اہل سنت والجماعت کے عقائد۔شیخ محمد بن صالح عثیمین، ترجمہ: عبد الجبار عبد الغنی السلفی

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی، اپنے رسول محمد ﷺ کو یقیناً دین ہدایت، دین حق اور جہانوں کے لیے رحمت اور قدوہ ونمونہ اور تمام انسانوں کے لیے حجت ودلیل بنا کر مبعوث کیا ہے۔ آپ کے ذریعہ اور آپ پر جو کتاب نازل کی ہے اس کے ذریعہ کتاب وحکمت کی تمام باتوں کو بیان کر دیا ہے۔ جس سے تمام بندوں کی اصلاح ہو سکتی ہے اور وہ اپنے احوال اور دین ودنیا کے تمام امور میں استقامت حاصل کر سکتے ہیں اور اخلاق فاضلہ اور بلند وبالا آداب کو اپنا سکتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو روشن شریعت پر چھوڑا جس کی راتیں دن کے مانند ہیں حتی کہ اس کی راتوں میں بھی دن کی روشنی پائی جاتی ہے، اس شریعت حقہ سے کوئی بھی شخص غلط راستہ اختیار نہیں کر سکتا، اس سے وہی شخص بہک سکتا ہے جس کے نصیب میں ہلاکت ہی ہلاکت ہو گی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اسی راستہ پر چلایا اور اللہ اور اس کے رسول کو جو مطلوب تھا اسی کی رہنمائی کی ہے۔ جن صحابہ اور تابعین نے عمدہ طریقہ پر چلتے ہوئے آپ کی اتباع کی ہے، وہ مخلوق میں سب سے بہترین انسان کہلائے۔ انہوں نے آپ کی شریعت کو اختیار کیا اور اس پر مضبوطی سے جمے رہے اور آپ کی سنت کو تھاما ہے اور مضبوطی سے عقیدہ اسلامیہ اور آداب کو اختیار کیا ہے، اسی وجہ سے وہ ایک ایسی ممتاز جماعت کہلاتے ہیں جو حق پر برابر جمی رہی ہے، حق ان کی وجہ سے غالب ہوا ہے، انہیں کوئی بھی ذلت و رسوائی تک نہ پہنچا سکا، اور نہ ان کی مخالفت کر سکا حتیٰ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسی عقیدہ صافیہ پر ان کو موت دی ہے اور ہم بھی رب العزت کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم بھی ان ہی کے طریقہ پر چلنے والے ہیں اور ان کی ہدایت یافتہ سیرت جو کتاب وسنت کی تائید کرتی ہے اس کے اختیار کرنے والے ہیں، یہ تمام باتیں ہم اللہ کی نعمت سمجھتے ہوئے بیان کر رہے ہیں جو کہ ہر مؤمن کا فرض ہے کہ اسے بیان کرے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ ہم کو اور تمام مسلمان بھائیوں کو اسی عقیدہ پر قائم ودائم رکھے، دنیاوی زندگی میں ثابت قدم رکھے اور اس کی وجہ سے آخرت بھی سنوار دے، وہ ہمیں اپنی رحمت برابر عطا کرتا رہے کیونکہ وہ بڑا عطا کرنے والا اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔

اس موضوع کی اہمیت سمجھتے ہوئے میں نے مناسب سمجھا کہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ واضح طور پر اہل سنت والجماعت کے عقائد کو بیان کروں۔ وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن اور تقدیر کے خیر وشر ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اس میں اخلاص عطا کرے اور اپنی مرضی پر چلائے۔

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ

ہم اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی یہ کہ وہ پالنہار ہے، وہ رب ہے۔ خالق ومالک ہے اور تمام امور کا مدبر ہے۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر، یہ کہ وہی معبود حقیقی ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی معبود ہیں، باطل اور جھوٹے ہیں۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات ہیں، یعنی اس کے عمدہ نام اور اس کی عمدہ صفات ہیں جو بلند وبالا اورہر کمال سے بھری ہوئی ہیں۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اس طرح کہ اس کی ربوبیت اور الوہیت اور اس کے اسماء وصفات میں اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں ہے، وہ یکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ (سورة مريم: 65)

’’اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین جس قدر چیزیں ہیں تمام کا پالنہار اور رب ہے، لہٰذا تم لوگ اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی کی عبادت پر جم جاؤ کیا تم اس کا ہم پلہ کوئی نام جانتے ہو۔‘‘

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

﴿اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ (سورة القرة: 255)

’’ اللہ کی ذات ہی معبود ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہی زندہ اور قائم ہے، اسے نہ اونگ آتی ہے اور نہ ہی نیند، اس کے لیے وہ تمام چیزیں ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے، کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے، وہ جو اس کے آگے اور پیچھے ہے ان تمام کائنات کو جانتا ہے،اس کے علم کا احاطہ کوئی نہیں کر سکتا مگر اس قدر جتنا کہ اس کی منشاء اور مشیئت ہے، اس کی کرسی کی وسعت نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ) ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے۔ وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

﴿هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ * ‏ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ‎ *‏ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (سورة الحشر: 22-24)

’’اللہ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہےصرف وہ معبود ہے، وہ غیب وحاضر کا جاننے والا، وہ بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے، اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی بادشاہ، مقدس، یعنی وہ ملک، قدوس، سلامتی والا، امن وامان قائم رکھنے والا، تمام عیوب سے پاک، غالب، زبردست، تکبر کرنے والا اور بڑائی بیان کرنے والا ہے، لوگ اسے جن چیزوں میں شریک کرتے ہیں ان تمام چیزوں سے پاک وصاف ہے۔ اللہ کی ذات وہ ہے جو خالق وباری یعنی پیدا کرنے والی اور نئے سرے بنانے والی اور تصویر گری کرنے والی ہے، اسی کے لیے اسماء حسنیٰ ہیں، وہ تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں پائی جاتی ہیں تمام ہی اس کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرتی ہیں، وہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

اس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ *‏ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ﴾ (سورة الشورى: 49-50)

’’ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے مؤنث یعنی مادہ عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نر عطا کرتا ہے، یا انہیں وہ جوڑا جوڑا یعنی نر ومادہ عطا کرتا ہے، اور وہ جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے، یقیناً وہی جاننے والا، قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں:

﴿فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ‎ * ‏ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (سورة الشوری: 11-12)

’’اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اس کے لیے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں، وہ جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا، یقیناً وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾ (سورة هود: 6)

’’ زمین پر ہر وہ چیز جو رینگ رہی اور چل پھر رہی ہے ان کے رزق کی ذمہ داری اللہ کی ہے، وہ ان کے رہنے سہنے اور سونپے جانے کی جگہوں کو جانتا ہے، ہر چیز واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾ (سورة الأنعام: 59)

’’ اسی کے پاس ہی غیب کی کنجیاں ہیں، ان کو صرف اسی کی ذات جانتی ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، وہ تری اور خشکی میں جس قدر چیزیں ہیں تمام ہی کا علم رکھتا ہے حتیٰ کہ درخت کا جو پتا گرتا ہے وہ بھی اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکی میں جو دانہ پڑا ہوتا ہے اور رطب ویابس ، خشک وتر تمام ہی چیزوں کو جانتا ہے تمام ہی واضح اور کھلی ہوئی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔‘‘

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

﴿ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (سورة لقمان: 34)

’’ بے شک اللہ کے نزدیک قیامت کا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے او ر مادر رحم میں جو کچھ ہے سب جانتا اور کوئی بھی نفس یہ نہیں جانتا ہے کہ وہ کل آئندہ کیا کمائے گا اور کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب جہاں اور جیسے چاہتا ہے کلام کرتا ہے۔

﴿وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا﴾(سورة النساء: 164)

’’اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے بات چیت کی۔‘‘

﴿وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ﴾ (سورة الأعراف: 143)

﴿وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا ‎﴾ (سورة مريم: 52)

’’اور جب موسیٰ ہماری مقرر کردہ جگہ پر پہنچے یعنی آئے تو ان سے ان کے رب نے کلام کیا اور ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور اسے سرگوشی کرتے ہوئے بہت ہی قریب کر لیا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي﴾ (سورة الكهف: 109)

﴿‏وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ (سورة لقمان: 27)

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

’’میرے رب کے کلمات بیان کرنے کے لیے سمندر سیاہی بنا دی جائے تو سمندر ختم ہو جائیں قبل ازیں کہ میرے رب کے کلمات (کی تعریف وتحمید) ختم ہو۔‘‘

’’اگر وہ تمام چیزیں جو زمین میں ہیں، اس کے درختوں کی قلمیں ہی کیوں نہ بنا لی جائیں اور سمندروں کی سیاہی کے بعد ساتوں سمندروں کی مزید سیاہی بنا لی جائے اور پھر اللہ کی تسبیح وتحمید وتکبیر بیان کی جائے پھر بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان و یقین رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات خبروں میں سب سے زیادہ سچے، احکام میں سب سے زیادہ عدل وانصاف والے اور بات میں سب سے عمدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا﴾

اور تمہارے رب کے کلمات صدق وعدل پر مکمل ہو چکے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سب سے سچی بات کہنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس نے جو کچھ بیان کیا ہے تمام حقائق اسے جبرائیل پیش کیا ہے، پھر وہ اسے لے کر نبی ﷺ کے دل پر لے کر اترے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ﴾ (سورة النحل: 102)

’’آپ کہہ دیجے کہ اسے روح القدس نے تمہارے رب کی جانب سے حق کے ساتھ اتارا ہے۔‘‘

﴿وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ * ‏ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ‎ *‏ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ‎ *‏ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ﴾(سورة الشعراء: 192-195)

’’اور حقیقت یہ ہے کہ وہ جہانوں کے پالنہار کی جانب سے اترا ہے، اسے روح الامین (جبرائیل) تیرے دل پر لے کر آئے، تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے بن جائیں، یہ واضح عربی زبان میں ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ رب العزت اپنی مخلوق پر اپنی ذات اور اپنی صفات کے اعتبار سے بلند وبالا اور عظیم ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمان ہے:

﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾(سورة البقرة: 255)

’’اور وہ بلند وبالا عظمت والا ہے۔‘‘

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ﴾ (سورة الأنعام: 18)

’’اور وہی زبردست قہر وغصہ والا اپنے بندوں پر ہے اور وہی حکیم وخبیر بھی ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور وہ اپنے اپنے عرش پر مستوی ہے۔ عرش پر اس کا بلند ہونا اس کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ اس بلندی کو کوئی نہیں پہنچ سکتا، وہ کسی طرح بلند ہوا ہے اور اس کی کیفیت کے ساتھ وہ صرف اس کی عظمت وجلال کے لائق ہی ہے، اس کو کوئی نہیں جانتا ہے، جیسا کہ وہ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ﴾ (سورة يونس: 3)

’’بے شک تیرا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے یہ تخلیق صرف چھے دن میں ہوئی ہے، پھر وہ عرش پر مستوی ہو گیا، وہی تمام امور کی تدبیر کرتا ہے۔‘‘

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

وہ اپنی تمام مخلوقات کا علم اپنے عرش پر مستوی ہو کر رکھتا ہے، وہ ان کی جملہ حالتوں اور کیفیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کی باتوں کو سنتا ہے اورافعال کو دیکھتا ہے، ان کے جملہ امور کی تدبیر کرتا ہے، وہ فقیروں اور محتاجوں کو رزق دیتا ہے، مجبور کی مجبوری دور کرتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے بادشاہ عطا کر دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے، اسی کے ہاتھ میں ہر قسم کی بھلائی ہے، ہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور جس کی ایسی شان وعظمت ہے وہ حقیقت میں اپنی مخلوق کے ساتھ ہی ہے، اگرچہ وہ ان کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔

﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ‎﴾ (سورة الشورى: 11)

’’حقیقت میں اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘

ہمارا عقیدہ ہے کہ

فرقہ جہمیہ اور حلولیہ کی طرح نہیں ہے، جو وہ کہتے ہیں ہم ویسا نہیں کہتے ہیں۔ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ زمین پر رہتا ہے، جیسا کہ یہ فرقہ ضالہ کہتا ہے ایسا جو کہے ہم اسے کافر اور گمراہ جانتے اور سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کا ایسا وصف بیان کرتے ہیں جو نقائص سے بھرا ہوا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی قسم کا ادنیٰ سا بھی نقص نہیں ہے۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ رب العزت کے بارے میں جس طرح اس کے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا اور خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات مبیں جبکہ ایک تہائی رات باقی رہتی ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے، پھر کہتا ہے:

«مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ»(صحيح بخاری: 1145)

’’کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی پکار یعنی دعا کو قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے کہ میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟‘‘

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ سبحانہ وتعالیٰ قیامت کا دن مقرر کرے گا جس میں وہ بندوں کے مابین فیصلہ کرے گا، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:

﴿كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا *‏ وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا *‏ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ﴾ (سورة الفجر: 21-23)

’’ ہرگز نہیں، جبکہ زمین مکمل طور پرپیس دی جائے گی اور تمہارا رب آئے گا اس حال میں کہ فرشتے صف بصف ہوں گے، اس دن جہنم لائی جائے گی، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور کیوں کر اسے نصیحت حاصل ہو گی۔‘‘

﴿إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ﴾(سورة هود: 107)

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے کرتا ہے لایعنی جوچاہتا ہے، کرتا ہے۔

ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو قسموں کا ہوتا ہے، ایک قسم کونیہ ہے، اس سے یہ مراد ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز واقع ہو وہ اس کے نزدیک محبوب بھی ہو، اسی کو اس کی مشیت اور چاہت سے مراد لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴾ (سورة البقرة: 253)

’’اگر اللہ چاہتا تو وہ قتل نہ کرتے اور لیکن اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔‘‘

﴿إِن كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ ۚ﴾ (سورة هود: 34)

’’اللہ چاہتا ہے کہ وہ تمہیں گمراہ کر دے بشرطیکہ وہ تمہیں گمراہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہی تم سب کا پروردگار بھی ہے۔‘‘

دوسری قسم شرعی ہے۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی مراد واقع ہو، اس میں اس کی مراد نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کی محبوب ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ ﴾ (سورة النساء: 27)

’’ اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہاری توبہ قبول کرے۔‘‘

ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ

اس کی کوئی اور شرعی مراد بھی اس کی حکمت کے تابع ہے، اس لیے کہ وہ جو بھی فیصلہ صادر کرتا ہے، اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے، اس نے اپنی مخلوق کے لیے جو عبادت مخصوص کی ہے وہ بھی اس کی حکمت کے تابع ہے اور بالکل اس کی حکمت کے موافق ہے، خواہ اس کا ہمیں علم ہو یا نہ ہو، اسے ہم جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ یا ہماری عقلیں اس تک رسائی پانےسے قاصر ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ (سورة التين: 8)

’’ کیا اللہ حاکموں کا حاکم نہیں ہے۔‘‘

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (سورة المائدة: 50)

’’اور اللہ تعالیٰ سے بہتر حکم لگانے والا ایسی قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے ۔‘‘

اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اولیاء سے اور اس کے اولیاء سے محبت کرتے ہیں۔

﴿ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّه﴾ (سورة آل عمران: 31)

’’آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم میری اتباع کرو، اللہ تعالیٰ تم کو محبوب رکھے گا۔‘‘

﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾ (سورة المائدة: 54)

’’بس عنقریب ہی اللہ ایسی قوم کو لائے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہو گا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔‘‘

﴿وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ﴾ (سورة آل عمران: 146)

’’اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

﴿ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ (سورة الحجرات: 9)

’’ اور انصاف کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

﴿وَّأَحْسَنُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ (سورة المائدة: 93)

’’اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے جن اعمال کے کرنے اور اقوال کے کہنے کی اجازت دی ہے وہ انہیں پسند کرتا ہے اور جن کے کرنے اور کہنے سے منع کیا ہے، انہیں وہ مکروہ سمجھتا ہے۔

﴿إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ﴾ (سورة الزمر: 7)

’’اگر تم انکار کردو تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو ناپسند کرتا ہے، اگر تم لوگ شکرگزاری کرو تو اس کو تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘

﴿وَلَٰكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ﴾ (سورة التوبه: 46)

’’لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا لہٰذا انہیں حرکت کرنے سے روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم لوگ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔‘‘

ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے راضی ہوتا ہے جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے۔

﴿رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ﴾ (سورة البينة: 8)

’’ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ ان سے راضی ہو گئے، ایسا ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گئے۔‘‘

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے علاوہ جو لوگ غضب کے مستحق ہوتے ہیں ان پر غصہ بھی کرتا ہے:

﴿الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ﴾ (سورة الفتح: 6)

’’وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ برا گمان رکھنے والے ہیں، انہیں برائیوں نے گھیر لیا ہے اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے۔‘‘

﴿وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ (سورة النحل: 106)

’’ لیکن جس کا سینہ کفر کے لیے کھل گیا ہے، پس ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘

ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کا چہرہ بھی ہے، اسی طرح جس طرح کہ اس کے جلال واکرام کے لائق ہے:

﴿وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾ (سورة الرحمٰن: 27)

’’ اور تمہارے رب کا چہرہ جو جلال واکرام والا ہے، باقی رہے گا۔‘‘

ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دو بڑے کریم وعظیم ہاتھ بھی ہیں۔

﴿بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ﴾ (سورة المائدة: 64)

’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ بہت زیادہ کشادہ ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔‘‘

﴿ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ (سورة الزمر: 67)

’’انہوں نے اللہ کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی، حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اسکی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک وبرتر ہے، جن کے ساتھ لوگ اسے شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘

اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کی دو آنکھیں بھی ہیں جو حقیقی آنکھیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا﴾ (سورة هود: 37)

’’اے نوح کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق بناؤ۔‘‘

وقال النبي ﷺ:حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ

’’نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ حجاب ہی نور ہے، اگر وہ اسے کھول دے تو انوار الٰہی مخلوق کے منتہائے بصارت کو روشن کر دے۔‘‘

وأجمع أهل السنة على أن العينين اثنتان، ويؤيده قول النبي صلى الله عليه وسلم في الدجَّال: ((إنه أعور، وإن ربكم ليس بأعور .” (عقيدة أهل السنة والجماعة: ص 12)

’’تمام اہل سنت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دو ہی آنکھیں ہیں اور اس کی تائید بھی نبی ﷺ کا وہ قول کرتا ہے جو آپ نے دجال کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ اعور یعنی کانا ہو گا اور بے شک تمہارا رب کا نا نہیں ہے۔‘‘

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

ان تمام اسماء وصفات پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے ثابت کیا اور ان تمام پر اس کی ذات کے لیے اس کے رسول نے ثابت کیا ہے۔ لیکن ہم ان دو عظیم چیزوں سے اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں، تمثیل اور تکییف ہے یعنی ہم کہیں کہ اس کا اور اس کی زبان ، اس کی مخلوقات کے دل وزبان کی طرح ہے اور ہم اس کیفیت کو بیان کرنے سے بھی بچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ایسی اور ایسی ہیں، نہ اسے دل سے بیان کرتے ہیں اور نہ ہی زبان سے کسی چیز کی طرح تشبیہہ دیتے ہیں۔

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کے سلسلہ میں جن چیزوں کی نفی کی ہے یا اس کے متعلق اس کے رسول محمد ﷺ نے نفی کی ہے اور اس کے متعلق مکمل سکوت اور خاموشی اختیار کی ہے اور اس نفی سے اس کے برعکس تمام کمال کی نفی شامل ہوتی ہے تو ہم نے بھی اس سے خاموشی اختیار کی ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے خاموشی اختیار کی۔

ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ

اس طریقہ کو اختیار کرنا اور اسی راستہ پر چلنا ہمارے لیے ضروری ہےبلکہ فرض ہے، اس لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے جو بیان کیا ہے اور جس کی نفی کی ہے وہ ایسی خبر ہے جس کی خبر اس نے بذات خود دی ہے، وہ سبحانہ وتعالیٰ ہے، اس کی ذات پاک وصاف ہے، وہ اپنی ذات کےبارے میں کماحقہ جانتا ہے، وہ سب سے سچی اور سب سے عمدہ بات کہنے والا ہے اور بندے اس کے علم کا ذرہ برابر بھی احاطہ نہیں کر سکتے اس کی ذات کے متعق اس کے رسولﷺ نے جو کچھ بیان کیا ہے یا اس کے متعلق خبر دی ہے وہ ایسی خبر ہے جو اسی نے اپنے رسول کے ذریعہ ہم تک پہنچائی ہے۔ نبی ﷺ اپنے کو لوگوں سے زیادہ جاننے والے، مخلوق کو زیادہ نصیحت کرنے والے ان میں سب سےزیادہ فصیح وبلیغ اور سب سے زیادہ سچے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اور اس کےر سول کے کلام میں کمال علم اور کمال صدق اور کمال بیان پایا جاتا ہے، لہٰذا اس کے قبول کرنے میں ہمیں کسی قسم کا تردد نہیں ہونا چاہیے۔

٭٭٭

وہ تمام چیزیں جو ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے سلسلہ میں ذکر کی ہیں جو مفصل بھی ہیں اور مختصر بھی یا جو ثابت کیا ہے یا جس کی نفی کی ہے، ان تمام کے بارے میں ہم اپنے رب عزوجل کی کتاب اور اس کےر سول محمد ﷺ کی سنت پر اعتماد رکھتے ہیں اور اسی کو ہم نے بیان بھی کیا ہے اور اسی راستہ پر امت محمدیہ ﷺ کے اسلاف اور ائمہ ہدایت چلے، ان کے بعد ہم بھی اسی راستہ کے راہ رو ہیں اور مضبوطی سے اس عقیدہ کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ

کتاب وسنت کے جو نصوص اور دلائل موجود ہیں، انہیں ہو بہو وہ جس طرح ہیں، اسی طریقہ پر جاری کریں اور ان کی جو حقیقت ہے اور اللہ عزوجل نےاپنے لائق جس حقیقت کو بر قرار رکھا ہے، اس حقیقت کو برقرار رکھیں۔

اور ہم اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں ایسے محرفین کےر استہ سے جنہوں نے اس سلسلہ میں انحراف اختیار کیا ہے اور اس راستہ کو چھوڑ دیا ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منشا اور ارادہ شامل ہے۔

فرقہ معطلہ کے راستہ سے بھی ہم اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات وغیرہ کو معطل کر دیا ہے۔

اور ایسے غلو کرنے والوں کے راستہ سے بھی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات وغیرہ کو کسی سے مشابہ بنا دیا ہے اور اس کی جو کیفیت ہے اس سے نکال کر اپنے مطابق کر دیا ہے۔

ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یقینی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی محمد ﷺ کی سنت میں موجود ہے، بس وہی حق ہے، اس کابعض بعض کی تنقیص نہیں کرتا ہے اور ایک دوسرے کی وقعت کو گھٹاتا نہیں ہے یا ادنیٰ سا بھی کم نہیں کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا﴾ (سورة النساء: 82)

’’ اس لیے کہ خبروں میں جب تناقض اور اختلاف ہو گا تو ان میں سے بعض کی تکذیب کرے گا، ایک دوسرے کو جھٹلائے گا، اس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کےر سول محمد ﷺ نے جو بھی خبر دی ہے، اس میں محال ہے اور یقینی طور پر بہت مشکل ہے۔

جو شخص بھی اس قسم کا دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کےر سول ﷺ کی سنت میں اختلاف ہے یابعض بعض کی کمی کا اظہار کرتی ہے تو ایسا شخص عقلی اعتبار سے برا ارادہ رکھتا ہے اور اس کا دل بھی یقیناً ٹیڑھا ہو چکا ہے، ایسے شخص کو چاہیے کہ اگر وہ اسلام کا دعویدار ہے تو صدق دل سے توبہ کرے اور اپنی سرکشی اور ضلالت وگمراہی سے نکل آئے۔

جو شخص بھی اس قسم کا وہم رکھتا ہے کہ اللہ کی کتاب اور اللہ کےر سول محمد ﷺ کی سنت مطہرہ کے مابین کسی قسم کا تناقص یا آپسی اختلاف ہے، تو ایسا شخص یقیناً قلت فہم رکھتا ہے، اس کا تدبر اور غوروفکر کرنا ناقض ہے، اسے علم حاصل کرنا چاہیے۔ علم کی جستجو کرنی چاہیے اور حق کی تلاش میں ، صحیح علم کی جستجو میں کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ حق کو پا سکے اور اس وقت تک خاموش نہیں رہنا چاہیے جب تک کہ اس پہ حق واضح نہ ہو جائے، اگر اس پر حق واضح نہیں ہو رہا ہے تو جو لوگ صحیح علم والے ہوں ایسے اپنے عالم پر بھروسہ کرنا چاہیے تاکہ اپنے وہم و گمان سے چھٹکارا پا جائے اور اسی طرح وہ بھی کہنے والا بن جائے جس طرح کہ علم میں پختہ اور راسخ اہل علم کہتے ہیں :

﴿ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا﴾ (سورة آل عمران: 7)

’’کہ ہم اس پر ایمان لائے تمام چیزیں ہمارے رب کی جانب ہی سے ہیں۔‘‘

اور اسے یہ بھی یقین وعلم ہو جائے کہ کتاب وسنت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی تناقض نہیں ہے، کتاب وسنت کی ہر بات پختہ ہے، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے، جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے بیان کیا ہے، بالکل حق وثابت ہے۔

٭٭٭

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی ہیں اور وہ مکرم بندے ہیں وہ سب اللہ کے باعزت بندے بھی ہیں، کسی بات میں وہ اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں لے جاتے ہیں بلکہ وہ اس کے فرمانبردار بندے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جو بھی حکم دیتا ہے، اسے بجا لاتے ہیں۔

﴿ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ ‎ *‏ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ (سورة الأنبياء: 26-27)

’’وہ اللہ کے باعزت بندے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی کسی بات میں سبقت نہیں کرتے ہیں، اور وہ اس کے حکم کے متعلق بھی عمل کرتے ہیں۔‘‘

﴿ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ‎ *‏ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾ (سورة الأنبياء: 19-20)

’’وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ہیں اور تھکتے بھی نہیں ہیں، وہ رات دن تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا بھی سستی نہیں کرتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہم سے چھپا رکھا ہے۔ اس لیے ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ بسااوقات اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کے لیے ان کا اظہار بھی کیا ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے سیدنا جبرائیل کو ان کی مکمل صورت میں دیکھا ہے، جن کے 600 پَر تھے، جو افق پر چھائے ہوئے تھے، اس طرح انسانی شکل میں بھی جبرائیل مریم علیہا السلام کے پاس تشریف لائے، لہٰذا وہ ان سے مخاطب ہوئیں اور جبرائیل ، مریم سے مخاطب ہوئے، اسی طرح جبرائیل نبی ﷺ کے پاس ایک شخص کی صورت میں آئے جبکہ آپ کے پاس صحابہ بھی تشریف فرما تھے، ان پر کسی قسم کا سفری اثر نظر نہیں آ رہا تھا، نہایت ہی صاف ستھرے سفید کپڑے پہنے ہوئے اور نہایت کالے بالوں والے آئے، نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گئے، اپنے دونوں گھٹنوں کو آپﷺ کے دونوں گھٹنوں سے ٹیک دیئے۔ اور انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو نبیﷺ کی دونوں رانوں پر رکھ دیا۔ وہ نبیﷺ سے مخاطب ہوئے اور نبیﷺ ان سے مخاطب ہوئے، اس کے بعد نبیﷺ نے اپنے اصحاب کو خبر دی کہ وہ جبرائیل تھے، گویا کہ صحابہ نے بھی جبرائیل کو انسانی شکل میں دیکھا۔

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ

فرشتے اپنے اپنے کاموں پر برابر بجا لائے ہیں، لہٰذا انہی میں سے جبرائیل وہ فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ وحی پہنچانے پر مامور کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وحی لے کر اس کے حکم سے اللہ تعالیٰ کے انبیاء ورسل کی جانب برابر وحی پیش کرتے رہے۔

ان میں سے میکائیل بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بارش برسانے اور پودوں وغیرہ کو اگانے پر مقرر کیا ہے۔ ان میں اسرافیل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن صور پھونکنے پر مقرر کیا ہے۔ ان میں سے ایک فرشتہ ملک الموت جن کا کام موت کے وقت روحوں کو نکالنا ہے، ان میں سے ایک فرشتہ ملک الجبال یعنی پہاڑوں کا فرشتہ، جس کے ذمہ پہاڑوں کی ذمہ داری ہے، ان میں سے بعض فرشتے ایسے ہیں جنہیں دوزخ وجہنم کا داروغہ مقرر کیا گیا ہے۔

ان میں سے بعض فرشتوں کے ذمہ رحموں میں بچوں کو مقرر کرنے کے لیے رکھا گیا ہے اور دوسروں کو بنی آدم کی حفاظت کرنے پر مقرر کیا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص کے دو فرشتے مقرر کیے گئے ہیں جو اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے وہ جو بھی کلمہ بولتا ہے اسے وہ برابر لکھ لیتے ہیں۔

﴿عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ *‏ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ (سورة ق: 17-18)

’’وہ دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں، جو بھی بات وہ بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک چاق وچوبند نگہبان ہوتا ہے۔‘‘

ان میں سے بعض فرشتے میت سے سوال کرنے پر مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ اسے آخری ٹھکانہ پر رکھ دیا جاتا ہے تو وہ اس سے سوال وجواب کرتے ہیں، دو فرشتے اس کی قبر میں آتے ہیں ، اس سے اس کے رب ، اس کے دین اور اس کے نبی کے متعلق سوال کرتے ہیں:

﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ (سورة إبراهيم: 27)

’’اللہ تعالیٰ انہیں قول میں ثابت قدم رکھتا ہے جو دنیاوی زندگی میں بھی ثابت قدم تھے وہ آخرت میں بھی ثابت قدم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔‘‘

ان میں سے بعض فرشتے ایسے ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے جنت پر مقرر کیا ہے، وہ جنتیوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں:

﴿وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ*‏ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴾ (سورة الرعد: 23-24)

’’اور فرشتے اہل جنت پر ہر دروزاے سے داخل ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم پر سلامتی ہو ، یہ تمہارا اس صبر کابدلہ ہے جو تم نے کیا ہے، بس کیا ہی عمدہ انجام ہے۔‘‘

اسی طرح نبیﷺ نے خبر دی ہے کہ

آسمان میں جو بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، ایک روایت کے مطابق اس میں داخل ہو کر نماز ادا کرتے ہیں، پھر اس میں دوبارہ داخل نہیں ہوتے ہیں، یعنی ایک مرتبہ جو فرشتے داخل ہو جاتے ہیں اور اس سے نکل جاتے ہیں تو دوسری مرتبہ اس میں داخل ہونے کی ان کی باری نہیں آتی ہے۔

جماعتی دورہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث قرآن وسنت کو بہترین نظام زندگی کا منبع و سرچشمہ اور شریعت اسلامی کااصل ماخذ مانتے ہوئے دنیامیں ان کی عظمت وترویج کی علمبردار ہے ہماری زندگیوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ مسلمان عام انسانی کاوشوں اور اجتہادات کی بجائے براہ راست قرآن و سنت کے چشمہ صافی سے مستفید ہوں کیونکہ امام مالکؒ کے بقول ہر انسان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ، ہر ایک کی رائے رد کی جاسکتی ہے ، سوائے خاتم النبیین ﷺ کے فرمان کے کہ اسے رد کرنا کفر و فسق ہوتاہے ، تحریک عمل بالحدیث دور صحابہ سے سرگرم عمل ہے اور خیرالقرون سے لیکر اب تک مصروف عمل رہی ہے اورجس نے ہمیشہ اس میسج کومنوایا کہ اسلای شریعت کامنبع و سرچشمہ صرف قرآن وسنت ہے کسی امتی کی رائے اجتہاد دین نہیں ہوسکتی ان خیالات کا اظہارمر کزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے قائدین و علماء نے جمعیت کی مختلف برانچوں کا دور کرتے ہوئے کیا،امیر جمعیت مولانامحمد ابراہیم میرپوری ناظم اعلی حافظ حبیب الرحمن حبیب ،چیف ایڈیٹر ماہنامہ صراط مستقیم مولاناحفیظ اللہ خان ، ناظم تبلیغ مولاناشریف اللہ شاہد، ناظم طبع وتالیف حافظ عبدالباسط العمری ، ڈائریکٹر اسلامک سنٹرویکفیلڈ مولاناعبدالستار عاصم ودیگر علماء و فضلاء نے مڈلینڈ، ویسٹ یارکشائرکی برانچوں بریڈفورڈ5بریڈفورڈ7بریڈفورڈ8بریڈفورڈ3 ، لیڈز ، ویکفیلڈ، کیتھلے ،سکپٹن ،ڈیوزبری،ہڈرسفیلڈ ، ٹی سائڈ میں نیوکاسل ، مڈلزبرا، اولڈھم آشٹن انڈر لائن اور مانچسٹرکی برانچوں میں مختلف عہدیداران سے ملاقاتیں کیں ۔ناظم اعلی حافظ حبیب الرحمن گلاسگوسے ، مولانامحمد ابراہیم میرپوری اور مولانا حفیظ اللہ خان برمنگھم سے حافظ عبدالباسط نیوکاسل سے حافظ شریف اللہ بریڈفورڈ سے وفود کی شکل میں شامل ہوئے، نیوکاسل میں حافظ عبدالباسط مڈلزبرامیں مولاناواجد مالک ، بریڈفورڈ میں حاجی محمد اکبر حاجی محمود احمد ، محمد یاسین چوہدری حبیب الرحمن ، چوہدری شوکت علی ، چوہدری محمد رمضان ، آشٹن انڈرلائن میں ضیاء الرحمن انصاری ،چوہدری حبیب الرحمن خطیب،ویکفیلڈ میں مولاناعبدالستار عاصم ، حاجی عبدالمجید ، کیتھلے میں قاضی تاج ، محمد شعیب لالہ فیض عالم، مانچسٹرمیں چوہدری محمد اشرف ،محمد جاوید ،فروخ ظہیر، اولڈھم میں حاجی محمد اقبال بھٹی چوہدری مقصود احمد ، مولانا شفیق الرحمن شاہین ،ڈیوزبری میں حاجی محمد اسحق ،ہڈرسفیلڈ میں مولانامحمد زکریا سعود ، سکپٹن میں حاجی محمد نذیر و دیگراحباب جماعت سے ملاقات کی ، قائدین نے انہیں بتایاکہ اڑھائی سال قبل جماعتی انتخابات میں منتخب ہونے والی قیادت نے جماعت میں کارکردگی کے اہداف کا تعین کیا تھاان میں دستوری ، تبلیغی ، دعوتی انتظامی ، تعلیمی اور تنظیمی معاملات شامل تھے دعوتی سلسلہ کو منظم کیا اوردعوتی نقطہ نظر سے اسے سات زونوں میں تقسیم کیا تھا اردو وانگریزی کے مختلف پروگراموں کو مرتب کیا اور مختلف برانچوں میں متعین کردوہ عنوانات پر دروس کا انعقاد کیا گیا جس سے جماعت میں علم وآگہی اور شعوری بیداری کی نئی لہراور حرارت دوڑ گئی تھی اورپھرکروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہوگیاجس سے لائیو دروس جاری نہ رکھے جاسکے ،لیکن اس کے باوجودقیادت نے آن لائن دروس اور کانفرنسز کا اہتمام کیا جس سے احباب جماعت سے رابطہ تیز ترہوگیا ،اسی طرح آن لائن میٹنگوں کاسلسلہ جاری رکھا جس کے کم ازکم 33اجلاس زوم میں کیے گئے ، جماعتی ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کیاگیا۔ گزشتہ تقریباًنصف صدی سے جاری ایک معیاری ماہانہ میگزین صراط مستقیم کی ماہانہ آن لائن اشاعت کا آغاز کیا ،جس سے اس کا حلقہ قارئین وسیع تر ہوگیااور دنیا کے تمام ممالک کے اہل توحید کو مستفید ہونے کاموقع میسر آگیا، اسی طرح عصر حاضر کے جدید مسائل مثلاًانسانی اعظاء کی پیوند کاری ،لاک ڈاؤن کے دنوں میں مساجد میں رونقوں کی بحالی ، کرونا ویکسین کے خلاف بعض لوگوں کے شکوک و شبہات کاازالہ سرفہرست رہے ۔ اور اس کیلئے مستند ڈاکٹروں ، فزیشنزاور فارماسسٹ ماہرین کوآن بورڈ لیاگیا ، نیزنئی برانچز کے قیام کیلئے مسلسل رابطے اور تعاون کاسلسلہ بھی منظم کیاگیا ویکفیلڈ میں مسجدکیلئے جگہ خریدی گئی ، گلوسٹر میں بھی انتظام کیاجارہاہے ،بریڈفورڈ3میں مرکز ام القریٰ اور لیڈز میںمسجد الرحمۃ کے قیام اور تشکیل کے علاوہ، یوکے کی بڑی بڑی برانچز میں دعوتی وتعلیمی کام کیلئے سسٹم متعارف کروایا، ،دستوری ڈھانچہ کی ازسرنوترتیب دی گئی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باوجود جماعت کاکام عام حالات کی بجائے زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دیا گیاہے، جماعت کی تعلیمی سرگرمیوں میں نصاب کی اشاعت کا اہتمام ہوا اورپھراس سارے نصاب کو آن لائن کردیاگیاجس سے اشاعت سے استفادہ آسان اورعام ہوگیااور تمام خادمان جماعت نے اس عزم کا اظہار کیاکہ ان شاء اللہ ہر صورت میں جماعت کو منظم متحرک اور مفیدترین بنایاجائے گااور یوں جماعت جو پچھلے پچاس سال سے برطانیہ میں دعوت الی اللہ میں مصروف ہے،مزید بہتراور منظم انداز میں اپنے اہداف میں آگے بڑھے گی ، آخر میں جماعت کے تمام ذمہ داران نے ناظم اعلی حافظ حبیب الرحمن حبیب کی والدہ کی وفات پر ان سے اظہار تعزیت اورمرحومہ کیلئے دعائے مغفرت کی کہ غم و اندوہ کے ایسے سانحہ کے باوجود حافظ حبیب الرحمن نے دعوتی کام اور تنظیمی دوروں میں تعطل پیدا نہیں ہونے دیا اور اسے جاری وساری رکھا بلاشبہ جماعتوں کی ترویج واحیاء کیلئے ذمہ داروں کاایسا احساس ہی حیات نو کاسبب بنتا ہے ،ناظم نشرواشاعت المرکزیہ حافظ عبدالاعلی درانی نے بتایاکہ خادمان جماعت اورداعیان توحید و سنت کے باقی برانچوں کے دوروں کی تشکیل بھی دی جا چکی ہے جوباذن اللہ موسم گرما میں تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں