اللہ کے ساتھ حسن ظن ۔ شیخ ابو کلیم فیضی

 عَنْ جَابِر بْنِ عبدِ اللَّه، رضي اللَّه عنهما، أَنَّهُ سَمعَ النَبِيَّ ﷺ ، قَبْلَ موْتِهِ بثلاثَةِ أَيَّامٍ يقولُ: «لاَ يَمُوتَنّ أَحَدُكُم إِلاَّ وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ باللَّه عزَّ وَجَلَّ»(صحيح مسلم: 2877)

ترجمہ:’’ حضرت جابر بن عبد اللہ ﷠ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے تین دن قبل یہ فرماتے ہوئے سنا، تم میں سے کسی شخص کو ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔‘‘

تشریح: اللہ تبارک وتعالیٰ ہی اس دنیا کا خالق ومربی ہے، وہ تمام مخلوقات کی ہر قسم کی ضروریات پوری کرتا ہے، وہی گناہوں سے تجاوز فرماتا اور توبہ قبول کرتا ہے، اسی کا فرمان ہے کہ میں بندوں کی دعا قبول کرتا ہوں، اسی کا فرمان ہے کہ

﴿ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾

’میری جانب سے‘ کہہ دو: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، یقین مانو اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی بخشش اور بڑی رحمت والا ہے۔‘‘ حتیٰ کہ اگر یہ کہا جائے تو صد فیصد صحیح ہو گا کہ وہ اپنے بندوں پر ان کی ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے، چنانچہ ایک بار نبیﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے جن میں ایک بچے والی عورت تھی جس کا بچہ اس سے بچھڑ گیا تھا  وہ قیدیوں میں جس بچے کو بھی پاتی اسے اپنے سینے سے چمٹا کر اپنی چھاتی سے لگا لیتی اور دودھ پلانا شروع کر دیتی، یہ دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟ ‘‘ صحابہ کرام﷢ نے جواب دیا کہ اگر اس کے بس میں ہو گا تو وہ کبھی بھی اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالے گی، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ یقین مانو، اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ  مہربان ہے، جتنا یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

پس جو اللہ اس قدر  مہربان ہو اس کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہونا کسی مسلمان کا عمل نہیں  بلکہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن اور اچھا گمان رکھے اور یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کےساتھ رحمت واحسان کا معاملہ کرے گا، دنیا اور آخرت میں اسےاچھا بدلہ دے گا، اللہ تعالیٰ اسے کبھی بھی ضائع وبرباد نہیں کرے گا، گویا ہر حال میں بندے کو  اللہ تعالیٰ سے  اچھی اور اچھے کی اُمید رکھنی چاہیے، نبی کریمﷺ اپنی زندگی میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حُسن ظن کی تلقین کیا کرتے تھے اور فرماتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کروں گا جیسا وہ  میرے بارے میں گمان رکھے گا اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔

(صحیح بخاری ، صحیح مسلم بروایت سیدنا ابو ہریرہ﷜)

حتیٰ کہ اپنی وفات کے وقت جن اہم باتوں کی  مسلمانوں کو وصیت کی اس میں سے ایک وصیت یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھنا۔

زیرِ بحث میں حدیث میں نبی کریمﷺ کی اس وصیت کا ذکر ہے کہ بندے کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اچھی اُمید رکھنی چاہیے، خواہ اپنی ذات سے متعلق ہو،  کسی  مسلمان سے متعلق ہو یا مسلمان قوم واسلام سے متعلق ہو،  خاص کر اگر کسی مسلمان کی موت کا وقت ہے تو اسے اللہ تعالیٰ سے عفو ورحمت اور مغفرت وبخشش کی خصوصی امید رکھنی چاہیے  لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ بندہ عمل نہ کرے، طاعت وعبادت سے کنارہ  کش رہے، نافرمانی پر نافرمانی کرتا جائے اور پھر اُمید رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کے  ساتھ اچھا سلوک کرے گا یہ حسن ظن نہیں  بلکہ حماقت وبچکانہ حرکت ہے، یاد رکھیں کہ ’’جس طرح بغیر ہل چلائے اور بیج بوئے فصل کی پیداوار کی امید رکھنا حماقت ہے اسی طرح اعمال صالحہ کے بغیر اللہ تعالیٰ سے اچھی امید وابستہ کرنا بھی نادانی ہے۔‘‘ بلکہ حتی الامکان اللہ تعالیٰ  کے حقوق کی ادائیگی کے بعد حسن ظن رکھنا ہی اصل ایمان ہے۔

حسن ظن کے مقام: لہٰذا ہر مسلمان کو توجہ دینی چاہیے کہ حسن ظن کا موقع ومحل کیا ہے۔

1۔ اللہ تعالیٰ دعا  قبول فرمائے گا:

اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ بندے کی دعا قبول کرتا ہے، لہٰذا دعا کے آداب شرائط کے ساتھ جو دعا کی جائے اس کے قبولیت کی پوری  امید رکھنا یہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن ہے۔

2۔ عبادت واعمال صالحہ کی قبولیت

اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک اعمال قبول کرتا اور انہیں اس کا اچھا صلہ دیتا ہے، لہٰذا اگر کوئی بندہ کوئی بھی نیک عمل کرتا ہے یا کوئی عبادت بجا لاتا ہے تو اس کی قبولیت کی پوری امید رکھنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن ہے۔

3۔ توبہ کی قبولیت

ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے اور بسااوقات بڑی بھیانک غلطی ہوتی ہے لیکن اس کے رب غفور نے تمام غلطیوں کی معافی کا وعدہ دیا ہے لہٰذا گناہوں کے بعد توبہ واستغفار کرنا اور پھر معافی کی امید رکھنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن ہے: ﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾

’’کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘

4۔ موت کے وقت

اپنی زندگی کے آخر ی مراحل میں مؤمن کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اب جبکہ ہم اس دنیا سے جا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے پوری اُمید ہے کہ جسطرح اس نے دنیا میں میرے گناہوں پر میری گرفت نہیں کی اور میرےعیوب پر پردہ ڈالتا رہا ہے، اسی طرح موت کے بعد بھی وہ میرے ساتھ خیر ہی برتاؤ کرے گا، ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی پر نظر رکھنا اس کےساتھ حسن ظن ہے۔

5۔ مصائب وشدائد کے وقت

انسان پر خواہ کتنے ہی مشکل وقت آئیں، وہ خواہ کتنی ہی بڑی مصیبت میں مبتلا ہو لیکن اسے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ یہ حالت اس کے لیے بہتر ہے اور ایک نہ ایک دن ہمارا  رحیم وکریم ہمیں اس سے نجات دے گا، یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں