اشاعت علم دین، ایک عظیم سخاوت ہے۔ مولانا محمد عبد الحفیظ اسلامی

ساری کائنات میں سب سے بڑا سخی خود اس کائنات کا خالق اللہ تبارک و تعالیٰ کی مقدس ذات ہے جو ’’رحمن و رحیم‘‘ کی حیثیت سے اپنے کرم کی بارش فرماتے رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نبی پاک ﷺ کی سیرت طیبہ اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اولادِ آدم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد جود و سخاوت میں سب سے بڑھ کر آقائے نامدار محمد مصطفی ﷺ کی ذات گرامی بابرکت ہے۔ لیکن اشاعت علم دین کی جدوجہد میں مصروف رہنے والے بھی اس امتیازی خصوصیت ’’جود و سخاوت‘‘ کے عالی شان مرتبہ سے خالی نہیں ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مومن اپنے لئے جو چیز پسند کرتا ہے وہ دوسرے اپنے بھائیوں کے لئے بھی وہی چیز پسند کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طریقہ سے ایک ایمان والا بندہ جب وہ علم دین سیکھتا ہے تو وہ دیگر بھائیوں کے لئے بھی علم سکھانے کو پسند کرتا ہے۔ اس کا یہ عمل نبی پاک ﷺ کی نگاہِ مبارکہ میں صدقہ ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ کی ایک روایت یوں ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’افضل صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلم شخص علم سیکھ کر اپنے دوسرے مسلم بھائی کو اس کی تعلیم دے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

صدقات صرف مال دولت ہی میں سے ادا نہیں کئے جاتے بلکہ علم و حکمت جو اللہ ہی کی عطا کی ہوئی دولت ہوتی ہے، دوسروں تک اسے منتقل کرنا بھی ایک عظیم صدقہ ہے۔ اس طرح اللہ کی خوشنودی کے لئے علم وحکمت کی باتیں لوگوں کو بتانا اور انہیں علم سے آراستہ کرنا خدائے تعالیٰ اور رسول برحق ﷺ کی نگاہ میں بڑی قدر و منزلت کا باعث ہے۔ اسلام میں حصول علم کا مقصد نوع انسانی کا ارتقاء ہے ناکہ کسی پر فخر کرنے یا دنیا میں اپنے علم کے زور پر دوسروں کو نیچا کرنا ہوتا ہے۔

سیدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علم اس غرض سے حاصل کیا کہ وہ اس سے علماء پر فخر کرے یا جاہلوں سے جھگڑے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے، خدا اس کو (دوزخ کی) آگ میں داخل کرے گا۔

مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہی علم انسان کو نفع پہنچائے گا اور عنداللہ مقبول ہوگا جس کے پیچھے اخلاص و للّٰہیت کارفرما ہو اور خوشنودیٔ رب کے تحت دیگر بندوں کو پہنچایا جائے۔ نام و نمود یا دنیوی مفاد سے بالاتر ہوکر علم دین اور تفقہ دین حاصل کرتے ہوئے اشاعت دین کی جدوجہد میں لگ جانا صرف صدقہ ہی نہیں بلکہ بہترین جود و سخاوت بھی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں امیر ترین لوگوں کا درجہ حاصل ہوگا۔

سیدناانس بن مالک نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تم جانتے ہو کہ سخاوت میں کون سب سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جود و سخاوت میں سب سے بڑھ کر خدا ہے، پھر بنی آدم میں سب سے زیادہ سخی میں ہوں اور میرے بعد جود و سخاوت میں سب سے بڑھ کر وہ ہے جس نے علم حاصل کیا اور اس کو پھیلایا۔ یہ شخص قیامت کے روز ایک امیر رکی طرح سے آئے گا یا آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک جماعت کی حیثیت سے آئے گا۔ (مسند بیہقی)

دنیا میں جتنی بھی چیزیں پائی جاتی ہیں ان میں سوائے ذکر اللہ اور اس سے متعلقہ چیزوں اور عالم دین وطالب دین کے، سب کے سب رسول اللہ ﷺ کی نظر میں ملعون ہے۔

اس سلسلہ میں سیدناابوہریرہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:

سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ الدُّنْیَا مَلْعُوْنَةٌ وَمَلْعُوْنُ مَافِیْھَا إِلَّا ذِکْرَ اللہِ وَمَا وَالَاہُ وَ عَالِمًا وَ مُتَعَلِّمًا (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، بیہقی)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ جو چیز اور جو بھی عمل جس کا تعلق اللہ کی خوشنودی و رضا سے خالی ہو وہ اصلاً قابل ترک ہے اور جو کام بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنے والا اور اس کے احکام کے عین مطابق کیا جانے والا ہوگا وہ ذکر اللہ کی فہرست میں شمار ہوگا۔ اسی طرح اشاعت دین کا کام بھی یقینی طور پر ذکر الٰہی میں داخل ہے۔ خواہ کوئی دین سیکھا رہا ہو یا کوئی اسے سیکھ رہا ہو یا پھر اسے کوئی دنیا میں پھیلا رہا ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہل علم کیلئے لمحۂ فکر ہے کہ جس طرح علم حاصل کرکے اس کی اشاعت کے لئے ہمیشہ تیار رہنا اور اس کی ترویج میں کوشاں ہونا جہاں سخاوت کے اونچے مقام تک پہنچادیتا ہے وہیں پر یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اشاعت علم دین سے غفلت برتنا یا علم کو اپنی ذات کی حد تک محدود کرکے رکھ دینا بھی بڑی محرومی اور بخالت ہے اور بخل ایک ایسی بیماری ہے جسے کوئی بھی پسند نہیں کرتا اور بخیل آدمی سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض رہتا ہے۔

سیدناابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اس کو چھپائے تو قیامت کے دن اس کے (منھ میں) آگ کی لگام دی جائے گی۔‘‘ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی)

اس طرح علم کو چھپانے والوں کو سخت وعید سنائی گئی۔ اس کے برخلاف رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے حق میں دعا فرمائی ہے جنھوں نے آپ کی بات کو سنی اور دوسروں تک پہنچایا۔ اس سلسلہ میں فرمان نبویﷺ یوں آیا ہے:

«نَضَّرَاللہُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِیْ فَحَفِظَھَا وَوَعٰھٰا وَاَدَّاھَا فَرْبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ» (جامع ترمذی)

اور اسی طرح سیدناعبداللہ بن عمر کی یہ روایت بھی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ

«بَلِّغُوْ عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَةً»

’’میری طرف سے پہنچا دو۔‘‘ اگرچہ ایک ہی آیت (کے بقدر تمہیں میری بات کا علم) ہو۔ (صحیح بخاری)

مذکورہ دونوں احادیث شریفہ سے یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات گرامی جو حقیقت میں حق تعالیٰ جل شانہ کی مرضیات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ دوسروں تک اسے منتقل کرنا اور اسے پھیلانا انتہائی ضروری ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے اور اس سے بڑھا شرف اور کیا ہوسکتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی بات کو پہنچانے والے نبی پاک ﷺ کی طرف سے دی جانے والی دعاؤں کے مستحق ہوتے ہیں اور جس کے حق میں نبی ﷺ دعا فرمادیں۔ اس شخص کو وہ سب کچھ حاصل ہوگیا، یعنی دنیا کی زندگی اور آخرت کی ابدی حیات میں رسوائی سے بچالیا جاتا۔

علم کی اشاعت وسیع پیمانے پر کرنا یہ اہل ایمان کا شیوہ ہے اور اس کے برعکس اشاعت علم کو مخصوص طبقہ تک محدود کرنا یا صرف ان ہی باتوں کا اظہار کرنا جو عوام اور برسر اقتدار لوگوں کی خوشنودی کا باعث ہوتے ہوں اور اسی طرح ان باتوں کا اخفا کرنا جس کے اظہار سے مفادات پر ضربر پڑتی ہو یہ ایسا طرز عمل ہے جس سے آدمی اہل علم ہونے کے باوجود اللہ کی نگاہ میں لعنت کا مستحق بن جاتا ہے۔

