امير المؤمنين فی الحدیث: امام بخاری رحمہ اللہ۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

قرآن مجید کے بعد حدیث رسول ﷺ شریعت اسلامی کا دوسرا اَہم ترین ماخذ ہے۔ جس طرح قرآن مجید حجتِ فی الدین ہے بالكل ویسے ہی حدیث رسولﷺ بھی حجت فی الدین ہے۔ جیسے قرآن کا تحفظ اللہ نے اپنے ذمے لیا ہے:

﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴾

ويسے ہی حدیث کی حفاظت بھی اس نے اپنے ذمے لی ہے: ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾

اسلام قرآن اور حدیث دونوں کے مجموعے کا نام ہے۔ کیونکہ ثانی الذکر اول الذکر کی توضیح و تفصیل ہے۔ بلکہ قرآنی آیات حدیثِ رسولﷺ کی تشریحات کے بغیر واضح نہیں ہو سکتیں۔ جب واضح نہیں ہوسکتیں تو پھر سمجھی نہیں جاسکتیں اور جب سمجھ میں نہیں أئیں گی تو اس کے احکامات پہ عمل کیسے کیا جا سکے گا!؟ پس یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ لہٰذا ان دونوں کو ایک دوسرے نہ تو جدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی انکی اہمیت، افادیت اور حجت میں کوئی فرق کیا جاسکتا ہے۔

قارئین! اگر ہم تحفظِ حدیث کے لیے کی جانے والی کاوشوں اور محنتوں کی اتھاہ میں اتر کر دیکھیں تو خود حیرت کو حیرت ہو جاتی ہے کہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتے ہوئى احادیث کا یہ ذخیرہ کیسے جمع ہو پایا؟ جنہوں نے یہ کام کیا ان کے علم، عمل، حافظے، تحقیق، احیتاط اور تقوے کا عالم کیا تھا؟ اور ہر راوی کے حوالے سے اس کی عدالت و ثقاہت سمیت پورے کردار کی چھان بین میں ازحد رسائیاں کیسے حاصل ہوئیں؟

تو ملاحظہ کیجیے! اللہ نے ایسے رجالِ کار پیدا کیے کہ جنہوں نے اس شاہکار کےلیے اپنی حیات و ممات وقف کر دی۔ دن دیکھا نہ رات، دکھ دیکھا نہ سکھ، حضر دیکھا نہ سفر، کھانا مل گیا کھا لیا، نہ ملا نہ کھایا، دم بدم صبر و شکر سے لبریز رہتے۔ نہ مال جان کی پرواہ کی نہ آرام کی۔ اپنا اوڑھنا بچھونا بس خدمتِ حدیث کو بنا لیا۔

ان عبقری ہستیوں کے وفورِ شعور، پختہ استقامت، خلوصِ نیت اور للہیت کی انتہاؤں کو پہنچی ہوئی بندگی پہ تاریخ انگشت بدنداں ہے۔ ایک ایک روایت کی تدوین و تحصیل کے لیے ان پاکباز محدثین نے بے سرو سامانی کے عالم میں پُرخار و دشوار راہوں کے سفر کیے۔ ایک ایک روایت کی تحقیق و تطبیق میں انہوں نے احتیاط کی تمام حدیں پار کر دیں۔ سند و متن کے اعتبار سے اور روایت و درایت کے اعتبار سے ایسے کڑے اصول مقرر کیے کہ جنہوں نے صحیح اور ضعیف حدیث کے مابین حدِ فاصل قائم کر دی۔ یہاں تک کہ خود مستشرقین اپنی کتب میں رقمطراز ہیں:

’’ احادیث رسول ﷺ کی جمع بندی اور روایت و درایت میں محدثین کی طرف سے کی گئیں خدمات سوچ سے ماورا ہیں۔ لگتا ہے مافوق الفطرت ہستیوں نے یہ بے نظیر کارنامہ انجام دیا ہے۔‘‘

الغرض محدثین نے خدمت حدیث کے حوالے سے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ ان کی گراں قدر خدمات کا تذکرہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ قارئین! جن حفاظ اور ائمۂ حدیث نے یہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے ان کے سرخیل بخاره میں پیدا ہونے والے امام بخاری﷫ ہیں۔ حدیث کی بے مثل خدمات کے باب میں زعمائے امت کی طرف سے آپ کو ملنے والا “امیر المومنین فی الحدیث” کا لقب آپ کی عظمت و جلالت پر بطور دلیل کافی ہے۔ آپ کے تصنیف کردہ مجموعۂ حدیث میں روایت اور درایت کے حسین ترین امتزاج اور صحت حدیث میں اصول وقواعد کی پوری پوری پابندی کو دیکھ کر علمائے امت یہ بات کہے بغیر نہ رہ سکے کہ “أصح الکتب بعد کتاب الله” یعنی قرآن کے بعد اگر روئے زمین پر کوئی صحیح ترین کتاب بطور حجت فی الدین ہے تو وہ صحیح بخاری ہی ہے۔ تعصب برطرف، آپ کی حیات وخدمات کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ آپ محدثین میں “آية من آيات الله” تھے۔

ہم سطورِ زیریں میں امام بخاری﷫ کے شیوخ کے وہ اقوال نقل کریں گے جو انہوں نے اپنے اس تلمیذ رشید کے متعلق کہے۔ نیز آپ کے ہم عصر و غیر ہم عصر معتبر ائمہ کے کچھ اقوال بھی سپردِ حوالہ کریں گے۔ تاکہ اس محدثِ اعظم کی شخصیت و عظمت ہر اعتبار سے نکھر کر سامنے آ سکے۔

1. امام بخاری﷫ کے استاد نعیم بن حماد اور یعقوب بن ابراہیم دورقی فرماتے ہیں:

’’ محمد بن اسماعیل اس امت کے فقیہ ہیں۔‘‘

2. آپ کے استاذ قتیبہ بن سعید کہتے ہیں:

’’ میں بڑے بڑے فقہا، زہاد اور عباد کا ہم نشیں رہا۔ میں نے محمد بن اسماعیل سے بڑھ کے کوئی ذی فہم نہیں دیکھا۔ آپ اپنے زمانے میں ایسے ہی تھے جیسے صحابہ میں سیدنا عمر ۔‘‘

3. آپ کے استاد عمرو بن علی فلاس کہتے ہیں: جس حدیث کے بارے میں محمد بن اسماعیل لاعلم ہو تو وہ حدیث ہی نہیں ہوتی۔

4. آپ کے استاد محمد بن بشار کہتے ہیں:

’’آپ اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے زیادہ مذہب شناس تھے۔‘‘

5. آپکے استاد اور ساتھی امام دارمی﷫ کہتے ہیں:

’’میں حرمین، حجاز اور عراق کے علماء سے ملا، مگر میں نے محمد بن اسماعیل سے بڑھ کر حدیث کے باب میں کامل ہستی کسی کی نہیں دیکھی۔‘‘

6. آپ کے شاگرد امام مسلم﷫ نے ایک بار آپ سے کہا:

’’ اے استاذ المحدثین، حدیث کی تمام علل اور اصول کی پرکھ رکھنے والے! مجھے اپنے پاؤں کا بوسہ لینے دیجیے۔ مزید کہا کہ آپ سے ایک حاسد ہی بغض رکھ سکتا ہے۔ میں شاہد ہوں کہ اس دنیا میں آپ سا کوئی نہیں۔‘‘

7. امام الأئمہ ابن خزیمہ﷫ کہتے ہیں:

’’ آسمان کی چھت تلے محمد بن اسماعیل بخاری سے بڑھ کے حدیث رسول ﷺ کو کوئی جانتا ہے نہ پہچانتا ہے۔ جبکہ آپ کی معرکۂ آرا تصنیف صحیح بخاری شریف کے بارے میں ائمہ یوں رقمطراز ہیں:

1. حافظ عبدالغنی مقدسی اپنی کتاب ’’الکمال‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ امام بخاری عظیم المرتبت ہیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری پر عمل پیرا ہونا لازم ہے۔ اہل اسلام کے مابین ان کی کتاب انتہائی قابل اعتماد ہے۔‘‘

2. حافظ ابن صلاح، امام بخاری اور امام مسلم﷭ کے متعلق فرماتے ہیں:

’’قرآنِ مجید کے بعد ان کی کتب صحت کے اعتبار سے دنیا کی تمام کتب سے بڑھ کر ہیں اور امام بخاری﷫ کی کتاب امام مسلم﷫ کی کتاب سے زیادہ صحیح اور مفید ہے۔ ‘‘

3. امام نووی﷫ کہتے ہیں:

’’ امت کے تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن پاک کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب بخاری شریف اور پھر مسلم شریف ہے۔ اس بات کو ساری امت نے مکمل شرحِ صدر کے ساتھ تسلیم کیا ہے کہ ان میں امام بخاری کی کتاب زیادہ صحیح اور ظاہری و باطنی فوائد کے اعتبار سے زیادہ نافع ہے۔ جبکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ امام مسلم جہاں امام بخاری سے استفادہ کرتے تھے وہاں اس بات کے بھی معترف تھے کہ علم حدیث میں امام بخاری﷫ کا کوئی ثانی نہیں۔‘‘

4. حافظ ذہبی﷫ امام بخاری﷫ کے ترجمے میں لکھتے ہیں:

’’صحیح بخاری اسلام کی تمام کتابوں سے زیادہ عظیم اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بعد سب سے زیادہ افضل ہے۔‘‘

5. حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں:

’’ تمام اہل اسلام بخاری شریف کی قبولیت اور اس کی صحت پر کامل اتفاق رکھتے ہیں۔‘‘

6. حافظ ابنِ ملقن﷫ اپنی شرح ’’التوضیح‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

’’خلاصۂ کلام یہ ہے کہ امیر الموَمنین فی الحدیث محمد بن اسماعیل بخاری کی کتاب قرآن پاک کے بعد سب سے زیادہ صحیح، مفید، عزیز اور عظیم ہے۔‘‘

7. علامہ عینی حنفی﷫ فرماتے ہیں:

’’علماء شرق و غرب اس بات پہ متفق ہیں کہ قرآن مجید کے بعد اگر کوئی اتھینٹک کتاب ہے تو وہ بخاری شریف اور مسلم شریف ہے۔‘‘

8. حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “حجة الله” میں بخاری شریف کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کمال کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو آدمی صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کی بے قدری اور ان پہ تنقید کرتا ہے، وہ راہِ راست سے ہٹا ہوا گمراہ اور مبتدع ہے۔

٭٭٭

سیدنا عبداللہ ابن مسعود کا قول ہے کہ

“مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ ؛ إِلا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةٌ “

لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق بات کیا کرو،ورنہ ان میں سے بعض کے لیے یہ بات فتنہ بن جائے گی!

تبصرہ کریں