عالمی اسلامی خبریں-محمد حفیظ اللہ خان المدنی

باحجاب مسلمان دوشیزہ لندن یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین کی صدر بن گئیں

تاریخ میں پہلی دفعہ لندن یونیورسٹی برطانیہ کی اسٹوڈنٹس یونین کی صدارت ایک باحجاب مسلمان دوشیزہ کے حصہ میں آئی ہے۔ جس کو برطانیہ میں آئے ہوئے صرف 20 سال کا عرصہ ہوا ہے اور جس کے والد تیونس سے اور والدہ سوڈان سے تعلق رکھتی ہیں۔ شیماء دلالی کے نام سےموسوم اس دوشیزہ کو یونیورسٹی کے 19 ہزار طلباء وطالبات نے شیماء کی متنوع خصوصاً طلباء کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی انتھک جدوجہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا قائد منتخب کیا۔

آج سے 20 سال قبل جب وہ برطانیہ آئی تھیں، تو یہ بات ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی کہ ایک دن وہ اسٹوڈنٹس یونین کے عہدہ صدارت پر فائز کر دی جائیں گی۔

شیماء نے صدر بننے کے بعد اپنی آئندہ کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ ان کی پہلی ترجیح طلباء کے ان تمام حقوق کی بازیابی ہے جن سےوہ ابھی تک محروم چلے آ رہے ہیں۔ نیز یونیورسٹی کے ماحول کو عصبیت، نسل پرستی اور شدت پسندی جیسے عوامل سے پاک و صاف کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی میں ایک معتدل اور متوازن ماحول پروان چڑھانا چاہتی ہیں، جہاں ہر کسی کے ساتھ مساوات، رواداری اور احترام کو مد نظر رکھا جاتا ہو۔

واضح رہے کہ شیماء کے ساتھ یونین کی نائب صدر کے طور پر منتخب ہونے والی دو طالبات بھی نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ باحجاب اور متدین بھی ہیں۔

اسلامی اسکول کو نذر آتش کرنے کی کوشش، سویڈن

ایک خبر کے مطابق سویڈن کے شہر اوبرد میں قائم ایک اسلامک اسکول کی بلڈنگ کو چند نامعلوم شرپسندوں نے نذر آتش کرنے کی مذموم کوشش کی۔

تفصیلات کے مطابق عین صبح کے وقت جب کہ بلڈنگ خالی تھی، چہروں کو ماسک سے چھپائے ہوئے دو نامعلوم افراد نے گراؤنڈ فلور کی کھڑکیوں میں نصب شیشوں کو توڑ کر بلڈنگ میں آتشی مواد پھینک دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی اور بلڈنگ کو جزوی نقصان پہنچا۔ مدرسہ کے ذمہ داران نے بروقت پولیس کو اطلاع دے کر متنبہ کر دیا ۔ مگر اس واقعہ سے مسلم کیمونٹی خصوصاً طلباء اور ان کے والدین اس حملہ سے سخت تشویش کا شکار ہیں۔

پیرس کی مسجد میں دینی تعلیم پر پابندی

گزشتہ ہفتہ فرانس کے دار الحکومت پیرس میں واقع مسجد عمر بن الخطاب میں ویک اینڈ پر چلائی جانے والی دینی کلاسز کو حکومت نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ پابندی پولیس و دیگر متعلقہ وزارت سے متعلق افسران کی جانب سے مسلسل دو ہفتے مدرسہ اور طلبہ سے تحقیق وتفتیش کرنے کے بعد عائد کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسجد ہے، مدرسہ نہیں، لہٰذا یہاں صرف عبادت کی جا سکتی ہے۔ تعلیم وتدریس کے لیے علیحدہ لائسنس مطلوب ہوتا ہےجب کہ مقامی مسلمانوں اور مسجد کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ عیسائی طلبہ کے لیے چرچ میں ہر ویک اینڈ پر تعلیم کا نظام عرصہ سے قائم ہے۔ حکومت کو ان پر اعتراض نہیں، ان کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکومت ہمارےساتھ مہاجرین جیسا سلوک روا رکھ رہی ہے۔ جبکہ ہم مہاجر نہیں، باقاعدہ اس ملک کے شہری ہیں۔ الحمد ہماری چوتھی نسل اس ملک میں پروان چڑھ رہی ہے۔

تبصرہ کریں