحب ذوق حضرات سے گزارش ہے کہ ’’فتح الباری‘‘ سے حدیث نمبر:585 تا593 اور ’’عون المعبود‘‘ سے حدیث نمبر: 1283 تا1280 کی شرح ایک بار پڑھ لیں فائدہ ہوگا۔

ملاحظہ: عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی ممانعت کے بارے میں عموماً 2 احادیث پیش کی جاتی ہیں، قارئین سے التماس ہے کہ پہلے ان کی اسنادی حیثیت دیکھیں کہ وہ نبی کریم ﷺ سے ثابت بھی ہیں یا آپ ﷺ کی طرف ایسے ہی منسوب کر دی گئی ہیں؟ ان دونوں احادیث کو رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرنے والے حضرات سے التماس ہے کہ ’’المحلی ‘‘ کے مسئلہ نمبر: 285 کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔

حدیث نمبر 1 : سیدنا عائشہ بیان فرماتی ہیں:

آپﷺ نماز عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور دوسروں کو پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔“ (سنن ابؤ داؤد: 1280)

سندی حیثیت: اس کی سند میں ’’محمد بن اسحاق‘‘ راوی مدلس ہے، اور ’’عن‘‘ سے بیان کرتا ہے، اور تحدیث بھی ثابت نہیں ہے، اس لیے یہ روایت ضعیف ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : (الضعیفہ: 945، الارواء: 441)

حدیث نمبر 2: ’’سیدہ ام سلمہ بیان فرماتی ہیں: ’’رسول اللہﷺ نے عصر کی نماز پڑھنے کے بعد میرے گھر آ کر 2 رکعتیں ادا کیں ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! جب ہم سے یہ 2 رکعتیں رہ جائیں ہم بھی قضا دے لیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں “

سندی حیثیت: اس کی سند منقطع ہے، کیونکہ ذکوان نے ام سلمہ سے یہ آخری ٹکڑا نہیں سنا، اور پھر یہ روایت منکر بھی ہے، کیونکہ ’’مسلم‘‘ کی حدیث :835 کے مخالف ہے، اس لیے اس پوری حدیث میں سے آخری ٹکڑا ضعیف ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : (الضعیفہ، الحديث: 946، الارواء، تحت الرقم: 440)

اعتراض نمبر2: سیدنا عمر اور عصر کے بعد 2 رکعت پڑھنے والوں کو مارا کرتے تھے۔ (صحيح بخاری: 1233)

جواب: یہ اعتراض کرنے سے پہلے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا سیدنا عمر مطلقاً عصر کے بعد نماز پڑھنا منع سمجھتے تھے؟ اس لیے پڑھنے والوں کو مارتے تھے یا سدّ ذریعہ کے طور پر مارتے تھے کہ کہیں بعد والے لوگ سورج زرد ہونے کے بعد بھی غروب آفتاب تک نہ پڑھتے رہیں؟ چنانچہ جب ہم تفصیلی احادیث کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر مطلقاً عصر کے بعد نماز کو منع نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ تو عصر کے بعد جب تک سورج بلند اور صاف چمکدار ہو، نماز پڑھنا جائز سمجھتے تھے۔ ا اور وہ مارتے اس لیے تھے کہ بعد میں آنے والے لوگ سورج زرد ہونے سے لے کر غروب تک کے منع والے وقت میں ہی پڑھنا شروع نہ کر دیں ۔ (تفصیل درج ذیل ہے):

1۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

’’تم میں سے کوئی بھی شخص یہ کوشش نہ کرے کہ وہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز پڑھے ۔‘‘ (صحيح بخاری: 585)

2۔ سیدنا عمر نے اپنے دورِ خلافت میں زید بن خالد کو عصر کے بعد 2 رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو سیدنا عمر آگے بڑھے اور سیدنا زید کو دره مارا لیکن زید نے نماز جاری رکھی، پھر جب سیدنا زید نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اب مارو، اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم! میں ان 2 رکعتوں کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا جبکہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ بھی یہ 2 رکعتیں پڑھا کرتے تھے، پھر سیدنا عمر ان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا:

’’اے زید بن خالد! اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہیں لوگ اس کو رات تک نماز پڑھنے کا ذریعہ نہ بنا لیں؟ تو میں ان 2 رکعتوں کی وجہ سے نہ مارتا۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: 3972)

معلوم ہوا کہ سیدنا عمر سدّ ذریعہ کے طور پر منع کرتے تھے، حقیقت میں جواز کے قائل تھے۔

3۔ ’’آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی تو ایک آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا تو سیدنا عمر نے کہا: ’’ بیٹھ جا! اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان کی نماز کے درمیان میں فاصلہ نہیں ہوتا تھا، آپﷺ نے فرمایا: ’’ابن الخطاب نے اچھا کیا ۔‘‘ (مسند احمد:23170)

اس سے ثابت ہوا کہ سیدنا عمر عصر کے بعد نماز کو منع نہیں سمجھتے تھے، اس لیے نماز پر اعتراض نہیں کیا بلکہ فرض کے بعد والی نماز کے در میان فرق اور فاصلہ نہ کرنے پر اعتراض کیا تھا ورنہ اگر عصر کے بعد نماز کو مطلقاً منع سمجھتے ہوتے تو یہ بھی اعتراض کر دیتے اور پاس نبیﷺ بھی موجود تھے۔

4۔ ’’ طاؤوس تابعی کہتے ہیں: صحابی رسول سیدنا ابو ایوب انصاری سیدنا عمر کے دور خلافت سے پہلے عصر کے بعد 2 رکعت پڑھا کرتے تھے، پھر سیدنا عمر کے دورِ خلافت میں چھوڑ دیں، پھر جب سیدنا عمر فوت ہوگئے تو سیدنا ابو ایوب نے پھر پڑھنی شروع کردیں تو سیدنا ابو ایوب سے پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ان 2 رکعتوں کی وجہ سے سیدنا عمر مارا کرتے تھے اس لیے میں نے چھوڑ دیں تھیں ، طاؤوس کا بیٹا کہتا ہے :

’’ میرے ابو جان بھی یہ 2 رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق: 3977)

ثابت ہوا شرعا یہ 2 رکعتیں ممنوع نہیں تھیں، بلکہ سدّ ذریعہ کے طور پر سیدنا عمر منع کرتے تھے۔

اعتراض نمبر3: ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ عصر کے بعد 2 رکعتیں پڑھنا آپ ﷺ کا خاصہ تھا، یعنی امت کے لیے جائز نہیں بلکہ منع ہے۔

جواب: قارئین سے گزارش ہے کہ اعتراض نمبر 1 کے تحت 20 صحابہ کرام ، تین صحابیات اور 20 تابعین عظام کے نام نقل کر دیے گئے ہیں، ان پر دوبارہ ایک نظر فرما لیں اور ان کے اصل ماخذ بھی دیکھ لیں۔ جب اتنے صحابہ کرام، صحابیات اور تابعین عظام عصر کے بعد 2 رکعات پڑھتے تھے یا پڑھنے کو جائز سمجھتے تھے، تو پھر یہ 2 رکعات خاصہ کیسے بن گئیں؟ اور خاصہ کی وہ کون سی تعریف ہے جو ان 2 رکعتوں پر لاگو ہوتی ہے؟

معلوم ہوا کہ 2 رکعتیں خاصہ نہیں بلکہ عامہ ہیں ، امت کے لیے بھی مسنون عمل ہے، ان کو غیر مسنون کہنا درست نہیں ہے، اور خاصہ کی کوئی دلیل نہیں ہے، صرف اتنی بات ہے کہ ہم لوگ پڑھتے نہیں ہیں یا اکثر لوگوں کو ان کا علم ہی نہیں ہے۔

نوٹ: خاصہ کے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں ان کی سندی حیثیت اعتراض نمبر 1 کے جواب میں واضح کر دی گئی ہے۔ قانون یہی ہے کہ رسول اللهﷺ جو کام بھی کریں وہ عام ہی ہوتا ہے، اور ہمارے لیے بھی وہ مسنون عمل ہوتا ہے، البتہ اگر اس کام کے رسول اللہﷺ کے ساتھ خاص ہونے کی کوئی دلیل آجائے تو وہ آپ کے لیے خاص بن جائے گا، جب تک دلیل نہ آئے وہ کام عام ہی سمجھا جائے گا۔

اعتراض نمبر4: ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ آپﷺ عصر کے بعد جو 2 رکعتیں پڑھتے تھے وہ آپ کی ظہر کے بعد والی تھیں، جو ایک دن آپ سے رہ گئی تھیں۔

جواب: ذرا غور فرمائیں کیا وہ ظہر کے بعد والی 2رکعتیں ایک بار رہ گئی تھیں یا ہمیشہ رہ گئی تھیں؟ اگر وہ ایک دن رہ گئی تھیں تو پھر ایک دن آپﷺ نے وہ پڑھ لی تھیں۔

کسی آدمی کی کوئی نماز رہ جائے تو وہ ایک ہی دفعہ قضا دیتا ہے یا روزانہ اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے؟ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کا بیان آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آپﷺ ان 2 رکعتوں کو بھی نہیں چھوڑتے تھے، بلکہ فرماتی ہیں:

”جب بھی آپ نماز عصر کے بعد میرے گھر تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔“ (صحيح بخاری: 593)

پھر یہ ظہر والی تو نہ ہوئیں؟ ظہر والی تو آپﷺ نے ایک دفعہ ہی پڑھی ہیں۔

اعتراض نمبر5: ایک نظریہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ایک عمل شروع کرتے تو پھر وہ کام کرتے ہی چلے جاتے تھے، اس پر ہمیشگی کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے ظہر کی 2 رکعتیں عصر کے بعد پڑھیں، پھر ان پر ہمیشگی کی ، رکعتیں دراصل ظہر ہی کی تھیں۔

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ جب یہ 2 رکعتیں آپﷺ کا خاصہ نہیں، اور آپ ﷺ نے ان پر ہمیشگی کی ہے، اور آپﷺ نے فرمایا:

«أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ » (صحيح بخاری: 6464)

’’اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگر چہ وہ کم ہی ہو۔‘‘

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: آپﷺ جو کام کرتے تو اس پر ہمیشگی فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم: 1934)

تو ثابت ہوا کہ عصر کے بعد 2 رکعت پر آپ نے ہمیشگی کی ہے، اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے، لہٰذا آپﷺ کی اتباع میں ہمیں تو بالاو لیٰ ان پر ہمیشگی کرنی چا ہے ! یا کم ازکم اگر عملی سستی ہے تو اس کو غیر مسنون تو نہیں کہنا چاہیے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم اس سے یہ اصول سمجھ لیں کہ جس عمل کی یا جس نماز کی آپﷺ نے ایک بار قضا دی تو اس پر آپ ﷺ ہمیشگی اور دوام فرماتے رہے، تو میرے علم کے مطابق یہ کلی قاعدہ نہیں ہے، کیونکہ اس کے خلاف احادیث میں مثالیں موجود ہیں :

مثال نمبر 1: سیدنا ابوقتاده بیان کرتے ہیں: ایک سفر میں ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ رات کے آخری وقت میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، سیدنا بلال نے ذمہ داری لی کہ میں صبح کی نماز کے لیے بیدار کروں گا، لیکن اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سیدنا بلال کو بھی نیند آ گئی اور سب سوئے رہے، جب سورج کی کرنیں ان پر پڑیں تو آپﷺ بیدار ہوئے ۔۔۔ پھر سورج طلوع ہونے کے بعد سب نے نماز پڑھی ۔ (صحیح بخاری: 595)

نوٹ: یہ فجر کی نماز آپﷺ نے قضا کی لیکن بعد میں کبھی دوبارہ اس کو نہیں پڑھا۔

مثال نمبر2: ایک دفعہ آپﷺ کی عصر کی نماز رہ گئی تو آپ نے شام کے بعد پڑھی۔ (صحيح بخاری: 596)

نوٹ: یہ عصر کی نماز آپﷺ نے دوبارہ اس طرح مغرب کے بعد بھی نہیں پڑھی؟

اس سے ثابت ہوا کہ قضاء کی ہوئی نماز کو دوبارہ پڑھنا اور اس پر ہمیشگی کرنا، یہ آپﷺ کا اصول نہیں تھا، البتہ نبی کریمﷺ کوئی نیک کام ابتدا سے، نئے سرے سے شروع کرتے تو اس کے متعلق آپﷺ کی کوشش ہوتی تھی کہ اس پر ہمیشگی کی جائے جیسے ابھی شروع میں 2 احادیث بخاری و مسلم کی گزری ہیں۔

مذکورہ بالا تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ عصر کے بعد 2 رکعت پڑھنا آپﷺ کی سنت ہے۔

هذا ما عندى والله أعلم بالصواب

تبصرہ کریں