اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غلبہ کے اسباب۔شیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبدالعزیز السدیس

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اے میرے پروردگار! ہم تیری حمد کرتے ہیں، تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، تیری ہی بخشش کے خواہاں ہیں اور تجھ ہی سے توبہ کرتے ہیں۔ ساری خیر ہم تیری طرف ہی منسوب کرتے ہیں۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں کہ وہی تخلیق کی ابتدا کرنے اور اسے پھر سے زندہ کرنے والا ہے، اپنی مرضی کے کام کر گزرنے والا ہے۔ اس کے لیے بے انتہا شکر اور بے حد حساب حمد وثنا ہے۔ اس نے اپنے اولیاء کے ساتھ نصرت اور زمین میں غلبے کا وعدہ کیا ہے، بشرطیکہ وہ اسباب پر عمل کریں، اتحاد واتفاق پر قائم رہیں اور توحید پرستی اختیار کریں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی عرش مجید والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نبیوں میں سب سے زیادہ شرف والے اور اللہ کے بندوں میں سب سے اعلیٰ مقام والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

بعدازاں! اے اللہ کے بندو!

بات کے آغاز واختتام پر کی جانے والی بہترین نصیحت پرہیز گاری کی نصیحت ہے۔ ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو، بالخصوص مشکل اور تنگی کے دنوں میں، آزمائشوں اور سختیوں کے دنوں میں، کیونکہ پرہیز گاری سے تمام طرح کی مصیبتیں اور بے تابیاں دور ہو جاتی ہیں، نصرت اور کامرانی نصیب ہو جاتی ہے۔

﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾

’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا * اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 2۔3)

اے امت اسلام!

سانحوں اور سختیوں کے دنوں میں، مصیبتوں کے اوقات میں، اندھیرے راستوں سے گزرتے ہوئے، انسان کا جی چاہتا ہے کہ اسے کمزوری اور بے بسی سے خلاصی ملے، اسے عزت ونصرت کے اسباب مہیا ہوں، اس کی روح انتظار میں ہوتی ہے کہ آسانیوں بھری رحمتیں نازل ہوں، اور صبر دلانے والے جھونکے آئیں۔ معاملے کی سنگینی، سختی، ضرورت اور تاکید اس مشکل میں وقت بہت زیادہ ہو چکی ہے، تاریخ کے اس آگ بھرے دور میں کہ جب آزمائشوں نے امت کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، مشکلات نے پوری طرح سے اسے جکڑ لیا ہے۔

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

’’اللہ اپنے کام پر غلبہ رکھنے والا ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں ہے‘‘ (سورۃ یوسف: 21)

اے مؤمنو! اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کے اسباب وذرائع رکھے ہیں، کاموں کے مقاصد اور فوائد رکھے ہیں۔ اس سے اپنے بندوں کو اسباب اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے، تاکہ وہ بلند ترین مقاصد کو پانے میں کامیاب ہو سکیں، اور عزت ونصرت کو حاصل کر سکیں۔

اہل توحید وایمان کا فرض ہے کہ

جو طاقتور اور مہربان پروردگار کی مدد کے امید وار ہیں کہ وہ نصرت، عزت اور غلبے کے اسباب کو معلوم کریں، ہر وقت اور ہر زمانے میں انہیں اختیار کیے رہیں۔

اللہ کی اپنے مومن بندوں پر یہ مہربانی ہے کہ اس نے ان کی رہنمائی فرمائی اور انہیں ان اسباب کی راہ دکھائی۔ انہیں اپنی کتاب میں بیان فرمایا۔ سنت رسول کے ذریعے بھی ان کی وضاحت فرمائی۔

ان اسباب میں سے

اولین چیز عقیدۂ توحید اور اخلاصِ عبادت ہے۔

یہ اللہ کے عظیم ترین احکام ہیں۔ توحید اور عمل میں اخلاص نصرت کے عظیم اسباب ہیں۔

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ﴾

’’اور اُن کو اِس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر۔‘‘ (سورۃ البینہ: 5)

اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ جو دلیری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، یا اپنے قبیلے کی حمیت کے لیے لڑتا ہے، یا ریا کاری کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کس کو فی سبیل اللہ شمار کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قاتَل لتكونَ كلمةُ اللهِ هي العليا؛ فهو في سبيل الله»

’’جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے گا وہی فی سبیل اللہ ہے‘‘

اے صاحبانِ توفیق!

نصرت کا دوسرا اہم ذریعہ ایمان اور نیک عمل ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾

’’اور ہمارا فرض تھا کہ ہم صاحبانِ ایمان کی مدد کریں۔‘‘ (سورۃ الروم: 47)

بلند شان والا فرماتا ہے:

﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ﴾

’’یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔‘‘(سورۃ غافر: 51)

اسی طرح اللہ پاک کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا﴾

’’بیشک اللہ صاحبانِ ایمان کی طرف سے دفاع کرتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 38)

اللہ کے بندو!

تیسرا ذریعہ نصرتِ دین ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔‘‘ (سورۃ محمد: 7)

﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ * الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾

’’اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے، اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے * یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (سورۃ الحج: 40۔41)

تو نصرت کے عظیم ذرائع میں دین الٰہی کو قائم کرنا، اللہ کی طرف دعوت دینا، نیکی کی ترغیب دلانا، برائی سے روکنا، اور کمزور لوگوں کی مدد کرنا شامل ہے۔

پیارے بھائیو!

چوتھا ذریعہ اتحاد واتفاق ہے، کہ حق پر سب اکٹھے ہو جائیں، اور آپس کے جھگڑے اور اختلافات ختم کر لیں۔ تنازعہ ، تفرقہ بازی اور اختلافات کو چھوڑ دینا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 103)

اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾

’’تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔‘‘(سورۃ الانفال: 1)

تو امت کے لیے غلبے کا پہلا راستہ خوفِ خدا اور صلح کی موجودگی ہے۔

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ﴾

’’اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘(سورۃ الانفال: 46)

اہل علم بیان کرتے ہیں:

“أي: نصْركم وقُوَّتكم”.

’’یعنی: اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری نصرت اور طاقت جاتی رہے گی۔‘‘

مشرق ومغرب میں آباد مسلمانو!

نصرت کا پانچواں ذریعہ دشمنوں کے لیے مادی اور ذہنی تیاری کرنا ہے۔ اپنے دین، امت اور مقدسات کے دفاع کے لیے طاقت تیار کرنا ایک اہم شرعی مقصد ہے، اسلام قوت، عزت اور کرامت کا دین ہے، جس کی بنیاد کتابِ الٰہی ہے، جس سے انسان کو صحیح راہ ملتی ہے، اور اسلحے پر ہے جس کے ذریعے انسان کو فتح نصیب ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾

’’تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوفزدہ کر دو۔‘‘ (سورۃ الانفال: 60)

اے اصحابِ برکت!

پانچواں ذریعہ اللہ پر بھروسا ہے۔ اللہ عز وجل کا فرمان ہے:

﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾

’’اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 160)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾

’’اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 23)

تو زبردست اور طاقتور پر بھروسا کرنا نصرت اور غلبے کے عظیم شرعی اسباب میں شامل ہے۔

﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾ (سورۃ آل عمران: 126)

’’فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے۔‘‘

اے اصحابِ عزت وسربلندی!

چھٹا ذریعہ صبر اور ثابت قدمی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ﴾

’’ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 120)

اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

’’اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘ (سورۃ الانفال:45)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«واعلم أنَّ النصر مع الصبر، وأنَّ الفَرَجَ مع الكرب، وأنَّ مع العُسْر يسِرًّا»

’’یاد رکھو کہ نصرت صبر سے ملتی ہے، راحت مصیبت کے ساتھ ہی آتی ہے، اور تنگی کے ساتھ فراخی ہوتی ہے۔‘‘ (جامع ترمذی)

اے غیرت مند توحید پرستو!

ساتواں ذریعہ نماز قائم کرنا، کثرت سے ذکر کرنا، استغفار کرنا، دعا مانگنا، اللہ سے مدد مانگنا، اس پر بھروسا کرنا اور اس کی طرف لپکنا ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے:

﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ * فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ﴾

’’اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً نمازِ وسطیٰ، اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فر ماں بردار غلام کھڑ ے ہوتے ہیں * بدامنی کی حالت ہو، تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو اور جب امن میسر آجائے، تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو، جو اُس نے تمہیں سکھا دیا ہے، جس سے تم پہلے نا واقف تھے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 238۔239)

آٹھواں ذریعہ گمراہی، تکبر اور ریا کاروں کے رویے سے دوری ہے۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے، جو کہ اس امت کے منتخب لوگ تھے:

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ﴾

’’اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال: 47)

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے!

نواں ذریعہ ہے: دعا۔دعا، مقدس سرزمین میں موجود آپ کے بھائیوں کا حق ہے کہ ان کے لیے گریہ زاری کی جائے، دعا کی جائے، بار بار دعا کی جائے، عاجزی سے مانگا جائے، اس سے جلد آنے والی نصرت، ثابت قدمی اور غلبے کا سوال کرنا چاہیے۔

اے ایمانی بھائیو! اس بات کا خاص خیال رکھو! اس بات کا خاص خیال رکھو،اپنے کمزور بھائیوں کے حق میں دعا کرو، دعا کرو۔

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾

’’ تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا‘‘ (سورۃ غافر: 60)

اے غلبہ اور نصرت والی امت! یہ پورے دس ہیں۔

اے نیک اور معزز لوگو!

یہ چند اہم روشن پہلو اور اسباب ہیں، جن کے ذریعے واضح نصرت عزت اور غلبہ پایا جا سکتا ہے۔ انہیں اس موقع پر ہمتیں بڑھانے کے لیے بیان کیا گیا ہے، تاکہ بلندیوں تک پہنچنے کا حوصلہ پیدا ہو، مقدساتِ اسلام کی حرمت بچانے کے لیے تگ ودو کی جائے، مسجدِ اقصیٰ کا دفاع کیا جائے، جو کہ دو قبلوں میں اول اور رسول اللہ ﷺ کی جائے اسراء ہے۔ اللہ کی رحمتیں اور کامل سلامتی ہو آپ ﷺ پر۔ کیونکہ ان دنوں میں بلکہ ان خونی دنوں میں جن سے امت اسلامیہ آج گزر رہی ہے، بے ہنگم زیادتیاں جاری ہیں، بلکہ ایک تباہ کن سخت حملہ جاری ہے، وہ بھی پوری شور وشوخی، تکبر، خود پسندی اور شدید مکاری کے ساتھ بد ترین اندھی درندگی ہو رہی ہے، وہ بھی معصوم شہریوں، بچوں، بوڑھوں، بیماروں اور کمزوروں کے خلاف کہ جو نہ کوئی حیلہ کر سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی راستہ نظر آتا ہے۔ اس حملے کی سختی، شدت اور سنگینی کو ملکِ عزت، فسلطین میں ہمارے بھائی جھیل رہے ہیں۔ دشمنوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے، عوام اور اللہ کے بندوں کو ہلاک کر دیا ہے، وہ پوری بے غیرتی اور سخت دلی کے ساتھ، مہلک ترین میزائیلوں، بموں اور اسلحہ کو استعمال کرتے ہوئے۔ یہ انسانیت کا انتہائی برا سانحہ ہے۔

تو اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! رحم فرما! رحم فرما! اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین مدد گار ہے۔ بلند وعظیم اللہ کے بغیر ہمارے پاس نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کسی چیز سے بچنے کی قوت۔

اے فلسطینی بھائیو!

صبر کرو! صبر کرو۔ ثابت قدم رہو! ثابت قدم رہو۔ ہم سب پر امید ہیں، اچھی توقع رکھتے ہیں اور اچھے نتائج کے منتظر ہیں۔

﴿وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾

’’اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا۔‘‘(سورۃ الصافات: 173)

﴿أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! بیشک ﷲ کی مدد قریب ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 214)

بعدازاں! اے پیارو!

بھائی چارے کا مضبوط تعلق اور ہمارا شاندار عقیدہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم، فلسطین میں اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، تاکہ امن قائم ہو، اور کامیابی ملے، خون ریزی رکے، سکون کے دن آئیں، محاصرہ ختم ہو، تشدد اور جبری نقل مکانی ختم ہو، امدادی سامان اور انسانی مدد پہنچ سکے۔ اللہ کے حکم سے نصرت تو آنے ہی والی ہے۔

﴿فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾

’’اور ہمارا فرض تھا کہ ہم صاحبانِ ایمان کی مدد کریں۔‘‘ (سورۃ الروم: 47)

﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ﴾

’’یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا۔‘‘ (سورۃ یوسف: 110)

سنو! اللہ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ نصرت اور غلبے کے اسباب کو اپناؤ، تاکہ آپ کو کامیابی، عزت اور غلبہ نصیب ہو۔

میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے!

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن مبین سے اور سنت سید المرسلین ﷺ سے مستفید فرمائے۔ اللہ مسلمانوں کی مسجدِ اقصیٰ کو حاسدوں کی چالوں سے محفوظ فرمائے۔ زیادتی کرنے والوں کی زیادتی سے بچائے، شہداء کو بلند درجے عطا فرمائے۔ وہ خوب مولیٰ ہے، خوب مدد گار اور خوب نصرت کرنے والا ہے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو اہلِ تقویٰ کی مدد کرنے والا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد وثنا بیان کرتا ہوں جس کی کوئی انتہا یا آخر نہ ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے اپنے مومن بندوں کے لیے عزت اور غلبہ لکھا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، صبر کے ذریعے غلبہ حاصل کرنے والے صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اللہ کے بندو!

اللہ سے ڈرو! اللہ آپ پر رحم فرمائے! یقین جانوں کہ نصرت ثابت قدمی اور صبر کے ساتھ ملتی ہے، کامیابی اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔

ایمانی بھائیو! ان دنوں میں ایک چیز ایسی ہے کہ جسے دیکھ کر اہلِ ایمان کا سینہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ سرزمینِ حرمین کی قیادت اور عوام نے بہترین رویہ اختیار کیا ہے، جو کہ قائد اعلیٰ خادم حرمین شریفین، اور اس کے ولی عہد کی سرپرستی میں کیا گیا ہے، اللہ ان کی تائید فرمائے۔ انہوں نے فلسطین کے ہولناک حالات اور بد ترین احوال کو دیکھتے ہوئے ایک بڑی عوامی مہم کا آغاز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، جن کا مقصد غزہ میں اپنے بھائیوں کی مدد، بلکہ سارے فلسطین میں مسلمانون کی امداد، شہریوں کی مصیبت کم کرنا اور ہر وہ کام کرنا جس سے تکلیف دہ آزمائیشوں میں کمی آئے، جن کا سامنا غزہ کی پٹی میں رہنے والے اور دیگر لوگ کر رہے ہیں۔ اسی طرح عربی اور اسلامی کانفرنس بھی منعقد کی گئی، جو کہ غیر معمولی طور پر کامیاب رہی، اور جس نے اپنا دو ٹوک بیانیہ صادر کیا۔

یہ عزت بھرا اور بہترین موقف جو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اختیار کیا گیا ہے، یہ سعودی عرب کے تاریخی مواقف کا تسلسل ہی ہے، جو یہ پہلے دن سے اختیار کرتا چلا آیا ہے، ہر ہر موقع پر فلسطینی بھائیوں کی مدد کی جائے۔ اس لیے ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب ان کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ اس پر حمد اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ مہربانی ہم پر اسی کی ہے۔

اے مسلمانو! اخلاص، سچائی اور یقین کے ساتھ آمین کہو، تاکہ اللہ تعالیٰ نصرت، عزت اور غلبہ عطا فرمائے۔

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں! وہی ولی اور قابل تعریف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں! وہی عظیم وحلیم ہے، اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں! وہی آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے، وہی عرشِ کریم کا پروردگار ہے۔

اے ہمارے الٰہ!

تیری حمایت ہی مضبوط ترین ہے، تیرے نام ہی مقدس ترین ہیں، اے ہمارے الٰہ! معاملہ بہت سخت ہو چکا، مصیبت بہت بڑھ گئی، فلسطینی بھائیوں کا معاملہ بہت سنگین ہو چکا۔ اے اللہ! ان کی نصرت فرما۔ اے قوت وعز ت والے! جلد ان کی مدد فرما۔

اے اللہ! تو غزہ میں ہمارے کمزور بھائیوں کا سہارا بن جا۔

اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، آگے سے، پیچھے سے، دائیں جانب سے، بائیں جانب سے بائیں جانب سے، اور اوپر سے۔ نیچے سے آنے والے عذاب سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں۔

اے اللہ! رکوع کرنے والے بزرگوں پر رحم فرما! دودھ پیتے بچوں پر رحم فرما! ان پر سکینت نازل فرما۔ زیادتی کرنے والوں پر ان کی نصرت فرما! اے قوت اور عزت والے۔

اے بہترین مدد گار! اے مصیبت زدگان کی مصیبتیں دور فرمانے والے! اے لاچاروں کی دعا سننے والے۔

اے اللہ! وہ مظلوم ہیں، ان کی نصرت فرما۔

اے ہمارے الٰہ! تو انہیں کس کے حوالے کر رہا ہے؟ ہم ان کی کمزوری اور وسائل کی کمی کی شکایت تجھ سے کرتے ہیں۔ تو ان کا معین اور نصرت کرنے والا بن جا۔ ان کی تائید کرنے والا اور نگہبان بن جا۔

اے اللہ! مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما! اے اللہ! قیامت تک اسے عزت اور سربلندی عطا فرما۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے!

اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی اور سکون وچین نصیب فرما!

اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام، خادم حرمین شریفن کی تائید فرما۔

اے اللہ! اسے ہدایت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما! اس کے اعمال اپنی رضا کے مطابق بنا۔ اسے نیک کابینہ نصیب فرما، جو خیر کی نشاندہی کرے اور خیر کے کاموں میں اس کی معاونت کرے۔

اے اللہ! اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے اور جس میں اسلام اور مسلمانوں کا بھلا ہے۔

اے اللہ! جو ہمارے ملک کا برا چاہے، اسے خود ہی میں مصروف فرما دے، اے دعا سننے والے!اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اسی کی چال میں اسے ہلاک فرما دے۔

اے اللہ! ہمارے اور تمام اسلامی مالک کو برے لوگوں کی برائی سے اور چالبازوں کی چالوں سے اور دن رات کے ہیر پھیر سے محفوظ فرما!

اے اللہ! ہمیں چال بازوں کی چالیں، حاسدوں کے حسد، فریبیوں کے فریب، زیادتی کرنے والوں کی زیادتی ہم سے دور فرما۔

اے اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما، مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں دور فرما۔ قرض داروں کے قرض ادا فرما۔ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما!

اے اللہ! سرحدوں پر دن رات پہرہ دینے والے جوانوں کی مدد فرما! ہمارے امن کے محافظوں کو کامیاب فرما!

اے اللہ! ان کے شہیدوں کی شہادت قبول فرما! ان کے بیماروں کو شفا عطا فرما! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! انہیں صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان کے نشانے درست فرما! اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرما، اے قوت اور عزت والے!

اے اللہ! ہم پر بارشیں برسا! اے اللہ! ہم تیری حمد وثنا بیان کرتے ہیں کہ تو نے ہم پر بارشیں نازل فرمائی ہیں۔

اے اللہ! ہمیں مزید بارشوں سے نواز دے۔ اے اللہ! بارشک کو خیر وبرکت والا بنا، ملک اور قوم کے لیے مفید بنا۔

اے اللہ! ہمارے دلوں پر ایمان کی برکھا برسا اور ہمارے ملکوں پر پانی اور خیر کی برکھا برسا۔

اے اللہ! ہمارے بچوں اور بچیوں کو ہدایت اور نیکی عطا فرما، انہیں امتحانوں میں کامیاب فرما۔

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!‘‘ (سورۃ البقرہ: 201)

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾

’’اے اللہ! ہم سے قبول فرما! یقینًا! تو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 127)

﴿وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾

’’ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 128)

ہمیں اور ہمارے والدین کو بخش دے، اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو بخش دے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ یقینًا! تو سننے والا، قریب اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ آپ پر رحم فرما! درود وسلام بھیجو، جو کہ سارے جہانوں کے سردار ہیں، اہلِ اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہیں، آزمائشوں پر صبر کرنے والے ہیں، اللہ پر بھروسا کرنے والے ہیں اور اس کی رسی کو تھامے رکھنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمانِ کریم ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 56)

جامع ترمذی میں سیدنا ابی بن کعب سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا:

اے اللہ کے رسول! میں اپنی دعاؤں میں درود کا کتنا حصہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

“ما شئتَ”

’’جتنا چاہو۔‘‘

میں نے کہا: چوتھا حصہ رکھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

“ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ لكَ”

’’جتنا چاہو، اگر زیادہ کر لو تو تمہارے لیے ہی بہتر ہے‘‘

میں نے کہا: آدھا حصہ کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

“ما شئت، وإن زدت فهو خير”

’’جتنا چاہو، اگر زیادہ کر لو تو تمہارے لیے ہی بہتر ہے‘‘

میں نے کہا:

پھر میں درود ہی پڑھ لیا کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَنْ تُكفى همَّكَ، ويُغفَر لكَ ذَنبُكَ»

’’ایسا کرو گے تو تمہاری پریشانیاں ختم ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف ہو جائیں گے‘‘

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔

اے اللہ! برکتیں نازل فرما! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔

اے اللہ! اصحابِ ہدایت ائمہ خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، اور تمام صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کےنقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے راضی ہو جا۔

اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔‘‘ (سورۃ الصافات: 180۔182)

٭٭٭

عقیدۂ توحید کے اثرات و ثمرات

توحید کی بہ دولت موحدانسان جنت میں داخل ہو گا اور جہنم سے نجات پائے گاجیسا کہ سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ بندوں کا خدا پر یہ حق ہے کہ اگر وہ صرف خدا کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھیرائیں تو وہ انھیں دوزخ سے بچا کر جنت کا داخلہ عطا فرمائے۔

عقیدۂ توحید سے رب کریم کی تعظیم و اجلال کا احساس دل میں پیدا ہوتا ہے کیوں کہ اس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کمال و جلال سے روشناس ہوتا ہے اور اسے ہر نوع کی شبیہ و نظیر سے منزہ اور پاک قرار دیتا ہے۔

تصورِ توحید سے ان لوگوں کی جہالت و حماقت سے بھی آگاہی ہوتی ہے جو خدا کے سوا دوسروں کو اس کا ہم سر اور مد مقابل بناتے ہیں، نیز عبادت اور حکم و تشریع (قانون سازی) میں انھیں خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں۔

کچھ لوگ خدا کی بعض صفات میں خود اپنے آپ ہی کو اس کا ساجھی سمجھتے ہیں حالاں کہ نہ تو یہ خدا کے ساتھ خلق و تخلیق میں شریک تھے اور نہ کاینات کی ملکیت و رزق اور تدبیر و انتظام ہی میں ان کا کوئی حصہ ہے؛ عقیدۂ توحید سے ان کے تصوراتِ باطلہ بھی یک سر منہدم ہو جاتے ہیں۔

عقیدۂ توحید سے حریت ِفکر و نظر نصیب ہوتی ہے اور انسان مخلوق کی غلامی و بندگی سے نجات پاتا ہے۔

توحید کے نتیجے میں انسان دنیا و آخرت میں شجاعت و استقامت کی نعمت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ ایک شخص جو مختلف الاغراض آقائوں کی بندگی کرتااور انھیں پکارتا ہے، کسی سے ڈرتا اور کسی سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، یہ کسی طور اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جو اپنے رب کو تنہا و یکتا گردانتا ہے، اسی کا خوف رکھتا اور اسی سے امیدیں باندھتا ہے؛ وہ خدا وند عالم ہی کو اپنے قصد واردہ کا مرکز و محور قرار دیتا اور اسی کی عبادت بجا لاتا ہے۔

اے اللہ! اے اسلام اور مسلمانوں کے آقا! ہمیں اپنی توحید پر ثابت قدم رکھنا تا آں کہ ہم تجھ سے ملاقات کی سعادت حاصل کرلیں!

(ترجمانی: طاہر اسلام عسکری)

تبصرہ کریں