آئینۂ حيات حافظ صلاح الدين يوسف۔ شیرخان جمیل احمد عمری

نام : حافظ صلاح الدين يوسف

( آپ کے والد محترم نے اپنے استاد محترم محمد یوسف جے پوری مصنف “حقیقة الفقه” کے نام پر آپ کا نام یوسف رکھا تھا۔ لیکن حافظ صاحب نے بعد میں اپنی طرف سے صلاح الدین کا اضافہ کرکے اپنا نام صلاح الدین یوسف کرلیا تھا۔ پھر اسی نام سے آپ مشہور ہوئے۔

والد کا نام: حافظ عبدالشکور بن عبد الرزاق بن محمد اعظم

تاریخ پیدائش : اگست 1945

جائے پیدائش : جے پور ، راجھستان، انڈیا

ہجرت

1947 میں تقسیم ہند کے بعد چونکہ جے پور ایک پر امن علاقہ تھا۔ اس علاقہ میں تقسیم ہند سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کبھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ اس وجہ سے حافظ صاحب کے والد محترم نے جے پور انڈیا ہی میں قیام کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن حافظ صاحب کے بڑے بھائی محمد ایوب صاحب اپنے دوستوں سمیت پاکستان چلے گئے تھے۔ 1949م میں وہ وہاں سخت بیمار پڑگئے۔ اس کی اطلاع پاکر حافظ صاحب کے والد بزرگوار نے اہل خانہ کو جس میں حافظ صاحب بھی شامل تھے عیادت اور دیکھ بھال کے لئے براستہ کھوکھرا پار پاکستان بھیجا۔ کچھ عرصہ بعد آپ خود بھی پاکستان آگئے۔ پھر پاکستان ہی میں قیام کا فیصلہ کرلیا۔ حافظ صاحب پہلے کچھ عرصہ والدین کے ساتھ حیدرآباد سندھ میں مقیم رہے۔ پھر کراچی منتقل ہوکر وہاں کی بودوباش اختیار کرلی۔ حافظ صاحب کے چھ چچا تایا تھے۔ جن میں سے صرف ایک چچا جناب عبدالغنی مرحوم نے پاکستان ہجرت کی تھی بقیہ پانچ لوگوں نے اپنے اہل وعیال سمیت جے پور ہی میں رہنا پسند فرمایا۔ یہ حضرات آج بھی مع اہل وعیال جے پور میں مقیم ہیں۔

تعليم

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار ہی سے حاصل کی۔”دستورالمتقی” اردو کا کچھ حصہ ان سے سبقاً سبقاً پڑھا۔

کراچی منتقلی کے بعد بوہرہ پیر کی مسجد رحمانیہ میں قاری عبیدالله بلتستانی سے عربی قاعدہ پڑھا۔ پھر جامع العلوم سعودیہ، آسن مل اوجھا روڈ میں داخلہ لے کر قاری محمد بشیر صاحب سے ناظرہ قرآن مکمل کیا۔

حفظ قرآن مجید

قاری عبیداللہ بلتستانی صاحب کی ترغیب دلانے پر قاری اشفاق صاحب سے مسجد رحمانیہ ہی میں ایک سال کے اندر اندر قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا۔

درس نظامی

جامع العلوم سعودیہ کراچی ( بعد میں یہ مدرسہ سفید مسجد سولجر بازار منتقل ہوکر ’’دارالحدیث رحمانیہ‘‘ کے نئے نام پر موسوم ہوکر مشہور ہوگیا۔ چونکہ سفید مسجد کے بانی ومنتظم شیخ عبدالوہاب صاحب تھے جو دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے مہتمم شیخ عطاءالرحمن صاحب کے خلف الرشید تھے اسی لئے اس مدرسہ کا نام بھی آپ نے دار الحدیث رحمانیہ رکھ دیا تھا۔

حافظ صاحب نے یہاں دوسال درس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اس وقت مدرسہ کے صدر مدرس مولانا حاکم علی تھے۔ جو علم منقول(قرآن وحدیث)  اور علم معقول(منطق،فلسفہ وغیرہ) میں ید طولی رکھتے تھے۔ حافظ صاحب نے ان کی علمی مہارت سے بھرپور استفادہ کیا۔

دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور،  المعروف غزنویہ شیش محل روڈ لاہور

اس مدرسہ کے مہتمم مولانا داؤد غزنوی رحمہ اللہ تھے۔ کراچی سے لاہور آکر حافظ صاحب نے اس مدرسہ سے درس نظامی کا کورس مکمل کیا اور 1964م  میں یہاں سے سند فراغت حاصل کی۔

جامعہ مدنیہ لاہور

پھر آپ نے جامعہ مدنیہ لاہور میں داخلہ لے کر فلسفہ، منطق، بلاغت کے علاوہ حنفی فقہ کی کتب ھدایہ وغیرہ پڑھ کر اپنی معلومات میں مزید اضافہ کیا۔

آپ کے بعض مشہور اساتذہ

حافظ عبدالشکور صاحب (والد)

قاری عبیداللہ بلتستانی صاحب

قاری محمد بشیر تبتی صاحب

قاری اشفاق صاحب

مولانا حاکم علی صاحب

مولانا عبدالرشيد ندوى لداخى (بلتستانی) صاحب

مولانا داؤد غزنوی صاحب

مولانا حافظ محمد اسحاق صاحب

مولانا عبدالرشید گولڑوی صاحب

مولانا عبدالرشید مجاہد آبادی صاحب

مفتی عبدالحمید صاحب

مولانا ظہورالحق صاحب

نوٹ: جس شخصیت کی سرپرستی، صحبت، علم، مکتبہ، تنظیم، مشوروں اور ان کے ادارہ “المکتبة السلفية” سے بھرپور استفادہ کیا وه حضرت مولانا محمد عطاءالله حنيف بھوجیانی رحمہ اللہ تهے۔ حافظ صاحب نے مولانا سے سبقاً سبقاً کوئی کتاب تو نہیں پڑھی تھی لیکن پندرہ سولہ سال کی علمی سرپرستی اور صحبت نے آپ کو کافی بنایا، سنوارا اور تراشا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حافظ صاحب کی شخصیت پر حضرت الشیخ بھوجیانی رحمہ اللہ کے کافی اثرات اور چھاپ تھی۔

آخری تعليمى سال (1965م ) کے تین اہم مقالے

1۔  ميں بھی حاظر تھا وہاں ضبط سخن کر نہ سکا

( جنرل ایوب کے زمانہ میں یہ جشن میلاد کے رد پر مقالہ تھا جو ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں 6اگست 1965م میں شائع ہوا۔)

2۔ پاکستانی صحافت جو پیرہن اس کا ہے وہ مذھب کا کفن

( یہ مضمون آپ نے قومی صحافت کی بے راہ روی کے خلاف لکھا تھا جو 1965م میں ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں شائع ہوا۔)

3۔ خوگر حمد سے تھوڑا گلہ بھی تو سن لے

( تجلی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید کی حمایت ومدافعت میں سلسلہ وار شائع ہونے والے مضامین کے ضمن میں یہ مقالہ لکھا تھا۔ جو 1995م ہی میں ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں دو قسطوں میں شائع ہوا۔)

برصغیر کی جن شخصیات کو آپ نے زیادہ پڑھا

مولانا ابوالکلام آزاد

قاضى سلمان منصور پوری

مولانا ثناءالله امرتسرى

مولانا شبلی نعمانی

سید سلیمان ندوی

مولانا نعیم صدیقی

مولانا اسماعیل سلفی

مولانا مودودى

جناب منظور حسین عرف ماہر القادری

جناب شورش کاشمیری رحمہ اللہ

حافظ صاحب کی پہلی تصنیف

خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت

1965م میں مولانا مودودی کے ماہوار رسالے ’’ترجمان القرآن‘‘  لاہور میں ایک مضمون قسطوار شائع ہوا جو بعد میں ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں منظر عام پر آیا۔ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے 1965م ہی میں 20 قسطوں میں اس کا رد لکھا۔ جو ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں شائع ہوگیا تھا۔ مولانا مودودی کے مضامین جب کتابی شکل اختیار کرکے منظر عام پر آگئے تو حافظ صاحب کے ذھن میں یہ خیال آیا کہ ان کے مضامین بھی کتابی شکل میں شائع ہوں۔ آپ نے جب اپنی لکھی ہوئی قسطوں کا جائزہ لیا تو کافی تشنگی محسوس ہوئی چنانچہ ایک نیا خاکہ بنایا اور اپنے شیخ مولانا محمد حنیف بھوجیانی کے مشورہ اور ان کے مکتبہ سے استفادہ کرتے ہوئے از سر نو مولانا مودودی کی کتاب کا رد لکھا۔ اور اپنے شیخ مولانا محمد حنیف کی نظر ثانی کے بعد اس کو کتابی شکل میں بنام ’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ شائع کروایا۔ اس وقت حافظ صاحب کی عمر محض 22 سال تھی۔ یہ 1966م کا واقعہ ہے۔

تدريسى خدمات

حافظ صاحب اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مسجد ومدرسہ دارالعلوم محمدیہ مدنی روڈ، دھرم پورہ (مصطفی آباد) لاہور سے منسلک ہوگئے۔ جہاں امامت و خطابت کے ساتھ ترجمہ قرآن و تفسیر کی کلاس کے علاوہ درس نظامی کی بعض کتب بھی پڑھاتے رہے۔

درس نظامی کى تدریس کا یہ سلسلہ مختصر وقفہ تک جاری رہ کر دیگر مصروفیات کی وجہ سے بند ہوگیا۔

دھرم پورہ، مدنی روڈ لاہور کی جامع مسجد میں بعد نماز فجر درس قرآن اور بعد نماز عشاء درس حدیث دیتے رہے۔ اسی مسجد میں 1988م سے تادم واپسیں خطبہ جمعہ دیتے رہے۔ نیز اسی طرح دیگر مساجد اور  مدارس میں بھی آپ کے دعوتی خطابات ہوتے رہے۔

جرائد ومجلات کی ادارت

1۔  ہفت روزہ الاعتصام لاہور: حافظ صاحب نے 23 سال (1970۔1993) ادارت کے فرائض انجام دئیے۔ (اس 23 سالہ مدت میں آپ نے الاعتصام میں جو اداریے اور علمی مذاکرہ کے تحت جو مضامین لکھے ان کی تعداد تقریباً  400  ہے)

2۔  ماہنامہ محدث لاہور کی ایک سال (1998) ادارت فرمائی۔

3۔  ان کے علاوہ دیگر ماہ ناموں میں بھی مختصر میعاد کے لئے آپ نے ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے؛ مثلاً ماہنامہ البدر ، ماہنامہ تفہیم الاسلام، ماہنامہ ضیائے حدیث وغیرہ۔ نیز آپ کے قیمتی مضامین ملک و بیرون ملک کے دیگر جرائد، رسائل اور اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے۔

دارالسلام سے وابستگی اور اس کے شعبہ تحقیق وتألیف و ترجمہ کی ادارت

مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کی دعوت پر 1993م میں حافظ صاحب نے دارالسلام الریاض میں تالیف و تصنیف و ترجمہ کا کام شروع کیا۔ ریاض میں چار ماہ رہ کر آپ لاہور واپس آگئے جہاں اسی سال دارالسلام کی ایک شاخ کا افتتاح ہوا تھا۔ حافظ صاحب نے 1993م سے 2015م تک پورے 22 سال اس کے شعبہ تحقیق و تالیف وترجمہ میں بحیثیت مدیر خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے علمی جوہر دکھلائے۔

تفسیر أحسن البیان

سعودى حكومت نے پہلے مجمع الملک فہد سے مولانا شبیر عثمانی صاحب کی تفسیر شائع کرائی تھی۔ لیکن اس میں عقدی، فکری وغیرہ کی بہت سی اغلاط کی وجہ سے اس کو بند کردیا۔ حافظ صاحب کے بقول، مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کی خواہش تھی کہ کیوں نہ ہم اس کا کوئی متبادل تیار کرکے مجمع سے شائع کروانے کی کوشش کریں! چنانچہ مجاہد صاحب نے پہلے کسی اور صاحب علم کو یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ لیکن بات کچھ بن نہ سکی لہٰذا حافظ صاحب کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔ مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب نے حافظ صاحب سے دو باتوں کا تقاضا کیا تھا کہ ایک تفسیر (حاشیہ) بالکل مختصر وجامع ہو اور دوسرا یہ کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ نصرت خداوندی شامل حال رہی حافظ صاحب نے یہ عظیم کام لاہور میں مکمل کرلیا۔ جس کا مسودہ مجمع الملک فہد کی کمیٹی کو سونپا گیا۔ جہاں منظوری کے بعد شائع ہوکر دنیا بھر میں تقسیم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مختصر تفسیر کو قبول عام عطا کیا۔

وفاقی شرعی عدالت پاکستان میں آپ کے چند اہم بیانات

کرایہ مکان و دکان کی حیثیت

مشترکہ کمپنی کے مال میں زکاة کا وجوب

شفعہ کے حقدار کون کون ہیں

توہین رسالت کی اسلامی سزا اور موجودہ سزا میں اصلاح کی ضرورت

مسئلہ شہادت نسواں عقل و نقل کی روشنی میں

مسئلہ شہادت نسواں۔ جناب جاوید احمد غامدی کے عدالتی بیان کے جواب میں جس میں چند نکات کی وضاحت جس میں انہوں نے جمہور علماء کے برعکس موقف اختیار کیا تھا۔

انتخابی قوانین کی اصلاح کے ضمن میں

انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت

حد رجم کی شرعی حیثیت اور مغالطات کا ازالہ

کرنسی کی قیمت کم ہونے پر پیدا شدہ مسائل کے سلسلہ میں جواب

آپ کے چند اہم مقالہ جات

حافظ صاحب کے مقالات کا احاطہ کرنا وقت طلب کام ہے۔ آپ نے تقریبا چار سو مقالات لکھے ہیں۔ جن میں سے بطور مثال چند یہ ہیں:

بسلسلہ سود۔ سپریم کورٹ شریعت آپ لیٹ بنچ کے دس سوالات کے مفصل جوابات

پاکستانی عدالتوں میں انسداد سود کی کوششوں کا جائزہ

اجتھاد اور تعبیر شریعت کے اختیار کا مسئلہ

پریس آرڈیننس کی متعلقہ دفعہ میں اصلاح وترمیم کی ضرورت

اخلاقی بحران سے نجات۔ اسوہ حسنہ ﷺ کی روشنی میں

زندگی میں وراثت کی تقسیم للذكر مثل حظ الانثيين کے مطابق تقسیم کرنے کا جواز اور اس کے اصول۔ ایک قابل تنقیح و تحقیق مسئلہ۔

نصوص قرآن وحدیث میں تبدیلی اسلام سے انحراف ہے۔

عورت کی نصف دیت اور اس کی حکمت و مصلحت

انكار حديث کا مطلب اور منکر حدیث کا مصداق کون؟

مسئلہ خلع اور احناف، طلاق تفویض، حلالہ مروجہ ملعونہ کے جواز کے دلائل کا جائزہ

چند اہم مقامی وبین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت

صوبائی سیرت کانفرنس، لاہور۔ 1982ء

ہمدرد سیرت کانفرنس،کراچی۔ 1983ء

آل پاکستان علماء كنونشن۔ بسلسلہ شریعت بل۔ لاہور۔ 1986ء

تحفظ حرمین شریفین کانفرنس، لندن برطانیہ۔ جولائی 1988ء

عالمى دعوت كانفرنس، برمنگھم۔ زیر اہتمام مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ۔ اگست 1988ء

دعوت کانفرنس اسلام آباد۔ زیر اہتمام دعوہ اکیڈمی۔ ستمبر 1993ء

بين الاقوامى امام ابو حنيفہ کانفرنس۔ اسلام آباد اکتوبر 1998ء

انٹرنیشنل کانفرنس بعنوان” دھشت گردی، اسلامی ممالک کو درپیش چیلنج‘‘ کراچی۔ زیر اہتمام روزنامہ جنگ گروپ پاکستان۔ دسمبر 2001ء

تصانیف وتالیفات

حافظ صاحب رحمہ اللہ کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تصانیف وتالیفات تقریبا 120 ہیں۔

آپ کی بعض مطبوعہ اہم کتب

أحسن الحواشی۔ مختصر حواشی مع لفظی ترجمہ (ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور)

احکام الجنائز ۔ جنازے کے احکام و مسائل اور مسئلہ ایصال ثواب کا علمی و تحقیقی جائزہ ( ناشر : المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر کراچی)

اسلامی خلفاء و ملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ (ناشر : دارالدعوہ السلفیہ، شیش محل روڈ لاہور)

اہل حدیث کا منہج اور احناف سے اختلاف کی حقیقت و نوعیت (ناشر : ام القری پبلی کیشنز و دار ابی طیب، گوجرانوالا)

اہل حدیث اور اہل تقلید (ناشر : دارالدعوة السلفیہ، لاہور)

اہل سنت اور محرم الحرام ( ناشر : حارث پبلی کیشنز کراچی)

ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل، مشاہیر امت اور پاک و ہند کے متعدد علمائے احناف کی نظر میں، ایک دعوت غور و فکر ( ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور)

تحریکِ جہاد اہل حدیث اور علمائے احناف۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریکِ جہاد کی بابت تاریخ سازی کا جائزہ اور مخالفین کے افتراءات والزامات کی حقیقت۔ ( ناشر : ضیاءالله کھوکھر، ندوة المحدثين، اسلام آباد، گوجرانوالہ)

حصن المسلم (ترجمہ) (ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور۔ المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر کراچی)

رضاعت کے مسائل (ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور)

ریاض الصالحین ترجمہ و تشریح ( ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور )

عظمت حدیث اور اس کے تقاضے (ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور)

عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا ایک جائزہ ( ناشر : دارالدعوة السلفيہ لاہور)

فتنہ غامدیت ایک تحقیقی جائزہ (ناشر : دار ابی طیب گوجرانوالہ)

مسئلہ رویت ہلال ( ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور)

مفرور لڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں (ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور)

عمر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما پر تحقیقی نظر ( ناشر : مکتبہ ضیاءالحديث گڑھی شاہو، لاہور )

یوم آخرت پر ایمان اور مسئلہ عذاب قبر (ناشر: مکتبہ ضیاءالحديث گڑھی شاہو، لاہور )

واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات، ایک تحقیقی جائزہ ( ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور )

نفاذ شریعت کیوں اور کیسے ؟ (ناشر : مکتبہ دارالسلام لاہور )

آپ کی غیر مطبوعہ زیر تسوید بعض اہم کتب

خود کشی اور بھوک ہڑتال اسلام کی نظر میں

سر زمین ہند میں چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی کی ستیزہ کاری اور میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی اور ان کے تلامذہ کا تجدیدی کام

شیعہ سنی تصادم، جارح اور ذمہ دار کون؟

شیعت نوازى اور بے اعتدالی کی ایک عجیب و غریب مثال

عقائد و ایمانیات

مجموعہ قوانین اسلامی (بھارت) کی غیر اسلامی دفعات کا ایک مختصر جائزہ

فيشن پرستی اور اظہار زینت

منہج سلف کی پیروی میں اہل حدیث کا امتیاز (دینی، علمی، قرآنی اور حدیثی خدمات )

حدیث” اگر تم گناہ نہ کرتے تو الله تعالى تمہیں ختم کرکے ایسی قوم پیدا کرتا جو گناہ کرکے اللہ سے بخشش مانگتی” کا صحیح مطلب

منحة البارى ترجمه الأدب المفرد للبخاری (1300 احادیث پر مشتمل الادب المفرد کا اردو ترجمہ مع تعلیق و تخریج )

فتاوی

حافظ صاحب نے اپنی زندگی میں ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے سینکڑوں استفتاء کے جوابات لکھے۔

ایوارڈ

حافظ صاحب کو مختلف اداروں نے ایوارڈز، اعزازات اور تمغوں سے نوازا۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

1- وزارت مذھبی امور، زکوة وعشر، حکومت پاکستان ایوارڈ

2- جنگ گروپ کراچی پاکستان ایوارڈ

3- جامعہ لاہور اسلامیہ کی المجلس العلمی ایوارڈ

4- پیغام ٹی وی پاکستان ایوراڈ

اعزازات و مناصب

ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

مشیر وفاقی شرعی عدالت پاکستان

رکن رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان

ركن شورى مركزى جمعيت اہل حدیث پاکستان

اولاد

حافظ صاحب کی کل سات اولاد ہیں۔ چار بیٹیاں اور تین بیٹے۔ ایک بیٹے شیخ حافظ عثمان یوسف مدنى جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے کلیۃ الحديث کے فارغ التحصیل ہیں۔ اور الحمد لله والد بزگوار کے ادھورے علمی منصوبوں کی تکمیل میں جت گئے ہیں۔ اللہ تعالی آپ کی مدد فرمائے اور آپ کو والد مرحوم کا سچا اور حقیقی جانشین بنادے آمین۔

حافظ صاحب کا سراپا

مربوع بدن، درمیانہ قد، اجلی رنگت، کتابی نورانی چہرہ، کشادہ پیشانی، آنکھیں بڑی اور روشن، ناک اونچی ستواں، گھنی اور لمبی داڑھی، سر پر پورے شرعی بال لولکیوں تک دراز ، جس پر سادی جال کی ٹوپی، سادا اور صاف ستھرا لباس، دھیمے لیکن مستحکم انداز میں بیان فرماتے، رعب دار باوقار شخصیت کے مالک تھے۔

وفات

9 جولائی 2020ء جمعرات کے دن آپ کو بخار ہوگیا۔ تین دن بخار اور نقاہت کی کیفیت رہی۔ پھر وقت موعود آپہنچا۔ بروز اتوار 12جولائی 2020 ء موافق 20 ذى قعده 1441ھ رات بارہ بج کر بیس منٹ پر حافظ صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا اور وفات پاگئے۔ إنا لله وإنا اليه راجعون

نماز جنازہ

کرونا کی مہاماری کے باوجود آپ کے جنازے میں اسقدر ازدحام تھا کہ دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھانی پڑی۔ پہلی نماز شیخ حافظ مسعود عالم صاحب ﷾ اور دوسرى نماز شيخ ارشاد الحق اثری﷾ نے پڑھائی۔

تدفین

جامعہ منظور الاسلامیہ کے بالمقابل صدر قبرستان لاہور میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

اللهم اغفر له وارحمه وادخله فسيح جناتك جنات النعيم آمین.

تبصرہ کریں