اولاد کی تربیت کیسے کی جائے۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد معیقلی

الحمد للہ! ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہ اپنی عظمت، بادشاہت اور کبرائی میں بہت بلند ہے، اپنی بلندی، عزت اور رفعت میں انتہائی پاکیزہ ہے۔ اس نے ہمیں اپنی کرم، سخاوت اور نعمتوں سے نوازا ہے۔ میں اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر ادا کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے مال واولاد کو زندگی کی رونق اور موت کے بعد جاری رہنے والا نیک عمل بنایا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، رسولوں میں افضل ترین ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، اللہ کے چنیدہ ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، ازواجِ مطہرات پر، صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں! اے مؤمنو! ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھو کہ
﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾
’’اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 11)
تو اپنی اولاد کے بارے میں اللہ کی نصیحت قبول کرو، تاکہ وہ آپ کے فرمان بردار اور مہربان بنیں۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت پر عمل کرو۔ فرمان الٰہی ہے:
﴿قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘(سورۃ التحریم: 6)
اے امت اسلام! دنیا میں انسان کی زندگی کا وقت طے شدہ ہے، موت کا وقت مقرر کردہ ہے، عمر مختصر ہے اور آخرت کی طرف منتقل ہونے کا وقت قریب ہے۔ کچھ لوگ تو ایسے ہیں، جن کے فوت ہونے پر ان کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں، ان کے صحیفے بند کر دیئے جاتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے ایسے ہیں کہ جن کا اثر دنیا میں رہ جاتا ہے اور ان کا عمل جاری رہتا ہے، یوں ان کے اعمال کی بدولت ان کے نامۂ اعمال بھاری ہوتے چلے جاتے ہیں، اور موت کے بعد بھی ان کی نیکیوں کا اثر دنیا میں باقی رہتا ہے۔
﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ﴾ (سورۃ يس: 12)
’’بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ان کے گزشتہ اعمال اور ان کے آثار کولکھتے جاتے ہیں اور ہم نے ہر شے کو ایک روشن امام میں جمع کردیا ہے۔‘‘
جن چیزوں کا اجر موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، ان میں پہلی چیز نیک اولاد ہے۔ نیک اولاد وہ بہترین سرمایا ہے جو انسان دنیا وآخرت کے لیے تیار کرتا ہے۔ انسان کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہیں، اور ان کے نیک اعمال بھی انسان کے اپنے اعمال میں شامل ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.»
’’جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کا سارا عمل رک جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، ایک صدقۂ جاریہ، دوسرا مفید علم، تیسرا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔‘‘
نیک اولاد زندگی میں انسان کی زینت اور سرور کا باعث ہوتی ہے، یہی زندگی کی رونق اور خوشی ہے، جو اس سے محبت کرتی ہے اور جس سے وہ محبت کرتا ہے، جو اس سے مانوس ہوتی ہے اور جس سے وہ مانوس ہوتا ہے، جسے وہ حکم دیتا ہے تو وہ فرمان برداری کرتی ہے، جب اس کی عمر بڑھتی ہے، ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، تو وہ اس پر رحم کرتی ہے، دین ودنیا کے معاملے میں وہ اس کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ ایسی اولاد زندگی میں بھی مفید ہوتی ہے اور موت کے بعد بھی اس کا فائدہ جاری رہتا ہے۔ مسند امام احمد کی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللهَ -عَزَّوَجَلَّ- لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَّى لِي هَذِهِ؟ فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ.»
’’اللہ تعالیٰ جنت میں کسی نیک بندے کا درجہ بلند کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے پروردگار! میرا یہ درجہ کیسے بڑھا؟ وہ کہتا ہے: تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا ہے۔‘‘
مؤمنو! نیک اولاد کی کے لیے تگ ودو تب ہی سے شروع ہو جاتی ہے جب انسان اپنے لیے نیک بیوی تلاش کرتا ہے۔ کیونکہ نکاح کے لیے عورتوں کو چار چیزوں کی بنیاد پر چنا جاتا ہے، مال کی بنیاد پر، خاندان کی بنیاد پر، خوبصورتی کی بنیاد پر اور دین کی بنیاد پر۔ تو تیرا بھلا ہو، دین دار کو پا لو۔
اولاد کو نیک بنانے کے اولین ذریعہ ان کے دلوں میں توحید، اللہ کی محبت، اس کے خوف اور اس سے امید کا بیج بونا ہے۔ اسی طرح انہیں پانچوں نمازیں سکھانا نفس کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے، رب العالمین کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ اسے خصوصی توجہ دیں، اولاد کو اس کی ترغیب تب سے دلانا شروع کریں جب وہ سات سال کے ہو جائیں۔ اس کی ادائیگی کے بارے میں سوال کریں، اس کے احکام انہیں سکھائیں، تاکہ ان کے دل نماز کے ساتھ لگ جائیں اور ان کے نفس اس کے عادی ہو جائیں، اور عمر بھر کے لیے اس کے پابند بن جائیں۔
اللہ کے بندو! نیک اولاد کی تگ ودو والدین کی نیکی سے ہوتی ہے، کیونکہ اللہ کے حکم سے والدین کی نیکی اولاد کی نیکی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:
﴿وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ﴾
’’اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے اِن بچّوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچّے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیا گیا ہے۔‘‘ (سورۃ الكہف: 82)
ابن عباس بیان کرتے ہیں:
«حَفِظَهُما اللهُ بصلاح والدهما»
’’ان کے والدین کی نیکی کی وجہ سے اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔‘‘
اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں، خاص طور پر بچپن کی عمر میں، کیونکہ وہی وہ بنیاد ہے کہ جس پر ان کی ساری زندگی کی عمارت قائم ہونی ہے، اسی میں ان کے رویے تشکیل پاتے ہیں، اسی عمر میں اچھے اقدار اور بہترین اخلاق کا بیج بویا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بہترین چیز تو مربی اعظم ﷺ کی پیروی ہے۔ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ آپ ہی کی ہدایات بہترین ہدایات ہیں، آپ ہی کا طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ آپ ﷺ بچوں سے تعامل کرتے وقت شفقت اور رحمت کو مد نظر رکھتے تھے۔ ان سے محبت کرتے تھے، ان پر مہربان ہوتے تھے، ان سے برتاؤ کرتے وقت نرمی اختیار کرتے تھے، انہیں اپنی محبت کی یقین دہانی کراتے تھے، بلکہ صراحتًا انہیں یہ بتاتے بھی تھے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ فاطمہ کے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے، اس دوران آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَثَمَّ لُكَعُ، أَثَمَّ لُكَعُ»
’’کیا یہاں بچے ہیں؟ کیا یہاں بچے ہیں‘‘
یعنی: کیا الحسن ہے؟ اتنے میں وہ چلتے ہوئے آ گئے، تو آپ ﷺ نے انہیں گلے لگا لیا اور انہیں بوسہ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے فمرایا:
«اَللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ»
’’اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے، تو اس سے بھی محبت فرما۔‘‘
سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ہمراہ کسی جگہ کھانے پر گئے، تو راستے میں الحسین کھیلتے ہوئے نظر آئے، آپ ﷺ نے صحابہ سے آگے نکل کر اپنے ہاتھ پھیلا لیے، سیدنا حسین کبھی دائیں جاتے، کبھی بائیں جاتے، آپ ﷺ بھی اس کے ساتھ ہنستے گئے، پھر آپ نے انہیں اٹھا کر بوسہ دیا۔ اسی طرح اپنی اولاد کو نہ چومنے والے شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَوَ أَمْلِكُ لَكَ، أَنْ نَزَعَ اللهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ.» (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)
’’میں کیا کر سکتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت کو نکال دیا ہے‘‘(اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
حتیٰ کہ نماز کے دوران، اللہ کے سامنے حاضری کے وقت، آپ ﷺ بچوں کی کھیل کود کو برداشت کرتے، تاکہ ان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ مسند امام احمد کی روایت ہے، رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ نماز کے لیے نکلے، جبکہ حسن اور حسین کو آپ ﷺ نے اٹھا رکھا تھا۔ نماز کے دوران آپ ﷺ نے ایک سجدہ طویل کر دیا۔ جب نماز مکمل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نماز میں آپ نے جو سجدے کیے ہیں، ان میں ایک کو آپ نے طویل کر دیا تھا، ہمارے دل میں گمان آنے لگا کہ آپ کو کچھ ہو نہ گیا ہو۔ یا شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي، فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ.»
’’ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ بس میرا بیٹا میرے اوپر چڑھ گیا تھا، تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اسے جلدی سے اتار دوں اس سے پہلے کہ وہ خود کھیل پوری کر کے اتر جائے۔‘‘
اسی طرح بچوں کے ساتھ ان کی دلچسپی کی چیزوں کے بارے میں بات کرنا، اور انہیں خوش کرنے کی کوشش کرنا بھی نبی کریم ﷺ کی تربیتی تعلیمات کا حصہ ہیں۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا انس بیان کرتے ہیں:
’’رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، میرا ایک بھائی تھا، جسے لوگ ابو عمیر کہہ کے پکارتے تھے، جب وہ آتا تو رسول اللہ ﷺ اس سے کہتے:
“يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ”
’’اے ابو عُمیر! نغیر نامی چوزے کو کیا ہوا۔‘‘
سیدنا انس بیان کرتے ہیں:
«مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ، مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ»
’’میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ بچوں پر شفقت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘
بچوں پر شفقت کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ ﷺ انصاری صحابہ کی زیارت کرتے تھے اور ان کے بچوں کو سلام کرتے تھے۔ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، ان کے لیے رزق اور برکت کی دعا کرتے تھے۔
اے مؤمنو! بچوں کا بھلا کرنا، ان کے جذبات کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ تعامل میں سچائی اپنانا، ان میں نیکی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تلقین بھی کیا کرتے تھے۔
سنن ابی داؤد میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عامر بیان کرتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے کہ میری ماں نے مجھے بلایا، کہنے لگیں: ذرا آنا، میں تمہیں یہ دے دوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا:
“وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟”
’’تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟‘‘
اس نے کہا: میں اسے کھجور دینا چاہتی ہوں۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:
«أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ»
’’اگر تم اسے یہ کہنے کے بعد کچھ نہ دیتی، تو تمہارے کھاتے میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ بچوں کی عزت افزائی کے معاملے میں اس سے بھی زیادہ کچھ کہہ جاتے۔ مجلسِ نبوی میں سیدنا ابن عباس آپ ﷺ کی دائیں جانب بیٹھے تھے، جبکہ کبار صحابہ بائیں جانب تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک برتن لایا گیا، جس سے پہلے رسول اللہ ﷺ خود پیا اور پھر کہنے لگے:
“يَا غُلامُ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الأَشْيَاخَ”
’’بیٹا! اگر تم اجازت دو تو میں یہ برتن پہلے بڑوں کو دے دوں۔‘‘
سیدنا ابن عباس جو اس وقت بچے تھے، کہنے لگے: جو شرف مجھے آپ کا جوٹھا پی کر مل رہا ہے، میں یہ دوسروں کے لیے کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ پھر آپ ﷺ نے پہلے انہیں برتن دے دیا۔
اولاد کے درمیان عدل کرنا بھی ان کا ایک حق ہے، اس سے ان کے دل درست رہتے ہیں اور ان میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ اولاد میں عدل وانصاف کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے، چاہے معاملہ چھوٹی سے چھوٹی چیز ہی کا کیوں نہ ہو۔ ، صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں: میرے والد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ گواہ بن جائیے کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو اپنے مال کا اتنا حصہ دے دیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا:
«أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟»
’’کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اتنا ہی مال دیا ہے؟‘‘
انہوں نے کہا: نہیں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
«فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي»
’’تو پھر کسی اور کو گواہ بنا لو۔‘‘
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟»
’’کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری ساری اولاد ایک جیسی فرمان بردار ہو؟‘‘
انہوں نے کہا: جی بالکل، میں ایسا ہی چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«فَلا إِذًا»
’’تو پھر ایسا نہ کرو۔‘‘
اے امت اسلام! کتنا اچھا ہو کہ ہم نیکی پر اپنی اولاد کی تربیت کریں، انہیں لے کر کامیابی کے راستے پر چلیں، مکمل رحم دلی، بردباری اور نرمی کے ساتھ، کیونکہ چھوٹے بچوں کو حقوق اور واجبات کا علم نہیں ہوتا، اقدار اور معانی کا اندازہ نہیں ہوتا، اصول ومبادی کا ادراک نہیں ہوتا، یہ ساری چیزیں وہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں سیکھتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ غلطیوں کی درستی کی فکر نہ کی جائے، بلکہ اصلاح ایسے طریقے ہو جس میں تمعیر ہو، خرابی نہ ہو، جو ادب سکھائے، جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائے۔ جو نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ آپ ﷺ بچوں کے رویے درست کرتے تھے، مگر احسن انداز میں، کہ جس میں کوئی توہین نہ ہو، تکلیف نہ ہو، ملامت زدگی یا دل آزاری نہ ہو۔ یہ ہیں سیدنا عمر بن ابی سلمہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں، فرماتے ہیں:
“كُنْتُ غُلامًا فِي حِجْرِ رَسُولِ الله ﷺ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ الله ﷺ:
’’میں رسول اللہ ﷺ کی زیرِ تربیت ایک بچہ تھا۔ تو میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں کبھی ادھر جاتا تو کبھی اُدھر۔
آپ ﷺ نے مجھ سے کہا:
«يَا غُلامُ، سَمِّ اللهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ.»
’’بیٹا! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔‘‘
بیان کرتے ہیں:
«فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ» (صحیح بخاری)
’’اس نصیحت کے بعد میں نے کھانے کا یہی طریقہ اپنا لیا۔‘‘
اس حوالے سے سیرت میں بہت سے واقعات ملتے ہیں۔
تو اے امت محمد ﷺ! یہ ہے ہمارے رسول کی ہدایات، تو انہیں اپنا لو، یہ ہے ہمارے نبی ﷺ کا طرز عمل، تو اسے اختیار کر لو۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے!
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾
’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 21)
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات، ذکر اور دانش کی باتوں سے فیض یاب فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے! جس نے ہمیں نعمتِ اسلام سے سرفراز کیا، اور ہمارے لیے اپنے افضل ترین نبی کو مبعوث کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، بہترین اخلاق والے ہیں، مومنوں کے لیے رؤف ورحیم ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے آل پر، صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر۔
بعدازاں! اے مؤمنو! اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ اس نے دعا کو ایک بہترین فائدے والی عبادت بنایا ہے، اس کی تاثیر بہت زیادہ رکھی ہے۔ پھر دعا مانگنے کا حکم بھی دیا ہے، قبولیت کا وعدہ بھی کیا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی کرم نوازی، احسان اور سخاوت ہے۔
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
’’ تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ (سورۃ غافر: 60)
بیٹوں اور بیٹیوں کی نیکی میں والدین کی دعا کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ یہ ان تین دعاؤں میں شامل ہے جو بہر حال قبول ہوتی ہیں۔ سنن ابن ماجہ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ»
’’تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہے کی گنجائش نہیں۔ مظلوم کی، مسافر کی اور اولاد کے لیے والد کی۔‘‘
اولاد کو دعا دینا رسولوں اور نبیوں کا طریقہ ہے، یہ ہیں رب العالمین کے خلیل، جو اپنے پروردگار سے صالح اولاد مانگ رہے ہیں، ۔
﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾
’’اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو۔‘‘ (سورۃ الصافات: 100)
تو جواب ملا کہ﴿فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ﴾
’’پھر ہم نے انہیں ایک نیک دل فرزند کی بشارت دی۔‘‘ (سورۃ الصافات: 101)
اولاد ملنے اور اچھی تربیت کرنے کے بعد بھی اولاد کے لیے دعا نہ چھوڑی۔ فرمایا:
﴿وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ﴾
’’مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (سورۃ ابراہیم: 35)
اسی طرح فرمایا:
﴿رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ﴾
’’پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے۔‘‘ (سورۃ ابراہیم: 40)
ابرہیم اور اسماعیل کو اپنی اولاد کا اتنا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی ذریت کے لیے بھی دعا کی، عرض کی:
﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾
’’اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 129)
اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائی، انہی کی نسل سے اگلوں اور پچھلوں کے سردار ہمارے نبی محمد ﷺ آئے، جن کا فرمان ہے:
“أنا دعوة أبي إبراهيم” (مسند أحمد).
’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘
اسی طرح ماں کی اپنی اولاد کے لیے دعا بھی یقینًا قبول ہوتی ہے۔ یہ ہے عمران کی بیوی جو دعا کر رہی ہے کہ
﴿رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾
’’میرے پروردگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا میری اس پیشکش کو قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 35)
جب ان کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی تو کہنے لگیں:
﴿رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ (سورۃ آل عمران: 36)
’’پروردگار! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی اور لڑکا لڑ کی کی طرح نہیں ہوتا خیر، میں نے اس کا نام مریمؑ رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔‘‘
اللہ نے ان کی دعا بھی قبول فرمائی۔ ان کی بیٹی کو برکت عطا فرمائی، اسے چن لیا، اسے ایک بڑی نشانی بنا دیا، انہیں عیسیٰ جیسی اولاد عطا فرمائی، اور انہیں اور ان کے بیٹے کو شیطان سے محفوظ فرما لیا۔
ہمارے نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات میں بھی یہ بات شامل ہے کہ اپنی اولاد اور اپنے اولاد کی اولاد کو دعا دی جائے، اسی طرح آپ ﷺ صحابہ کی اولاد کو بھی دعائیں دیتے۔ سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجے گلے لگا کر دعا کی کہ
“اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ” (صحیح بخاری)
’’اے اللہ! اسے قرآن سکھا دے۔‘‘
امام مسلم کی روایت میں ہے کہ
“اَللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ”
’’اے اللہ! ہمیں اپنے دین کی سمجھ نصیب فرما۔‘‘
تو ابن عباس حبر الامہ اور ترجمان القرآن بن گئے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ ام انس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنے خادم انس کے لیے دعا کیجیے۔ بیان کرتے ہیں: تو آپ ﷺ مجھے ہر بھلائی کی دعا دی۔ آپ ﷺ نے اپنی آخری عمر میں انہیں یہ دعا دی کہ
“اَللَّهُمَّ أكْثِرْ مَالَهُ، ووَلَدَهُ، وبَارِكْ له فِيما أعْطَيْتَهُ”
’’اسے مال کی فراوانی اور کثیر اولاد عطا فرما۔ اسے جو بھی دے، اس میں اسے برکت عطا فرما۔‘‘
سیدنا انس بیان کرتے ہیں:
«فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالًا، وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي: أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ البَصْرَةَ، بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ»
’’انصاری صحابہ میں مالداروں میں سے ہوں۔ میری بیٹی نے مجھے بتایا ہے کہ جب حجاج بصرہ آیا تھا، اس وقت تک میری اپنی اولاد میں سے ایک سو بیس سے زائد دفن ہو چکے تھے۔‘‘(صحیح بخاری)
اولاد کو بد دعا دینے والدین کو بچنا چاہیے، چاہے وہ انہیں ناراض ہی کیوں نہ کریں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے آپ کو بد دعا نہ دو، نہ اپنے بچوں کو دو، اور نہ اپنے مال کو۔ عین ممکن ہے کہ قبولیت کی گھڑی ہو اور آپ کی دعا قبول ہو جائے۔‘‘ کتنی ایسی بد دعائیں ہیں جو ماں یا باپ کے منہ سے اپنے اولاد کے لیے نکلتی ہیں، اور اتفاقًا وہ قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے۔ یہی دعائیں اس کے بگاڑ اور ہلاکت کا باعث ہو سکتی ہے۔ ہم اللہ کے غصے اور غضب سے اس کی پناہ میں آتے ہیں ۔ نیک اور صالح لوگوں کی دعائیں استعمال کیا کرو، اللہ کے چنیدہ نیک بندون کی دعائیں مانگا کرو، جیسے:
﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾
’’اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ (سورۃ الفرقان: 74)
اے مؤمنو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم حکم دیا ہے، جس میں اس نے پہلے اپنا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘(سورۃ الاحزاب: 56)
اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح برکتیں نازل فرما، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! خلفائے راشدین، اصحاب ہدایت اماموں، ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے، تمام صحابہ کرام سے اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما۔
اے اللہ! ہم تیرے فضل وکرم، احسان اور کرم نوازی کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ہر شر اور برائی سے محفوظ فرما۔
اے اللہ! ہم سے مہنگائی، وبائی بیماریاں، سود، زنا، زلزلے اور آزمائشیں دور فرما، اور برے فتنے دور فرما! چاہے وہ کھلے فتنے ہوں یا چھپے۔
اے اللہ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں، سخت آزمائشوں سے، بد بختی سے، بری تقدیر سے، دشمنوں کے لیے مذاق بننے سے، بری تقدیر سے۔
اے اللہ! ہم تجھ سے ساری خیر کا سوال کرتے ہیں۔ جلد آنے والی اور دیر سے آنے والی، اس خیر کا جس کا ہمیں علم ہے اور اس خیر کا جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔ ہر برائی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ جلد آنے والی برائی سے، دیر سے آنے والی برائی سے، اس خیر کا جس کا ہمیں علم ہے اور اس خیر کا جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔
اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا اور جنت کے قریب ، لیجانے والے تمام اقوال واعمال کا سوا کرتے ہیں۔ آگ سے اور آگ کے قریب لیجانے والے تمام اقوال واعمال سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
اے اللہ! ہر معاملے میں ہمارا انجام بھلا بنا۔ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے ہمیں محفوظ فرما۔
اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہم میں سے آزمائش میں پڑنے والوں کی آزمائشیں دور فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما! اپنی رحمت سے ہمارے کمزوروں کی مدد فرما۔
اے اللہ! اے رب ذو الجلال! اے زندہ وجاوید! خادم حرمین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرما!
اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو کامیاب فرما! ایسے کاموں میں کامیاب فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کا بھلا ہو۔
اے اللہ! اے پروردگار عالم! تمام مسلمان حکمرانوں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔
اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے اللہ! ہمارے نوجوانوں کی حفاظت فرما، گمراہ فرقوں سے، اور غیر اسلامی افکار سے۔
اے اللہ! انہیں تفرقہ بازی اور جتھے بازی سے بچا، انہیں اعتدال اور وسطیت عطا فرما۔
اے اللہ! ان کے لیے ایمان کو محبوب بنا اور ان کے دلوں میں اسے مزین فرما۔ کفر، گناہ اور برائی کو ان کے دلوں میں ناپسند فرما۔ انہیں کامیاب فرما۔
اے اللہ! انہیں اپنے ملکوں اور قوموں کے لیے نفع بخش بنا۔
اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت، فضل وکرم اور احسان سے نواز دے۔
اے اللہ! جو ہمارا، ہمارے ملک کا، ہمارے جوانوں کا بد خواہ ہو، تو اسے خود ہی میں مصروف کر دے، اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اپنی قوت، عزت سے۔ اے قوت اور عزت والے۔
اے رب ذو الجلال! اے اللہ! سرحدوں پر دن رات پہرہ دینے والے جوانوں کی مدد فرما! ان کی جلد مدد فرما۔
اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! یقینًا! ہم نے ستم کیا ہے۔
اے اللہ! ہماری توبہ قبول فرما! ہماری گندگیاں دھو دے۔ ہماری دعا قبول فرما! ہماری حجت مضبوط فرما۔ ہمارے دلوں کی رہنمائی فرما، ہماری زبانیں درست فرما! اور ہمارے دلوں کی گندگی صاف کر دے۔
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
’’دونوں بول اٹھے، اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 23)
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾
’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے، جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘ (سورۃ الحشر: 10)
﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔‘‘ (سورۃ الصافات: 180-182)
٭٭٭
فطرانہ کس چیز سے ادا کرنا چاہیے؟
نبی کریم ﷺ نے صدقہ الفطر کی مقدار ایک ’صاع‘ مقرر فرمائی ہے، جو کہ اس وقت رائج بنیادی غذائی اجناس یعنی جو، منقی، پنیر ، اور کھجور وغیرہ سے ادا کیاجاتا تھا۔ (صحیح بخاری:1510)
لہٰذا جواجناس بطور بنیادی غذا استعمال ہوتی ہیں، جیسا کہ ہمارے ہاں، گندم اور چاول وغیرہ، ان میں سے ایک ’صاع‘ بطور صدقہ الفطر دینا چاہیے۔
فطرانہ کے مستحقین کی مصلحت و ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اجناس کی قیمت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ (لجنۃ العلماء للإفتاء، فتوی نمبر:290)

تبصرہ کریں