اللہ کی خاطر محبت اور فطری محبت۔ سيدحسين مدنی ، حيدرآباد

اللہ کی خاطر محبت سے مراد یہ ہے کہ کسی اور سے محبت کی وجہ اللہ سے محبت ہی ہو، مثال کے طور پر انبیاء، خلفاء، اولیا ء، صلحاء اور شہداء وغیرہ سے محبت اللہ کی خاطر ہونی چاہیے۔

اللہ کی خاطر محبت کا تعلق در اصل کمال ایمان۔

(الروح في الكلام على ارواح الأموات والأحياء بالدلائل من الكتاب والسنة لابن القيم فصل و الفرق بين الحب في الله)

اور اِتمام توحید سے ہے۔ ( القول المفيد علی شرح کتاب التوحيد باب تفسير التوحيد۔۔۔)

اگر کسی نے ایسی شے سے محبت کی جس سے اللہ نے کراہت کی ہو، یا ایسی چیز سے کراہت کی جس سے اللہ نے محبت کی ہو، تو اس کی توحید اور کلمے کی صداقت مکمل نہیں ہوئی، بلکہ اللہ کی پسندیده چیزوں سے کراہت اور ناپسندیدہ چیزوں سے محبت جس قدر ہوگی اسی قدر اس میں شرکتی پایا جاتا ہے۔ (المحبة في الله لأم الليث الأمعائش اس قول کو شتر مہ نے امام ابن رجب﷫ علی کی جانب منسوب کیا لیکن مجھے یہ قول ان کی کتابوں میں نہیں ملا۔)

امام ابن قیم﷫ نے فرمایا کہ

’’اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کے ساتھ (شرکیہ ) محبت کے درمیان فرق سے ہر کوئی واقف رہنا انتہائی ضروری ہے، کیوں کہ اللہ کی خاطر محبت کمال ایمان ہے، جب کہ اللہ کے ساتھ (شرکیہ ) محبت عین شرک ہے۔ ‘‘(الروح في الكلام على أرواح الأموات والأحياء بالدلائل من الكتاب والسنة لابن القيم فصل والفرق بين الحب في الله)

مزید فرمایا کہ

’’جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور سے محبت کی، جب کہ اس سے اس کی محبت اللہ کی خاطر ہے نہ کسی ایسے کام کے لیے ہے، جو اس کی اطاعت کے لیے مددگار ثابت ہو، تو ایسی صورت میں اسے قیامت سے پہلے دنیا ہی میں سزا دے دی جاتی ہے۔‘‘ (إغاثة اللفهان من مصايد الشيطان الباب السادس في أنه لا سعادقة)

اور روز قیامت ایسی (محبت یا ) جگری دوستی دشمنی میں تبدیل ہوجائے گی۔ ( سورة الزخرف:67)

اسی لیے اہل ایمان کو چاہیے کہ

« فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ ﷺ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ»

’’ نبی کریم ﷺ،سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر سے محبت رکھتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس محبت کی وجہ سے میں ان کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں نے ان جیسے عمل نہیں کیے۔‘‘ ( صحيح بخاری:3688)

بعض اہل علم نے کہا کہ ’’نبیﷺ اور بالخصوص سیدنا ابو بکر کے درمیان محبت اور انصار ومہاجرین کے درمیان محبت اللہ کی خاطر محبت کی سب سے اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔‘‘

(بعض اہل علم نے اللہ کی خاطر محبت کی کچھ علامتیں بیان کی ہیں:

1۔کسی کے احسان کی وجہ سے اضافہ نہ ہو اور کسی کی بے رخی کی وجہ سے کم نہ ہو

2۔ (جائز حدود میں) موافق رہے مخالف نہ رہے ۔

3۔ حسد نہ کر ے

4۔ اپنے لیے جو پسند کرے وہ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے ۔

5۔ اطاعت سے بڑھے اور معصیت سے گھٹے ۔ (المحبة في الله لأم الليث /لأم عائش مع)

بعض افراد کو شبہ ہوسکتا ہے کہ

محبت تو اللہ سے یا الله کی خاطر ہونی چاہیے، لیکن نبی کریمﷺ نے ابوطالب سے کس طرح محبت کی؟

اہل علم نے کہا کہ وہ محبت رشتہ داروں کے درمیان پائی جانے والی ایسی فطری محبت تھی جو ایمان سے نہیں ٹکراتی ہے، یا نبی ﷺ ابو طالب سے نہیں، بلکہ ان کے ہدایت یافتہ ہوجانے سے محبت کیا کرتے تھے، اسی لیے بار بار ان پرکلمہ توحید پیش کیا کرتے تھے۔

٭ اللہ کی خاطر محبت کے فوائد

علمائے اللہ کی خاطر محبت کے کچھ دنیوی و اخروی فائدے بیان کیے ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت لازماً حاصل ہوگی۔

2۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تکریم کرے گا۔

3۔ روز قیامت عرش کا سایہ نصیب ہوگا۔

4۔ ایمان کی مٹھاس ملے گی۔

5۔ ایمان مکمل ہوگا۔

6۔ جنت نصیب ہوگی۔

7۔ روز قیامت اللہ سے قریب ترین رہیں گے۔

8۔ روز قیامت نور اور موتیوں کے منبر دیے جائیں گے۔

9۔ روز قیامت ان پر انبیاء و شہدا رشک کریں گے۔

10۔ اللہ کی ولایت ملے گی۔

11۔ خوف وغم لاحق نہیں ہوگا۔ وغیرہ۔

(المحبة فى الله لأم الليث / لأم عائش، مع http:/www.saaid.net/minute/m54.htm)

٭فطری محبت

فطری، طبیعی، یا مباح محبت کی مثال جیسے والدین، اولاد، بیوی، کھانا، پانی، لباس، سواری اور گھر وغیرہ سے انسان فطرتاً محبت کرتا ہے۔ جس طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ

« حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ »

’’دنیا سے میرے نزدیک عورتیں اور خوشبو پسند یدہ بنا دی گئی ہے۔‘‘ ( سنن نسائی: 3939)

اور جب پوچھا گیا کہ

«أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ عَائِشَةُ فَقُلْتُ مِنْ الرِّجَالِ فَقَالَ أَبُوهَا» (صحيح بخاری: 3662)

تمام لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے محبوب کون ہے؟ تو فر مایا: عائشہ ( ) پھر دریافت کیا گیا کہ مردوں میں؟ تو فرمایا : ان کے والد (ابو بکر )۔

لیکن فطری محبت جائز ہونے کے لیے شرط ہے کہ وہ الله اور اس کے رسول سے محبت پر غالب نہ آئے ، ورنہ عذاب آنے کا اندیشہ لگارہتاہے۔ ( سورة التو بہ: 24 ؛ سورة المجادلہ : 22 ؛ سورة النور: 37 ؛ سورة المنافقون: 9؛ صحيح بخاری:6632)

علامہ ابن عثیمین﷫ نے فرمایاکہ

’’اگر کسی نے فطری محبت کے ساتھ ثواب کی نیت کی ا ن سے عبادات میں مدد لینے کی نیت کی تو فطری محبت بھی ایک عبادت بن جائے گی۔‘‘ (القول المفيد على كتاب التوحيد، باب قول الله ومن الناس…)

تبصرہ کریں