سورۃ بقرہ آیت 159 میں اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے :

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾

’’جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لئے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں، یقین جانو کہ اللہ بھی اِن پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘ (ترجمانی از مولانا مودودیؒ)

مذکورہ بالا آیت کریمہ کے سلسلہ میں مشہور مفسر مولانا مفتی محمد شفیع﷫ نے یوں تحریر فرمایا کہ

’’آیت مذکورہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایات بینات نازل کی گئی ہیں ان کا لوگوں سے چھپانا اتنا بڑا جرم عظیم ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت کرتے ہیں اور تمام مخلوق لعنت بھیجتی ہے۔‘‘ (معارف القرآن: 1؍402۔403)

اشاعت علم کے سلسلہ میں اس کے آداب کو ملحوظ رکھنا بھی بہت ضروری ہے کیوں کہ جس طرح کتمان علم پر لعنت کی گئی ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات میں تحریف کرنا بھی بہت بڑا جرم ہے جس کا ارتکاب علماء یہود کیا کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور مفسر پیر کرم شاہ الازہری﷫ نے مختصر اور جامع بات تحریر فرمائی ہے کہ

’’اس آیت میں بنی اسرائیل کے ان علماء سوء کا ذکر ہے جو اپنے دنیاوی فائدہ کے لئے نبی کریم ﷺ کے کمالات کو چھپاتے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اپنی منشاء کے مطابق توڑ موڑ دیا کرتے۔ اب بھی کوئی عالم اگر حضور کے کمالات کے اظہار میں بخل کرے اور احکام شریعت میں تحریف کرے تو اس کا یہی حکم ہے۔ ‘‘(ضیاء القرآن: 1؍110)

مندرجہ بالا تحریر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آقائے نامدار ﷺ کی حیات طیبہ سے سیرت کے جن کمالات کا ظہور ہوا ہے چاہے وہ دعوتی پہلو سے ہو یا اخلاقی میدان ہو یا حسن معاشرت سے تعلق ہو یا خدمت خلق کا معاملہ یا پھر راہ خدا میں جدوجہد ہو یا اقامت دین کا مرحلہ غرضکہ دوستی و دشمنی کا معیار عدل و انصاف، جنگ و صلح وغیرہ میں آپ ﷺ کے کمالات واضح ہیں۔ ان تمام کمالات کا ذکر نہ کرنا کتمان علم کی تعریف میں آتا ہے اور اسی طرح شریعت اسلامی میں تحریف کرنا بھی بہت بڑا مجرمانہ عمل ہے۔

نبی ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ

«مَنْ کَذِبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

’’جو شخص قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے اُسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنانا چاہئے۔‘‘

نبی ﷺ کے اس ارشاد مبارکہ سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ اشاعت علم کا مرحلہ ہو یا دعوت و تبلیغ کی جدوجہد، ان سب چیزوں میں خالص کتاب و سنت سے حاصل کردہ مواد ہی پیش کیا جائے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی ملاوٹ ہونے نہ پائے اور یہ حقیقت ہے کہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ کی اساس پر ہی اُمت کی اصلاح ممکن ہے۔

مولانا سید ابوالاعلی مودودی﷫ نے کتمان علم کی آیت کی تشریح فرماتے ہوئے (جو اوپر گذر چکی) یوں تحریر فرمایا :’’علماء یہود کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ اُنھوں نے کتاب اللہ کے علم کی اشاعت کرنے کے بجائے اس کو ربّیوں اور مذہبی پیشہ وروں کو ایک محدود طبقے میں مقید کر رکھا ہے۔‘‘

اور عامّۂ خلائق تو درکنار خود یہودی عوام تک کو اس کی ہوا نہ لگنے دیتے تھے۔ پھر جب عام جہالت کی وجہ سے ان کے اندر گمراہیاں پھیلیں تو علماء نے نہ صرف یہ کہ اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی، بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے ہر اس ضلالت اور بدعت کو جس کا رواج ہوجاتا، اپنے قول و عمل سے اپنے سکوت سے اُلٹی سندِ جواز عطا کرنے لگے۔ اس سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو کی جارہی ہے۔ دنیا کی ہدایت کا کام جس اُمت کے سپرد کیا جائے، اس کا فرض یہ ہے کہ اس ہدایت کو زیادہ سے زیادہ پھیلائے، نہ یہ کہ بخیل کے مال کی طرح اسے چھپائے۔ (تفہیم القرآن:ج1)

حقیقت یہ ہے کہ اگر اہل علم کتمان حق کریں یا حق پوشی کا طرز عمل اختیار کریں تو صرف ان کا ہی نقصان نہ ہوگا بلکہ یہ آگے بڑھتے بڑھتے، اس کے اثرات عوام پر بھی پڑتے ہیں اور راہِ حق کے نشانات و ہدایت کے چراغ مدھم پڑتے چلے جاتے ہیں جس سے بے حساب لوگ گمراہی اور ہلاکت میں پڑجاتے ہیں۔

الغرض اب جہاں پر علماء کرام کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ جو کچھ علم دین جانتے ہیں اس کی اشاعت میں ہر وقت کوشاں رہیں، وہیں پر عوام کی بھی یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کا علم جاننے کے لئے کتاب و سنت سے اپنے تعلق کو جوڑیں اور جہاں جہاں خالص کتاب و سنت کی تعلیم دی جاتی ہو اس میں شریک ہوکر اپنے اندر بندگیٔ رب کا جذبہ پیدا کریں اور اپنے اپنے محلوں میں درس قرآن و درس حدیث کو عام کرنے کے لئے اپنے بھائیوں میں شعور بیدار کریں تاکہ قرآن حکیم کا پیغام اور نبیؐ کے ارشادات کی اشاعت عام ہوجائے۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ کے دوران کوئی چیز سمجھ میں نہ آرہی ہو تو علماء کرام سے رجوع کریں تاکہ اصلاح ہوجائے۔ ہمارے اسلاف نے قرآن و حدیث کے تراجم اور اس کی تفہیم ہماری مادری زبان میں کرچکے، اس سے استفادہ کرنا خوش نصیبی ہے اور اس سے اعراض کرنا بدنصیبی و محرومی ہے۔

٭٭٭

دعا

راہِ ہدیٰ دِکھلا دے مولا

راہِ غلط سے ہٹا دے مولا

سنت کو پھیلا دے مولا

بدعت کو دفنا دے مولا

شمع جلا ایمان کی دل میں

کفر کی آگ بجھا دے مولا

ہم کو بنا توحید کے داعی

دوئی اور شرک مٹا دے مولا

دنیا کی ہر خیر ہبہ کر

دین کا علم سکھادے مولا

حرص وہوس سے پاک ہمیں کر

دل کو استغنا دے مولا

صحبتِ بد سے دور ہمیں رکھ

صالح دوست بنا دے مولا

روٹھے ہوؤں کو کر دے راضی

تو بھی اپنی رضا دے مولا

بھٹکے ہیں بدعات میں مسلم

سنت پر وہ چلا دے مولا

ماری ہوئی تقلید وغلو کی

امتِ وسط بنا دے مولا

کذب و دغا کا زور ہوا ہے

مخلص ہم کو بنا دے مولا

دینِ عجم سے ہم کو بچا لے

دینِ عرب سمجھا دے مولا

شکر کی دے توفیق زباں کو

دل کو صدق وصفا دے مولا

دوزخ کے شعلوں سے بچا کر

ہم کو تُو فردوس عطا کر

اپنا ہی بس ڈر دے مولا

دل میں تقویٰ بھر دے مولا

کلمہ گو بھی شرک کریں جو

ان کو موحد کر دے مولا

روشن دل اور پاک زباں ہو

ہم کو پاک نظر دے مولا

سچی بات ہو لب پر ہر دم

بات میں ایک اثر دے مولا

جینا ہو اسلام پہ اپنا

موت بھی ایماں پر دے مولا

ثاقب کی دن رات دعا ہے

جنت میں اِک گھر دے مولا

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

٭٭٭

تبصرہ کریں