عالمی اسلامی خبریں۔ شمارہ جنوری 2021ء ۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

حجاب پر پابندی کا عدالتی فیصلہ

گزشتہ ہفتہ بیلجیم کےشہر برسلز  میں آئینی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف تقریباً 4 ہزار اَفراد نے مظاہرہ کیا جس میں عدالت نے مقامی انسٹیٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن کو انسٹیٹیوٹ میں حجاب پر پابندی عائد کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ عدالت کے اس فیصلے خلاف احتجاج کرنے والے ’’آزادی کہاں ہے‘‘ اور ’’ حجاب ہمارا حق ہے‘‘ جیسی عبارتوں پر مبنی بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ بیلجیم میں مسلمان خواتین کو دینی بنیادوں پر نسل پرستی کا سخت سامنا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت نے انسٹیٹیوٹ کو اس بات کی کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ بشمول حجاب کسی بھی قسم کے دینی شعار پر  پابندی لگانے کا مجاز ہے۔

کولمبیا کے مسلمان

جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں بھی مسلمانوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے معہد الامام القرطبی کے چیئرمین الیاس سرزرتی نے بتلایا کہ اب کولمبیا مسلمانوں کے لیے کوئی اجنبی ملک نہیں رہا۔ الحمد للہ یہاں دن بدن اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ ہر ہفتہ 2 سے 3 افراد اسلام قبول کر رہے ہیں۔ جن میں اکثریت نوجوان طلباء کی ہے۔غیر مسلم کمیونٹی میں اسلام کی مقبولیت کا اندازہ اس اَمر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کولمبیا کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں 70 فیصد نَو مسلم ہیں، نیز عوام  سمیت حکومت بھی اس معاملہ میں ہر کسی کے ساتھ برابری کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ دین ومذہب کی بنیاد پر یہاں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔

اسٹار بکس کا نسل پرستی پر مبنی مذاق

امریکی اسٹیٹ مینی سوٹا میں معروف کافی شاپ اسٹار بکس کے خلاف 19 سالہ عائشہ نامی دوشیرہ نے اس کے ساتھ نسل پرستی  پر مبنی سلوک کرنے پر مقامی کورٹ میں دعویٰ  دائر کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسٹار بکس کی خاتون ملازمہ نے عمداً عائشہ کے کافی کپ پر اس کا نام لکھنے کے بجائے داعش کا لفظ لکھ دیا جس کو دیکھ کرعائشہ حواس باختہ ہو گئیں۔ اس حوالہ سے جب انہوں نے منیجمنٹ سے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے اس کو ایک نادانستہ غلطی کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ جس پر عائشہ نے اسٹار بکس کے خلاف مقامی عدالت میں نسل پرستی  پر مبنی حرکت کے ارتکاب پر دعویٰ دائر کر دیا۔

روس میں ایک باحجاب مسلمان خاتون پر وحشیانہ حملہ

گزشتہ دنوں روس کے صوبے تاتارستان کے ایک شہر میں ایک نسل پرست نوجوان نے عام شاہرہ پر  ایک مسلمان برقع پوش خاتون پر پیچھے سے حملہ کر کے بُری طرح زخمی کر دیا۔ خاتون کے ساتھ اس کے اپنے چار  چھوٹی عمر کے بچے بھی تھے جو اس اچانک حملہ پر بری طرح سہم گئے۔ اس وحشیانہ حملے کی تمام تصاویر اس علاقے میں نصب کیمروں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔ مگر پولیس نے اس حوالے سے کیا کارروائی کی ہے اس کا کوئی علم نہ ہو سکا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں