العلاء کا سربراہی اجلاس، امید کی روشن کرن۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع تاریخی شہر ’العلا‘ میں گزشتہ دنوں سعودی عرب کی سربراہی میں خلیجی تعاون کونسل کا 41 واں غیرمعمولی نوعیت کا ایک اہم اِجلاس انعقاد پذیر ہوا، جس میں تمام رکن ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ اجلاس اِنتہائی اہمیت کا حامل بھی تھا اور اس کو ایک تاریخی اجلاس بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں دیگر کئی اہم اُمور پر فیصلوں کے علاوہ برادر ملک قطر کے ساتھ پچھلے تین سال سے جاری تناؤ کو ختم کرنے کی غرض سے تمام تراختلافات کو ماضی کا حصہ بنا کر ایک نئے عزم اور عہد کے ساتھ خطہ کے امن واستحکام اور مسلم یکجہتی کو مضبوط بنانے کے ایک نئے عزم کے ساتھ  کونسل کے تمام رُکن ملکوں خصوصاً سعودی عرب اور قطر کے درمیان تمام تر سفارتی، تجارتی اور دیگر نوعیت کے تعلقات کی بحالی کے فیصلے کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

ویسے بھی سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان بن عبد العزیز کا ’العلا‘ ایئرپورٹ پر بنفس نفیس انتہائی گرم جوشی سے امیر قطر سے معانقہ کرتے ہوئے پر جوش استقبال کرنا سعودی عرب اور قطر کے درمیان مصالحت کا نقطۂ آغاز تھا۔

اس عظیم پیش رفت کو عالمِ اسلام سمیت دنیا کے کئی اَہم ترین ملکوں نے سراہا اور اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ساری اُمت خصوصاً خلیجی ممالک سمیت مشرق وسطیٰ کاسارا علاقہ انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اُمت مسلمہ کی مجموعی پستی اور بدحالی  سب پر عیاں ہے۔ عالمی سطح پر اُمت کو ایک مرد بیمار کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں اپنے طویل خفیہ ایجنڈے کو پوری ہوشیاری اور عیاری کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہی ہیں، حالات کی سنگینی اس درجہ پر پہنچ چکی ہے کہ مظلوم کو مجرم قرار دیا جا رہا ہے اور ظالم اپنی مظلومیت کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں۔

وہی ذبح بھی کرے  ہے وہی لے ثواب الٹا

دوسری جانب احساس زیاں سے محروم یہ اُمت مختلف اکائیوں میں بٹ چکی ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے، تحفظات اور مصلحت پسندی کے نام پر مفاد پرستی عروج پر ہے۔ اَبتری کا یہ عالم ہے کہ کچھ بدبخت عناصر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دشمنان اسلام کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں مختلف پلیٹ فارمز پر اُمت کے درمیان اتحاد ویکجہتی ناگزیر ہے، جس کے ذریعہ مشترکہ مفادات اور مقاصد کی تکمیل ممکن ہو سکتی ہے۔ نیز اُمت کے گرد منڈلانے والے فتنوں کا سدباب بھی اسی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ مشروط ہے۔

ان حالات میں خلیجی تعاون کونسل کے درمیان اتحاد و یکجہتی اور تعلقات کی بحالی  ایک محفوظ اور پُرامن مستقبل کےلیے جان فزا نوید ہے۔

نیز خلیجی تعاون کونسل اور خصوصاً سعودی حکومت کا یہ جرأت مندانہ اقدام، ان تمام موقع پرست اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکامی سےدوچار کر سکتا ہے جو خلیجی ملکوں کے درمیان فتنوں کو ہوا دے کر اپنے مذموم مذہبی اور سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے  میں کوشاں ہیں اور یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ خلیجی ممالک کے تمام سربراہوں کو ان تمام خطرات کی ہولناکی  کا مکمل ادراک حاصل ہے۔ چنانچہ مصالحت کے اس فیصلہ کے ذریعہ ان بدنیت عناصر کو کھلے الفاظ میں یہ پیغام دیا جا چکا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے کسی ایک رکن ملک کی جانب بری نگاہ ڈالنے والوں اور اس کے امن وسلامتی کے درپے ہونے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ کونسل کے نزدیک اس قسم کا اقدام  خلیجی تعاون کونسل کے تمام ممالک کے خلاف تصور کیا جائے گا۔کیونکہ تمام رکن ممالک اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ہر قسم کے بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

اس وقت شام، یمن اور لیبیا کی نازک صورتحال سب پر عیاں ہے۔ اس کے پس پردہ وہ کونسے خفیہ ہاتھ ہیں جو جنگ کی آگ کو مسلسل ہوا دے کر خلیجی ممالک تک رسائی پا نا چاہتے ہیں،یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں۔ امت کے بدخواہ ان عناصر کا مقصد دولت سے مالا مال خلیجی ممالک کو مذہبی، سیاسی اور معاشی طور کمزور کرنا ہے۔ خصوصاً سعودی عرب ان کے نشانے پر ہے۔ جس کو الحمد للہ سارے عالم اسلام میں امت کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی مقدس سرزمین پر حرمین شریفین کی موجودگی کی وجہ سے بے شک سعودی عرب اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ  کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی بقا میں عقیدۂ توحید کی بقا مضمر ہے۔ چنانچہ دین توحید  کی حفاظت کو سعودی عرب اور اس کی حکومت نے ہر دور میں اپنی اعلیٰ ترجیحات میں شامل رکھا ہے اور جہاں سعودی حکومت مقامات مقدسہ حرمین شریفین کی آباد کاری میں کئی بلین ڈالرز ہر سال بے دریغ خرچ کر کے ان کی عمارتوں کو انتہائی شان دار  بنانے اور ان کو دورِجدید کی تمام سہولتوں سے آراستہ کرنے میں کوشاں ہے،  وہی عمرےاور حج بیت اللہ کی غرض سے سعودی عرب  کا قصد کرنے والے زائر مسلمانوں کو  اعلیٰ ترین درجہ کی سہولتیں مہیا کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہتی ہے۔

حرمین شریفین کی خدمات کے  علاوہ ساری دنیا  میں دین توحید کی اشاعت، اس کی سربلندی کی غرض سے ہزاروں مساجد، دینی مدارس، اسلامی مراکز کی تعمیر اور ان کا قیام سعودی حکومت کی دین اسلام کے ساتھ گہری وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

الغرض سعودی عرب کی دینی، ملی اور علمی اپنی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ چند صفحات میں اس کو سمیٹنا ناممکن ہے اور یہی چیز دین توحید کی مخالف قوتوں کو کسی بھی شکل میں منظور نہیں۔ اسی لیے  آج بھی بعض عناصر منظم منصوبہ بندی کے تحت سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈا کر کے اُمت کو مختلف ٹکڑیوں میں بانٹنے کے درپے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب ہمیشہ اُمت کو مشترکہ مقاصد کے تحت ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے ان میں اتحاد، یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

رابطۃ العالم اسلامی مکۃ المکرمہ اور 58 اسلامی ممالک پر مشتمل تنظیم او آئی سی OIC کہ جس کا ہیڈ کواٹر جدہ میں ہے۔ جس کا نمائندہ  وفد اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹر میں  موجود رہتا ہے، سعودی عرب کی اتحاد امت میں خدمات کا واضح ثبوت ہے۔

اتحاد اُمت کی انہیں مساعی میں ’العلا‘ کا یہ اجلاس ہے جو شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظه الله کی سربراہی میں منعقد کیا گیا۔ یقیناً اس اجلاس میں منظور شدہ فیصلے شدید مایوسی کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں اُمید کی کرن بن کر اُبھر رہے ہیں۔ ان کے دیر پا مفید اثرات نہ صرف خلیجی ممالک کے محفوظ مستقبل کی ضمانت دے رہے ہیں بلکہ یمن، لیبیا، عراق، لبنان اور شام میں جاری خون ریزی پر قابو پانےمیں یہ فیصلے اہم کردار ادا کریں گے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں