عالمی اسلامی خبریں۔ شمارہ فروری 2021ء ۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

فرانس میں اسلامی اسکول کو بند کر دیا  گیا

گزشتہ ماہ فرانس کی حکومت نے فرانسیسی مسلمانوں میں علیحدگی پسند رجحانات پر قابو پانے کے مفروضہ دعویٰ کی بنیاد پر پیرس میں واقع اس واحد سیکنڈری اسکول کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ جس میں زیر تعلیم طلباء اور طالبات کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق لباس زیب تن کرنے اور مذہبی علامات کو ظاہر کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی، چنانچہ جہاں مسلمان طالبات کو اسکارف پہننے کی آزادی تھی، وہیں یہودی طلبہ کو ان کی مخصوص ٹوپی پہننے عیسائی طلبہ کو صلیب لٹکانے کی آزادی دی گئی تھی۔ مگر موجودہ حکومت نے بنیاد پرست اسلام کے خاتمہ کے بہانے اس اسکول کو بند کر کے اسکول میں زیر تعلیم 110 طلباء وطالبات کے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

اس حوالے سے اسکول کی ہیڈ ٹیچر حفان اوکیلی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے ہمارا اَسکول حکومت کی نگاہوں میں کھٹک رہا تھا، چنانچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بلڈنگ ریگولیٹیز اور ایڈمسنٹریشن  کی جانچ پڑتال کے نام پر حکومتی عہدیداران کی جانب سے تین دفعہ چھاپے پڑ چکے ہیں، جن میں طلباء و طالبات کے شخصی ریکارڈز، ان کے فیملی پس منظر، اسکول کے نصاب اور اساتذہ کے شخصی ریکارڈز کی چھان بین کی جاتی رہی۔ بیشک حکومت کی جانب سے اسکول کو بند کرنے کا فیصلہ سراسر ناانصافی اور تعصب پر مبنی اقدام ہے، جس کی ہر صورت مذمت کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے فرانس میں مقیم مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو ہر ممکن انداز میں ختم کرنے اور ان میں لبرل ذہنیت کو فروغ دینے کی مہم چلا رکھی ہے چنانچہ گزشتہ تین سال میں بنیاد پرست اسلام کے خاتمہ کا نعرہ بلند کر کے حکومت اب تک 15 مساجد، 4 اسلامی مدارس اور 13 اسلامی خیراتی اداروں  (چیریٹیس) کو بند کر چکی ہے۔

سویڈن اورجرمنی میں مسجد کی بے حرمتی

جرمنی کے جنوب میں واقع اورتمبیرغ کی مرکزی مسجد الفاتح کو چند نامعلوم شرپسندوں نے پچھلے دو ہفتوں میں دو دفعہ نسلی حملوں کا نشانہ بنا کر مسجد کی دیواروں اور دروازوں  کو نقصان پہنچایا۔

قابل ذکر اَمر یہ ہے کہ نسلی پرستی پر مبنی پہلے حملہ کی اطلاع مسجد کمیٹی کی جانب سے مقامی پولیس کو دی جا چکی ہے۔ جس میں ان شر پسندوں نے مسجد کی دیواروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ  دیواروں پر صلیب کے نشان بنا کر نسل پرستی پر مبنی جملے بھی تحریر کیے تھے۔

مگر پولیس کی جانب سے مؤثر  عملی اقدام نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ جمعہ کی رات دوبارہ مسجد میں داخل ہو کر مسجد کی بے حرمتی اور اس کی کھڑکیوں اور زنجیر کو نقصان پہنچایا۔ مسجد کمیٹی نے دوبارہ پولیس میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے پولیس کو   ان واقعات کی وجہ سے مقامی مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس سے واقف کرایا اور اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔

اس سے ملتی جلتی ایک خبر سویڈن کے شہر اوسان میں واقع مسجد کے ذمہ داران کو حال ہی میں ایک پیکٹ موصول ہوا۔ جس میں دھمکی آمیز جملوں پر مشتمل ایک خط کے علاوہ سفید سفوف پر مبنی ایک لفافہ بھی تھا۔ ذمہ داران مسجد نے اس پیکٹ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

دریں اثنا مقامی مسلمانوں خصوصاً مسجد کمیٹی کے افراد نے اس قسم کی حرکتوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اس قسم کی شرارت کی جاتی رہی ہے۔ متعلقہ  ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ ان معاملات کو سنجیدگی سے لیں۔ وگرنہ حالات دن بدن مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

صحیح البخاری کے حوالے سے مصری عدالت کا فیصلہ

گزشتہ دنوں مصر میں انتظامی اُمور کی ایک عدالت نے قاہرہ کے ایک پرائیویٹ ادارے شئوون  التراث الاسلامی  کے ریسرچ فیلو احمد عبدہ ماہر کی جانب سے داخل کیے گئے اس کیس کو خارج کر دیا جس میں مدعی نے کورٹ سے استدعا کی تھی کہ  صحیح البخاری سمیت احادیث نبویہ پر مشتمل تمام کتب کی اعلیٰ علمی بنیادوں پر ازسر نو تحقیق اور تنقیح کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ان کتابوں میں موجود مواد انسانی معاشرے میں شدت پسندوں، تعصب اور تنافر کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ خصوصاً صحیح  البخاری اس حوالے سے قابل ذکر ہے۔ لہٰذا عدالت جامعہ اَزہر کو اس اَمر کا مکلف بنائے کہ وہ اس حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے۔

اس پر عدالت نے یہ کہتے ہوئے اس دعویٰ کو رد کر دیا کہ خصوصاً صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد اصح الکتب کا درجہ حاصل ہے، جس پر ہر زمانے میں ساری امت کا اجماع چلا آ رہا ہے، چنانچہ اس قسم کا اقدام درحقیقت ان عناصر کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو اُمت مسلمہ کے نزدیک  مسلمہ  تواتر کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں، نیز سنت نبویہ کے حوالے سے فتنوں کو ہوا دے کر سنت کے ساتھ اُمت کے مضبوط تعلق کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس قسم کی سوچ کی ہر اعتبار سے حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔

تبصرہ کریں