اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہ

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لیے ہے، جس کی ہم معافی چاہتے ہیں، جس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، جس کی عطا مانگتے ہیں اور جس کی مدد کی امید رکھتے ہیں۔ میں اللہ کی ویسی حمد وثنا بیان کرتا ہوں جیسے نعمتوں کے شکر گزار بندے کرتے ہیں، جو اس کی مزید نعمتوں کے طالب ہوتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بہت بلند ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور ان کا ساتھ چاہنے والوں پر بہت سلامتی نازل ہو۔

بعد ازاں! اللہ کے بندو! پرہیز گاری اختیار کرو، کیونکہ پرہیز گاری کی نصیحت اللہ تعالیٰ نے اولین وآخرین کو کی ہے۔ فرمایا:

﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ﴾

’’تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔‘‘ (النساء: 131)

اے مسلمانو! مسلمان کو کسی وقت بھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شیطان اس کا دشمن ہے، جو نہ کبھی تھکتا ہے اور نہ بندوں کے ساتھ جنگ میں کمی کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا﴾ (سوره فاطر: 6)

’’در حقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔‘‘

وہ ہماری دشمنی میں کوئی کسر نہیں اٹھائے رکھتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اس کے مقابلے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، اللہ کا ذکر کر کے اپنے نفس کو اس سے آزاد کرائیں اور ان لوگوں جیسے نہ بنیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ (سورة المجادلہ: 19)

’’شیطان اُن پر مسلط ہو چکا ہے اور ا ُس نے اللہ کی یاد اُن کے دل سے بھلا دی ہے وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔‘‘

اس حوالے سے کچھ چیزیں بہت سے لوگوں سے مخفی رہتی ہیں، مگر وہ شیطان کی بد ترین چالیں ہیں اور مکاری کا حصہ ہیں۔ شیطان اس بات پر اکتفا نہیں کرتا کہ انسان سے گناہ کرا لے، بلکہ وہ اس سے واجبات بھی چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب انسان گناہ کرتا ہے، تو ممکن ہے کہ گناہ کی وجہ سے توبہ سے اور اپنی اصلاح کرنے سے مایوس ہو جائے، جب وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے تو سارے گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور دل ہی دل میں یہ سوچ لیتا ہے کہ چونکہ وہ اپنے نفس پر بہت ظلم کر رہا ہے اور حد سے گزر چکا ہے، اس لیے اس کی کوئی توبہ نہیں، پھر وہ فرائض کی ادائیگی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور واجبات ترک کرنے لگتا ہے، کیونکہ وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس جیسے گناہ گار کے لیے مناسب نہیں کہ وہ نمازیں پڑھے یا روزے رکھے، نیکی کا حکم دے یا برائی سے روکے یا نیکی کرے۔ تو دیکھیے! شیطان اسے کیسے گمراہ کرتا ہے، کیسے اسے دین کے ا حکام ترک کرنے پر اکساتا ہے!

ایسی حالت تک وہی شخص پہنچتا ہے جو گناہ گار کے لیے ارشاداتِ الٰہی سے ناواقف، یا غافل ہوتا ہے، کہ اسے توبہ کرنی چاہیے، معافی مانگنی چاہیے اور نماز پڑھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ (سوره هود: 114)

’’نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر در حقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کو یاد رکھنے والے ہیں۔‘‘

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ، فَيَغْفِرُ لهم.»

’’اس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو، تو اللہ تمہیں ختم کر دے اور ایسے لوگ پیدا کرے جو گناہ کریں، پھر معافی مانگیں اور پھر وہ انہیں معاف فرمائے۔‘‘

تو اے اللہ کے بندے! جب بھی شیطان تم سے کوئی گناہ کرانے میں کامیاب ہو، جب بھی وہ تمہارا قدم پھسلائے، تو رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر عمل کرنا:

«وَأَتْبِعِ السَّيِئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا»

’’گناہ کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ اسے مٹا دے۔‘‘

اگر توبہ کے بعد تم پھر سے گناہ میں مبتلا ہو جاؤں تو پھر اسی دوا کے ذریعے اپنا علاج کرو، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں دو مرتبہ ہرا دے، ایک مرتبہ گناہ کرا کر، اور دوسری مرتبہ نیکی چھڑا کر۔

پوری کوشش کرو کہ تمہاری نیکیاں ہمیشہ جاری رہنے والی ہوں، کسی گناہ یا غلطی کی وجہ سے ان میں کوئی کمی نہ آئے۔ تمہارا نفس جتنا بھی بوجھل ہو جائے، بہرحال، تمہیں روز مرہ کی نیکیاں ترک نہیں کرنی چاہیں، جیسے تلاوت، نماز، ذکر اور دعا، جو کہ ایمان کا سامان ہیں اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ تو مثال کے طور پر اگر آپ نماز با جماعت کی پابندی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور اذکار پڑھتے ہیں، لیکن کسی دن آپ سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے، تو اس گناہ کی وجہ سے آپ اپنے روز مرہ کے نیک کام کبھی نہ چھوڑنا، بد سے بد تر ہونے سے بچو۔ جب گناہ پردے میں ہو تو اسے ظاہر نہ کرو، گناہ پر ندامت ہو تو ہٹ دھرمی کی طرف نہ جاؤ، چھوٹے گناہوں سے بڑے گناہوں کا رخ نہ کرو۔ اگر بڑے گناہ کے مرتکب ہو گئے ہو تو اس شخص کا طریقہ نہ اپناؤ جو کسی جھجک کے بغیر ہر گناہ میں کود پڑتا ہے۔ اللہ ہمیں اور آپ کو محفوظ رکھے۔

اے خطا کار! ہم سب خطا کار ہیں۔ اس شخص جیسے نہ بنو جنہیں شیطان نے باندھ رکھا ہے اور جسے خیر وبھلائی سے روک رکھا ہے، جس کے گناہوں نے اسے اپنی اصلاح اور غلطیوں کی تلافی سے روک رکھا ہے۔ کچھ لوگوں کو جب کسی گناہ سے روکا جاتا ہے تو اکڑ جاتے ہیں، یہ سوچ کر نصیحت کو پس پشت ڈال دیتا ہے کہ نصیحت کرنے والا اس کے بڑے بڑے گناہوں کو نہیں جانتا، وہ صرف یہی گناہ نہیں کر رہا۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ ہر گناہ سے الگ توبہ ہوتی ہے۔ کسی ایک گناہ سے توبہ کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے باقی گناہوں سے بھی توبہ کی جائے۔ اسی طرح ایک گناہ کا دوسرے گناہ سے جڑا ہوا نہیں رہتا۔ اس لیے سمجھ دار شخص کو چاہیے کہ وہ شیطان کے فریب میں نہ آئے، کریم اور احسان کرنے والے کی عطاؤں سے مایوس نہ ہو، کیونکہ انسانی نفس کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ یہ بھلائی کا شوق رکھتا ہے اور اسے پاکر خوش ہوتا ہے، برائی کو ناپسند کرتا ہے اور اس کا شکار ہونے کے بعد پریشان ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حق کی پیروی سے ہی اس کا و جود درست رہ سکتا ہے اور اس کی زندگی اچھی گزر سکتی ہے۔ سیدنا عمر سے روایت ہے کہ انہوں ایک شخص کو گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین! وہ تو شراب نوشی کا بری طرح شکار ہو چکا ہے۔ سیدنا عمر نے کاتب کو بلا کر کہا: لکھو:

“مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، أمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التوبِ، شديدِ العقابِ، ذي الطَّولِ، لَا إلهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ”.

’’عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف۔ سلام علیک۔ بعد ازاں! میں تمہیں اللہ کی تعریف سناتا ہوں جو گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا ور مہربان ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ۔ اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔‘‘

پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا:

“ادْعُوَا اللَّهَ لِأَخِيكُمْ أَنْ يُقْبِل بِقَلْبِهِ، وَأَنْ يَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ”

’’اپنے بھائی کے لیے دعا کرو کہ وہ اپنے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور اللہ اسے قبول فرما لے۔‘‘

جب اس شخص کو سیدنا عمر کا خط موصول ہوا تو وہ اسے بار بار پڑھنے لگا، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا۔ اس نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا، معافی کا وعدہ کیا۔ وہ بار بار دھراتا رہا۔ پھر رونے لگا، پھر گناہ کو چھوڑ دیا اور توبہ کر لی۔

اللہ کے بندو! شیطان بڑا فریب کار دشمن ہے، جب بندہ بار بار گناہ کرتا ہے، نافرمانیاں کر کے اپنے نفس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، تو وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اسے مایوسی جیسے بڑے گناہ میں بھی دھکیل دے، اپنے پروردگار کے بارے میں بد گمان کر کے بد ترین جرم میں مبتلا کر دے۔ اس بد ترین خرابی سے لوگوں کو محفوظ کرنے کے لیے ہی ہمارے دین نے لوگوں میں مایوسی پھیلانے اور اللہ کی رحمت سے نا امید کرنے سے منع کیا ہے، گناہ گاروں کو توبہ سے مایوس کرنے سے بھی روکا ہے۔ کسی گناہ گار کو اس کے گناہ کا طعنہ دینے کو بہت برا کام سمجھا گیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے:

أنَّ رَجُلًا قالَ: واللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلانٍ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعالَى قالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أنْ لا أغْفِرَ لِفُلانٍ، فَإِنِّي قدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍ، وأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ.

’’ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں کو معاف نہیں کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ کون ہے جو میرے بارے میں ایسی باتیں کرنے کی جسارت کر رہا ہے؟! میں نے اس شخص کو معاف کر دیا اور یہ کہنے والے کی نیکیاں برباد کر دیں۔‘‘

انسان اپنے پروردگار سے جتنا بھی دور ہو جائے، جب تک وہ مہلت میں رہتا ہے، اس کے لیے توبہ کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بوڑھا شخص آیا اور کہنے لگا: اگر کسی شخص نے سارے گناہ کیے ہوں، کوئی گناہ نہ چھوڑا ہو۔ کیا وہ بھی توبہ کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے کہا:

«فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟»

’’کیا تم نے اسلام قبول کیا ہے؟‘‘

اس نے کہا: میں یہ گواہی تو دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«نَعَمْ، تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ، وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ، فَيَجْعَلُهُنَّ اللَّهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ»

’’جی ہاں! نیکیاں کرو، برائیاں چھوڑ دو، اللہ پچھلے گناہ بھی نیکیوں میں بدل دے گا‘‘

وہ شخص حیرت زدہ ہو کر کہنے لگا: اور میری غداریاں اور فساد انگیزیاں!؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«نَعَمْ»

’’جی ہاں! معاف ہو جائیں گی‘‘

وہ شخص کہنے لگا: اللہ اکبر۔ وہ یہ نعرہ بلند کرتا ہوا چلا گیا اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

اللہ کے بندو! اللہ کی مہربانیاں اتنی زیادہ ہیں کہ کسی عبارت میں بیان نہیں ہو سکتیں نہ ان سب کی طرف اشارہ ہی ممکن ہے۔ تو اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ جب بھی انسان کا قدم پھسل جائے، تو اسے توبہ کرنی چاہیے، ہمیشہ علم رکھنے والے بادشاہ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (سورة البقرة: 222)

’’اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘

اس آیت میں ان لوگوں تسلی دی گئی ہے جو توبہ کے بعد پھر سے گناہ کا شکار ہونے پر توبہ سے ہچکچاتے ہیں۔ جو اللہ کے عفو ودرگزر کو جان لیتا ہے، اس کی کشادہ رحمت کو دیکھ لیتا ہے، وہ اس کی مہربانی سے کبھی مایوس نہیں ہوتا اور تجدیدِ توبہ سے کبھی نہیں رکتا۔ حدیث میں آتا ہے:

«أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا، فَقالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ذَنْبِي، فَقالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى-: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أنَّ له رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بالذَّنْبِ، ثُمَّ عَادَ فأذْنَبَ، فَقالَ: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لي ذَنْبِي، فَقالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى-: عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أنَّ له رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بالذَّنْبِ، ثُمَّ عَادَ فأذْنَبَ فَقالَ: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لي ذَنْبِي، فَقالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى-: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أنَّ له رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بالذَّنْبِ، اعْمَلْ ما شِئْتَ فقَدْ غَفَرْتُ لَكَ»

’’ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر کہا: اے اللہ! مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا، پھر اسے معلوم ہوا کہ اس کا پروردگار بخشنے والا بھی ہے اور سزا دینے والا بھی۔ پھر اس سے دوبارہ گناہ ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے رب! میرا گناہ بخش دے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا، پھر اسے معلوم ہوا کہ اس کا پروردگار گناہ بخشنے والا بھی ہے اور سزا دینے والا بھی۔ اس سے پھر گناہ ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے رب! میرا گناہ بخش دے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا، پھر اسے معلوم ہو گیا کہ اس کا پروردگار گناہ بخشنے والا بھی ہے اور سزا دینے والا بھی۔ جو چاہو کرتے رہو، میں تمہیں بخش دیا ہے۔‘‘

یعنی جب تک ہر گناہ کے بعد توبہ کرتے رہو گے، تمہیں گناہ کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

اسی طرح بیان کیا جاتا ہے کہ کسی نے ایک عالم سے کہا: مجھ سے گناہ ہو گیا ہے۔ عالم نے کہا: توبہ کر لو۔ اس نے کہا: اگر پھر گناہ ہو جائے تو؟ اس نے کہا: توبہ کر لو۔ اس نے پوچھا: کب تک؟ اس نے کہا: جب تک تم شیطان کو رسوا نہ کر دو۔ شیطان کی تمنا ہے کہ وہ تمہارے اندار مایوسی اور نا امیدی پیدا کر دے۔

اے اسلامی بھائیو! یہ پیغام ہر مسلمان مرد، مسلمان عورت اور گناہ گار تک پہنچنا چاہیے کہ انسان کی فطرت میں راست بازی اور خیر کی محبت موجود ہے۔ وہ فطری طور پر بھلائی کو قبول کرتا ہے اور اسے ترجیح دیتا ہے، برائی کو ناپسند کرتا ہے، اس سے بچتا اور اسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ہر گناہ گار کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا مقابلہ کرے، اپنے اندر موجود اچھی صفات کا فائدہ اٹھائے، انہیں بڑھائے اور بہتر کرے۔ یہ صفات انسان کے اندر جتنی زیادہ اور مضبوط ہوں گی، برائی کی رغبت اتنی ہی کم ہو گی، گناہ کا راستہ اتنا ہی مشکل ہو گا اور شیطان کے راستے اتنے ہی بند ہوں گے۔ اسی طرح ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے گناہ کو توبہ کے راستے میں رکاوٹ نہ بنائے۔ ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے لیے بھی اللہ کی رحمت کشادہ ہی ہے۔ بڑے سے بڑا گناہ بھی ایسا نہیں جو انسان کو توبہ سے روک سکے۔ اس شخص کو یاد کر لیجیے جس نے سو لوگوں کو قتل کیا تھا، اس کے بڑے جرائم کے باوجود وہ مایوس نہیں ہوا، توبہ کر کے اپنے علاقے کو چھوڑ کر نکل گیا، راستے میں ہی اللہ کی رحمت نے اسے آ لیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح لے گئے۔

اللہ کے بندو! توحید پرست انسان کے لیے جب کوئی خیر کا دروازہ کھلے تو اسے چاہیے کہ اس کے ساتھ جڑا رہے، چاہے وہ فرمان برداری میں کوتاہی کا شکار ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو ایک واقعہ سنایا تھا کہ

أنَّ رجلًا لم يعملْ خيرًا قطُّ، وكان يُدايِنُ الناسَ، فيقولُ لرسولِه: خُذْ ما تَيَسَّرَ، واتركْ ما عَسُرَ وتَجاوَزْ، لعلَّ اللهَ يَتَجاوزُ عنا. فلمَّا هلَك قال اللهُ له: هل عملتَ خيرًا قطُّ؟ قال: لا، إلَّا أنه كان لي غلامٌ، وكنتُ أُدايِنُ الناسَ، فإذا بعثتُه يَتقاضى قلتُ له: خُذْ ما تيسَّرَ، واتركْ ما عَسُرَ، وتَجاوَزْ، لعلَّ اللهَ يَتَجاوزُ عنَّا. قال اللهُ -تعالى-: قد تَجاوَزْتُ عَنْكَ.

’’ایک شخص تھا، جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، ہاں! مگر وہ لوگوں کو ادھار دیتا تھا۔ جب تقاضے کے لیے اپنے ملازم کو بھیجتا تو اسے کہتا: جتنا آسانی سے مل جائے، لے آنا، جو مشکل ہو اسے چھوڑ دینا اور درگزر کرنا، تاکہ اللہ بھی ہم سے درگزر کرے۔ جب وہ فوت ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: کیا تم نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، ہاں! مگر میرا ایک غلام تھا۔ میں لوگوں کو ادھار دیتا ہے، جب میں اسے تقاضے کے لیے بھیجتا تھا تو اس سے کہتا ہے: جتنا آسانی سے مل جائے، لے آنا، جو مشکل ہو اسے چھوڑ دینا اور درگزر کرنا تاکہ اللہ ہم سے بھی درگزر کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو میں نے بھی تم سے درگزر کیا۔‘‘

اسی طرح ہمیں چاہیے کہ اپنی فطرتِ سلیمہ سے فائدہ اٹھائیں جو ہر انسان میں موجود ہوتی ہے، کیونکہ ہر بچے کو فطرت پر ہی پیدا کیا جاتا ہے اور خیر کا بیج جتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو جائے، بہر حال، وہ بندے میں موجود رہتا ہے، چاہے وہ خواہشات کے دلدل میں بری طرح پھنسا ہو، برائیوں میں بہت آگے جا چکا ہو۔ اس لیے مربی اور مصلح حضرات کو چاہیے کہ لوگوں میں نیکی کے جذبے کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں، ان کے نفس میں موجود بھلائی کا فائدہ اٹھائیں، گناہ گاروں میں خیر وبھلائی کے بقایا کو پھر سے مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ بالکل ویسے جیسے انسان چھوٹے سبز پودوں کا خیال رکھتا ہے اور ان کے ارد گرد اگنے والی گھاس پھوس کاٹ دیتا ہے تاکہ وہ بڑے اور مضبوط ہو جائیں۔

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگا: فلاں شخص تہجد پڑھتا ہے، مگر صبح اٹھ کر چوری کرتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:

“إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ”

’’جس نیکی کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ اسے چوری سے روک دے گی۔‘‘

اسی طرح ان ہی سے روایت ہے کہ ایک دن ایک شخص کو پکڑ کر لایا گیا اور اسے شراب نوشی کی وجہ سے کوڑے مارے گئے۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ! اس پر تیری لعنت ہو۔ اسے کتنی بار لایا جا چکا ہے؟! آپﷺ نے فرمایا:

«لا تَلعَنُوه، فواللهِ ما علمتُ إلَّا أنه يحبُّ اللهَ ورسولَه»

’’اس پر لعنت نہ بھیجو، مجھے تو یہی لگتا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے‘‘

ایک دوسری روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اسے کیا مسئلہ ہے؟ اللہ اسے رسوا کرے! آپ ﷺ نے فرمایا:

«لا تكونوا عونَ الشَّيطان على أخيكم»

’’اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔‘‘

اسی طرح ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ گناہ گار پر اپنی مہربانی فرما دیتا ہے۔ کوئی ایسی نصیحت اس کے کان میں پڑ جاتی ہے جو اس کے دل کو بیدار کر دیتی ہے۔ پھر اس کی صلاحیتیں کسی مثبت کام میں لگ جاتی ہیں اور اس کے بہترین نتائج سامنے آتے ہیں۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک دن وہ کوفہ کے علاقے میں ایک جگہ سے گزر رہے تھے۔ وہاں انہیں کچھ بھٹکے ہوئے نوجوان نظر آئے جو شراب نوشی کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ ان میں ایک گویا بھی تھا جسے ’’زاذان‘‘ کہتے تھے۔ وہ گاتا اور بجاتا۔ اس کی آواز بہت خوب صورت تھی۔ ابن مسعود نے کہا: یہ کتنی پیاری آواز ہے۔ اسے تو تلاوت قرآن میں لگانا چاہیے۔ اس بات نے ’’زاذان‘‘ پر اثر کیا۔ انہوں نے توبہ کر لی اور ان کی زندگی بدل گئی۔ وہ نیکی میں بڑھتے گئے، یہاں تک کہ توبہ کے بعد ایک محدث اور امام بن گئے اور ان کا شمار بڑے علماء میں ہونے لگا۔

میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ (سورة الزمرِ: 53)

’’(اے نبی) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے‘‘

مجھے یہی کہنا تھا۔ میں اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے معافی مانگتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

تعریف بس اللہ ہی کے لیے ہے۔ درود وسلام ہو رسولِ مجتبیٰ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور ہدایت کا راستہ اپنانے والوں پر۔

بعد ازاں! اللہ کے بندو! ہمیں توبہ کی طرف متوجہ کرنے والی ایک چیز یہ ہے کہ ہم اس چیز کو اپنے اندر اجاگر کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اوپر رحمت لازمی کی ہے۔ اس کا عفو ودرگزر اتنا وسیع ہے کہ ساری مخلوقات اس میں آ جائیں، اس کی رحمت اس کے غضب سے آگے ہیں۔ جب سے اس نے زمین وآسمان کی تخلیق کی ہے، تب سے قیامت تک اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم توبہ کریں، جبکہ شیطان چاہتا ہے کہ ہم گمراہ اور بدبخت ہو جائیں۔ حدیث میں آتا ہے:

’’شیطان نے کہا: اے رب! تیرے عزت کی قسم! جب تک تیرے بندوں کے جسموں میں روح رہے گی، میں انہیں گمراہ کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: میری عزت وجلالت کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔‘‘

تو اے اللہ کے بندے! شیطان سے بچ کر رہو۔ اس کے خالق کی پناہ مانگو، اسی کا رخ کرو، وہ شیطان کو تم سے دور کرنے پر قادر ہے۔ ایک بزرگ نے اپنے طالب علم سے کہا: جب شیطان تمہیں گناہوں پر اکسائے تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں اس کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا: اگر اس نے دوبارہ اکسایا تو؟ اس نے کہا: اس سے پھر مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا: اگر پھر اکسایا تو؟ اس نے کہا: اس کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا: یوں تو معاملہ بہت لمبا ہو جائے گا۔ ذرا سوچو، اگر تم بکریوں کے ریوڑ کے پاس سے گزرو اور ان کا کتا تم پر بھونکنا شروع کر دے، تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں اس کا مقابلہ کروں گا اور جہاں تک ممکن ہو، اسے روکنے کی کوشش کروں گا۔ انہوں نے کہا: یوں تو بہت دیر لگ جائے گی، ایسا کرنا، بکریوں کے مالک سے کہنا، وہ اپنے کتے کو تم سے دور کر دے گا۔

اسلامی بھائیو! رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«كلُّ ابنِ آدمَ خطَّاءٌ، وخيرُ الخطَّائينَ التَّوَّابونَ»

’’سارے اولادِ آدم خطا کار ہیں۔ بہترین خطا کار وہ ہیں جو سب سے زیادہ توبہ کرنے والے ہیں‘‘

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ بندے سے غلطی ہو جائے، مگر حیرت والی بات یہ ہے کہ انسان گناہوں اور کوتاہیوں میں مسلسل لگا رہے، گمراہی کے راستے پر چلتا رہے اور ہدایت کے راستے سے دور رہے۔ خطرہ یہ نہیں ہے کہ انسان سے غلطی ہو جائے، مگر خطرے کی بات یہ ہے کہ انسان کو ہوش ہی نہ آئے اور وہ برائی کے بعد بھلائی کی طرف آئے ہی نہ۔

اے مسلمان بھائی! توبہ میں جلدی کرو، ہچکچانا چھوڑ دو، آج کل نہ کرو، اپنے پروردگار سے دور نہ ہو۔ اپنے مولیٰ سے تعلق نہ توڑو۔ اپنے نفس کو ایسا کبھی نہ کہنا: مجھ میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میں توبہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ باتیں شیطان تمہارے دل میں ڈالتا ہے۔ یہ اس کی چال ہوتی ہے۔

تو میرا پیغام ہے، ہر اس شخص کے لیے جسے شیطان نے پھسلا دیا ہے، جو رحمن کے راستے سے بھٹک گیا ہو، جس نے گناہوں سے اپنے آپ پر زیادتی کی ہو، جسے گناہوں نے بھاری کر دیا ہو، جو مایوسی کا شکار ہو گیا ہو، اللہ کی رحمت سے نا امید ہو گیا ہو، جس کی خواہش اس پر غالب آ گئی ہو، جس کا دل تاریک ہو چکا ہو، جس کا سینہ تنگ ہو گیا ہو، جو توبہ سے امید چھوڑ گیا ہو اور جس کا معاملہ مشکل میں پڑ گیا ہو۔ اس سب سے میں کہتا ہوں: یاد رکھو کہ تمہارا رب رحم فرمانے والا، معاف کرنے والا، درگزر کرنے والا اور قدردان ہے۔ جب تم اس کی طرف متوجہ ہو گے تو وہ بھی تمہاری طرف متوجہ ہو گا، چاہے تمہارا گناہ بہت بڑا کیوں نہ ہو اور تمہاری غلطی بہت سنگین کیوں نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے:

«إن الله -عز وجل- يَبسُطُ يدَه بالليل ليتوبَ مسيءُ النهار، ويَبسُطُ يدَه بالنهار ليتوبَ مسيءُ الليل، حتى تَطلُعَ الشمسُ من مغربها»

’’اللہ رات کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہ گار توبہ کر لے اور دن کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہ گار توبہ کر لے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک سورج مغرب سے نہیں نکل جاتا۔‘‘

تو اس کا رخ کرو جس کے عفو ودرگزر پر گناہ گاروں اور خطا کاروں نے اعتماد کیا اور وہ ان کے لیے کافی ہو گیا۔ اس کی کرم نوازی سے محسنوں امیدیں جوڑیں اور خالی ہاتھ نہ لوٹے۔ جسے سوالیوں نے پکارا تو ان کی پکار آسمانوں کے پردے عبور کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ وہ ماں سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ توبہ سے اتنا خوش ہوتا ہے جتنا مسافر اپنی گم شدہ سواری اور سامان پانے سے ہوتا ہے۔ کیا ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اس کا رخ کریں اور اس کی طرف رجوع کریں؟ حالانکہ ہم اس کی مغفرت کے محتاج ہیں، لمحہ بھر کے لیے بھی ہم اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ کیوں نہیں؟! اللہ کی قسم! ہمیں یہی زیب دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے گناہ ہمیں توبہ سے روکنے نہ پائیں۔ اپنے پروردگار کا رخ کرنے سے ہمیں ہماری غلطیاں نہ روکیں۔ تاکہ ہم گناہوں پر جمے نہ رہیں۔

اللہ کے بندو! درود وسلام بھیجو اللہ کے چنیدہ بندے، نبی اواب ﷺ پر۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورة الاحزاب: 56)

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ 0 وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الصَّافَّاتِ: 180-182)

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘

تبصرہ کریں