امریکہ کا یاد گاردن اور ٹرمپ کا عبرتناک انجام۔ محمد عبد الہادی العمری

امریکی صدر ٹرمپ کا چار سالہ دور اقتدار 20 جنوری 2021 کو ختم ہوا اور اٹھتر (78) سالہ جوبائیڈن مسند اقتدار پر چھیالیسویں صدر کی حیثیت سے متمکن ہوئے۔ منتقلی اقتدار  کا یہ دن صرف امریکہ کے لیے ہی نہیں ، دنیا کے لیے کئی اعتبار سے یادگار  ثابت ہو گا۔ 1869ء کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں ٹرمپ پہلےصدر ہیں جو انتقال اقتدار کی محفل میں شرکت کیے بغیر اس دن وائٹ ہاؤس کے عقبی دروازہ سے روانہ ہو گئے، جاتے ہوئے سبزہ زار پر پریس کانفرنس  یا کسی تقریب سے خطاب کرنے کے بجائے میری لینڈ ہوائی اڈہ پر طیارہ میں سوار ہونے سے پہلے انہیں الوداعی سلامی دی گئی اور ناراض ٹرمپ نے وہاں اپنے مداحوں سے مختصر خطاب کیا۔ ورنہ امریکی روایات کے مطابق سبکدوش ہونے والے صدر منتخب  صدر کا وائٹ ہاؤس  میں استقبال کرتا ہے،  خاتون اول شاہی محل کی آنے والی بیگم کو سیر کرواتی ہیں پھر تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دونوں اکٹھے نمودار ہوتے ہیں،  اوردنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انتخابی مہم کی تلخیوں اور  نظر یاتی اختلافات کے باوجود قومی مفاد  اور ملکی ترقی کے لیے ہمارے درمیان کس درجہ اتحاد ہے اور یہ جمہوری نظام کا حسن ہے جس کا نمونہ دنیا کا سب سے مضبوط جمہوری ملک  پیش کرتا ہے لیکن ٹرمپ نے اس قدیم ملمع سازی سے پردہ اٹھا کر حقیقت سے دنیا کو روشناس کروایا کہ  اصلیت کیا ہے کہ ﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ﴾ (سورۃ الحشر: 14) ٹرمپ کے رویہ سے دنیا جان لے کہ جمہوریت کیا ہے اور اس کی کشتی امریکی منجدھار میں کیسے ہچکولے کھا رہی ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ نے اس ملمع سازی کا اندازہ بہت پہلے  لگاتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ جمہوریت واشنگٹن میں اور کمیونزم ماسکو میں آخری سانسیں لے رہا ہو گا اور دنیا نے یہ دونوں منظر دیکھ لیے۔

عوامی سطح پر کم ازکم یہ بات مشہور تھی کہ انتخابات جمہوریت میں قابلیت کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حصول اقتدار کے لیے مختلف عوامل کارفرما ہوتے ہیں، ان میں بڑی اہمیت سرمایہ  کی ہے، جس مخصوص پارٹی کو مضبوط ایجنسیوں اور طاقتور سرمایہ داروں کا آشیرباد حاصل ہوتا ہے وہی بازی لے جاتا ہے، پھر حصول اقتدار کے بعد یہی سرمایہ دار مختلف حیثیتوں سے خرچ کی ہوئی رقم مع سود وصول کرتے ہیں، اسی لیے منتخب نمائندہ  بہت سے اہم معاملات میں گویا ان کے رحم وکرم پر گروی رہتا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ بے دریغ سرمایہ کاری کرنے والوں کی مرضی کے مطابق اسے چلنا ہوتا ہے۔ ٹرمپ چونکہ اپنے مخصوص پس منظر کے سبب  یاد رہے وہ روایتی سیاستدان نہیں بلکہ کاروباری آدمی ہیں، اپنی شکست کو سابقہ امیدواروں کی طرح قبول یا برداشت نہیں کر سکے۔ حالانہ انتخابی مہم، الیکشن کمیشن اور نتائج کا  اعلان وغیر وغیرہ یہ تمام کام ان کے ہی دور صدارت میں انجام پائے اور تمام کمیٹیوں اور انتظامات کا صدر ہی  ذمہ دار ِ اعلیٰ ہوتا ہے، ا ن پر اعتراض کا مطلب خود اپنے آپ پر اعتراض ہے کیونکہ اچھا یا برا آپ کی ہی نگرانی میں ہوتا رہا، لیکن اس واضح حقیقت  کو ٹرمپ اور ان کے ہم نوا نظر انداز کرتے رہے۔ جیسے پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کبھی ووٹ کو عزت دو کا عوامی نعرہ بلند کرتے نظر آئے اور کبھی عوام سے سوال کرتے دکھائی دیے کہ مجھے کیوں نکالا؟!

ان عوامی نعروں کے ذریعہ انہوں نے یہ اعتراف کم ازکم کر لیا کہ کوئی خفیہ طاقت ہے جو اقتدار کا فیصلہ کرتی ہے، عوام کے ووٹ یا   رائے صرف نمائش یا حیلہ ہے لیکن شاید یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خود  وہ بھی تین بار اسی کرسی پر براجمان رہ چکے ہیں۔ لہٰذا اگر خفیہ ہاتھ ہیں تو پھر وہ خود بھی ان خفیہ مہربانوں کے فیض یافتہ ہیں۔

ٹرمپ نے امریکی عوام کو رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہوئے White Supremacist سفید فام لوگوں کی برتری کا زہر خوب گھولا، حتیٰ کہ تقریباً سات کروڑ کی بھاری تعداد نے ان کی بیشتر ناکامیوں کےباوجود ان کے ہی حق میں ووٹ دیا اور اب بھی انتخابی شکست کے باوجود ان ہی کو اپنا لیڈر تسلیم  کرتی ہے، ان میں رنگ ونسل کے زہریلے جراثیم جڑ پکڑ چکے ہیں، انہیں اس سے نکالنا بڑا  چیلنج ہو گا- ٹرمپ نے انتخابی نتائج کو قانونی طور پر چیلنج کیا، جب قانونی اداروں میں ناکامی ہوئی تو اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے پایہ تخت پر ہی چڑھائی کر کے 6 جنوری 2021 کو سفید دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں نے وہ کچھ کیا جس  کے بیج عرصہ سے بوئے جا رہے تھے، اس دن جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں اس کا دھواں کافی دیر سے اٹھ رہا تھا بلکہ پلاننگ  کے ساتھ ہوا، ورنہ یہاں سراغرسانی کے ادارے اتنے تیز اور متحرک ہیں کہ  لوگوں کی نیتوں پر حرکت میں آیا کرتے ہیں اور بعض کو صرف نیتوں کے شبہ  میں سزائیں دی گئیں، تو وہ سب ادارے اس منصوبہ بندی اور ہلڑ بازی سے لاعلم  کیسے رہے یا پھر وہ بھی اس روز سیاہ کا خود بھی حصہ تھے، کہ اتنی بڑی تعداد میں مختلف بينرز ہاتھوں میں اٹھائے، مخصوص رنگ اور لوگو لگے کپڑے پہنے مرکز جمہوریت ’ کیپٹل ھل‘ پر  چڑھائی کر دی اور اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دندناتے  پھرتے رہے اور فورسز حرکت تک میں نہیں آئیں،  استفسار پر انہوں نے قانون کاسہارہ لیتے ہوئے اپنی بےگناہی ثابت کی کہ ہم آرڈر پر حرکت کرتے ہیں، اس لیے سابق صدر کے خلاف تحقیقات کی مہم  چلائی جا رہی ہے کہ اس ساری دہشت گردی کی کارروائی میں صدر سمیت کس کا کتنا حصہ ہے، کیونکہ حفاظتی عملہ کو بروقت طلب نہیں کیا گیا، کیا دوسروں کو امن وسلامتی کا درس دینے والے خود ہی دہشت گرد تو نہیں! اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس دن خوفناک دہشت گردانہ حملہ کے بعد ٹرمپ  نے ان انتہاء پسندوں کی مذمت نہیں کی، بلکہ شاندار الفاظ میں شاباشی دی اور دوسروں کو انصاف اور سچائی کا سبق دینے والے  نمائندگان کی غالب اکثریت نے غلط کو غلط کہنے سے انکار کر دیا۔ ورنہ انہیں اپنے اپنے حلقہ انتخاب  میں سفید فاموں کے ردعمل اور ناکامی کا خطرہ ہے۔ یہاں انصاف اور سچائی سے زیادہ کرسی کی اہمیت ہے،  امریکہ کا سنجیدہ طبقہ چاہے اس کے کتنے ہی مخالف ہو، لیکن  حکمران پارٹی جانتی ہے کہ ان کی سیاسی کامیابی کے لیے نفرتوں کی دیواریں ہی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، ورنہ انڈیا میں بھی تو تعلیم یافتہ، انصاف پسندوں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے طویل آٹھ سو سالہ دور اقتدار میں انہیں کوئی خطرہ نہیں رہا تو اب اقلیت میں عام شہریوں کی حیثیت سے زندگی گزارنے والے مسلمانوں سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن ہندو مسلم کا مذہبی نعرہ ہی ان کی کامیابی کا اہم زینہ ہے، اس لیے ہر وقت اس کو خوب اچھالا جاتا ہے۔

ٹرمپ کے دور اقتدار کے آخری دنوں کی کیفیت بڑی عبرتناک  تھی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بیانات داغتے ہوئے نہ انہیں اپنوں کی پرواہ ہوتی اور نہ ہی بیگانوں کی، وہ نہ سیاسی آداب کی پاسداری کرتے اور نہ ہی سفارتی اصولوں کی پابندی، منتخب ہوتے ہی مسلم ممالک کے خلاف شکنجہ کسنے کا اعلان کر دیا تھا،  لیکن حالیہ  انتخابی نتائج جس کی شاید انہیں توقع نہیں تھی کہ کبھی یہ روز سیاہ بھی دیکھنا پڑے گا جو خود کو ناقابل شکست سمجھتے تھے،  انہیں ایسی رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دنیا کی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جنہوں نے خود کو ناقابل شکست اور لازوال تصور کر لیا تھا لیکن وہ بڑی بے کسی کے ساتھ لقمہ اجل بنے یا قعر مذلت میں  پھینک دیے گئے۔ ماضی کے چند اوراق الٹ کر دیکھیے پاکستان کے مرد آہن ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے:

’’میری کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ اوران کی بیٹی بےنظیر کہا کرتی تھیں ہم عوام کے منتخب نمائندے ہیں، ہمیں کوئی طاقت ہلا نہیں سکتی،  لیکن بھٹو کی مضبوط کرسی نہ ان کا اقتدار بچا سکی اور نہ ہی ان کی جان ، ملک کی عدالت عالیہ کے فیصلہ کے مطابق انہیں تخت سے اتار کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور ان کی بیٹی جنہیں ناقابل تسخیر ہونے کا گمان تھا کہ عوام ان کی مٹھی میں ہیں، عوامی اجتماع میں  گولیوں کا نشانہ  بنا دیا گیا، بھارت کی وزیر اعظم اندراگاندھی جنہیں فولادی خاتون کہا جاتا تھا، اپنے ہی ذاتی محافظوں کی گولیوں سے داستان عبرت بن کر رہ گئیں۔ عراقی صدر صدام حسین کو  کس بےبسی کے عالم میں گرفتار کر کے بیدردی سے سولی پر  لٹکا دیا گیا، لیبیا کے معمر قذافی کو موت کے گھاٹ اتار کر نعش کو جس ذلت کے ساتھ سڑکوں پر گھسیٹا گیا، مصر کے انور السادات کو خود ان کی  فوج نے ہی اس اسٹیج پر جوان کی شان وشوکت کے لیے سجایا گیا تھا، اس پر خاک وخون میں ملا دیا۔ ان کے بعد طویل عرصہ حکومت کرنے والے حسنی مبارک کو آہنی پنجرہ  میں جکڑ کر جس طرح کمرہ عدالت میں لایا جاتا رہا وغیرہ وغیرہ بہت سی مثالیں ہیں جنہوں نے حکومت اس انداز  سے کی کہ میرے اوپر کوئی رب نہیں اور میرے برابر  کوئی لیڈر نہیں اور پھر کس عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔ غرض ماضی قریب وبعید تاریخ کے ہر دور میں ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ اقتدار  کا نشہ انسان کو کس قدر مست کر دیتا ہے، اسی نشہ میں دھت لوگوں نے اپنے اپنے دور کے نیکوکاروں اور صالحین کے خلاف گھناؤنی حرکتیں کیں، مرد جلیل امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو دمشق کے قلعہ میں بند کر دیا گیا، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو ایسے کوڑے مارے گئے کہ مست ہاتھی پر بھی مارے جاتے تو بلبلا اٹھتا، امام مالک رحمہ اللہ کے ہاتھ شل ہو گئے لیکن بغض وعداوت اور دین بیزاری کی بھڑکتی آگ کے تیز وتند شعلے ان بزرگوں کے پایہ استقلال میں جنبش تک پیدا نہ کر سکے، ان کے سینوں میں موجزن ایمانی حرارت سے  نفرتوں کی آگ  سرد پڑ گئی اور ان صلحاء کے فیوض وبرکات سے دنیا آج بھی مستفید ہو رہی ہے اور  قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ

ٹرمپ کو بھی دنیا کی بے چینی اور بدامنی کا بڑا سبب مسلمان اور مسلم ممالک ہی دکھائی دے رہے تھے لیکن جو کچھ 6جنوری 2021 کو دنیا کی مضبوط جمہوریت کے دعویدار امریکہ میں ہوا اور جنہوں نے  اس کارروائی میں حصہ لیا، ان کے لیے کونسے القاب تلاش کیے جائیں گے! جبکہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث  نہ کوئی مسلمان ملک تھا اور نہ ہی مسلمان فرد! یہ اصلی سفید فام امریکی عوام تھے اور ان کی پشت پناہی کرنے والے اقتدار  میں شریک اعلیٰ نمائندگان!

٭٭٭

تبصرہ کریں