آفات کا نزول، بد اعمالیوں کا نتیجہ۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

کم وبیش دس ماہ کی طویل غیرحاضری کے بعد مجلہ ’صراط مستقیم‘ آن لائن کی زینت بن کر ایک نئی شان کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ اس طویل غیر حاضری کی ایک وجہ جہاں مجلہ کو آن لائن بنانے کے طویل پراسس کی تکمیل بنی رہی۔ وہیں کورونا کی مہلک وبا بھی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ ابتداء  میں  اس مہلک وبا کو چند ہفتوں کی آزمائش پر محمول کیا جاتا رہا۔  مگر اب ایک سال کا عرصہ بیت رہا ہے۔ حالات میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے برعکس وائرس سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی دستیابی کے اعلان سے لاکھوں مایوس دلوں میں اُمید کی ہلکی سی کِرن اُبھر نہیں پائی تھی، پتہ چلا کہ اس مہلک وائرس نے اپنی شکل تبدیل کر لی ہے۔  میڈیکل سائنس کے اعلیٰ ذمہ داران کے بقول ’وائرس‘ کی اس  نئی قسم نے ویکسین کے اثرات سے بچنے کی نئی راہیں تلاش کر لی ہیں۔ وائرس کی یہ نئی قسم برطانیہ کے طول وعرض میں نہایت تیزی اور آسانی سے ہر دوسرے کو متاثر کر رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نئی قسم ماضی کے وائرس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے برطانوی حکومت نے کرسمس کے موقع پر دی جانے والی چھوٹ اور نرمی کو فی الفور منسوخ کرتے ہوئے سخت تحدیدات عائد کر دی ہیں۔ دوسری جانب بشمول یورپین ممالک 40ملکوں نے  برطانیہ پر اپنی سرحدوں کے دروازے بند کر کے تاریخ میں پہلی دفعہ برطانیہ کو یکہ وتنہا کر  دیا؟ فضائی، بَرّی اور بحری  تمام راستے منقطع کیے جا چکے ہیں۔ حالات بتا رہے ہیں کہ آئندہ ایک دو ماہ برطانوی معیشت پر بہت بھاری گزر سکتے ہیں، غذائی اجناس کی کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔

یہ وائرس آخر کیا بلا ہے کہ جو ایک دو نہیں ستر سے زائد مختلف روپ دھار سکتا ہے، جس نے وقت کے چوٹی کے سائنسدانوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی تاریخ  مختلف حوادث اور بلاؤں کے ذکر سے بھری پڑی ہے؟ ماضی میں بلا خیز طوفان،زلزلے، زندگی کے عام رفتار  کو تعطل  کا شکار بناتے رہے۔

سونامی کی شکل میں سمندر کی دیوقامت موجیں آن کی آن میں شہروں اور بستیوں  کو ویرانوں  میں تبدیل کرتی رہیں۔  قحط سالی اور بھوک پیاس کا قہر ہزاروں انسانی جانوں کو تلف کرتا رہا۔ مگر شاید ہی انسانی آنکھ نے کبھی ایسی آفت کا مشاہدہ کیا ہو کہ آناً فاناً دنیا کا سارا نظام تبدیل ہو کر رہ گیا ہو۔ شہروں کے مرکزی تجارتی مراکز،  بڑی بڑی صنعتیں دیوالیہ ہو گئی ہوں، جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے امام مانے جانے والے ممالک میں آئے دن بے روزگاری کی شرح میں اضافہ جاری ہے۔ اموات کی شرح میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ تقریباً ہر شہر میں موجود قبرستان کا احاطہ اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا ہے۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں :

اولاً: ہر کسی کو سخت چوکنا رہنے اور تمام مطلوبہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اَشد ضرورت ہے۔ اس قدر اذیت ناک صورتحال میں بھی کچھ لوگ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وائرس کو ایک واہمہ باور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس قسم کے بے پایہ مشوروں کو ناقابل توجہ سمجھتے ہوئے بہرصورت احتیاط لازمی ہے۔

ثانیاً:  ان تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے ایک مؤمن کی حیثیت سے  ہمارا کامل ایمان اور توکل اللہ رب العزت کی ذات اور اس کی بنائی ہوئی قضا وقدر پر ہونا ضروری ہے۔

﴿قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ﴾

’’آپ کہہ دیجیے کہ اللہ میرے لیے کافی ہے۔ توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘ (زمر:38)

﴿مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (فاطر: 2)

’’اللہ تعالیٰ جن کے لیے اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے، ان کو کوئی بند نہیں کر سکتا جسے وہ بند کر دے تو اس کے بعد اسے کوئی کھولنے والا نہیں  وہی سب پرغالب اور حکمت والا ہے۔‘‘

احتیاطی تدابیر، ویکسین اور دیگر ذرائع محض اسباب کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسباب پر اعتماد کسی بھی شکل میں  جائز نہیں اور نہ ہی یہ عقیدہ درست ہے کہ یہ ذرائع فی نفسہ اپنے اندر تاثیر رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر  ساری کائنات میں کوئی شئے اپنے اندر مستقل تاثیر نہیں رکھتی۔

ثالثا: مصائب اور آفات کا نزول انسانوں کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور غفلت شعار دلوں کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

﴿وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا﴾

ہم تو لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں۔‘‘  (بنى اسرائيل: 59)

موجودہ حالات میں ہر کسی کو صدقِ دل اور کامل اخلاص کے ساتھ اپنا جائزہ لینے اور خالق  ومالک کے ساتھ اپنے تعلق کو جانچنے ، اپنی  بداعمالیوں اور معصیت سے تائب ہوکر انابت اِلیٰ اللہ اور استغفار  کا التزام کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرنے، معصیت کی راہوں کو ترک کر کے نیکی اور فرمانِ رب کی راہوں کو اپنانے کی شدید ضرورت ہے وہ لوگ جو ان حالات میں بھی بدستور فسق وفجور سے بھری زندگی گذار رہے ہیں انہیں متنبہ ہو جانا چاہیے کہ اس قسم کی آزمائشیں ایسے لوگوں کے لیے بربادی کا سامان بن جایا کرتی ہیں:

«إِنَّ الْهَلَكَةَ كُلَّ الْهَلَكَةِ أَنْ تَعْمَلَ السَيِّئَاتِ فِي زَمَانِ الْبَلَاءِ»

’’ ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جو آفات اور بلاؤں کے نزول پر بھی بدستور فسق وفجور پر ڈٹے رہتے ہیں۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں