اللہ کے ساتھ شرک ۔ ترجمہ: محمد صدیق رضا

اللہ کے ساتھ شرک۔تحریر: امام ابن جوزی رحمہ اللہ ۔ترجمہ: محمدصدیق رضا

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ عالم اسلام کی ایک جلیل القدر شخصیت ہیں جن کے بارے میں علامہ ذہبیرحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“الشيخ، الإمام، العلامة، الحافظ المفسر، شيخ الإسلام، مفخر العراق.” (سیر اعلام النبلاء: 21؍ 365)

آپ کی بہت سی تصانیف عالم اسلام میں شائع و ذائع اور متداول ہیں، انہی میں ایک کتاب “تذکرة أولی البصائر فی معرفة الكبائر” ہے جس میں آپ نے کبیرہ گناہوں سے متعلق امت مسلمہ کو باخبر کیا اور ان کی قباحت وشناعت کو واضح کیا تاکہ لوگ ان سے اجتناب کی سعی وجہد کو بروئے کار لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا ورحمت کے مستحق بن جائیں۔ ان میں “الكبيرة الأولى” کے عنوان سے آپ نے دین اسلام میں سب سے بڑے گناہ شرک پر بحث فرمائی ہے۔ ہر شخص کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے سوائے امام کائنات فخرِ موجودات محمد ﷺ کے کہ آپ کی ہر بات وعمل سے اتفاق صرف ضروری ہی نہیں بلکہ شرطِ ایمان ہے۔ والله يوفقنا

اللہ عزوجل نے فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا﴾ (النساء: 48)

’’ یقیناً اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیاجائے اور اس کے علاوہ جو گناہ وہ چاہے بخش دے۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ (لقمان: 13)

’’یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ﴾ (المائدة: 72)

’’ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘

جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے پھر اس حال میں مرے کہ وہ مشرک ہو تو وہ قطعی جہنمیوں میں سے ہو گا، اگرچہ اس نے کتنے ہی نیک اعمال کیے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے متعلق خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا﴾ (الفرقان: 23)

’’اور ہم اس کی طرف آئیں گے، انہوں نے جو کوئی بھی عمل کیا ہو گا ہم اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔‘‘

پھر اس (مشرک) کا قتل بھی مباح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ﴾ (التوبہ: 5)

پس مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ انہیں قتل کر دو۔

[واضح رہے کہ یہ کام عوام نہیں بلکہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ دعوائے اسلام کے باوجود شرک میں مبتلا ہونے والوں کی اصلاح کی بھر پور کوشش کریں، رجوع نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف اسلامی احکام کے مطابق برتاؤ کریں، جس طرح سیدنا ابوبکرصدیق نے مانعین زکوٰۃ کے ساتھ جہاد کیا اس طرح ان کے ساتھ جہاد کریں۔ توحید کا مسئلہ بہرحال نماز وزکوٰۃ سے اہم ومقدم ہے۔ نیز محض کسی طبقہ یا گروہ سے تعلق ہی مجرم بنانے کے لیے کافی نہیں جب تک کہ فرد خاص سے جرم ثابت نہ ہو جائے، بلاشبہ بعض سنجیدہ اہل علم اور بکثرت عوام قبرپرستی کے شرک سے متنفر ومحفوظ ہیں، اس لیے محض کسی فرقے سے تعلق کی بنیاد پر انہیں اس جرم کے ساتھ متہم نہیں کیا جا سکتا مگر جو مبتلائے شرک ہیں ان کی روک تھام کے لیے تمام اسلامی احکام کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی ریاست کو اپنی ذمہ داری نبھانا از حد ضروری ہے۔ (محمد صدیق رضا)]

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ» (صحيح بخارى: 3017)

’’ جس کسی نے اپنا دین (اسلام) بدل دیا (یعنی اسلام کو چھوڑ کر کافر ہوا) اسے قتل کر دو۔‘‘

نبی کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا:

«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ اَلْإِشْرَاكُ بِاللهِ … إلخ»

’’ کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے متعلق نہ بتلاؤں؟ (پھر فرمایا: ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔۔۔۔ (صحیح بخاری: 2654)

اور نبیﷺ نے فرمایا:

«اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْـمُوْبِقَاتِ» (صحيح بخارى: 2766)

’’ سات (7) ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔۔۔ الخ‘‘

شرک کیا ہے؟

شرک یہ ہے کہ اللہ جل مجدہ کے لیے کوئی شریک بنانا یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ اس کے علاوہ کسی حجر، شجر، بشر یا چاند، سورج، ستارے یا کسی نبی ، جن یا فرشتے اور پیر وغیرہ کی عبادت کی جائے۔

قبر پرستی

دینِ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے بعض جہال اپنی جہالت کی بنا پر ان امور میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مشائخ میں سے کسی شیخ کی طرف منسوب ہیں، جیسے پیر احمد ابن الرفاعی (بانی سلسلۂ رفاعیہ) یا پیر یونس اور پیر عدی یا ان کے علاوہ کسی اور شیخ کی طرف خود کو منسوب کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان پیروں کے ذکر ومحبت میں وارفتہ رہتے ہیں، ان کی قبروں پر (مجاوری اختیار کرتے ہوئے) معتکف رہتے ہیں، انہیں چومتے اور سجدہ کرتے ہیں، ان مشائخ سے مشکل کشائی کی فریادیں کرتے ہیں، بخشش اور اپنی حاجات وضروریات پوری کرنے کی درخواست وعرضیاں پیش کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ قبر پرستی ہی بتوں کی پوجا میں مبتلا ہو جانے کی بنیاد بنی اور یہ قبر پرستی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔

لات وعزیٰ

جن کی مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ (انسان ومخلوق تھے۔)

امام  مجاہد رحمہ اللہ، ابو صالح رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما  نے ﴿أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ﴾ میں لات کو تشدید کے ساتھ پڑھا اور اس کے متعلق کہا: یہ نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ فوت ہوا تو مشرکین نے اس کی قبر پر اعتکاف کیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔

عزیٰ تو وہ ایک درخت (کو کہا جاتا ) تھا، رسول اللہﷺ نے سیدنا خالد بن الولید کو بھیجا تو انہوں نے اسے کاٹ ڈالا۔ ( مسند ابو یعلیٰ: 902، وسندہ حسن)

علماء نے یہ بھی بیان کیا کہ ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نیک لوگوں کے نام ہیں جو سیدنا آدم اور سیدنا نوح ﷧ کے درمیانی عرصہ کےلوگ تھے۔ امام محمد بن جریر الطبری اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ثوری نے موسیٰ سے اور انہوں نے محمد بن قیس سےنوح کے اس قول : ﴿وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ (نوح: 23) کے متعلق فرمایا:

یہ سیدنا نوح اور سیدنا آدم علیہما السلام کے درمیانی دور کے نیک لوگ تھے، ان کے کچھ پیروکار تھے، جو ان کی اقتدا کیا کرتے تھے، جب یہ فوت ہوئے تو ان کی پیروی کرنے والے لوگوں نے کہا: کیوں نہ ہم ان بزرگوں کی تصاویر بنا لیں، یہ طریقہ ہمیں عبادت کی طرف زیادہ شوق دلائے گا کہ جب بھی ہم انہیں یاد کریں گے پھر انہوں نے ان کی تصاویر بنا لیں جب یہ تصاویر بنانے والے فوت ہو گئے اور ان کے بعد والی نسلیں آئیں تو ابلیس نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی اور کہا کہ تمہارے یہ بڑے انہی کی عبادت کیا کرتے تھے۔ انہیں کے وسیلے سے بارش طلب کرتے تھے، پھر بعد والے ان کی عبادت کرنے لگے۔

قتادہ نے کہا: یہ آلہہ (معبود) ہیں کہ سیدنا نوح کی قوم جن کی عبادت کیا کرتی تھی پھر ان کے بعد عرب کے لوگوں نے بھی انہیں معبود بنا لیا، اس سے ظاہر ہوا کہ اولیاء وصالحین کی تصویروں کی (ناجائز) تعظیم ہی اوثان واصنام کی عبادت کی بنیاد بنی ہیں۔ اسی لیے شارع نے قبروں کی تعظیم، وہاں نماز پڑھنے اور ان پر اعتکاف کرنے سے منع فرمایا، چونکہ اسی چیز نے گزشتہ امتوں کو شرک اکبر میں مبتلا کر دیا۔

اور اسی سبب سے ہم بعض ایسی گمراہ قوموں کو پاتے ہیں جن پر شیطان غالب آ چکا ہے۔ وہ قبروں کے سامنے اور اپنے مشائخ کا تذکرہ سنتے وقت عاجزی وانکساری سے گڑ گڑاتے رہتے ہیں اور دل سے خشوع وخضوع کے ساتھ ان کی ایسی عبادت کرتے ہیں جیسی عبادت نہ مساجد میں کرتے ہیں نہ ہی سحری کے سنہری اوقات میں اور ان گمراہ لوگوں میں سے کچھ لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں، یہ طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے۔ ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ سے باسند صحیح یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

«اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَل قَبْرِي وَثَناً يُعْبَدُ، اشْتَدَ غَضَبُ الله عَلَى قوْمٍ اتخذوا قُبُور أَنبِيَائِهم مَسَاجِدَ»

’’اے اللہ! میری قبر کو ایسا نہ بنانا کہ زمین میں اس کی عبادت کی جائے، اللہ کا سخت غضب ہو اس قوم پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔‘‘ (مسند احمد: 2/ 246، حدیث: 7358؛ مسند حمیدی: 1025، نسخہ ظاہریرہ: 1031، وسندہ حسن)

(اس فرمان کے ذریعے سے) نبی ﷺ اپنی امت کو یہود ونصاریٰ کے طرزِ عمل سے ڈرا رہے تھے، جب (انبیاء ﷩ اور) آپ ﷺ کی قبر کو سجدہ کرنے پر اس قدر شدید وعید ہے تو ان کے علاوہ ان مشائخ کو سجدہ کرنے سے متعلق کیا گمان کیا جا سکتا ہے (یعنی اس کی وعید کس قدر سخت ہو گی؟)

نبی کریمﷺ نے قبروں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

«لا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلا تُصَلُّوا إِلَيْهَا» (صحيح مسلم: 972؛ مسند احمد: 4؍135)

’’ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔‘‘

اسی طرح اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے ان مشائخ سے فریادیں کرنا، ان کی قسمیں کھانا، ان کے تذکرے کے وقت رقت طاری کرنا جو کہ یہ لوگ ذکرِ الٰہی اورآیاتِ قرآنیہ سنتے وقت بھی نہیں کرتے تو یہ امور بھی ممنوع ہیں۔

جس کسی نے غیر اللہ سے (مافوق الاسباب طور پر) مدد طلب کی جیسا کہ یہ مشائخ کے عشق میں دیوانے (متوالے) لوگ کہا کرتے ہیں۔ یاسیدی یا شیخ فلان (یا غوث پاک المدد، یا معین الدین چشتی وغیرہ وغیرہ) تو اس نے یقیناً اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے غیر کو شریک ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (سورة البقرة: 22) ’’پس اللہ تعالیٰ کےشریک نہ بناؤ جبکہ تم جانتے ہو۔‘‘

“أنداد” یعنی شرکاء جن سے تم مدد طلب کرتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

« إذا سأَلتَ فاسألِ اللَّهَ ، وإذا استعَنتَ فاستَعِن باللَّهِ »

’’جب تو کچھ مانگے تو اللہ سے مانگ اور جب مدد طلب کرے تو اللہ سے مدد طلب کر۔‘‘

(جامع ترمذی: 2516، وقال هذا حديث حسن صحيح، وسنده حسن)

جب کسی نے غیر اللہ سے مغفرت طلب کی یا اپنی حاجت برلانے کی درخواست کی یا (مافوق الاسباب طور پر) مدد طلب کی اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، اسی طرح غیر اللہ کی قسم کھائی جیسے فلاں شیخ کی زندگی کی قسم، یا نبیﷺ ، کعبہ یا امانت کی قسم کھانا سخت منع ہے۔

سیدنا ابن عمر نے کسی شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا، تو فرمایا: ’’ غیر اللہ کی قسم مت کھاؤ، بے شک میں نےر سول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

« مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَشْرَكَ» (مسند احمد: 6072؛ جامع ترمذی:1535؛ مستدرک حاکم: 4؍297، امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا اور امام ذہبی﷫ نے ان کی موافقت کی ہے۔)

’’جس کسی نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر وشرک کیا۔‘‘

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«مَن حَلَف بالأمانةِ فليس مِنَّا » (سنن ابو داؤد: 3253؛ وسندہ صحیح، ابن حبان: 4362؛ مسند احمد: 22980)

’’جس کسی نے امانت کی قسم کھائی وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘

نسائی نے قبیلہ جہینہ کی ایک خاتون قتیلہ ( ) کی سند سے بیان کیا کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک یہودی حاضر ہوا اور کہا: آپ (کی قوم کے) لوگ شرک کرتے ہیں (جب یہ) کہتے ہیں کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو اور کہتے ہیں کہ کعبہ کی قسم، تو نبیﷺ نے انہیں (صحابہ کو) حکم دیا کہ جب وہ قسم کا ارادہ کریں تو یوں کہیں: ربِ کعبہ کی قسم اور یہ کہیں کہ جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں۔‘‘ (سنن نسائی: 3804، وسندہ صحیح)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: «(إِنّ) الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتَّوَلَةَ شِركٌ» (سنن ابی داؤد: 3883، وسندہ ضعیف / الاعمش مدلس وعنعن)

تِوَله: جادو کی ایک قسم ہے جو شوہر کے دل میں بیوی کی محبت پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

تمائم: تمیمہ کی جمع ہےیہ وہ منکا ہے جو بچے کے گلے میں اس زعم سے لٹکاتے ہیں کہ یہ نظرِ بد کو ٹالتا ہے۔ (یہ زعم باطل ہے۔)

اسی طرح اعمال میں ریا کاری، نیک عمل کا مقصد لوگوں کو دکھلانا یا یہ مقصود ہو کہ اس کے متعلق یہ کہا جائے: نیک آدمی ہے یا بڑا دیندار ہے اور اس کی تعریفیں کی جائیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ (سورة الكهف: 110)

’’ آپ کہہ دیجیے کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں مجھ پر وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ تو بس ایک الٰہ ہے، پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کا یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اپنے رب کی عبات میں کسی ایک کو بھی شریک نہ کرے۔‘‘

تو لوگوں کو دکھلانے کے لیے اعمالِ صالحہ کرنا شرک اصغر ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ «أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنْ الشِّرْكِ فَمَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِيْ غَيْرِي فَهُوَ لِلَّذِيْ أَشْرَكَ، وَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ» (صحيح مسلم: 2985؛ مسند احمد: 7999؛ سنن ابن ماجہ: 4302)

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمام شریک ٹھہرانے والوں کے شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جو کوئی ایسا عمل کرے کہ اس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائے تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘

اور صحیح مسلم میں ایسے تین لوگوں کے بارے میں حدیث ہے کہ جو اللہ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جہنم میں ڈالے جائیں گے، قرآن کا قاری، مجاہد اورسخی، اس لیے کہ ان کی قراءت، جہاد اور سخاوت لوگوں کو دکھلانے کے لیے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر اس شرک سے محفوظ رکھے کہ جسے ہم جانتے ہیں اورجسے ہم نہیں جانتے، اس کے لیے ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، یقیناً وہ اللہ سخی کریم ہے۔ (الکبیرۃ الاولیٰ ختم ہوا۔)

تبصرہ کریں