آٹھ (8) باتوں کا عہد۔محمد عبدالرحیم خرم عمری

﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم

مُّعْرِضُونَ﴾

’’اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ تم اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اسی طرح قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا، نمازیں قائم رکھنا اور زکوة دیتے رہا کرنا، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ تم سب پھر گئے اور منہ موڑ لیا۔ (سورۃ البقرة: 83)

اس آیت میں بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں آٹھ (8) بنیادی باتوں کا حکم دیا گیا ہے، ان باتوں کا تعلق عقا ئد، حقوق و عبادات سے ہے یہی وہ بنیادی تعلیمات ہیں، جومعاشرہ کو مستحکم وخوبصورت بناتی ہیں، اور مذہب کونمایاں کرتی ہیں ، ان تعلیمات کو قرآن مجید میں بار بار دہرایا گیا ہے اور رسول الله ﷺ نے سنت مطہرہ میں ان کی ایسی تشریح فرمائی ہے، جس نے تمام ادیان و مذاہب کے درمیان اسلام کے نور وحقانیت کو نمایاں کردیا ہے ، دین اسلام کی ترقی و سربلندی میں بنیادی تعلیمات ہی سنگ میل ہیں۔ لیکن اہل کتاب نے ان تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے شرک کا ارتکاب کیا، سیدنا عیسی و عزیر ﷩کو الله کا بیٹا اور مریم کو اللہ کی بیوی قرار دے کر ان کی عبادت و پرستش شروع کردی ، باہمی حقوق تلف کردئیے، دیگر عبادات کو ملیا میٹ کر دیا جس کے سبب وہ گمراہ کر دئے گئے اور موجب عذاب ہوئے۔

بعض نکات کی تشریحات:

﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ﴾ یہی وہ عہد ہے جو تمام انسانیت سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے لیا ہے جس کا ذکر قرآن کے دیگر مقامات پر بھی کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾

’’تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ ‘‘ (سورۃ الانبیاء:35)

اسی طرح اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ

﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾

’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ ‘‘ (سورۃ النحل:36) (سورۃ لقمان:13)

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴾

’’ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑائی 2 برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘

والدین کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق ایک اور مقام پراللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:

﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾

’’اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات کرنا۔‘‘ (سورۃ الاسراء:23)

سیدنا عبد الله بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! کونسا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔‘‘ پھر میں نے پوچھا کہ یارسول اللہ(ﷺ)!اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا۔‘‘

پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’الله کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ (صحیح بخاری :5970، 7534)

3، 4، 5۔ ﴿وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ﴾

آیت کے اس فقرے میں تین انسانی طبقات کا تذکرہ کیا گیا ہے، قرابت دار، یتامی اور مساکین۔ قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک وحسن معاملہ کے تعلق الله تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا﴾ (سورۃ الاسراء:26)

’’اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو۔‘‘

مذکورہ آیات و احادیث میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رشتے ناتوں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے کیونکہ دین میں اس کی بڑی اہمیت ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

«تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ»

’’اس قدر اپنا نسب جانو ، جس سے تم اپنے رشتے جوڑ سکو ، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے ، اور آدمی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے۔“ (جامع ترمذی :1979)

اسی صلہ رحمی کی بابت نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :

«الصَّدَقَةُ عَلَى المِسكينِ صَدَقةٌ ، وعَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ : صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ »

’’مسکین پر صدقہ کرنا صدقے کے اجر کا باعث ہے اور قرابت دارور شتے دار پر صدقہ کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے، ایک صدقے کا اور دوسرا رشتے دار کے ساتھ صلہ رحمی کا۔‘‘ (جامع ترمذی: 658؛ صحیح ابن خزیمہ: 2385)

اسی سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

«السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ » (صحیح مسلم: 2982)

’’ کسی بیوہ اور مسکین کی سر پرستی کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسی مجاھد فی سبیل اللہ کی۔“

قرابت دار کے یتیم کا تذکرہ کیا گیا ہے: ’یتیم‘ وہ کمسن بچہ جو ماں باپ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو چکا ہو یتیم کہلاتا ہے، ہر زمانہ میں یتیم سماجی زیادتیوں اور ظلم و زیادتی کا شکار رہا، یتیم کو ہمیشہ اپنے باپ کی وراثت سے محروم کیا جاتا رہا ، اپنے بیگا نے ، کیا رشتے دار و ناطے دار ہر کوئی اسے کمزور اور گری ہوئی نظروں سے دیکھتا تھا، قوم کے مالدار و سرمائے دار اور خوشحال لوگ انکی حوصلہ شکنی کرتے اور اسے اخلاقی زیادتیوں کا شکار بناتے ۔ یتیموں کے ساتھ یہ سلوک ہرزمانے اور ہر دور میں رہا۔ جب رسول الله ﷺ کو الله تعالیٰ نے نبی بنا کر بھی تو یتیموں کے حقوق کے خاص احکام بتائے گئے اور انسانیت کو تنبیہ کی گئی کہ وہ یتیموں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کریں ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی اس کمزوری کی جانب توجہ دلائی کہ

﴿ كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ﴾’’ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔“ (سورة الفجر:17)

یتیم کے کھانے پینے اور اس کے ساتھ بہتر معاملہ کرنے کا الله تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فرمایا:

﴿فَكُّ رَقَبَةٍ *‏ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ *‏ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ﴾

’’ کسی کی گردن کو آزاد کرانا یا کسی فاقے کے دن کی رشتے دار اور یتیم کو کھانا کھلانا۔‘‘ (سورة البلد: 13-15)

وہ لوگ جو یتیموں کی بے کسی بے بسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے ہیں انھیں خبردار کرتے ہوئے الله تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا ﴾

’’یتیموں کا مال ان کے حوالے کر دو اور حلال و پاک کے بدلے میں حرام و نا پا ک کو اختیار نہ کرو، اور اپنے مال کے ساتھ ان کا مال ملا کر نہ کھا ؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔“ ( سورة النساء: 2)

رسول الله ﷺ نے یتیموں کے حقوق بتاتے ہوئے انسانیت کو یہ پیغام سنایا کہ

«أَنَا وَكَافِلُ اليَتِيمِ فِي الجَنَّةِ هَكَذَا» وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى»

’’میں اور کسی یتیم کی کفالت کرنے والے جنت میں یوں دو انگلیوں کی طرح قریب ہوں گے۔ ‘‘ (صحیح بخاری :6005)

اسی طرح یتیم کے متعلق ارشادفرمایا:

«خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ» (ابن ماجہ : 3679)

’’ مسلمان کا سب سے بہترین میں گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو، اور اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا سب سے بدتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔‘‘

یتیم کے متعلق ان انسانی تعلیمات کا اثر صحابہ کرام کی زندگی پر اس طرح واقع ہوا کہ صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عمر کے بارے میں سیدنا ابو بکر بن حفص ﷫ بیان فرماتے ہیں :

«أنَّ عبدَ اللهِ كان لا يأكلُ طعامًا إلَّا وعلى خِوَانِهِ يَتِيمٌ» (الادب المفرد: 136، باب 75)

’’سیدنا عبد الله بن عمر اپنے دسترخوان پر کسی یتیم کے بغیر کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔‘‘

سیدنا حسن بصری ﷫ بیان فرماتے ہیں کہ ایک یتیم بچہ سیدنا ابن عمر کے کھانے پر حاضر ہوا کرتا تھا، ایک دن سیدنا ابن عمر نے کھانا منگوایا لیکن جب بچے کو دیکھا تو وہ موجود نہیں تھا، جب سیدنا ابن عمر کھانے سے فارغ ہو گئے تو وہ آگیا ۔ سیدنا ابن عمر نے اس کے لیے کھانا مانگا مگر ان کے (گھر والوں) کے پاس کھانا نہیں تھا تو آپ اس کے پاس ستو اور شہد لے کر آئے اور فرمایا:

«دُوْنَكَ هَذَا فَوَ اللهِ مَا غبنت»

’’اسے کھالو! اللہ کی قسم! میں خسارے میں نہیں رہا۔‘‘

سیدنا حسن بصری ﷫ فرماتے ہیں : والله ! ابن عمر خسارے میں نہیں رہے۔‘‘ (الادب المفرد: 134، باب 75)

خاندان کے ہر رکن کا فرض ہے کہ یتیم کو اپنی آغوش محبت میں رکھے اس کی تعلیم و تربیت پر پورا دھیان دے اس کے مال و جائیداد کی صاحب عقل وشعور ہونے تک حفاظت کرے اور پھر اسے امانت کے ساتھ واپس کر دے، اگر لڑکی ہے تو اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کے علاوہ کوئی مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کی شادی بیاہ کر دے۔

﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ ’’لوگوں کے ساتھ اپنی زبان استعمال کرو، جس میں مردت ونرمی ہو۔‘‘

بعض مفسرین نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ

’’انھیں نیکی کا حکم دو اور برائیوں سے روکو۔‘‘

زبان کی یہی نرمی ہے، جس کے اختیار کرنے کا حکم الله تعالیٰ نے اپنے نبی موسی و ہارون ﷩ کو دیا تھا کہ وہ در بارفرعون میں زبان کی نرمی اختیار کریں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ﴾ (سورۃ طہ: 44)

’’تم دونوں اس سے نرم زبان میں گفتگو کرو شاید کہ وہ نصیحت حاصل کر ے یا اللہ کا خوف کھائے۔‘‘

زبان کی نرمی ہی سے انسان اپنا صحیح پیغام اپنے سامع تک پہنچا سکتا ہے ،زبان کی تُرشی وسختی سے دوسرے انسان دوری اختیارکرتے ہیں اور بہتر سے بہتر بات کوتسلیم نہیں کرتے ، پیغام حق کی اشاعت کے لئے زبان کی نرمی سب سے اہم ہے، الله تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو خطاب کر کے فرمایا:

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾ (سورۃ آل عمران:159)

’’الله تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر رحم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ،سو آپ ان سے درگزر کر یں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعا لیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾

اسلام کا دوسرارکن نماز ہے: (أقيموا الصلوة) کا معنی یہ ہے کہ فرض نمازوں کا اس کے حق کے ساتھ اس کے اوقات میں تعدیل ارکان اور اس کے شروط کے ساتھ خشوع وخضوع کے ساتھ، نبی ﷺکے بتائے ہوئے اصول اور طریقہ پر نماز ادا کرنا چاہئے ، جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، اہل وعیال ، دوست واحباب ، اہلیان محلہ کو بھی نماز کے لیے تلقین کریں اور ساتھ لے کر نماز ادا کریں، اسکول وکا لجز کے بچوں کو نماز کی ترغیب دیں بلکہ انتظامیہ کو تلقین کی جائے کہ وہ نماز کا اہتمام کروائیں ایسے اسکولوں میں اپنے بچوں کوتعلیم نہ دلوائیں جہاں نماز کا اہتمام نہیں کروایا جاتا ، مسلمان ہونے کا یہی تقاضا ہے کہ مالکین اپنے ماتحتوں کو نماز کا حکم دیں ، کسی بھی مسلمان مالک کے تحت بے نمازی ملازم نہ ر ہے، مسلمان ملازمین جہاں بھی رہیں پابندی کے ساتھ نماز میں ادا کر ہیں۔ والدین و سرپرست حضرات نماز ادا نہ کرنے والی اولا دکو توجہ دلائیں اور انھیں پابند نماز بنائیں یہی ا قامت صلوۃ کا مفہوم ہے، یہی اللہ کا حکم ہے۔

﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ زکوۃ اسلام کا چوتھارکن ہے، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرض کردہ ہے، ہر مسلمان و مؤمن کو چاہیے کہ وہ اپنے مال و دولت ، جانور، کھیتی ، زمین، سبزیوں ، باغات ، مال تجارت ، سونا، چاندی، زیورات، مشینری کی زکوة اس کے وقت کے ساتھ ادا کریں کیونکہ یہی فریضہ ہے ۔ خلوص نیت کے ساتھ ادا کرنے میں اللہ کی رضامندی ہے، زکوة کا انکار کرنے والا موجب کفر ہوگا اس کے خلاف جہادلازم ہے، جس طرح اقامت صلوۃ یعنی نماز کا ادا کر نا پانچ وقت فرض ہے اسی طرح زکوة نکالنا بھی فرض ہے۔

قرآن مجید میں جہاں جہاں اقامت الصلوة کا حکم دیا گیا ہے وہیں ایتائے زکوة کا بھی حکم دیا گیا ہے جس کا معنی یہ ہوگا کہ جس طرح نماز ادا کی جاتی ہے اسی طرح زکوة بھی ادا کی جائے ۔

دوسرا مفہوم نکل سکتا ہے کہ ہر اس مسجد میں جہاں پنج وقتہ نماز میں اور جمعہ ادا کیا جا تا ہو وہاں بیت المال کا نظام بھی قائم ہوں جس سے ملت اسلامیہ کے غرباء، فقرء، یتامی ، بیوہ، قرض دار، قیدی، فاقہ کش، بھوکے پیاسوں کی ضروریات کی تعمیل ہو سکے ، اس نظام کو نہ قائم کرنے کے سبب ملت اسلامیہ میں سود، رشوت، خیانت جیسے جرائم عام ہیں۔

لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے بینکس ، رہن سنٹر اور سودخوروں کے در پر جانے لگے ہیں ۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ کئی مسلم آبادی والے علاقوں میں غیرمسلموں نے سرعام رہن سنٹرز کھول رکھے ہیں، جہاں مسلم مردوخواتین بڑی ہی بے باکی کے ساتھ رہن پر اپنا اثاثہ رکھ کر قم لے آتے ہیں اور بہت سے سودخوروں نے ہمارے محلوں کو سودی معاملات کے ذریعہ یرغمال بنا رکھا ہے، یہ نتائج ہیں، نظام بیت المال نہ قائم کرنے کے، عنداللہ قومی قائدین ، رہنما اور رہبر اور علمائے عظام وخطباء کرام مسؤل رہیں گے، شائد اسی سب سے اللہ نے امت پر سے اپنی رحمت کے ہاتھوں کو روک لیا ہے۔

یہ تعلیمات انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لئے دی گئی ہیں اس سے انسانی سمان کے سارے رشتے استوار رہتے ہیں اگر ان رشتوں کو نظر انداز کر دیا جائے یا ان کی اہمیت کو گھٹا دیا جائے تو انسانی سماج کا ڈھانچہ درهم برہم ہو جائے گا اور انسان زمین پر مطلب پرستی و خودغرضی کی زندگی گزارے گا۔ یہاں یہ جانا ضروری ہے کہ عہد وفا کو توڑ کر بنی اسرائیل نے نہ صرف الله تعالیٰ سے اپنے رشتوں کوخراب کیا بلکہ روئے زمین کے سارے رشتے ناطوں کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ اس لیے بنی اسرائیل سخت و سنگ دل ہی نہیں خودغرض ہیں ،انسانیت کی تباہی پرانہیں کوئی رنج وملال نہیں ہوتا۔ اگر ہم نے بھی اس عہد وفا کی پابندی نہ کی تو الله تعالیٰ ہمارا بھی حشر بنی اسرائیل سے بدتر کر دے گا۔

تبصرہ کریں