’ابدال‘ سے متعلق بعض ضعیف اور موضوع روایات۔ ابوعبدالله محمد تمیم مدنی ،الجبیل، دعوت سنٹر، سعودی عرب

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام علی محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين و أما بعد:

دین اسلام کی طرف منسوب ہونے والے جتنے بھی فرقے موجود ہیں، ان میں سے کوئی فرقہ ایسا نہیں ، جو اپنے گھڑے ہوئے عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے قرآن وحدیث کا سہارا نہ لیتا ہو، یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے مسلک و مذہب کو حق ثابت کرنے کے لئے اللہ کے کلام اور فرمان رسولﷺ کی من مانی تفسیر وتشریح کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اور اہل سنت والجماعت کے درمیان فرق ہو جاتا ہے کیونکہ اہل حدیث کو سلف صالحین بالخصوص صحابہ کرام کے واسطے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہی باطل اور گمراہ فرقوں میں سے صوفیاء بھی ہیں، جن کے یہاں قرآن کی ایک ظاہری تفسیر ہے اور ایک باطنی، جوسینہ بسینہ بزرگوں سے ان تک منتقل ہوتی چلی آئی ہے، اسی باطنی تفسیر کا سہارا لے کر وہ اپنے باطل عقائد وخیالات کے لئے دلیل فراہم کرتے اور اپنی گھڑی ہوئی مخصوص اصطلاحات کو ثابت کرتے ہیں، جب کہ رسول ﷺ اورصحابہ کرام سے اس طرح کی تفسیر منقول ہی نہیں ہے، اسی طرح انہوں نے قرآن کی معنوی تحریف کر ڈالی، کیونکہ قرآن کی لفظی تحریف ان کے لئے ممکن نہیں، لیکن احادیث رسولﷺ میں انہوں نے اپنے لئے کھلا ہوا میدان پایا، چنانچہ انہوں نے اپنے باطل افکار و خیالات اور اصطلاحات کو سچ باور کرانے کے لئے صحیح حدیثوں کی معنوی تحریف ہی نہیں کی، بلکہ اپنی طرف سے حدیثیں بھی گھڑی اور بڑی جرأت کے ساتھ انہیں اللہ کے رسولﷺ کی طرف منسوب بھی کیا۔

صوفیوں کے یہاں مخصوص منصب ہیں جن کے لئے انہوں نے کچھ خاص القاب وضع کئے ہیں ، انہی میں سے ایک اہم اصطلاح ’ابدال‘ کی ہے جس کے لئے انہوں نے بہت ساری احادیث گھڑی ہیں لیکن وہ ان کے مزعومہ ( گھڑے ہوئے) معانی پر دلالت نہیں کرتیں۔ جیسا کہ علامہ البانی﷫ ابدال سے متعلق احادیث کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ان روایات سے زیادہ لفظ کا استعمال کیا ہے، کہ فلاں ابدال میں سے ہے۔‘‘(سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ : 5؍520)

لیکن صوفیاء کے ابدال کی کہانی کچھ الگ ہی ہے۔

یہ لفظ صوفیاء کے یہاں بہت مشہور ہے، ان کے خیال کے مطابق، علی اختلاف الاقوال 7، 30 یا 40 ابدال ہوتے ہیں، جب بھی ان میں سے کوئی مر جاتا ہے اس کی جگہ پُر کر دی جاتی ہے۔

ابدال کے معانی:

صوفیوں کی اصطلاح میں ابدال وہ اولیاء اللہ ہوتے ہیں جن کی برکت اور فیض سے مومنوں کو روزیاں ملتی، اور دشمن کے خلاف ان کی مدد ہوتی ہے۔

انہیں ابدال کیوں کہا جاتا ہے ؟

ابدال کی وجہ تسمیہ کے سلسلے میں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

’’لوگوں نے اس کی چند وجہیں بیان کی ہیں:

1۔ ان سے مراد انبیاء﷩ ہیں، جو یکے بعد دیگرے آتے رہے ہیں ۔

2۔ ان سے مراد وہ (40 ) اولیاء ہیں ، جن میں سے کسی کے مرنے کے بعد دوسرے کو اس کے قائم مقام رکھ دیا جاتا ہے (یہی معنی صوفیوں کے یہاں رائج ہے۔) ( راقم)

3۔ انہیں ابدال کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان ہستیوں نے برائیوں کا بدلہ، اپنے اخلاق وکردار ، اورعقائد سے دیا۔ (فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ: 11؍441، 442)

درج ذیل سطروں میں علامہ البانی ﷫ کی مشہور تصنیف سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ والموضوعہ میں، ابدال سے متعلق بکھری ہوئی چند حدیثیں اور ان کا ترجمہ ومفہوم پیش خدمت ہے۔

حدیث نمبر 1:

ابونعیم ابدال سے متعلق ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ

’’ ہر زمانہ میں میری امت کے اندر 500 (پانچ سو)، امت کے بہترین لوگ ہوں گے، اور 40 ابدال ، نہ تو 500 (پانچ سو) میں سے کم ہوں گے ، اور نہ 40 ابدال ہی کم ہوں گے، جب بھی ابدال میں سے کوئی مر جاتا ہے، الله تعالی 500 (پانچ سو) میں سے ان کی 40 کی تعداد پوری کردیتا ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ ) ہمیں ان کے نیک اعمال کے بارے میں بتائیں ، فرمایا: ظلم کرنے والوں کو معاف کردیتے ہیں، برائی کا بدلہ نیکی سے دیتے ہیں ، اور اللہ کے دئیے ہوئے مال کے ذریعہ دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں۔‘‘ (حلیۃ الاولياء : 1؍ 8)

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی ﷫نے اس حدیث کو موضوع ( گھڑی ہوئی ) قرار دیا ہے، نیز فرمایا کہ ابدال کے سلسلے میں وارد شدہ کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے ، تمام کی تمام روایتوں میں علتیں ( کمزوریاں ) پائی جاتی ہیں، بعض بعض سے زیادہ ضعیف ہیں۔

امام ذہبی﷫ نے میزان الاعتدال میں اور حافظ ابن حجر﷫ نے لسان المیز ان میں لکھا ہے کہ

’’ابدال کے اخلاق والی یہ خبر جھوٹی ہے۔‘‘ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: 935)

تبصره:

باعتبارسند اً بھی آپ نے اس موضوع حدیث پر حکم ملا حظ فرمایا لیکن غور کرنے سے اس کے متن پر بھی بہت ساری قابل گرفت باتیں ہیں:

1۔ اس گھڑی ہوئی روایت میں ابدال کے جن محاسن و خوبیوں کا تذکرہ ہے ان میں سے ایک بھی نہ عقیدہ سے متعلق ہے اور نہ ہی ان کے ایمان کے بارے میں کوئی بات کہی گئی ہے، جب کہ عقیدہ وایمان وہ بنیادی چیزیں ہیں جن پر دین کی بنیاد رکھی گئی ہے، اس کے بعد پھر اعمال کا درجہ آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے اولیاء اور نیک بندوں کا تذکرہ کیا وہاں ان کے ایمان و عقیدے کے بارے میں بھی بتایا۔ ارشاد ربانی ہے:

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‎0‏ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾

’’یادرکھواللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پر ہیز رکھتے ہیں ۔‘‘ (سورۃ یونس: 62۔63)

ان آیات میں اولیاء اللہ کی صفات میں سب سے پہلے ایمان کا تذکرہ ہوا، اسی طرح ارشاد ربانی ہے:

﴿الم 0‏ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ‎0‏الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ‎0‏ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ‎0‏ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

’’الف لام، اس کتاب (کے اللہ کی طرف سے ہونے) میں کوئی شک نہیں، پر ہیز گاروں کو راہ دکھانے والی ہے۔ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، اور نماز کو قائم رکھتے ہیں، اور ہمارے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں ، اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا ، اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ۔‘‘(سورۃ البقرۃ: 1۔5)

اس آیت میں بھی ایمان اور عقیدے سے ہی متقیوں کی صفات کی ابتدا ہوئی لیکن مذکورہ گھڑی ہوئی روایت میں عقیدے کا ذکر سرے سے غائب ہے، اور یہی حال ان صوفیوں کا بھی ہے کہ انکے مذہب میں عقیدہ وایمان ثانوی درجہ رکھتے ہیں، ظاہری طور پر حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں ، جھوٹی معافی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور اللہ کے سادہ لوح بندوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کے ریا کارانہ طور پر ان کی امداد کا چرچا کرتے ہیں، جب کہ ایمان و عقیدے کے میدان میں شرک کے دروازے کھولے ہوئے ہوتے ہیں، اپنی شان میں اللہ کے بندوں سے تعظیم اور ادب واحترام کے نذرانے وصول کرتے ہیں، ان کے درباروں سے اللہ کے بندوں کو، چوکھٹوں اور آستانوں پر سجدہ تعظیمی اور ماتھے ٹیکنے کے اسباق ملتے ہیں، اور اپنی تقدس اور جھوٹی ولایت کا چرچا اس قدر وسیع پیمانہ پر کرواتے ہیں کہ اللہ کے سادہ لوح بندے ان کے عقیدہ و ایمان کے بارے میں کچھ دریافت کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔

2۔ ان کے یہاں خدمت کی نمائش خوب خوب ہوتی ہے، اور یوں مصیبتوں میں لوگوں کے کام آ کر ان بیچاروں کے ایمان وعقیدے کا سودا کر تے ہیں ، وہ بے چارے نہیں جانتے کہ تقدس کے اس پردہ میں بے ایمان سوداگر ہیں۔

حدیث نمبر2:

سیدنا ابراہیم کے ہم مرتبہ اس امت میں تیسں (30)ابدال ہیں، جب بھی ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو اس کا قائم مقام قرار دے دیتا ہے ، یہ منکر روایت ہے۔

حدیث کا درجہ:

اس حد یث کے ذکر کے بعد امام احمد﷫ نے فرمایا: ’’یہ حدیث منکر ہے۔‘‘

علامہ البانی ﷫ نے فرمایا: ’’منکر کے ساتھ ساتھ یہ حدیث منقطع بھی ہے، کیونکہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبد الواحد بن قیسں ہے ، جو سیدنا عبادہ بن صامت سے روایت کرتا ہے، حالانکہ اس نے صحابی مذکور کا زمانہ پایا ہی نہیں ۔ ( رواہ احمد، ( سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ 939)

تبصره:

مقام نبوت ورسالت پر ڈاکے ڈالنا اور انبیاء و رسل﷩کی قدر و منزلت کو گھٹانا، نیز خود ساختہ اولیاء کی شان میں غلو کر کے انہیں انبیائے کرام﷩ کے مقام ومرتبہ تک پہنچانا اہل تصوف کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے، اور اس طرح عوام الناس سے جھوٹی شہرت کے نذرانے وصول کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خانہ ساز مذہب کی جملہ کتا بیں اور لٹریچرز قرآن وحدیث میں موجود انبیاء ورسل ﷩ کے قصوں اور معجزات کی بجائے انہی بناوٹی پیروں کے قصے اور کہانیوں سے سیاہ ہوتے ہیں ، جن میں ان پیروں کے ساتھ ایسی جھوٹی اور من گھڑت کرامتیں جوڑی جاتی ہیں کہ کسی نبی اور رسول کی بھی اس تک رسائی ناممکن ہوتی ہے، یہاں مثالیں دینے کا موقع نہیں ، خود اہل تصوف کی کتابوں میں اس کی بے شمار مثالیں ملیں گی ۔ مذکورہ روایت ہی پر غور کریں کہ کس طرح سے سیدنا ابراہیم کے مقام و مرتبہ جیسے ایک دو نہیں بلکہ تیسں (30) ابدال تیار رکھے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے تو پوری کا ئنات میں ایک ہی خلیل پیدا فرمایا لیکن دنیائے صوفیت میں سیدنا ابراہیم جیسے خلیلوں کی کمی نہیں ۔ یہ ہے مقام نبوت ورسالت پر رہزنی اور دھاندلی۔

حدیث نمبر 3:

اوپر والی روایت کو طبرانی نے المعجم الکبیر میں اس طرح نقل کیا ہے :

’’ میری امت میں ہمیشہ 30 ابدال رہیں گے، انہی کے دم سے زمین قائم رہے گی، ان ہی کی برکت سے تمہیں بارش ملے گی ، اور دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کی جائے گی۔ ‘‘

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ فرماتے ہیں:

’’یہ حدیث ضعیف ہے اس حدیث کی سند میں دو مجہول راوی ہیں۔‘‘ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: 2؍340)

تبصرہ: اس روایت میں خط کشیده الفاظ کو بغور پڑھیں، اور سوچیں کہ کیا مقام ربوبیت پر کھلا ہوا حملہ نہیں ہے، الله تعالیٰ تو فرماتے ہیں :

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورة الفاتحہ: 1)

’’یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد جو تمام جہانوں کارب ، منتظم، مدبر اور خالق و مالک ہے۔‘‘

لیکن تصوف کی دنیا میں زمین انہی ابدال کے دم سے قائم بتائی جارہی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ’القيوم‘ یعنی اللہ ہی ، آسمان وزمین اور ساری مخلوقات کو قائم رکھنے والا ہے، لیکن یہاں ابدال کو یہ منصب قیومیت دیا جارہا ہے کہ اولیاء اللہ ہی کے دم سے یہ زمین قائم ہے ورنہ تو اب تک یہ فنا ہو چکی ہوتی۔ (نعوذ باللہ من ذلك)

حدیث نمبر 4:

شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ جب مصر فتح ہو گیا ، تو لوگوں نے اہل شام کو گالیاں دینی شروع کر دیں ، سیدنا عوف بن مالک نے اپنے برنس سے (ایک قسم کا لباس ) سر باہر نکالا اور فرمایا: اے اہل مصر! میں عوف بن مالك ہوں، اہل شام کو برا مت کہو، میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :

«فِيهِمُ الأبْدالُ؛ بِهِمْ تُنْصَرُونَ، وبِهِمْ تُرْزَقُونَ» (طبرانی)

’’اہل شام میں ابدال پائے جاتے ہیں، انہی کی برکت سے تمہاری مدد ہوتی ہے، انہی کے صدقے تمہیں روزی ملتی ہے۔‘‘

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ فرماتے ہیں:

’’یہ حدیث سخت ضعیف ہے، اس حدیث کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب سئی الحفظ ہے، اور عمرو بن واقد متروک ہے۔‘‘ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: 2؍341)

تبصره: اسی کے صدقے، طفیل، واسطے اور وسیلے ہی سے بنی آدم کو شرک میں مبتلا کیا ہے، آج بھی یہی فکر لوگوں میں رائج ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں اولیاء سے مدد مانگتے ہیں، مصیبت میں انہیں کو پکارتے ہیں ، رزق اور اولاد کی ان سے بھیک مانگتے ہیں، جب کہ صحیح بخاری میں سیدنا سعد بن ابی وقاص کے فرزند مصعب کہتے ہیں:

رَأَى سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ» (صحیح بخاری: 2896)

’’سیدنا سعد بن ابی وقاص نے یہ دیکھا کہ بعض کمزور لوگوں کی دعاؤں کی برکت سے تمہاری مدد ہوتی ہے اور تمہیں روزی ملتی ہے۔‘‘

حدیث نمبر 5:

ثلاث من كن فيه فهو من الأبدال الذين هم قوام الدنيا وأهلها: الرضاء بالقضاء ، و الصبر عن محارم الله والغضب في ذات الله ( الدیلمی، مسند الفردوس)

’’تین خصلتیں جس کے اندر پائی جا ئیں وہ ابدال میں سے ہے، جن کی بدولت دنیا اور اہل د نیا قائم ہیں ( وہ خصلتیں یہ ہیں ) قضاء وقدر پر راضی ہونا، اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر صبر کرنا (بچنا ) اور اللہ کے لئے ناراض ہوتا۔‘‘

حدیث کا درجہ:

یہ حدیث موضوع ہے، علامہ البانی﷫ فرماتے ہیں:

’’اس میں ایک راوی میسرہ بن عبد ربہ، کذاب ہے، اور وہ حدیثیں بھی گھٹرتا تھا، اس سند کے دوسرے راوی بھی ضعیف اور متہم ہیں۔‘‘ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ:1474)

حديث نمبر 9:

علامة أبدال أمتي أنهم لا يلعنون شيئا (ابن ابی الدنيا: کتاب الاولياء)

’’میری امت کے ابدال کی علامت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کسی چیز پر لعنت نہیں بھیجتے۔‘‘

ابن ابی الدنیا نے اس حدیث کو اپنی کتاب ’کتاب الاولیاء‘ میں نقل کیا۔

(سلسلۃ الأحاديث الضعیفہ: 1475)

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ فرماتے ہیں:

’’یہ حدیث بلا شک و شبہ منکر ، بلکہ موضوع ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سے زیادہ موقعوں پر (یہود ونصاری پر) لعنت بھیجی ہے، تو یہ ابدال لوگ، نبیﷺ سے زیادہ کامل واکمل ہستیاں ہیں؟ ‘‘

(سلسلۃ الاحادیث الضعيفہ:3؍667)

حدیث نمبر8:

“ان أبدال أمتی لم يد خلو الجنة بالأعمال ، إنما دخلوها برحمة الله، و سخاوة النفس ، وسلامة الصدور ، ورحمة لجميع المسلمین .”

(البیہقی، شعب الایمان)

’’میری امت کے ابدال جنت میں اپنے اعمال کی بدولت نہیں داخل ہوں گے، بلکہ اللہ کی رحمت، سخاوت، و دریا دلی ، سلامت قلوب اور تمام مسلمانوں پر رحم کرنے کے عوض جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ (سلسۃ الاحادیث الضعیفہ: 1477)

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ نے اسے ضعيف جدا کہا ہے۔

حدیث نمبر9:

“لا يَزالُ أرْبَعُونَ رَجُلًا مِن أُمَّتِي قُلُوبُهم عَلى قَلْبِ إبْراهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِمْ عَنْ أهْلِ الأرْضِ، يُقالُ لَهُمُ: الأبْدالُ. إنَّهم لَنْ يُدْرِكُوها بِصَلاةٍ، ولا بِصَوْمٍ، ولا بِصَدَقَةٍ“ . قالُوا: يا رَسُولَ اللَّهِ، فَبِمَ أدْرَكُوها؟ قالَ: ”بِالسَّخاءِ والنَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ” (طبرانی، المعجم الكبير، ابونعیم، حلیۃ الاولیاء)

’’میری امت میں 40 ایسی ہستیاں ہمیشہ موجود رہیں گیا، جن کے دل سیدنا ابراہیم کے دل کے مانند ہوں گے، ان کی برکت سے اللہ اہل زمین سے بلائیں دفع کرتا ہے، انہیں ابدال کہا جا تا ہے ، یہ مقام ومرتبہ انہوں نے صوم وصلاۃ اور صدقہ و خیرات کی وجہ سے نہیں حاصل کیا، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول الله (ﷺ)! پھر اس مقام کو انہوں نے کیسے حاصل کیا ہے؟ فرمایا:

’’فیاضی نفس اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے ذریعہ۔‘‘

(سلسلۃ الأحادیث الضعیفہ: 1478)

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ نے اسے ضعيف جدا کہا ہے۔

تبصره:

مذکورہ دونوں حدیثوں کو پڑھنے اور حالات صوفیاء کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان صوفیوں کی تعلیمات میں ارکان ایمان و اسلام کا نام ونشان تو نہیں ہوتا، لیکن ان بناوٹی پیروں میں وہ صفات ضرور پائی جاتی ہیں جن سے وہ لوگوں کو اپنے دام فریب میں شکار کر سکیں اور انہیں اپنامرید بنا سکیں، چنانچہ ان میں سے اکثر کو دیکھیں گے کہ وہ صوم وصلاة کی پابندی ایک عام آدمی کی طرح سے بھی نہیں کرتے ہیں، اور نہ ہی مسجد کا رخ کرتے ہیں بلکہ اپنی خانقاہ ہی کو آباد کیے رہتے ہیں اور ان کا تو یہ عقیدہ بھی ہے کہ ریاضت کرتے کرتے ، سالک (صوفی ) جب فنا فی اللہ ہو جاتا ہے تو اس سے تکالیف شرعیہ (صلاة، صوم ، زکاۃ اور حج و غیره) ساقط ہو جاتے ہیں اور ان میں سے بہت سے تو اتنے پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ( بزعم خود ) کہ مکہ مدینہ میں صلاۃ ادا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے مرید میں بھی اپنے اس تارک صلاۃ پیر کی اس کرامت کو لوگوں میں بڑھاوا دیتے ہیں ، اور اگر اتفاق سے کسی گستاخ و بے ادب نے پیر صاحب کی صلاۃ کے بارے میں پوچھ لیا تو پھر پیر سے پہلے، مریدان باصفا ہی اسے مجلس شیخ سے نکال باہر کرتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی پیر پائے جاتے ہیں کہ صرف ان کے دست مبارک پر بیعت کر لینے ہی سے ان سے تکالیف شرعیہ ختم ہو جاتی ہیں ، پھر صوم وصلاة کی بجائے حضرت پیر کی خدمت میں نذرانہ ہی نجات کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے، یہ ہے تصوف کے پیر کی وہ حقیقت جس کے ڈانڈے نصرانیت سے ملتے ہیں، ان کے پاپائے اعظم بھی بڑے بڑے مجرموں کو اسی طرح کے پروانہ بخشش عطا کرتے ہیں۔

حدیث نمبر 10:

سیدنا عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:

’’ مخلوقات میں 300 کی تعداد میں اللہ کے کچھ خاص بندے ہیں، ان کے دل سیدنا آدم کے دل کے مانند ہیں ، 40 ایسے ہیں، جن کے دل سیدنا موسیٰ کے دل کے مانند ہیں ، پانچ کے دل سیدنا جبرائیل کے مانند ہیں، 3 ایسی ہستیاں ہیں جن کے دل سیدنا میکائیل کے دل کے مانند ہیں، اور پوری مخلوقات ( اولین و آخرین ) میں ایک ذات ایسی ہے جس کا دل سیدنا اسرائیل کے دل کے مانند ہے، پس جب یہ ایک مر جاتا ہے تو تین بڑی ہستیوں میں سے ایک کو اس کی جگہ مقرر کر دیا جاتا ہے، جب ان تین میں سے کوئی مرتا ہے تو پانچ میں سے اس کی جگہ پُر کردی جاتی ہے، پانچ میں سے کوئی رخصت ہوا تو سات عظیم شخصیتوں میں سے کسی کو اس کا جانشیں بنایا جاتا ہے، 7 میں کمی ہوئی تو 40 میں سے کسی کو اس کی ویکنسی (جگہ) دے دی جاتی ہے، 40 میں کوئی مرتا ہے تو 300 میں سے اس کی تعداد مکمل کر دی جاتی ہے، اور اگر ان 300 میں سے کوئی مرا تو عام لوگوں میں سے کسی کو اس کا جانشیں ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے، انہیں کے ذریعہ اللہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، بارش نازل فرماتا اور پودے اگاتا ہے، نیز بلائیں انہیں کے طفیل سے ٹالتا ہے۔

( موضوع ہے،( ابونعیم الاصفہانی :حلیۃ الاولياء ، سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: حدیث نمبر:1479)

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔

امام ذہبی﷫نے فرمایا:

’’یہ روایت جھوٹی ہے، اور حافظ ابن حجر﷫ نے ان کی موافقت کی ہے۔‘‘ (حوالہ مذکورہ)

فائدہ:

علامہ البانی﷫ فرماتے ہیں :

’’علامہ جلال الدین سیوطی﷫، ( جو کہ خودصوفیانہ خیال کے حامی و مؤید ہیں : راقم اپنی کتاب ’الخبر الدال على وجود القطب والاوتاد والنجباء والابدال‘ کوضعیف احادیث اور واہیات خبروں سے بھر رکھا ہے، بعض روایتیں بعض سے زیادہ ضعیف ہیں ، یہ عجیب و غریب بات ہے کہ انہوں نے قطب جس کے وجود کا اپنی کتاب کے عنوان میں دعویٰ کیا ہے، اس کے بارے میں ایک حدیث بھی نقل نہیں کر سکے ، نہ ہی اوتادنخباء کے اثبات میں کوئی مرفوع حدیث پیش کر سکے۔ پھر سیوطی نے یافعی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود کی حدیث میں جس ایک ہستی کے دل کو سیدنا اسرافیل کے دل کے مانند بتایا گیا ہے، وہی قطب ہے لیکن یہ حدیث جھوٹی ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعيفہ: 3؍671)

حدیث نمبر 11:

مذکورہ مناصب کی کچھ تفصیل یہ ہے:

خطیب نے ابوبکر ابن ابی شیبہ کے واسطے سے، اس حدیث کا اخراج کیا ہے کہ میں نے کنانی سے سنا ہے کہ ’’نقباء 300 ہیں، نخباء 70، ابد ال 40، اخیار 7 ہیں، قطب 4 ہیں ، اور غوث ایک ہے۔‘‘ (شریعت وطریقت: ص 74، بحوالہ : دلائل السلوک :ص 71)

مذکورہ دونوں حدیثوں (10؍11 ) کے بارے میں مولانا عبد الرحمٰن کیلانی﷫ کا تبصرہ یہ ہے کہ ان دونوں احادیث کے تقابل سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

1۔ اولیاءاللہ کے مناصب کی تعداد 6 ہے، سب سے اعلیٰ منصب غوث کا ہے، جس کا دل سیدنا اسرافیل کے قلب کی مانند ہے۔

2۔ سب سے نچلا منصب نقیب کا ہے، یہ کل 300 سیٹیں ہیں اور ان کا دل سیدنا آدم کے قلب کی مانند ہے۔

3۔ باقی 4 مناصب کی نشستوں میں اختلاف ہے اور اسی طرح اس بات میں بھی کہ ان کے قلب کسی کے قلب کی مانند ہیں۔

4۔ انبیائے کرام﷩ کے قلوب سے ملائکہ کے قلوب بہت افضل ہوتے ہیں، سب سے کم تر درجہ کا قلب نقیب ، یا سیدنا آدم کا دل ہے، (نعوذ بالله من تلك الهفوات)

پھر اس کے اوپر سیدنا موسیٰ پھر اس سے اوپر سیدنا ابراہیم کا دل ہے، اس کے بعد فرشتوں کی باری آتی ہے، سیدنا ابراہیم سے اوپر سیدنا جبرئیل کا دل ہے پھر اس کے اوپر سیدنا میکائیل کا پھر اس سے اوپر سیدنا اسرافیل کا دل ہے، جوغوث کے قلب کی مانند ہے۔ (شریعت و طریقت :ص 164)

حدیث نمبر 12:

” الأبدال أربعون رجلا وأربعون امرأة ، كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا ، وكلما ماتت امرأة أبدل الله مكانها امرأة “ (الخلال نے کرامات الالياء میں اور الدیلمی نے اپنی مسند میں اسے روایت کیا ہے)

’’ابدال 40 مرد اور 40 عورتیں ہیں، مردوں میں سے کوئی مرجاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے مرد کو اس کی جگہ مقررکر دیتا ہے، اور عورتوں میں سے کوئی مر جاتی ہے تو اس کی جگہ کسی دوسری عورت کو اللہ مقرر کردیتا ہے۔‘‘ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: 2499)

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ نے اس کی سند کوضعیف مظلم کہا ہے، امام ابن جوزی﷫نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کی سند میں بہت سارے مجہول راوی ہیں۔

حدیث نمبر 13:

اسی حدیث کے دوسرے الفاظ اس طرح ہیں:

“الإبدال أربعون، اثنان وعشرون بالشام، وثمانية عشر بالعراق ، كلما مات واحد منهم أبدل الله مكانه آخر ، فإذا جاء الأمر قبضوا كلهم”

( امام ابن عدی﷫ نے الکامل میں اور امام الدیمی﷫ نے مسند الفردوس میں نقل کیا ہے)

’’ ابدال 40 کی تعداد میں ہیں ، 22 شام میں ہوتے ہیں اور 18 عراق میں ، ان میں سے جب بھی کوئی مرتا ہے تو اللہ اس کی جگہ کسی دوسرے کو مقرر کر دیتا ہے، پس جب قیامت آئے گی تو سب کے سب کی روح قبض کرلی جائے گی۔‘‘

حدیث کا درجہ:

علامہ البانی﷫ نے اسے موضوع کہا ہے، اس کی سند میں ایک راوی العلاء ہے، جوحدیث گھڑا کرتا تھا۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: 5؍420، 561)

حدیث نمبر14:

” الابدال بالشام،هم أربعون رجلا، كلما مات أبدل الله مكانه رجلا، يسقى بهم الغيث، وينتصر بهم على الأعداء ويصرف عن أهل الشام بهم العذاب.” ( مسند احمد)

’’ابدال، شام میں 40 کی تعداد میں ہیں، ان میں سے جب کوئی مر جاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ کسی دوسرے آدمی کو رکھ دیتا ہے، ان کے ذریعہ بارش سے سیراب کیا جاتا ہے، دشمنوں پر ان کے واسطے سے مدد حاصل کی جاتی ہے، اور انہیں کے صدقے اہل شام سے اللہ عذاب ہٹا تا ہے۔‘‘

حدیث کادرجہ:  علامہ البانی﷫ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (سلسلۃ الاحایث الضعیفہ: حدیث نمبر 2993)

٭٭٭

تبصرہ کریں