عہد نبوی ﷺ میں ہجرت حبشہ کچھ غور طلب پہلو۔ محمد عبد الہادی عمری

سرزمین مکہ ابتدائی دنوں میں فدائیان اسلام پر جب تنگ ہونے لگی تو ان مظلوم و مقہور مسلمانوں کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہوئی تاکہ کسی افتاد سے شمع اسلام متاثر ہوئے بغیر دنیا کو ضياء بخشتی رہے اور صدائے اسلام مکہ مکرمہ تک ہی محدود یا محصور ہو کر نہ رہ جائے ،یہ روشنی اور علاقوں کو بھی منور کرے، اس اہم مقصد کے علاوہ نومسلموں کی حفاظت اور دین اسلام کی تبلیغ کے لیے رسول اکرم ﷺکی نظر انتخاب حبشہ پر پڑی، حبشہ موجودہ ایتھیوپیا کا علاقہ جو ایک مستحکم ریاست اور منصف حکمران کی وجہ سے مشہور تھا، حبشہ کا انتخاب کسی جلد بازی یا افرا تفری کا فیصلہ نہیں۔ یہ گہری سوچ اور مدبرانہ منصوبہ کا نتیجہ تھا، مختلف دانشوروں نے اس انتخاب کا سبب وہاں کے عیسائی حکمران کے عادلانہ مزاج کو قرار دیا ہے، بلاشک وشبہ یہ ایک اہم سبب ہے لیکن صرف یہی ایک سبب نہیں ہو سکتا، ورنہ اس وقت اور بھی مختلف عیسائی حکمران گرد و نواح میں موجود تھے۔

عہد نبوت کے ابتدائی حالات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جشہ اور مکہ کے درمیان پہلے ہی سے روابط تھے، مکہ مکرمہ سے تجارتی قافلوں کی آمد ورفت کی فہرست میں حبشہ بھی شامل تھا، اگر چہ کہ شام اور یمن کے مقابلہ میں وہاں کا سفر کم ہوتا، کیونکہ وہاں تک پہنچنے کے لیے بری سفر کا راستہ طویل اور بحری سفر خطرات سے خالی نہ تھا، رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی جو شاہ حبشہ کے نام اپنے عم زاد سیدنا جعفر بن ابی طالب کے ہاتھ آپ نے دیا، اس کی حیثیت ایسے تعارفی خط کی کہی جاسکتی ہے جیسے آپ ﷺ شاید ذاتی طور پر جانتے ہوں، بلکہ مشہور مؤرخ اور محقق ڈاکٹر حمید اللہ ﷫ (فرانس) نے تو یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ بعید نہیں جو تجارتی سفر قبل از نبوت آپ ﷺ نے فرمائے ان میں جشہ کا سفر بھی رہا ہوگا ۔ ( از رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی)

اگر سفر نہ بھی کیا ہو لیکن باہمی تعارف اور راہ و رسم کا اندازہ اس خط کے اسلوب اور مندرجات سے لگایا جاسکتا ہے ۔

مزید یہ کہ قریش نے ان مہاجرین کے تعاقب میں اپنا جو وفدعبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن العاص کی سرکردگی میں بھیجا اور انہوں نے وہاں پہنچ کر مہاجر مسلمانوں کی واپسی کے لیے جو طریقہ اختیار کیا، اس سے دیگر امور کے علاوہ دو باتیں مترشح ہوتی ہیں کہ اس وفد کو وہاں کے حالات اور ماحول سے بخوبی شناسائی تھی۔بادشاه اور اعیان حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات بھی تھے ، اسی تعلق کی بنیاد پر انہوں نے ابتدائی مرحلہ میں اپنےمقصد میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کرلی تھی، یہ اور بات ہے کہ با دشاہ کی انصاف پسند طبیعت نے فریق ثانی مہاجرین کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا، جس کے بعد حالات یکسر بدل گئے ۔

اس موقع پر سیدنا جعفر کی تقریر دربار نجاشی میں اسلام کے مزاج کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، وقت ضرورت کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے کی گنجائش کے باوجود ایمان و مسلماتِ دین کی حفاظت لازمی ہے ، اعتقادی مسائل میں کوئی مداہنت روا نہیں۔ بظاہر سیدنا جعفر کے سامنے حالات کی سنگینی اور نزاکت تھی، مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے بچتے ہوئے یہاں پہنچے، اب مشرکین کا وفد یہاں تک پہنچ کر ذمہ داران حکومت کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کانے میں کامیاب دکھائی دے رہا تھا۔ حضرت جعفر سے حبشہ آنے کا سبب دریافت کیا گیا تو جواب کا اسلوب کچھ اور تھا لیکن حضرت عیسیٰ اور مریم علیہا السلام کے متعلق جب استفسار ہوا تو دوٹوک جواب دیتے ہوئے سورہ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت کی ، جن میں مریم اور عیسیٰ علیهما السلام کے متعلق اسلام کا موقف صراحت کے ساتھ موجود ہے، سامعین اور حکمران پر اس حق گوئی اور بیباکی کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ منصف مزاج حکمران کی آنکھوں سے اعتراف حق کے آنسو چھلک پڑے ۔ پھر نو وارد مسلمانوں کے لیے پروانہ سلامتی عطا کیا گیا کہ جب تک چاہیں اطمینان سے یہاں رہ سکتے ہیں، گویا موجودہ برٹش اصطلاح میں INDEFINITE STAY اور امریکی اصطلاح میں گرین کارڈ دے دیا گیا۔

پھر اس منصف مزاج بادشاہ اصحمی کی حق پسندی نے قبول اسلام کی طرف رہنمائی کی، محدثین کی رائے کے مطابق قاصد نبوی عمروبن امیہ کے ذریعہ بھیجے گئے مکتوب نبوی کی روشنی میں انہوں نے اسلام قبول کر لیااور ان کی وفات پر خاتم النبین ﷺ نے مدینہ منوره میں نماز جنازہ ادا فرمائی کہ آج مرد صالح کی وفات ہو گئی۔ آپ کی امامت میں صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد بھی اس نماز میں شامل ہوئی۔( صحيح بخاری: 1320 )

قال النبي ﷺ قد توفى اليوم رجل صالح من الجيش فهلم فصلوا عليه قال فصففنا فصل النبی ﷺونحن صفوف

اسلام ایک آفاقی دین ہے، دنیا کے تمام انسانوں کے لیے یہ سرچشمہ ہدایت ہے، اس میں رنگ ونسل یا جغرافیائی فرق کو اہمیت نہیں دی گئی، جیسے اس سے پہلے کے لوگوں نے دے رکھی تھی،دنیائے عرب میں اس وقت دو مشہور مذاہب یہودیت اور نصرانیت مختلف جکڑ بندیوں میں الجھے ہوئے تھے، یہودی قبیلہ و خاندان کے تفوق میں گمراہ ہوئے، ان کا دعوی تھا کہ ﴿نَحْنُ أَبْنَاءُ اللهِ وَ أَحِبَّاءُہُ﴾ کہ ہم اللہ کی اولاد اور لاڈلے ہیں، اور اپنی فضیلت کو خاندانی برتری اور پیدائشی استحقاق سمجھ لیا۔ اور نصاری نے اپنی دعوت کو بنی اسرائیل تک محدود کر کے بعض ناقابل قبول اعتقادی گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے، لیکن اس کے بر عکس اسلام میں اصولوں کو ترجیح دی گئی جو آفاقی دین کے لیے ضروری ہے۔ارشاد باری ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ‎﴾(سورة الحجرات:13)

’’ائے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہارے مختلف کنبے اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو، بیشک اللہ جاننے والا اور باخبر ہے ۔‘‘

اور ہادی برحق ﷺنے اپنے خطبہ حجۃ الوداع کے دوران نہایت مدبرانہ اسلوب میں ایک لاکھ سے متجاوز حجاج کے روبرو جس میں مختلف قبیلوں اور برادریوں کے لوگ شامل تھے، ان میں عرب کلچر کے اثرات ہنوز باقی تھے، آپﷺ نے واضح طور پر اعلان فرمایا :

” لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربي ولا احمر على اسود ولا اسود على احمر إلا بالتقوى. ( مسند احمد : 23489 )

کسی عربی کو عجمی یا کسی عجمی کو عربی پر یا کسی سرخ رنگ والے کو سیاہ رنگ والے یا کسی سیاہ فام کو سرخ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقوی کے ۔‘‘

اس آفاقی دین میں ذاتی سیرت اور کردار کی بلندی کو طرہ امتیاز حاصل ہے، اس میں ہر شخص کے لیے مساویانہ حقوق حاصل ہیں، چنانچہ گلدستہ صحابہ میں ہمیں رنگ برنگے پھول دکھائی دیتے ہیں ۔

ابو بكر صديق قریشی کے ساتھ بلال حبشی، سلمان فارسی ،صہيب رومی وغیره وغیره، متعدد نوع بنوع اور پس منظر کے افراد دکھائی دیتے ہیں

اصول و نظریہ کی پختگی ریاست اسلامی کی وسعت کا سبب بنی ، انتہائی قلیل عرصہ میں دنیا کے وسیع حصہ پر قانون الٰہی نافذ ہو سکا، لیکن بتدریج آفاقی اصولوں کو چھوڑنے کے نتیجہ میں حالات کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

رمضان کی مناسبت سے بعض حفاظ اور قراء بیرونی ممالک خصوصاً عرب ممالک سے مغربی ممالک انگلینڈ ، امریکا و غیره مدعو کئے جاتے ہیں، یہ یہاں کی قدیم روایت ہے تاکہ ماہ مبارک میں حسن قراءت کی سماعت سے لوگ اپنے ایمان کو جلا بخش سکیں، اگر چیکہ مقامی حفاظ کی موجودگی میں ان کی ضرورت زیادہ نہیں لیکن “کُلُّ جَدِیْدٌ لَذِيْذٌ” کا قاعدہ اور قرآن مجید کے ساتھ لوگوں کی وابستگی اپنی جگہ مسلم ہے، یہ نووارد حفاظ امریکا، انگلینڈ وغیرہ میں ایک ماہ گزارتے ہیں،تو انہیں اپنے ممالک اور یہاں کی باتوں میں فرق دکھائی دیتا ہے، پھر بیشتر کی کوشش یا کم از کم خواہش ہوتی ہے کہ واپسی کے بجائے اس پر دیس کو مستقر بنا لیا جائے ، کئی ایک کو اس میں کامیابی بھی ہوئی اور بہت کم مدت میں ان نوواردوں کو یہاں وہ مادی سہولتیں حاصل ہوئیں جو ان کے اپنے ممالک میں تیسری نسل کے لیے بھی ناپید تھیں ۔

اور کئی ایسے عرب حضرات ہیں جو انگلینڈ، فرانس، جرمنی اور ہالینڈ وغیرہ میں رہائش پذیر ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے جو اپنے ملکوں سے بھاگے ہوئے ہیں، اپنی جان اور دین کی حفاظت کی خاطر، ان کے اس اقدام کے خلاف بعض عرب خطباء نے نہایت جذباتی بیانات دیئے اور اس کو نا جائز اور غلط قرار دیتے ہوئے کچھ فقہاء کے اقوال کو بھی بطور استدلال پیش کیا کہ غیر مسلم ممالک میں رہائش درست نہیں وغیرہ، اس نوعیت کے فتوے وقتا فوقتا چھتے رہتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ خود ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کہ غیر مسلم ملک کی معتبر تعریف کیا ہوگی، بعض ممالک میں عددی لحاظ سے مسلمانوں کی کثرت کے باوجود وہاں حکومت اسلامی کے نقش بہت کم ملتے ہیں۔ ورنہ بیشتر ممالک چند مسائل میں آزادی دیتے ہیں کہ اس حد تک اپنے عقیدہ اور دین کے مطابق عمل کریں، شادی بیاه ، طلاق اور وراثت وغیرہ وغیرہ، اسے بیشتر عرب ممالک میں الاحوال الشخصیہ کا نام دیا گیا ، انڈیا میں مسلم پرسنل لا کا نام دیا گیا ، باقی مسائل ملکی قوانین کے مطابق تمام رعایا پر یکساں لاگو ہوں گے، جس کا ماخذ شریعت نہیں ۔

یہاں یہ حقیقت ذہن میں ہونی چاہئے کہ فقہ کی اکثر معتبر کتابیں اس زمانہ میں مدون کی گئیں، جب ریاست اسلامی اپنی پوری تابندگی کے ساتھ قائم تھی۔ ہر سطح پر مسلمانوں کا غلبہ تھا، سیاسی، تمدنی اور مادی لحاظ سے وہ نہایت درخشاں دور تھا، اس عہد زریں میں مرتب کردہ کتابوں میں یہ باب تو ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں یا ریاست اسلامیہ میں مقیم غیر مسلموں کے حقوق اور تقاضے، کیونکہ اس وقت کا یہی مسئلہ تھا، علماء نے ان پر گراں قدر محنت کی لیکن ان بزرگوں کے لئیے اس ترقی یافتہ دور میں اس کے بر عکس سوچنا آسان نہیں تھا، غیر مسلم یا سیکولر ریاست میں مسلم اقلیت کے مسائل، اب حالات خاصے بدل چکے ہیں۔ بعض ممالک جہاں اگر چیکہ مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن وہاں کا طرز زندگی رعایا کے ساتھ سلوک اور معاشرتی نا انصافیاں وغیرہ لوگوں کو ترک وطن پر آمادہ کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات مجبور کرتی ہیں۔

اس مسئلہ میں جذباتی بیانات یا بعض احادیث کو سیاق وسباق سے حذف کر کے بیان کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔ اس میں غور طلب اہم پہلو ہجرت جشہ اور اس کے مضمرات ہیں۔ یہ ہجرت براہ راست رسول اکرم ﷺ کے مشورہ اور نگرانی میں انجام پائی، آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام نے نبوت کے پانچویں سال دو مرتبہ کی، پہلی بار چھوٹا گروپ جس میں بارہ مرد اور چار خواتین شامل تھیں، دوسری مرتبہ نسبتاً بڑا گروپ جس میں 83 مرد اور 19 عورتیں تھیں، دنیا کی مقدس ترین سرزمین مکہ مکرمہ چھوڑ کر اپنے دین اور جان کی سلامتی کی خاطر حبشہ کی طرف ہجرت کی جو کہ اس وقت نہ مسلمانوں کا ملک تھا اور نہ ہی وہاں اسلامی قوانین نافذ تھے ۔

وہاں کا حکمران نصرانی تھا اور رعایا کی اکثریت بھی اسی عقیدہ کی پیرو کار تھی ، گویا حفاظت جان و دین کی خاطر مکہ جیسی مقدس سرزمین بھی خیرباد کی جا سکتی ہے ۔ان مہاجرین میں خلیفہ ثالث صحابی جلیل عثمان اور دختر رسول ﷺسیدہ رقیہ بھی تھیں ۔

یہ عنوان تفصیل طلب ہے ۔ اس مختصر مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں، اس میں صرف چند اہم باتیں ذکر کی جا رہی ہیں۔

ہجرت کا بنیادی مقصد جان اور دین کی حفاظت ہو ، جس ملک کا قصد کیا جارہا ہے، وہاں اسلامی شعائر کے اظہار اور عمل درآمد کی گنجائش ہو، وہاں اسے کسی کفر یا شرک کا مرتکب نہ ہونا پڑے اور نہ ہی اسلام کے مقابلہ میں کسی کا فریا مشرک کے ساتھ موالات کو ترجیح دی جائے دوستی اور موالات کا فرق بھی ذہن میں رہنا چاہیے ۔

فرعون کے دربار میں اللہ کے نبی سیدنا یوسف کی خواہش خزانہ کی ذمہ داری مجھے تفویض کی جائے، بہت ہی معنی خیز ہے:

﴿اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ﴾ (سورہ يوسف:55)

امام قرطبی﷫ نے اس ضمن میں استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک فاضل گرامی شخصیت نبی کا کسی غیر مسلم حاکم کے ہاں عہدہ سنبھالنا اور ذمہ داری نبھانا درست ہے، بشرطیکہ اس کے اپنے دین پر آنچ نہ آئے ، اس کا فائدہ متوقع ہو اور اس سے امت مسلمہ کو ضرر نہ پہنچے۔ (احکام القرآن للقرطبی )

دور یوسفی کے حکمران اور عہدموسوی کے فرعون کے کردار میں بہت فرق ہے۔ اسے بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔

امام بخاری ﷫ نے تو ایک مستقل باب ہی اس عنوان سے قائم کیا ہے:

هل يواجر الرجل نفسه من مشرك في ارض الحرب

عَنْ خَبَّابٍ قَالَ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قُلْتُ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ثُمَّ يُحْيِيَكَ قَالَ إِذَا أَمَاتَنِي اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ

(صحیح بخاری : 4733 )

سیدنا خباب بن ارت فن آہن گری میں ماہر تھے، انہوں نے عاص بن وائل کے لیے تلوار بنائی، لیکن وہ محنتانہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا، عجیب شرط رکھی کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کرے، صحابی رسول سے یہ مداہنت کہاں ہو سکتی تھی فرمایا کہ تم مر کر اگر دوبارہ جی اٹھو، پھر بھی تمہاری یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔ اس نے دریافت کیا کہ کیا مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جاؤں گا، جواب دیا ہاں، اس مشرک نے کہا اگر دوبارہ زندگی ممکن ہو تو تمہارا قرض بھی اسی زندگی میں چکاؤں گا۔

یہ واقعہ مکہ مکرمہ ہجرت کے بعد کا ہے ، اس میں مذکورہ صحابی کا مکہ میں قیام اور مشرکین کے ساتھ کام کاج دونوں واضح ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی عقیدہ سے متانت اور پختگی بھی چھلک رہی ہے۔

دعوت و تبلیغ کی غرض سے کسی غیر اسلامی ملک میں قیام پر علماء امت کا اتفاق ہے، مشہور قاعدہ ہے:

“مالا يتم الواجب إلا به فهو واجب.”

ادائیگی فریضہ کی خاطر جو چیز ضروری ہو، اس کا اختیار کرنا بھی ضروری متصور ہوگا اور کسی عارضی سبب حصول علم، تجارت، علاج معالجہ وغیرہ کے لئے جانے اور وہاں وقتی قیام کرنے میں تو حرج ہی نہیں۔

سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی وفات سےایک سال قبل شام کے شہر بصری کا سفر تجارتی غرض سے کیا تھا، جبکہ وہ علاقہ غیر مسلموں کا تھا اور حکومت بھی غیر مسلم تھی ۔

اہل خیبر کے ساتھ زراعت اور کھیتی باڑی کے بٹائی کا معاہدہ کیا گیا جس کے لیے صحیح بخاری میں ایک مستقل باب باندھا گیا :

بات مشاركة الذمى والمشركين فى المزارعة

بعض احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کچھ علماء نے اس مسئلہ میں غیر مسلم ممالک میں قیام کے خلاف انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے، جیسے ترمذی میں مذکور حدیث

انا برى من كل مسلم يقيم بين اظہر المشركين قالوا یا رسول الله ﷺولم قال لا تترای نار هما (سنن ابوداؤد : 2645)

’’ میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان قیام کرے۔ ‘‘

اسی لیے بعض اوقات آیات اور احادیث کا پس منظرشان نزول سے واقفیت درست مفہوم تک پہنچنے میں اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ کن حالات میں کیا حکم صادر ہوا، مذکورہ حدیث خاص پس منظر سے تعلق رکھتی ہے، اس کو عمومی حیثیت دی جائے تو متعدد صحیح احادیث کی تطبیق مشکل ہوگی اور باہم تعارض دکھائی دے گا ۔ جیسے ام المومنین عائشہ صدیقہ کا ہجرت سے متعلق ارشاد کہ

لاهجرة اليوم كان المؤمن يفر بدينه إلى الله مخافة ان يفتن اما اليوم فقد اظهر الله الاسلام والمؤمن يعبد ربه حيث شاء ( صحیح بخاری: 3900 )

ہجرت کا حکم اب نہیں۔ یہ اس وقت ضروری تھا جب ایک مسلمان فتنہ سے بچنے کے لئیے اپنے دین کی حفاظت کی خاطر کیا کرتا، لیکن اب الله نے اسلام کو غلبہ عطا فرمایا، لہٰذا مؤمن کسی بھی جگہ سے اپنے رب کی بندگی کر سکتا ہے۔ ام المومنین کے اس خیال پر علماء نے مختلف تو جیہات کرتے ہوئے تفصیلی بحث کی ہے کہ ہجرت کب اور کیسے ضروری ہوتی ہے۔ فتح الباری میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ کسی کے لیے دین کی حفاظت خطرے میں ہو اور محفوظ جگہ پناہ لینے کے امکانات واضح ہوں ، تب اگر کسی کی پیدائش ہی ایسے ملک میں ہوئی ہو، جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں ، ان کروڑوں پیدائشی مسلمانوں کے لیے موجودہ حالات میں ممکن نہیں کہ پیدائشی وطن چھوڑ کر کسی اسلامی ریاست کی طرف ہجرت کریں اور وہاں مسلمان مامون ہوں یا انہیں قبول کر لیا جائے۔ بطور مثال برما کے مسلمانوں کو دیکھ لیجیئے ،50سال سے زیادہ بیت گئے انہیں عارضی کیمپوں میں پناہ گزین

ہوئے ، اس طویل مدت کے باوجود کوئی پڑوسی ملک انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ ان بیچاروں پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا۔

نہایت بے دردی کے ساتھ سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنا دئیے گئے ، ان میں کچھ کسی طرح عرب ممالک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اور اس وقت ان کی تیسری نسل وہاں جوان ہو رہی ہے لیکن ابھی تک ان نوواردوں کو مستقل اقامہ یعنی گرین کارڈ ہی نہیں مل سکا، اس لحاظ سے وہاں ان مہاجروں کو طویل عرصہ پچاس برس گزرنے کے باوجود باعزت زندگی گزارنے کے مواقع نہیں۔ اس کے بر عکس یہ تلخ اور افسوسناک حقیقت ہے کہ

ہزاروں لوگ عرب ممالک مراکش، مصر ، الجزائر، عراق، ليبيا، شام وغيره وغیرہ سے جان بچا کر یورپ پہنچے ، وہاں انہیں شہریت، پاسپورٹ اور مادی سہولتیں فراہم کی گئیں ۔

ان نوواردوں کی ایک معقول تعداد مساجد ، اسلامی مراکز اور مدارس تعمیر کرنے اور دینی سرگرمیوں کے ساتھ وابستہ ہوئی ، گو کہ ایسے بھی لوگوں کی ان میں کمی نہیں جو مغربی مادیت کے سیلاب میں بہہ گئے۔ گویا مثبت اور منفی دونوں امکانات موجود ہیں ، ہزاروں مقامی باشندے دعوتی سرگرمیوں کے باعث قافلہ حق میں شامل ہوئے لیکن منفی نتائج کی بنیاد پر جذباتی بیانات دینا حالات سے بے خبری اور حقیقی مسائل سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوگا ، اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ

مسلم ریاست کے مقابلہ میں غیر مسلم ممالک کو ترجیح دی جائے، اولیت اور ترجیح تو مسلم ملک کے قیام ہی کو ہوگی، لیکن علماء کرام کے لیے ضروری ہے کہ رائے یا فتوی دینے سے قبل حالات کا درست جائزہ بھی لیں، اس کے لئے ہجرت حبشہ کا گہرائی سے مطالعہ ضروری ہے۔

٭٭٭

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت کا سبب

حافظ ابن حجر ﷫ فرماتے ہیں:

’’ دیگر دنوں سے عشرہ ذی الحجہ کے امتیاز کا ایک سبب یہ معلوم ہوتاہے کہ ان دس دنوں میں بڑی بڑی عبادات جمع ہو جاتی ہیں، جیسے نماز، روزہ، صدقہ اور حج، عبادات کا یہ اجتماع دیگر ایام میں نہیں ہوتا۔ (فتح الباری: 2؍460)

اللہ کا مخلوق کی قسم کھانا، عظمت کی دلیل ہونا

امام ابن القیم ﷫ فرماتے ہیں:

’’ اللہ تعالیٰ کا اپنی کچھ مخلوقات کی قسم کھانا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مخلوق اس کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ (التبیان فی اقسام القرآن از ابن قیم: ص1)

٭٭٭

10 راتوں کی قسم، عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت کی علامت

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:

’’ قسم ہے فجر کی، اور (ذوالحجہ کی) دس راتوں کی۔‘‘ (سورۃ الفجر، آیت نمبر 1۔ 2)

10 راتوں سے مراد، ذوالحجہ کی راتیں ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس ، امام ابن جریر طبری، امام ابن کثیر، امام ابن رجب الحنبلی﷭۔ (تفسیر طبری: 11؍ 531؛ تفسیر ابن کثیر: 14؍ 338؛ لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف لابن رجب: ص 260)

٭٭٭

تبصرہ کریں